Top 5 Members


Earth Man
Profile Hits: 3842

Shakir Mumtaz
Profile Hits: 3255

Attock News
Profile Hits: 901

Adnan Gill
Profile Hits: 874

Fahad Ahmad Siddiqi
Profile Hits: 821
Attock
7°C
طالبان کی حالیہ کامیابی اور مغرب کا اعتراف شکست
 
حکیم ارسطا طالیس نے کہا تھا.کہ ظالموں اور ستم گروں کے ساتھ یارانے مت رکھو.ورنہ بروز جزا تجھ سے اسکی باز پرس ہوگی. دنیا کی آقائی کا دم بھرنے والے امریکہ کے اسلحہ خانوں میں پندرہ ہزار سے زائد ایٹمی بم موجود ہیں.جو منٹوں میں دنیا کو بھسم کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں.امریکہ افغانستان اور عراق میں بیس ارب ڈالر سے زائد کی رقم جنگی جہنم کے سپرد کر رہا ہے.امریکہ کے پاس ہلاکت افریں میزائلوں کے انبار ہیں.امریکہ کی جی ڈی پی بارہ کھرب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے.جبکہ ستاون اسلامی ملکوں کی مجموعی جی ڈی پی دو کھرب ڈالر ہے.لیکن اتنے بڑے اور دنیا کی واحد سپر پاور کو افغانستان میں مٹھی بھر مجاہدین نے زچ کردیا ہے . افغانستان میں امریکہ کی شکست نوشتہ دیوار بن چکی ہے.ویسے بھی خدائی قوانین کی رو سے آمروں ڈکٹیٹروں اور فرعونوں کو ایک نہ ایک روز زلت امیز حقارت و نفرت کے ساتھ ساتھ شکست کے تاریک اندھیروں میں ہی ڈوبناپڑتا ہے.وائٹ ہاوس کی افغانستان میں شکست کا تجزیہ ہم نے نہیں بلکہ امریکی جریدے ٹائمز نے اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے. ٹائمز کے نمائندےjeffery stern نے اپنی رپورٹ میں طالبان کی ابھرتی ہوئی قوت.جنگی پلاننگ اور افغانی قوم کی طالبان کے ساتھ یکجہتی و اتحادی افواج کے سورماوں کی مشکلات کا تزکرہ کیا ہے .ٹائم کی اطلاع کے مطابق افغانستان کے صوبے نورستان میں طالبان کی مختصر ٹیم نے نو امریکن میرینز کو ایک معرکے میں رسید جہنم کردیا.ٹائم نے جنگجووں کے حملے کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب رات کی تاریکیاں صبح صادق کے پرنور اجالوں میں ڈھل رہی تھی. جنگجووں نے مقامی ابادی میں بسیرا کررکھا تھا.امریکی فورسز کے ترجمان کے مطابق طالبان کے اس سرفروشانہ حملے کی بنیاد مقامی ابادی کے وہ دیہاتی لوگ تھے.جنہوں نے طالبانی شاہینوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی.صوبہ نورستان کے دانت نامی قصبے میں امریکن افواج نے فوجی اڈہ قائم کررکھا ہے. درجنوں جنگجوووں نے رات کی آخری ساعتوں میں اپنے پلان پر عملدرامد کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں.اور پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے طالبان نے امریکی اڈے کو چاروں طرف سے گھیر کر جارح فوجوں پر راکٹوں.و مشین گنوں سے فائرنگ کردی.امریکیوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا.یوں گوروں کے تمام حفاظتی اقدامات فنا ہوگئے. حملے کی اطلاع ملتے ہی امریکہ کے ہیبت ناک اور قیامت برسانے والے جنگی جہاز ہیلی کاپٹر منٹوں میں اڈے کیاطراف و جوانب شدید ترین بمباری کی. لیکن اللہ کانام لینے اور راہ شہادت کے جانباز ڈٹ گئے..کہا جاتا ہے کہ جنگ جیتنے کے لئے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ زور بازو بھی لازمی ہوتا ہے.امریکہ نواز افغان فورسز اور انکی سرپرست نیٹو فورسز نے اپنا بچاو کرنے کی سینکڑوں تدبیریں کیں.لیکن طالبانی سرفروش طوفان بنکر چھا گئے.ٹائم نے گورے فوجیوں کی بے بسی پر آہ و فغاں کرتے ہوئے لکھاکہ طالبان نے امریکیوں کے سیکیورٹی اقدامات کو تہس نہس کرڈالا.صبح کاذب کے وقت شروع ہونے والا یہ معرکہ دوپہر تک جاری رہا.طالبان نے مرد مومن بنکر نہ صرف ہزاروں گنا طاقتور مخالفین کے بخئیی ادھیڑ ڈالے.