Random Member


Azad Khan
Do you like new look of ATTOCK news website?

Total Members

3135 registered
0 today
0 yesterday
0 this week
0 this month
Attock
19°C
محکمہ واپڈا حضرو کی بے حسی
 
حضرو: محکمہ واپڈا حضرو کی بے حسی ، غفلت ، لاپرواہی کے باعث کرنٹ لگنے دو معصوم بچے موت کے منہ میں چلے گئے اہل محلہ کا شدید احتجاج تفصیلات کے مطابق حضرو شہر کے محلہ ڈاک بنگلہ میں گزشتہ روز شام کو آنے والی آندھی اور بارش میں برقی تاریں جو پہلے سے ہی کمزور اور ڈھیلی تھیں ٹوٹ کرزمین پر گر گئیں جس کے نتیجہ میں صبح تقریباً سات بجے محلہ ڈاک بنگلہ کے رہائشی حاجی معتبر خان کی بیٹی چارسالہ نوراں اور بیٹا دو سالہ سعید الرحمان ان برقی تاروں کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے اس افسوسناک واقع کی اطلاع ملتے ہی پورے محلہ میںکہرام مچ گیا اور تمام اہل محلہ نے اکھٹے ہو کر محکمہ واپڈا کے خلاف شدید احتجاج کیا اہل محلہ یاسین خان ، شفیق ابرہیم ، احمد خان ، گل زاد ، محمد شریف ، دواجان، حاجی ظریف ، امین جان ، پرویز خان ، لیاقت میر ، وحید الرحمان عبدالستار ، محمد شبیر ، احسان الحق ظاہر خان ، طلحہ خان محمد حسین ، بابوٹیلر، صدیق الرحمان ، سرور خان ، صابر خان ، ذوالفقار ، محمد عمران ، عتیق و دیگر نے کہا کہ دو تین دن پہلے سے ہی محکمہ واپڈا کو اطلاع کر دی گئی تھی کہ برقی تاریں کمزور اور جوڑ ڈھیلا ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ کر حادثہ کا باعث بن سکتا ہے مگر کسی نے دھیان نہ دیا اور غفلت لاپرواہی دو معصوم جانیں لے گئیں مظاہرین نے واقعہ کی تمام تر ذمہ داری محکمہ واپڈا پر عائد کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری سخت کارروائی کامطالبہ کیا۔ اہل محلہ نے بتایا کہ تاریں ٹوٹتے ہی محکمہ واپڈا کو اطلاع کی کم از کم بجلی کی سپلائی کو منقطع کر دی جائے مگر واپڈا کے دفتر متعلقہ ایس ڈی او کے موبائل نمبر پر بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کسی نے فون سننے کی زحمت نہیں کی۔ حضرو کے محلہ ڈاک بنگلہ میں پیش آنے والے المناک حادثہ کی اطلاع محکمہ واپڈا کو دی گئی مگر اہلکار عصمت اللہ 9بجے موقع پر پہنچا تو اس نے بتایا کہ محکمہ کی طرف سے لائن مین کو بھیجا گیا مگر وہ صرف لنک اتار کر بھاگ گیا اہلکار سے صحافیوں نے پوچھا کہ اتنا بڑا حادثہ ہو گیا محکمہ واپڈا نے اس میں کیا کردار ادا کیا تو عصمت اللہ نے کہا کہ آپ ایس ڈی او سے بات کریں۔
03-01-2009 16:42 Attock News
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 03-01-2009 16:42. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 207 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 03-01-2009 16:42
Views: 19942
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)
Only registered users can comment an article. Please login or register.

No comment posted

2007-2014
< Prev   Next >