Dec
02
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
19°C
امریکی مفاد کے نگہبان PDF Print E-mail
User Rating: / 1
PoorBest 
 
طالبان افغانستان میںکی موجوگی ۔ امریکین ری پبلیکن پارٹی کے مفادکی نگہبانی کا ایک سیاسی عمل ہے۔امریکہ میں الیکشن کی تیاریوں کے مدنظر افغانستان و پوری دنیا میں وہ سر اٹھارہے ہیں۔ فی الوقت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ امریکہ طالبان کی چنگل میں پھنس چکا ہے۔ اس کے پاس جدید طرز کے ایسے ہتھیار ہیں۔ جو امریکہ کے پاس بھی نہیں ہیں۔ ان کا نیٹ ورک بڑ ا مضبوط اور بڑا اعلیٰ ہے۔ اور دنیا کے ساتھ ساتھ امریکہ پر زیادہ حملہ آور ہیں۔ اس طرح مذکورہ پارٹی امریکی عوام کے خون کو گرمانے کی ایک سیاسی حکمت عملی ہے۔ اسی کو عنوان بنا کر مسٹر بش کی جماعت وہاں کے عوام کو طالبان سے ڈرا و دھمکا کر ان کے ووٹ بٹورنے میں کامیاب رہتی ہے۔ طالبان کی مسٹر کرزائی سے آنکھ مچولی کا کھیل ابھی شدت سے شروع ہوگا۔ طالبان کے ذریعہ افغاستان کی راجدھانی کا بل پر قبضہ جمانے کی نئی تحریک شروع کی جائے اور اس کیلئے امریکہ و اس کے اتحادی ملکوں کے غریب فوجی بطور ایندھن کے وہاں رکھے گئے ہیں۔ جن کو صرف امریکہ کا الیکشن جیت نے کیلئے طالبان کے عنوان سے یہ سب کچھ کرایا جارہا ہے۔ چہرے سے وہ شکلیں مسلمان ہیں مگر وہ سب کے سب مذہب اسلام کے دشمن ہیں وہ بناوٹی لوگ مذہب اسلام کو طالبان کے حلیہ کے ساتھ اس پاکیزہ مذہب کو اس طرح دھشت گرد مذہب میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اور مسلمان کو دھشت گرد بناکے پیش کیا جارہا ہے۔ اگر امریکہ میں مسٹر بش کی پارٹی کے ساتھ الیکشن کی مہم نہ ہوتی ۔ تو دھشت گردی کا وجود اتنا وسیع نہ ہوتا۔دھشت گردی کی پھیلاوٹ کرکے اس پر حملہ کرنے کیلئے افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں کچے مکانات کی تعمیر کرکے ان پر حملوں کا پروگرام مرتب کیا گیا۔ پہلے ان حملوں میں پاکستان کے قبائیلی علاقوں کا بھی انتخاب کیا گیا ۔مگر مشرف میاں کے اقتدار میں کمزور پرتے ہی اور ان کے ے دخل ہوتے ہی حالات بدل گئے۔ پاکستان کی جمہوری حکومت اپنے عوام پر امریکہ کی مذکورہ پارٹی کے سیاسی فائیدے کیلئے وہاں حملے کی اجازت نہیں دے رہی ۔ جبکہ مسٹر حامد کرزائی صاحب نے تمام افغانی عوام کا سر مسٹر بش کی پارٹی کے قدموںمیںلے جاکر رکھ دیا ہے۔ وہ جب چاہیں ان پر حملہ کریں ۔ اور جب چاہیں ان کے گلے پر چھری پھیر دیں ۔ افغانستان میں طالبان کے عنوان جو کچھ بھی ہورہا ہے۔ اس میں مذید تیزی لائی جائے گی۔ اور یہ حکمت ایک سیاسی مفاد کا حصّہ ہے۔ اور در حقیقت طالبان امریکی مفاد کے نگہبان ہیں۔ بلکہ خاص کر امریکن ری پبلیکن پارٹی کے مفاد کے نگہبان ہیں۔ طالبان باظاہر اسلامی حلیہ فوج ہے۔ مگر اند ر سے وہ مذہب اسلام کے دشمن ہیں۔اور وہ ظالمان ہیں۔ان کی پوشاک کیسٹوں میں مسلمان جیسی بنائی گئی ہے۔ مگر ان سب کی کمانڈ امریکہ و حامد کرزائی کے ہاتھ میں ہے۔ اب طالبان کی تخلیقی کیسٹوں میں دھمکیاں انگریزی زبان میں آنے سے ایسا لگتا ہے۔ کہ وہ لوگ امریکی باشندے ہیں۔ان کی حرکتوں سے مذہب اسلام کی تبلیغ میں امریکہ کی طرف سے اس طرح زبردشت رکاوٹ ڈالی جار ہی ہے۔ مذہب اسلام کی وہاں پھیلاوٹ کوروکنے کیلئے طالبان و القاعدہ نما ہتھکنڈے استعمال کرنے پر مسلسل دس سال سے زائد عرصہ سے مجبور ہے۔اس بار ایسا ممکن نظر آتا ہے۔ تخلیقی القاعدہ لیڈر اسامہ بن امریکہ ، ملا عمر بن امریکہ کی تخلیقی کیسٹوں میں موت واقع کراکر امریکی عوام کو جشن منانے کا موقعہ دیا جائے گا۔ اس اقدام سے بھی امریکی عوام کے ووٹ بٹورنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ اس لئے تخلیقی کیسٹوں سے القاعدہ و طالبان سے منسوب لوگوں کے قتل کا سلسلہ پہلے شروع کرایا جاچکا ہے۔
بہرحال امریکہ میں ۔۔ امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دینے کیلئے بش پارٹی کے پاس القاعدہ و طالبان سے بہتر کوئی اور ہتھکنڈا نہیں ہے۔ جس کو استعمال میں لاکر تازہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔ اس امریکن ری پبلیکن پارٹی کی پسندیدہ حکمت ’’طالبان و القاعدہ‘‘ سے ہی فقط اس جماعت کی نگہبانی کرائی جارہی ہے۔ ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی ۔۲



28-08-2008 21:36 Ayaz Mehmood
This entry was posted on 28-08-2008 21:36. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 270    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >