ارشاد
باری تعالی ہے کہ جس شخص نے اللہ کی باندھی ہوئی حدوں سے باہر قدم رکھا تو
اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ہر طرف خاموشی کا پہرا تھا ایک طرف صحراوں کی اگ
برساتی زمین نے علاقے کو دنیاوی دوزخ میں ڈھال دیا تھا تو دوسری طرف خدا
کی کبریائی بھی اشکبار ہوکر انسان کی بربریت کا دل سوز و دل گداز منظر
دیکھنے میں محو تھی.صحراووں کی خاموشی کا سینہ ایسی الم ناک چیخوں نے چاک
کردیا جو اس سے پہلے ان صحراوں نے کبھی نہ سنی تیھں۔دھاڑوں اور اہوں نے
صحرائی درندوں کے دل بھی دہلادئیی اور وہ حضرت آدم کی بہیمت پر کف افسوس
ملتے اپنی کچھاروں میں جا گھسے۔فضائیں اور ہوائیں بھی خون کے انسو برسانے
لگیں.اس پر طرہ یہ کہ فضاووں میں پھرنے والے پنچھیوں نے بھی اپنی چہچہاہٹ
سے ماتم کنائی کی لیکن ظلم تو یہ ہے کہ اشرف المخلوقات کے عظیم تر رتبے پر
فائز حضرت انسان کو اپنی ماووں کی صداووں بہنوں کی کرلاہٹوں اور بہو
بیٹیوں کی دل چیرنے والی سسکیوں پر رحم نہ ایا اور انہوں نے شیطانوں کا
روپ دھار کر حوا کی پانچ بیٹیوں کو صحرا کی مٹی میں زندہ درگور
کرڈالا.ظلمت کی اس داستان کے مصور قبائلی سردار پاکستان کے سب سے بڑے
ایوارڈ کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت کی یاد تروتازہ
کردی۔اکیسویں صدی کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کو بھی سلام پیش کیا
جانا ضروری ہے کیونکہ قانوں کے رکھوالے اس سانحہ دلخراش پر اطلاعات کی
بجائے اس وقت تک خاموش تماشائی بنے رہے جب تک بلوچستان سے سینٹ کی ممبر
یاسمین بی بی نے ایوان کے بے حس بنے ہوئے ممبران کو اس واقعہ سے روشناس نہ
کروایا.سینٹ کے ممبران نے میڈیا کی چمکتی روشنیوں میں احتجاج کا بگل بجا
کر اپنا فرض پورا کردیا.بلوچستان کے علاقے گڑھی رحمان ضلع نصیر اباد میں
پانچ پاکباز عورتوں کو غیرت کے نام پر دوماہ قبل صحرائی مٹی کی غذا بنادیا
گیا.عالمی میڈیا میں پاکستان کی رسوائی و جگ ہنسائی ہوئی تو پولیس نے اپنے
نمبر ٹانکنے کے لئے من گھڑت کہانی لکھ ڈالی تاکہ صحراووں میں پانچ عورتوں
پر قیامت صغری مسلط کرنے والے قبائلی گودے اور اسکے شیطانی چیلوں کو تحفظ
دیا جاوے.سبی کے ڈی ائی جی پولیس غلام شبیر شیخ نے دوستمبر کو گل فشانی کی
کہ غیرت کے نام پر پانچ کی بجائے تین خواتین کو قتل کیا گیا اور بعد ازاں
انہیں تن کے کپڑوں میں ہی دفنا دیا گیا.پولیس کے اس راجکمار نے تسلیم کیا
کہ انہیں ملزمان کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں کہ انکے نام صیغہ راز میں رکھے
جائیں.پولیس نے فرض شناسی کا ثبوت دیکر چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے لیکن
پلسئیی ملزمان کا نام بتانے سے گریزاں ہیں۔ایسے کڑیل و بادشاہ ٹائپ پولیس
والوں کو تو دفاتر میں چوڑیاں پہن کر بیٹھنا چاہیی یا پھر ایسے ڈرپوک
پولیس والوں کو ملک بدر کردیا جائے جو ماووں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں
اور جانوں کا تحفظ تو درکنار قاتلوں تک کانام افشا کرنے سے گریز کرتے
ہیں۔میڈیا کے تجزیوں اور رپورٹوں کے مطابق پانچ عورتوں کو زمین میں زندہ
درگور کرنے والے بگ باس ملزم کا تعلق پی پی کے ایک صوبائی وزیر سے ہے.کہا
جارہا ہے کہ ایسا شیطانی درندہ صوبائی وزیر کا بھائی ہے.اگر اس بات کو سچ
مان لیا جائے اور پی پی میں ایسے یذیذووں نے پناہ ڈھونڈ نکالی تو پھر
پارٹی کو تنزلی و زوال سے کوئی نہ بچا پائے گا۔پی پی قیادت کا فرض ہے کہ
وہ شفاف تحقیقات سے دودھ اور پانی علحیدہ علحیدہ کرے اور واقعہ کی صداقت
کی روشنی میں ملزمان اور صوبائی وزیر کو تازیانہ عبرت بنا دیا جائے۔سینٹ
کے بلوچ ممبر اسرار زہری نے مجوزہ واقعے کو بلوچستان کی تابندہ روایات سے
جوڑ کر ظلمت زدہ خواتیں کے حق میں تقریریں کرنے والے سینٹروں وسیم سجاد
اور بی بی یاسمین پر کڑی نکتہ چینی کی.اسرار زہری اور اس قبیل کے دیگر
ممبران سینٹ اور پارلیمنٹ کو بھی سلام عقیدت پیش کرنا چاہیی جو ان فتنہ
گریوں کو قبائلی روایات کا شاخسانہ قرار دینے کی ٹرٹراہٹ کرتے ہیں جن پر
پیغمبر انسانیت اور خاتم المرسلین حضرت محمد صلعم نے چودہ سو سال قبل
پابندی عائد کردی تھی.خدائے رحمن بھی اپنی افاقی کتاب قران مجید میں
فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا وہ بروز جزا سخت
عذاب کا سامنا کریں گے۔اسلام نے عورتوں کو دیگر مذاہب کے مقابلے میں زیادہ
عزت و وقار دیا ہے۔لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں عورتوں کو وہ
مقام اور رتبہ حاصل نہیں جس کا زکر تعلیمات اسلام میں پنہاں ہے . عورتوں
پر فرعونی جبریت کی بھرمار کرنے والے صوبائی وزیروں اور پلسیوں کے لئے رب
العالمین کا ایک فرمان درس عبرت لئے ہوئے ہے.رحمن فرماتا ہے کہ عورت کے
ساتھ مسرت بھری زندگی گزارو،اور اسے کسی قسم کے درشت الفاظ سے مت پکارو
ہوسکتا ہے جس چیز کو تم ناپسند خیال کرتے ہو اس میں اللہ تعالی خیر و برکت
بھردے۔ پاکستان میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جنکا زکر اسلام کے ساتھ
ساتھ ائین پاکستان میں درج ہے.ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس
مملکت خداداد میں عورتوں کی حالت ناگفتہ بے ہے.ہمارے ہاں کائنات کی اس
مقدس ترین ہستی پر مظالم کی ایسی چاند ماری کی جاتی ہے کہ پتھر دل لوگوں
کے سینوں میں بھی درد کی اگ سلگ اٹھتی ہے اور انکھوں میں نہ رکنے والا
انسووں کا طوفان موجزن ہوجاتا ہے.یہاں کبھی کوئی بیٹی ونی کے کلہاڑے سے
ہلاک کی جاتی ہے اور کبھی کسی حرماں نصیب لڑکی کو کالاکالی کی صلیب پر
چڑھا کر اسکے ارمانوں کا خون کیا جاتا ہے۔کبھی جائیداد کی ہوس میں کسی
لڑکی کی شادی قران کے ساتھ کرکے اسے عمر بھر کے لئے سسکنے پر مجبور کردیا
جاتا ہے تو کبھی کسی خزاں رسیدہ بنت حوا کو فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا
کر ورثا گردنیں اکڑاتے پھرتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک طرف پسند کی شادی کرنے
والی لڑکی کے ٹکڑے کرنے کو عزت کا نام دیا جاتا ہے تو دوسری طرف بچیوں کو
زندہ درگور کرنے کو خاندانی حشمت کی تصویر کہا جاتا ہے. عورتوں کی حالت
زار کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک گھنٹے میں دس عورتیں گینگ
ریپ کا شکار بنتی ہیں۔لیکن قانون کا تازیانہ سرداروں نوابوں اور روسا کے
سامنے ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جاتا ہے. اور قانون کے نشتر صرف غریبوں اور
بے کسوں کے دلوں میں چبھوئے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں تمام سیاسی جماعتوں کے
رہنما اور اسمبلیوں و سینٹ کے اراکین خود کو اسلام کا پیروکار و شیدائی
کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔سیاست دانوں کی صفوں میں ممتاز عالم دین
بھی شامل ہیں۔ساروں کا فریضہ ہے کہ وہ حقوق و احترام کے حوالے سے عوام کو
اگاہی دیں۔تاکہ کاروکاری سے لیکر ونی تک اور کالاکالی سے لیکر قران کریم
سے شادی تک ایسی طفلانہ و بے ہودہ روایات کا خاتمہ ہو سکے۔پاکستانی صوبے
سندھ و بلوچستان کے قبائلی علاقوں اور پنجاب کے لوئر اضلاع میں اج بھی
فرسودہ روایات کا بول بالا ہے.جاگیردار وڈیرے اور قبائلی سردار ونی
کاروکاری اور قبیح قسم کی روایات کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔جبکہ ہر کسی کو
معلوم ہے کہ ہمارا قانون اشراف کے سامنے مٹی کامادھو ہے.یوں یہ امر پیش
نظر رکھنا چاہیی کہ ہمارے ہاں جب تک قبائلی و استحصالی نظام کو لڑکیوں و
عورتوں کی جگہ زندہ درگور نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک حوا کی بیٹیاں
فرسودہ روایات کے پھانسی گھاٹ پر لٹکتی رہیں گی.پولیس کے ڈی ائی جی اسی
طرح چوڑیاں پہن کر دونمبری کہانیاں الاپتے رہیں گے.صوبائی وزیر اور انکے
دم چھلے قانون کی گرفت سے بچتے رہیں گے۔سینٹ کی یاسمین بیبیاں دور جہالت
کی چیرہ دستیوں پر اہ و فغاں کرتی رہیں گی۔اسمبلیاں غیر سروپا قراردادیں
بھی پاس کرتی رہیں گی لیکن کچھ بھی تو نہ ہوگا جیسے بلوچستان کے حالیہ دل
اندودہ واقعہ پر کچھ بھی تو نہ ہوا. استحصالی طبقوں کا خاتمہ کئے بغیر
قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا اور جب تک قانون کو
اولین مقام و مرتبہ نہیں ملے گا تب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے اور
جب تک کسی سماج میں انصاف کا بول بالا نہیں ہوگا تو تب تک ظالموں اور
جابروں کی گردن زنی کرنا ناممکن ہے.شائد مولانا مودودی نے درست کہا تھا کہ
پھوس کے پولوں کا انبار خواہ کتنا ہی وزنی کیوں نہ ہو کبھی بڑا قلعہ نہیں
بن سکتا۔سانحہ نصیر اباد پوری قوم کے منہ پر شرم کا تمانچہ ہے۔ہماری بے
حسی پر درندے اور ابلیس بھی پھبتیاں کستے ہونگے.کیونکہ سولہ کروڑ کی ابادی
والے ملک میں ایک بھی ایسا نہیں جس کے کانوں میں بہو بیٹیوں کی کراہیں
