پاکستان
میں صدارتی انتخاب کی گہماگہمی شروع ہوچکی ہے،صدارتی الیکشن میں یوں تو
پانچ امیدوروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دئیی گئے ہیں،لیکن اصل مقابلہ
پی پی کے شریک چیرمین اصف علی زرداری نواز لیگ کے جسٹس سعیدالزماں اور ق
لیگ کے دولہے مشاہد حسین کے درمیان ہوگا۔ اصف علی زرداری یہ میدان مار لیں
گے کیونکہ صدارتی الیکشن میں الیکٹرول کالج کا کردار ادا کرنے والی چاروں
صوبائی اسمبلیوں،سینٹ اور قومی اسمبلی میں پی پی کے امیدوار کو واضح
اکثیریت حاصل ہے۔مجموعی طور پرelectrole college 1165 ووٹرز پر مشتعمل
ہے۔قومی اسمبلی کے کل ممبران کی تعداد340 ہے۔قومی اسمبلی میں پی پی کے
پاس124 ممبران ایسے ہیں جنہوں نے الیکشن میں پی پی کی ٹکٹوں پر الیکشن
جیتا تھا.قومی اسمبلی میں ن لیگ کو91 مسلم لیگ ق کو54 مسلم لیگ فنگشنل
کو5۔ایم کیو ایم25۔اے این پی13۔ایم ایم اے7۔بھٹو شہید گروپ1۔بی این پی1اور
اذاد ممبران کی تعداد18 ہے۔ قومی اسمبلی کے اذاد اور ق سے تعلق رکھنے
والے35 ایم این ایز نے وزیراعظم گیلانی سے ملاقات کرکے اپنا ووٹ پی پی کے
بیلٹ باکس میں ڈالنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے کل ممبران
کی تعداد370 ہے جن میںپی پی 107۔نواز لیگ170۔کیولیگ83۔مسلم لیگ فنگشنل3
اراکین کی مالک ہے۔لیکن ازاد امیدواروں اور ق لیگ کے فاروڈ بلاک کے ممبران
کو یکجا کیا جائے تو پنجاب میں ن لیگ کے ممبران کی تعداد191 ہے۔صوبہ سندھ
میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی اور بڑی پارلیمانی جماعت ہے۔سندھ اسمبلی
کے ٹوٹل اراکین کی تعداد166 ہے۔پی پی کو یہاں90۔ایم کیوایم58۔ق لیگ9۔مسلم
لیگ فنگشنل8 اور اے این پی کو 2 ممبران کی کرم نوازی حاصل ہے۔صوبہ سرحد
میں ووٹرز کی کل تعداد124 ہے۔جن میں عوامی نیشنل پارٹی48 اور پی پی کے
حمایتوں کی تعداد 30ہے۔جب کہ سرحد میں نواز اور کیو لیگ کی تعداد بالترتیب
9اور6 ہے۔بلوچستان اسمبلی میں معزز اراکین کی تعداد65 ہے۔پی پی کے ممبران
12ق لیگ19اے این پی 4بی این پی7ایم ایم ایم10 اور ازاد گروپ کو اٹھارہ
ممبروں کی حمایت حاصل ہے۔ایوان بالا کے ممبران کی تعداد سو ہے۔الیکشن
کمیشن اف پاکستان کی فہرست کے مطابق پی پی 9نواز لیگ4 اور ق لیگ کو38ایم
کیوایم چھ بی این پی اور ایم ایم ایم17 اور اذاد گروپ کو12 سینٹرز کی
ہمرکابی حاصل ہے.چاروں صوبائی اسمبلیوں،سینٹ اور قومی اسمبلی میں پی پی کے
مجموعی ممبرز375۔ن لیگ274 ۔ق لیگ210 پاکستان مسلم لیگ فنگشنل17 متحدہ قومی
موومنٹ82 اے این پی69 پی پی شہید بھٹو10 بلوچستان نیشنل پارٹی9 اور اذاد
گروپ57 ہیں.صدر کے الیکشن میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کا ایک ایک
ووٹ ہوتا ہے۔لیکن چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ووٹ برابر شمار کئے جاتے
ہیں۔صدارتی امیدوار صوبائی اسمبلیوں سے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی
اسمبلی یعنی بلوچستان اسمبلی کے65 ووٹوں سے ضرب دیکراسی اسمبلی کے جملہ
اراکین سے تقسیم کردیا جاتا ہے۔سادہ اکثریت کے لئے الیکٹرول کالج کے نصف
ووٹ حاصل کرنا پڑتے ہیں۔اگر اسی تناسب کے اعداد و شمار کا زائچہ بنایا
جائے تو پی پی کے امیدوار زرداری کو مجموعی طور پر قومی اسمبلی سے124پنجاب
سے19سندھ سے36سرحد سے16 بلوچستان 12سے اور سینٹ سے9 ووٹ حاصل ہونے کی توقع
ہے.یوں پی پی کا امیدوار216 ووٹ سمیٹ کر فتح کا بگل بجائے گا۔لیکن سچ تو
یہ ہے کہ پی پی کو توقعات سے بھی ذیادہ ووٹ ڈالے جائیں گے.کیونکہ پی پی کا
سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان میں
مولانا فضل الرحمن و بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساتھ الحاق ہے۔متحدہ اور
عوامی نیشنل پارٹی و فضل الرحمن گروپ نے تو باقاعدہ طور پر اپنی جماعتوں
کی طرف سے پی پی کے شریک چیرمین زرداری کی بطور امیدوار نامزدگی کی
ہے.صوبہ سندھ اور بلوچستان میں پی پی کی حکومت قائم ہے.ایک سروے کے مطابق
سندھ کے 166کے ایوان میں سے پی پی کواتحادیوں کی سپورٹ سے150بلوچستان کے
کل65 میں سے55 سرحد کے124 میں سے92 اور پنجاب کے ٹوٹل ممبران 370 میں
سے150 سے زائد ووٹرز کی حمایت مل سکتی ہے.قومی اسمبلی کے مجموعی ووٹوں340
میںسے220 سے ذائد ووٹوں کا ہندسہ پی پی کے ماتھے پر کندن ہوگا۔جبکہ سینٹ
کے کل سو کے ایوان میں سے پی پی اتحادیوں کی امداد و استعانت سے65 کی لکیر
کراس کرسکتی ہے۔یوں الیکٹرول کالج کے کل1165 میں سے پی پی کو اندازوں
قیافیوں اور تجزیوں کی روشنی میں720 تا740 ووٹرز کا اعتماد حاصل ہوسکتا
ہے۔یوں یہ سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہوکر نوشتہ دیوار بن چکی ہے کہ چھ
ستمبر کو اگر فطرت یزداں کی طرف سے کوئی انہونی نہ ہو ئی تو پی پی کا پرچم
ایوان صدر پر اپنی عظمت و افتخار کے پھریرے لہرا رہا ہوگا۔ذرداری کی جیت
جمہوری قوتوں کی جیت ہوگی.زرداری کی صدارت اور امامت میں قوم پاکستان اگر
مصمم ارادہ کرکے شاہراہ جمہور پر کشاں کشاں رواں دواں ہوجائے تو ہم قائد
اعظم اور قائدعوام کی خواہشات والے پاکستان کی دوبارہ تعمیر کو یقینی
بناسکتے ہیں۔زرداری نے بی بی کی شہادت کے بعد جس تدبر و فراست جنون بادہ
پیمائی سے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور انتخابی اکھاڑہ جیتا اور پھر جس
ہوشیاری سے جنرل مشرف کی گوشمالی کو یقینی بنایا اس نے ثابت کردیا ہے کہ
وہ بھٹوز کے خلا کو نہ صرف پورا کرنے کی خداداد صلاحیتوں سے بہرہ مند ہیں
بلکہ وہ مصائب و الام کی گھنبیرتا میں اہ و فغاں کرنے والی دکھیاری قوم کی
قیادت کرنے کے سو فیصد اہل ہیں۔بھٹو نے نصرت بھٹو سے شادی کے ایک ماہ بعد
اسمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ایک روز نیلے اکاش پر
جگمگانے والے ان ستاروں کی طرح جگمگاوں گا لیکن بہت جلد معدوم بھی
ہوجاونگا.لیکن شائد قائد عوام کو یہ معلوم نہ تھا کہ بھٹو نام کا ستارہ
تاابد جگمگاتا رہے گا.زرداری کی جیت بھی بھٹوز نام کے ستاروں کی جھلملاہٹ
کی مرہون منت ہے۔پی پی سرکار اور چھ ستمبر کو بھاری اکثریت سے صدارت کے
تخت پر بھٹو کے روپ میں جلوہ گر ہونے والے شریک چیرمین زرداری کا اولین
فریضہ ہے کہ وہ دور رفتہ کو ملک کے محکوم و بے کس پاکستانیوں کے لئے
جمہوریت امن رواداری خوشحالی و ہریالی اور عدل و انصاف کا دامن بنادے۔اہل
پاکستان کیطرف سے پی پی اور زرداری کو چھ ستمبر کے معرکے میں تاریخ ساز
کامیابی کی ایڈوانس مبارک۔چھ ستمبر کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمنوں کو
جس برق رفتاری سے تہس نہس کردیا تھا امیدکی جاتی ہے کہ زرداری بھی پاک
فضائیہ کے شاہینوں کی طرح امرانہ قوتوں کے بتوں کو پاش پاش کردیں گے.
This entry was posted on 05-09-2008 13:40. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 2 time. . . .
You can leave a comment.
. . . Last update on 05-09-2008 13:40 Views: 382
This article was favoured 2 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 05-09-2008 13:40
Views: 382