Random Member


malik
Maj. Tahir Sadiq is ....

Total Members

3135 registered
0 today
0 yesterday
0 this week
0 this month
Attock
26°C
عربوں پر برتری کی علامت اور لومڑی
 
سعودی عرب کو دنیا بھر میں عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔مسلمانوں کے لئے سعودیہ مقدس ترین جگہ ہے۔اللہ کے گھر خانہ کعبہ مسجد نبوی اقائے دوجہاں حضرت محمد صلعم و دیگر انبیاوں کی جائے پیدائش اور روح پرور مزارات و گنبد خضری کی عقیدت مسلمانوں کے رگ و پے میں خون بن کر دوڑتی ہے یوں سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے بادشاہوں کے ساتھ دنیا کے ڈیڈھ ارب مسلمان والہانہ پیار و یگانگت رکھتے ہیں۔سعودی فرمانروا شاہ عبدللہ کی کوشش و خواہش پر حال ہی میں نیویارک میں بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوئی تاکہ دنیا کے مختلف مذاہب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج و نفرت کو کم کیا جائے مگر اس کانفرنس میں سب سے زیادہ تنقید و تشنع کے تازیانے بھی سعودی عرب پر برسائے گئے۔ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم نے کانفرنس میں شامل شاہ عبدللہ پر تہمتوں کی بوچھاڑ کردی۔تنظیم کے الزامات میں کتنی صداقت ہے اسکا علم تو خدا جانتا ہے،مسلمانوں کے دلوں میں سعودی عرب و بادشاہوں سے روحانی الفت کے سمندر ٹھاٹھیں ماررہے ہیں۔مسلمانوں کی خطہ عرب سے والہانہ عقیدت کسی بھی قسم کے شک و شکوک سے بالاتر ہے مگر کسی بھی ادارے کی تنقید برائے اصلاح کے مختلف ہائے نقطہ نظر کو پرکھنا بھی قلم کی ناگزیرحرمت کا تقاضا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب پر مذہبی امتیاز رکھنے اور متعصب ملک کا دشنام لگایا۔تنظیم کے بازیگروں نے دنیا سے اپیل کی کہ وہ شاہ عبداللہ پر دباو ڈالیں کہ وہ سعودی عرب سے عصبیت اور دینی تفاوت کو ختم کریں اور جس قسم کے نظریات کی علمبرداری انہوں نے کانفرنس میں کی اور جس قسم کی نصیحتیں وہ مغرب میں کرتے ہیں تو دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ ایسے نظریات کی پرورش اپنے ملک میں بھی کرتے ہیں جن مشوروں کا اظہار وہ مغرب میں اکر کرتے ہیں کیا وہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔کنفیوشش نے کہا تھا دیدہ وہ ہے جو اپنی گریبان میں جھانکے۔ہیومن رائٹس واچ کی ڈرائکٹر برائے مشرق وسطی سارہ ویٹسن نے کہا سعودی عرب میں مسلمانوں کے ایک مخصوص مسلک کے علاوہ دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو کسی قسم کی کوئی اذادی نہیںور ایک کے علاوہ مسلمانوں کے دیگر مسالک کے پیروکاروں کو کچھ بولنے کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔سعودی شہنشاہوں کے پسندیدہ مسلک سے تعلق رکھنے والے علما و فضلا کو ہر قسم کی چھوٹ ہے کہ وہ مخالف نظریات و مسالک کی جس طرح چاہیں دل ازاری فرمائیں انکی تکفیر کریں اور دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والی برگذیدہ و مقتدرہ ہستیوں پر اہانت و تحقیر کے نشتر برسائیں۔سارہ کا کہنا تھا کہ کانفرنسوں میں ان مقامات و مملک پر بھی بحث و مکالے منعقد کئے جائیں جہاں دیگر ادیان تو کجا خود اہل توحید کے دیگر مسالک کو نفرت کی شکل میں دیکھا جاتا ہے اور ایسے مقامات میں خود سعودی عرب سرفہرست ہے۔سعودی عرب پر ایسی افترپردازی ماضی میں بھی عائد کی جاتی رہی ہے مگر نو دوگیارہ کے بعد اس میں تیزی اگئی۔بعض دل جلوں نے تو حادثے کی زمہ داری سعودی عرب کے سر تھوپنے کی کوشش کی تھی کیونکہ امریکی بیان کے مطابق تمام ہائی جیکروں کا تعلق سعودی عرب سے تھا جنکی مالی سرپرستی سعودی شہری کرتے تھے۔