Random Member


Ejaz Khan
Your Favorite GSM Service ?

Total Members

3135 registered
0 today
0 yesterday
0 this week
0 this month
Attock
27°C
سچ کڑو ا سہی لیکن !ایک نظر ادھر بھی اے چارہ گرو
 
سابق امریکی صدر ابراہیم لنکن کا قول ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیئے ساری دنیا کو بے وقوف بنا سکتے ہیں تھوڑی اور دیر کے لیئے آدھی دنیا کو اور تھوڑی اور دیر کے لیئے چوتھائی دنیا کو اس سے کچھ زیادہ دیر کے لیئے ایک محدود تعداد کے لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیئے آپ کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے ممبئی سمیت بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے اصل مجرم سامنے آنے لگے ہیں مالیگاؤں کے واقعہ میں ملوث گرفتار ہونے والے کرنل پروہت کے انکشافات کے بعد کرکرے سمیت ان تفتیشی افسران کا قتل اب بھارت کے گلے کی ہڈی بنتا جارہا ہے ۔ جو کاما ہسپتال کی گلی میں مارے گئی۔ غیر جانبدار حلقوں سمیت قتل ہونے والے افسران کے ورثا کی طرف سے ان کے قتل کو سازش قرار دے کر اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لیئے غر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ تا جارہا ہے بھارتی لوک سبھا کے وزیر برائے اقلیتی امور عبد الر حمٰن انتولے کے خطاب نے بھارتی نیتاؤں کی نیندیں حرام کر دی ہیں ۔کیو نکہ ان کے سیکولرہونے کے دعوے کو سخت دھچکا لگا ہے جوں جوں سیکولر ماسک اتررہا ہے ہندو انتہا پسند وں کا چہرہ صاف دکھائی دینے لگا ہے اور عالمی میڈیا کی نظروں کا دھندلکا بھی چھٹنے لگا ہے ۔ انتولے کا کہنا تھا کہ ہمت کرکرے کا قتل ایک سازش کے تحت ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی ایجنسیوں کی ملی بھگت سے کیا ہے کیونکہ وہ مالیگاؤں دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے اور انھوں نے اپنی تحقیقات میں یہ ثابت کیا کہ دھماکے مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندو انتہاپسند وں اور غیر مسلموں نے کیئے ہیں انتولے نے کہا کہ انھیں اس بات پر بھی حیرت تھی کہ کرکرے جیسا افسر تاج محل اور ابرائے ہوٹل یا ناریمان ہاوس جانے کے بجائے کام ہسپتال کی گلی میں کیوں گیا ؟یعنی یہ تینوں اعلیٰ افسران اس گلی میں کیوں گئے جب کہ یہ پروٹوکول کے خلاف تھا اسی طرح کی اور بہت سی باتیں شکوک شبہات پیدا کرتی ہیں جن کی تحقیقات ہونی چائیے ۔ہمیت کرکرے کی موت پر ان کے سوالات نے ہندو انتہا پسندوں کے ہوش گم کر دئیے ہیں اور وہ اس غصہ میں جہاں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے ہیں اور انھوں نے انتولے کو پاکستانی ایجنٹ کہ کر مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے ۔لیکن حکومت کی خاموشی نے اس واقع کو اور پرا سرار بنا دیا ۔اور حکومت کو اس مشکل سے نکالنے کے لئیے انتولے نے خود ہی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو اپنا استعفیٰ ارسال کرکے ایک اور اخلاقی فتح حاصل کر لی ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت کی اس کے بیان پر سبکی ہوئی ہے تو وہ خود ہی اس عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں کیونکہ وہ حکومت کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے لیکن حکومت کو کرکرے کی موت کے پیچھے سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانا ہوگی تاکہ بھارت کا سیکولر اسٹیٹ ہونے کی ساکھ متاثر نہ ہو ۔ ادھر کرکرے کی بیوہ نے بعد از موت حکومت کی طرف سے دئیے جانے والے بہادری کے ایوارڈ کو بھی وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔جس کا موقف ہے کہ اس کے خاوند کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے ۔کرکرے کا جرم یہ ہے کہ اس ایمان دار آفیسر نے اپنی مٹی سے وفا کرتے ہوئے بھارت میں اصل وارداتیں کرنے والے گروپ کو بے نقاب کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی ایجنسیوں سے دشمنی مول لے لی بلکہ اس نے ایک فوجی کرنل پروہت جو ان وارداتوں کا سرغنہ تھا نہ صرف گرفتار کیا بلکہ اس نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ مالیگاؤں ،سمجھوتہ ایکسپریس سمیت متعدد دہشگردی کی وارداتیں اس کی زیرنگرانی ہندو انتہا پسند تنظیموں کی کارستانی ہے تاکہ مسلمانوں کو مشکوک کرکے ہند وستان میں ان کا جینا مشکل بنا دیا جائے ۔کرکرے کے سنیے میں موجودبہت سے راز اور اہم شخصیات کا ان کاروایوں میں ملوث ہونے کے ثبوت اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے ساتھ دفن ہوگئے لیکن کہتے ہیں کہ بے گنا ہ کا خون خود بولتا ہے وہ کبھی رائیگاں نہیںجاتا ۔