پہنچ سکیں اور کوئی انکی دستگیری کے لئے بے خطر اتش نمرود میں کود
پڑے.ہماری سرفروشی اور غیرت کا یہ عالم ہے کہ عافیہ صدیقی کو کراچی کے
بھرے بازار میں امریکی بھیڑئیی بچوں سمیت اغوا کرکے لے گئے.وہ امریکہ کی
کال کوٹھڑی میں ہماری بے حسی کا ماتم کررہی ہے اور ہم اتنا نہیں کرپائے کہ
عافیہ کے حق میں ایک کتبہ اٹھا کر سڑک پر کم ازکم اپنا احتجاج ہی ریکارڈ
کروا کر شہیدوں میں اپنا نام لکھواتے.جو قوم عافیہ کے مسئلہ پر چوڑیاں پہن
کر گھروں میں خمار زدہ چوہوں کی طرح دبکی بیٹھی ہے.بھلا وہ قوم پانچ
عورتوں کے زندہ دفنا دینے کی سفاکیت پر کیا طوفان برپا کرلے گی.ہم صرف
قینچیوں کی طرح زبانیں چلانے اور ہر مسئلے کا ملبہ حکومتی ایوانوں پر
پھینکنے کے ماہر ہیں۔ہمارے کردار و گفتار میں زمین و اسمان کا فرق ہے. ہم
بحث و مباحث اور ہوا میں گھوڑے دوڑانے میں ید طولی رکھتے ہیںلیکن اس وقت
ہمیں سانپ سونگھ جاتا ہے جب ہماری بہو بیٹیوں کو سربازار اغوا کرلیا جاتا
ہے جب ہماری ماووں کو زندہ غرقاب مٹی بندیا جاتا ہے.خدا نے اج ترک اس قوم
کی حالت نہیں بدلی جب تک قوم سربکف ہوکر اتش نمرود میں کودنے کا جنون نہیں
پالتی.یاد رکھو جب تک سولہ کروڑ کا یہ ریوڑ سربکف ہوکر سڑکوں پر نکل ایا
تو اس روز نہ ظلم رہے گا اور نہ ہی ظالموں کو قانونی موشگافیوں کے بل بوتے
پر ازاد کروانے والے قانونی تاجر زندہ بچیں گے.اور وہ وہی دن ہوگا جو
انقلاب کے نام سے گردانا جاتا ہے.چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اس کالم کے توسط
سے عرض ہے کہ وہ سویوموٹو ایکشن لیکر پانچ عورتوں کو زندہ دفنانے والے
ابلیسوں کو قانون کے شکنجے میں جکڑیں ورنہ روز جزا ان سے بھی باز پرس
ہوگی. بھائی کو اس سانحے سے بری الذمہ قرار دلوانے کے لئے سرگرم عمل
صوبائی وزیر کو یاد رکھنا چاہیی کہ خدا نے فرمادیا کہ جس نے خدائی حدووں
کو مسخ کرنی کی کوشش کی اس نے خود پر ظلم کیا۔صوبائی وزیر صاحب یاد رکھئیی
کہ اپ دنیاوی قانون کو تو روند چکے لیکن اس ظلم عظیم پر خدائی قہر کا
شکنجہ بہت جلد اپکی گردن میں کسا جائے گا کیونکہ رب باری کی عدالت میں دیر
ضرور ہوتی ہے لیکن اندھیر نہیں اور قبائلی وڈیرے صاحب یہ نکتہ بھی زہن
نشین کرلیں کہ ظلم مٹ جاتا ہے جب بڑھتا ہے.یاد رکھو پانچ بے گناہوں کی وہ
چیخیں جو تمھارے سامنے مظلوموں کے گلے میں پھٹ کر فنا ہوتی رہیں وہ عمر
بھر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایک روز یہی دردناک صدائیں تمھارے سینے کو
چیر ڈالیں گی یہی تاریخ کا سبق اور فرمان خدا وندی ہے.
This entry was posted on 05-09-2008 12:51. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 3 time. . . .
You can leave a comment.
. . . Last update on 05-09-2008 12:51 Views: 403
This article was favoured 3 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 05-09-2008 12:51
Views: 403