ان الزامات و تہمتوں کو دھونے کے لئے سعودی عرب نے نہ صرف زبانی طور پر جواب دینے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے اسکا عملی اظہار بھی کیا جس کا ثبوت اناپولس کانفرنس کی صورت میں سامنے ایا جہاں سعودی بادشاہ نے اسرائیل کے ساتھ بیٹھ کر مذہبی رواداری کو اجاگر کرنے کی کوشش کی علاوہ ازیں سعودی بادشاہوں و شاہی نمائندگان نے میڈرڈ کانفرنس میں بھی شرکت کرکے دیگر مذاہب کے ساتھ رواداری کا ڈنکا بجایا۔میڈرڈ کانفرنس اگست میں منعقد ہوئی جسکا نام بین المذہبی کانفرنس رکھا گیا تھا۔اسی کانفرنس میں شاہ عبداللہ نے اشاروں کنایوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اقرار ا کیا تھا۔چہار شنبہ کو منعقد ہونے والی بین المذاہب کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ شاہ عبداللہ بن عبدلعزیز ال سعود و یہودی صدر شمعون پیریز ساتھ ساتھ تشریف فرما تھے۔شمعون نے ایک ہفتہ قبل شاہ عبداللہ کی امن کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ مغربی زرائع ابلاغ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق شمعون پیریز کا شمار عرب مخالف انتہاپسند رہنماوں میں ہوتا ہے اور مغرب میں شمعون کو عربوں پر( برتری کی علامت )کا لقب دیا جاتا ہے وہ اسرائیل کی کوئی مذہبی شخصیت نہیں بلکہ وہ تو وہاں کے سیاسی گرگے ہیں جو گریٹر اسرائیل کے سب سے بڑے و پرجوش مبلغ ہیں۔شمعون کا شمار اسرائیل کے بانیوں میں کیا جاتا ہے اور شمعون ہی یہودی ایٹمی طاقت کے معمار ہیں۔وہ لومڑی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں کیونکہ انکی حیلہ گری اور داو پیچ سے کوئی نہیں بچ پاتا۔شمعون نے عالمی شدت پسند عالمی صہیونی ساہوکاروں سے ملکر اسرائیل کو نہ صرف دفاعی و ایٹمی میدان میں مضبوط تر بنایا بلکہ وہ اسرائیل کو مڈل ایسٹ کا جابر نمبردار بنانے و بے کس و بے بس فلسطینیوں کے خون ناحق کی ہولیاں بہادینے والے سفاک ترین یہودیوں کی صف اول کے امام ہیں۔تجزیہ نگاروں کی ارا کے مطابق میڈرڈ کانفرنس کو مذہبی لباس پہنانے کا مقصد ہی دنیا کو یہ باور کرانا مقصود تھا کہ دونوں (عرب و یہود ) کے درمیان نفرت کی حائل خلیج کو کم کیا جارہا ہے اور ازلی دشمنوں کے مابین دوستی کے نئی رشتے دوبارہ استوار کئے جارہے ہیں۔اس کانفرنس کی انفرادیت کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ کانفرنس میں سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ کی بنفس نفیس شرکت پر خاصی تنقید کی گئی۔عرب اسرائیل تنازعات سے گہرا تعلق رکھنے والی عربی شخصیات نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ سعودی لیڈرز فلسطینی کاز کو روند کر مغرب و امریکہ کی خوشنودی کے لئے اسرائیل سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔عرب حکمرانوں نے ابھی تک فلسطینی عوام کی ازاد ریاست کے قیام کے لئے سنجیدہ مساعی جلیلہ انجام نہیں دی مگر ایسی کانفرنسوں کے انعقاد سے یہ سچائی ضرور برامد ہورہی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کروانے کا سوانگ رچایا جارہا ہے مگر ایسی دریدہ دہنیوں جسکی رو سے فلسطینی مطالبات کو تسلیم کروانے سے قبل تل ایب کو تسلیم کرنے یا دوستانہ روابط قائم کرنے سے یہودیوں کی مرعوبیت کی مالا چنی جارہی ہے۔دوستانہ تعلقات اسرائیل کے لئے ہدیہ ہیں اور ایسی عنایات تل ایب کو مذید ہلہ شیری بخشیں گی کہ وہ مڈل ایسٹ میں حاکمانہ دندناہٹ کو بڑھادے۔فلسطین سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کی رائے زنی کے مطابق ایسی کانفرنسوں و سیمیناروں میں یہودی ارباب اختیار کے ساتھ مذہبی مذاکرات کرنے سے ہم اس نقطے کو تسلیم کرلیں گے کہ اسرائیل یہودی مملکت ہے یوں تل ایب کے پاس یہ جواز پیدا ہوگا کہ وہ بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہاتا رہے وہ فلسطینی روایات زمین و مقامات مقدسہ کو یہودی رنگ میںرنگتا رہے۔