سچ کڑوا صحیح مگر تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے آل انڈیا پیٹراٹک فورم سے وابستہ نامور صحا فی امریش مشرا نے ڈھنکے کی چوٹ پر بولا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور ایجنسیوں کی کہانی حقیقت سے میل نہیں کھاتی اور اب عوام اچھی طرح محسوس کرنے لگی ہے کہ ان سے کچھ چھپایا جارہا ہے ۔یہ حملہ بھارتی دستور کو بدلنے کے لیئے کیا گیا ۔جس کو سیکولر لوگ برداشت نہیں کریں گے انھوں نے کہا یہ حملہ ایک عالمی گیم ہے جس کے پیچھے موساد ،سی آئی اے اورآر ایس ایس کے لوگ ہیں ۔ان کو سادھو سنگھ پر گیا ٹھاکر کے معاملے کو دبانا تھا۔ کیونکہ حالیہ تفتیش میں پورا بھگوا برگیڈ ننگا ہورہا تھا۔کرکرے کو اسی لیئے راستے سے ہٹایا گیا جب کہ مزیدچھ ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخا بات میں کامیابی بھی ان مقاصد میں شامل ہے ۔ان کے مطابق اس پورے معاملے میں دوتین چیزوں پر غور کرنا چائیے یعنی ہمیت کرکرے اور دیگر دو افسران کی موت کہاں اور کیسے ہوئی؟ ان تینوں لوگوں کے موبائل کہاں ہیں ؟کرکرے کے موبائل پر سب سے آخر میں کس نے اور کہاں سے فون کیا ؟اور اس نے ان کو کیا پیغام دیا؟آخر وہ تینوں لوگ ایک ساتھ کیوں تھے ؟ہمیت کرکرے اور ان کے ساتھیوں کو جو گولی لگی وہak47کی گولی تھی یا9MM[L: 91]7.l[L: 93]کی؟دوسرا نریمن ہاوس میں پچھلے دو مہینے سے کیا سرگرمیاں چل رہی تھیں ؟اس میں کون لوگ آئے گئے ؟اور نریمن ہاوس کا آپریشن سب سے آخر میں کیوں کیا گیا ؟امریش مشرا نے بڑے دکھ سے کہا موساد اور سی آئی اے ہندوستان کو توڑنا چاہتے ہیں ۔ان کا مقصد پوری دنیا کو اقتصادی ،تہذیبی،فکری اور سیاسی طور پر غلام بنانا اور دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ملک کو ٹکڑوں میں بانٹے بغیر وہ اپنے اس ناپاک ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔جب کہ آر ایس ایس کی لڑائی ہندوستان کے دستور سے ہے ۔وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا ۔اس کا خواب ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا ہے لیکن اس کام کے لیئے وہ اپنے آپ کو تنہا پاتا ہے ۔اس لیئے اس نے موساد اور سی آئی اے سے الحاق کیا ہے ۔گاندھی جی کا قتل اسی ذہنیت کا غماز تھا ۔1991سے قبل کیونکہ وہ روس کے دبدبے کی وجہ سے آزاد نہیں تھے ۔اور اب موساد انھیں اپنا پٹھو بنا نا چا ہ رہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں 1993کے بعد ہونے والے سارے بم دھماکے اور حملوں کے پیچھے یہی الحاق کام کر رہا ہے موساد کاایک گروپ جس کو sayanimکہا جاتا ہے یہ اسرائیل سے باہر کام کرتا ہے اس بات کی تحقیق ہونی چائیے کہ کہیں ان دس دہشت گردوں کا تعلق اسی گروپ سے تو نہیں ۔پھر نریمن ہاوس میں جو یہودی مارے گئے ہیں ان کو کس کی گولی لگی؟ابھی اس طرح کی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ امریکہ یا ہندوستان میں 9/11جیسا کوئی بڑا حملہ ہوسکتا ہے دراصل دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہی ہے ۔اس ممکنہ جنگ میں یہ لوگ مسلمانوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔صاحبو اس کڑوے سچ نے بھارت کے نیتاؤں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں اور وہ پاکستان پر دباؤ بڑاھا کر ابھی کمزوری کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔بھارت کے اندر اس وقت علیحدگی کی 67تحریکیں چل رہی ہیں ان کے علاوہ دہشت گردو ںکا بھی راج ہے 17بڑی اور 50چھوٹی ان علیحدگی پسند تحریکوں نے اپنے کارکنوں کی تربیت کے لیئے عسکری کیمپ قائم کر رکھے ہیں ۔بھارت کی میڈیا رپورٹس کے مطابق 162اضلاع میں ان انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے ۔دوسری جانب وہ اپنے کارتوتوں کی سزا ہمسائیہ ممالک کو دینا چاہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اس وقت پاکستان ،چین ،سری لنکا ،اور نیپال میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیموں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔
24-12-2008 19:29 Younas Majaz
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 24-12-2008 19:29. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 135 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 24-12-2008 19:29
Views: 2234
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)
Only registered users can comment an article. Please login or register.

No comment posted

2007-2014
< Prev   Next >