بلکہ وہ دلوں کو دہلا دینے والی فضائی گولہ باری کے دوران بے دھڑک اگے بڑھتے رہے اور اڈے میں جاگھسے.امریکی کے فوجی ترجمان نے صف ماتم باندھ کر بتایاکہ اس حملے میں انکی لگ بھگ چالیس ہلاکتیں ہوئیں.امریکہ ونیٹو کے فضائی بیڑے لگاتار طالبان کے ٹھکانوں اور پوزیشنوں پر بارود برساتے رہے.لیکن طالبان کو پسپا نہ کرسکے.امریکہ کے دفاعی ماہرین نے اس حملے کو خطرناک ترین حملہ قرا دیا ہے.جس کی اب تک کوئی نظیر نہیں ملتی.امریکی و افغانی فوجیوں کی ہلاکت پر افغانیوں نے کوئی افسوس نہ کیا.ٹائم کا کہنا ہے.کہ افغانستان میں حالات روز بروز خراب تر ہوتے جارہے ہیں.بھوک بے روزگاری اور وحشت ناک جنگوں نے افغانیوں کو کرزئی سرکار اور قابض فوجوں کے خلاف بھڑکا دیا ہے.افغا نیوں کی اکثریت خراب صورتحال اور افغانستان کے طول وعرض میں پھیلی طوائف الملوکی کی ز مہ داری اتحادی فوجوں پر ڈالتے ہیں.کیونکہ وہ تو مسیحا بننے کا دعوی کرکے یہاں ائے تھے.افغانیوں کا کہنا ہے کہ اتحادی فوجیں افغانستان کے مسائل حل کرنے کی بجائے افغانیوں کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہیں.افغانستان میں جہاں ایک طرف خونی جنگ و جدال جوبن پر ہے. تو وہاںلوگوں کی سماجی و معاشی پوزیشن زیرو ہوگئی.اور اتحادیوں کے جھوٹے وعدوں اور جبر و ستم نے طالبان کی تحریک کو اخلاقی جواز اور ایندھن مہیا کیا ہے.جس کا وہ بھر پور فائدہ اٹھارہے ہیں.افغانوں میں ایک رائے تو یہ بھی پختہ ہو چکی ہے.کہ اتحادی فوجیں طالبان کو نہ تو تسخیر کرسکتی ہیں اور نہ ہی وہ یہاں کے حالات سدھارنے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہیں.بلکہ امریکہ افغانستان میں درجنوں کے حساب سے فوجی اڈے قائم کرہا ہے.تاکہ امریکی فوجیں ایران و دیگر ممالک کے خلاف انکی سرزمین کو استعمال کرسکیں.امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں عام اور نیوٹرل ٹائپ افغانیوں کی ارا کو بھی شامل کیا ہے.افغانیوں کا بڑا طبقہ رائے زنی کرتا ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں دہشت گرد سمجھا جاتا ہے.اگر کوئی افغانی بھولے بھٹکے سے امریکی چھاونیوں کی طرف چلا جائے تو انہیں اتحادی فورسز کی فائرنگ کی غذا یا قید و بند کے ٹارچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے.طالبان کا خوف افغانستان کے دور دراز علاقوں سے کابل تک پہنچ چکا ہے.کرزئی سرکار کے نورتن و پیادے اور حکومتی فورسز کے اہلکار بھی خوف و حزن کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں.طالبان کی صورت میں انہیں ہر وقت موت کا دھڑکہ لگا رہتا ہے.امریکی میگزین نے اس امر کا اظہار بھی کیا ہے.کہ کابل کا ریڈ زون بھی اب طالبان کی پہنچ سے محفوظ نہیں رہا. امریکی افواج کے منصوبہ ساز اور تجزیہ نگار نورستان میں نو فوجیوں کی ہلاکت کی زمہ داری طالبان کے ساتھ ساتھ حکمت یار گروپ پر عائد کرتے ہیں.اس پر مستزاد اس کاروائی میں پاکستانی طالبان کی شرکت کا غوغہ بھی پیٹا جارہا ہئے جریدے نے برطانوی بحریہ کے کیپٹن اورESAF کے ترجمانMIKE FINNY کے اس دعوے کو مسترد کردیا جس میں اس نے بڑھک ماری تھی.کہ طالبان میں اب سکت نہیں رہی کہ وہ ہمارا مقابلہ کرسکیں. یا ایک حملہ کرنے کی جرات کریں.لیکن صدر حامد کرزئی پر دلیرانہ حملے.قندھار میں جیل توڑنے.شاہراہ کابل پر امریکی کانوائے کی مکمل تباہی اور بھارتی سفارت خانے پر کامیاب حملے نے طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت اور امریکیوں کی جھنجلاہٹ کو عیاں کردیا.معروف نشریاتی ادارے بلوم برگ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے.کہ نورستان میں نو امریکی میرینز کی ہلاکت نے نیٹو فورسز کو اپنی پلاننگ تبدیل کرنے پر پسپا کردیا.