بیت المقدس کو تخت و تاراج کرکے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا اغاز کردے تاریخ کی چوری کرتا رہے اور وہ یہتوقع کرے گا کہ عربوں کی سرزمین و دارلسلام کے ڈھیر پر قائم اسرائیل کے وجود کو سب تسلیم کرلیں۔مصری تجزیہ نگار عبدالنعم ابوالقتوح نے اپنے تجزیہ میں حقائق کو یوں طشت ازبام کیا ہے مذاہب کے نام پر سجائی جانیوالی کانفرنسوں میں صرف سیاسی شخصیات شرکت کرتی ہیں۔یواین او کی جنرل اسمبلی میں جو بین المذاہب سرکس سجائی گئی وہ سیاسی شو تھا اور اس شو میں کسی مذہبی شخصیت کو مدعو نہیں کیا گیا جو مختلف ادیان کی روشنی میں رواداری و مساوات کے پھریرے لہراتا۔نیویارک کی تیسری کانفرنس سے پہلے مکہ و میڈرڈ میں دوعدد کانفرنس شو منعقد ہوچکے ہیں۔سعودی عرب ایسی کانفرنسوں کے انعقاد سے اپنے اوپر عائد کئے جانیوالے ان الزامات کا داغ دھونے میں غلطاں ہے جو مغرب کی طرف سے دہشت گردی کو فروغ دینے کی سیاہی سے سعودی عرب کے دامن کو داغدار کئے ہوئے ہے۔سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ کی مشنری تنظیموں و مغربی زرائع ابلاغ کے توسط سے سعودی عرب کی مسخ شدہ تصویر کو روشن خیال رنگ و روپ سے دوبارہ تخلیق اور درست کیا جا سکے۔سعودی عرب مسلم شدت پسندی سے تہی داماں ہوجانے[L: 44] اپنے اپکو ازاد ملک ثابت کرنے کے لئے بے پناہ کاوشیں کررہا ہے تاکہ مغرب سعودیہ کو دہشت گردی کے مقدمات و الزامات سے بری کردے۔ریاض کی ساری ریاضت اس ایک نقطے میں مرکوز ہے کہ ہمارا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ سعودی عرب تو خود مسلم انتہاپسندوں کی ظلمت کا نشانہ بنا ہوا ہے۔یوں نیویارک کی کانفرنس کا خلاصہ یہ ہے سعودی عرب مغرب کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ رواداری میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔سعودی عرب کی ایسی کوششیں کامیابی سے ہم اہنگ ہوتی ہیں یا نہیں اسکا فیصلہ تو انے والا وقت کریگا۔سعودی عرب پر کانفرنسوں کے انعقاد کی صورت میں الزامات کی بوچھاڑ میں حقیقت کا رنگ کونسا ہے اسکا علم بھی کانفرنس کے منتظمین کو ہے مگر ایک سچ تو یہ ہے کہ سعودی عرب چاہے ہزاروں کانفرنسیں منعقد کرواتا پھرے یا مغرب میں اپنی بے گناہی کے جتنے شواہد دکھاتا رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہود و ہنود کی نس نس میں اسلامی تعلیمات سے حسد و بغض کا زہر بھرا ہوا ہے صہیونی و صلیبی طاقتیں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی مستی میں مست ہیں اور انہیں دہشت گردی کی شکل میں ایک ایسا گوہر مقصود کلیہ مل چکا ہے جس کی اڑ میں وہ مسلمانوں پر قافیہ حیات تنگ کرنے کا کوئی چانس مس نہیں کریں گے ۔اسلام کے چوکیدار اور خانہ کعبہ کے سجادہ نشین کی شکل میں سعودی عرب کا مقدس ترین فریضہ تو یہ ہے کہ وہ مسلم امہ کی رواداری یکجہتی اتحاد و اتفاق کے لئے ناگزیر اقدامات کرے۔اگر مغرب مسلمانوں کے ساتھ دوستیاں کرنے و نبھانے میں مخلص ہوتا تو مسلم خطوں کو جنگوں کا جہنم بنانے سے گریز کرتا مغرب کی مسلم دشمنی تعصب و بغض کا جیتا جاگتا ثبوت اس مقولے میں دیکھا جاسکتا ہےEAST IS EAST WEST IS WEST BOTH NEVER BECOME TOGATHER
24-12-2008 13:56 Rauf Amir
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 24-12-2008 13:56. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 102 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 24-12-2008 13:56
Views: 2022
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)
Only registered users can comment an article. Please login or register.

No comment posted

2007-2013
< Prev   Next >