بلوم برگ نے دشنام طرازی کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ ملنے والی قبائلی پٹی کو بند کئے بغیر کوئی چارہ نہیں.بلوم برگ کے نمائندے پال لکھتے ہیں کہ امریکہ پاکستانی حکومت پردباو ڈالے تاکہ قبائلی علاقوں سے جنگجووں کی امد کو روکا جا سکے.ادھر امریکہ کے ایک اور جریدےchrischian science monitor نے نو فوجیوں کی ہلاکت پر اپنے ادارئیی میں لکھا ہے.کہ طالبان مستقبل میں بھی ایسی کاروائیاں اور کامیابیاں حاصل کریں گے.واقعہ نورستان طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت اورکامیاب حکمت عملی کی دلالت کرتا ہے.برطانوی اخبار ٹائسن نے سانحہ نورستان پر لکھے گئے تجزیوں میں طالبان کے نئے ظہور کو تسلیم کیا ہے.اخبار کے مطابق طالبان کا یہ حملہ غیر متوقع اور برق رفتا ر تھا.جس میں نو میرینز کے علاوہ انیس امریکی فوجی شدید زخمی ہوگئے.امریکہ کے ملٹری زرائع نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ طالبان اڈے کے اندر بھی جا گھسے.جس سے اڈے کو شدید تر نقصان ہوا .اڈے کی تعمیر اور افغانستان میں تمام امریکی اڈوں کی سیکیورٹی کا کام دوگنا کردیا گیا ہے. مغربی میڈیا کی رپورٹس نے ایک حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے.کہ افغانستان میں اتحادی فوجوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے.امریکہ نے نائن الیون کے بعد کابل پر چڑھائی کی تو مغرب نے افغانیوں کو جمہوریت.معاشی ترقی اور روشن خیالی کا جھانسہ دیا.لیکن سچ تو یہ ہے کہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود افغانیوں کی کوئی امید بر نہیں لائی.نہتے لیکن جہادی سرشاری سے لیس مجاہدین نے نیٹو فورسز کی وحشیانہ جنگی فورسز.قیامت برسانے والی فضائی قوت کا نفس ناطقہ بند کردیا.ویسے بھی افغانستان کی تاریخ اس حقیقت کو اشکار کرتی ہے.کہ اج تک دنیا کی کوئی غاصب و جارح فو ج افغانیوں کو زیادہ دیر تک اپنا غلام بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی.کابل پر جس نے حملہ کیا وہی غرقاب شکست ٹھہرا.جنگجووں نے امریکی افواج کو لوہے کے چنے چبوادئے ہیں.امریکہ شکست کے دہانے پر پہنچ چکا.کابل میں امریکی جنگی قلعے لرز رہے ہیں.جنہیں صرف ایک دھکا دینے کی ضرورت ہے.مسلم امہ کا اولین فریضہ ہے کہ وہ وائٹ ہاوس کی پرستش کرنے کی بجائے طالبان کا ساتھ دیں.ورنہ کل کلاں انہیں رب العالمین کی عدالت میں جواب دہ ہونا پڑے گا.حکیم ارسطا طالیس کا قول ہے. کہ ظالموں اور ستم گروں کے ساتھ تعلقات مت رکھو.کہ بروز جزا اسکی تجھ سے باز پرس ہوگی.امریکہ ایسے ظالم فاجر و فاسق ملک کے مسلم ہرکاروں بادشاہوں اور نام نہاد جمہوری حکم رانوں کو اس قول پر گہری نظر دوڑا کر طالبان کا ساتھ دینا چاہیی.ورنہ وہی ہوگا.جس کا اشارہ حکیم ارسطا طالیس نے اپنے فقرے میں دیا ہے.امریکہ کو تاریخ سے درس لینا چاہیی.کہ سکندر اعظم ایسا فاتح عالم بھی افغانیوں کو تسخیر کئے بغیر بے نیل و مرام واپس پلٹ گیا تھا.کیونکہ جانسن کلبی نے سکندر اعظم کے ادائے بے نیازی سے جواب دیا تھا کہ میرے حصے کی دھوپ چھوڑ دو.
05-09-2008 12:52 Rauf Amir
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 05-09-2008 12:52. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 1 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 05-09-2008 12:52
Views: 415
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
Available characters: 600
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

2007-2009
< Prev   Next >

Total Members

2274 registered
1 today
0 yesterday
2 this week
4 this month

Random Member


jawadahmed 4u