| قبائلی عوام کے نام کھلا خط |
|
|
|
لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے بعد اب انتہائی حساس ادارے واہ فیکٹری کے
مین گیٹ پر دو خود کش حملوں میں سو کے قریب افراد جاں بحق اور اتنے ہی
زخمی ہوگئے ۔دھماکے اس وقت ہوئے جب ورکرز چھٹی کرکے گھر جانے کے لیے
فیکٹری گیٹ سے باہر آرہے تھے ۔ کہ خود کش حملہ آوروں نے خود کواڑا لیا
جس سے ہر طرف انسانی اعضا ء بکھر گئے ۔سیکرٹی فورسسز نے فوری کاروائی کرتے
ہوئے ایک خود کش جیکٹ برآمد کرکے ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے ۔ادھر مقامی
طالبان نے مزکورہ دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی
علاقوں میں آپریشن بند نہ کیا گیا ۔تو مزید خود کش حملے ہوں گے ۔ ڈیرہ
اسماعیل خان کی طرح اس دھماکہ کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کرکے
بظاہر اپنی دہشت اور نمبر بڑھانے کی کوشش کی ہے ۔جس سے ان کی بلیک میلنگ
کا ایک اور در وا ہوا ہے ۔لیکن عام پاکستانی اور مسلمانوں میں ان کے لیے
نفرت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔حالانکہ امریکہ کے خلاف طالبان کی
کاروائیوں کو عام پاکستانی طالبان کو تحسین کی نظر سے دیکھتا تھا اور ہے
۔لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان بھر میں مسجدوں سمیت مختلف مقامات پر
سیکورٹی فورسسز اور عام پبلک مقامات پر خود کش حملوں اور پھر طالبان کی
طرف سے ان کی ذمہ داری قبول کرنے کی روش نے عام پاکستانی اور مسلمان
کمیونٹی پر یہ واضح کر دیا ہے ۔کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اپنے ہی
مسلمان بھائیوں کو بموں سے اڑانے والے نہ تو مسلمان ہوسکتے ہیں۔ اور نہ ہی
پاکستانی ۔بلکہ انھیں غیر مسلموں اور امریکہ کا ایجنٹ کہا جائے تو بے جا
نہ ہوگا ۔کیونکہ ان کے پاس جدید اسلحہ، ٹیکنالوجی اور وافر مقدار میں مالی
وسائل یہ ثابت کرتے ہیں ۔کہ ان کے پیچھے پاکستان اور اسلام دشمن عناصر کا
ہاتھ ہے ۔اور یہ وہ طالبان نہیں جو اسلام کی سر بلندی اور امریکہ کو زیر
کرنے کے لیے لڑرہے ہیں ۔بلکہ یہ وہ غیر ملکی ایجنٹ اور سمگلر ہیں
۔جوڈالروں کے عوض سب کچھ کررہے ہیں ۔ان میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں
کرنے کے عادی اور منشیات کے سمگلر بھی شامل ہوگئے ہیں ۔جن کا نہ کوئی مذہب
اور نہ کوئی دین ہے ۔ جنھوں نے قبائلی علاقوں میں مدرسوں کی آڑ میں عقوبت
خانے قائم کیے ہوئے ہیں۔ اور بظاہر مذہبی پیشواؤں کا روپ دھار لیا ہے ۔جو
مذہب اور دینی تعلیم کے نام پر غریب گھرانوں کے یتیم بچوں کولے جاکر خود
کش بمبار ی کی تربیت دیتے ہیں ۔اور پھر پاکستان دشمن عناصر سے بھاری رقوم
لے کر ان کی مرضی کے ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں ۔اس طرح امریکہ اور اس کے
حواری ہمیں بلیک میل کرکے حقیقی طالبان کے خلاف نبرد آزما کیے ہوئے ہیں
۔جو افغانستان میں امریکہ کو ناکو چنے چبوا رہے ہیں ۔بیت اللہ محسود ہو یا
مولانا عمر اب تک ان کے رویے اور پاکستان میں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے
کی پالیسی سے عام پاکستانی اور مسلمان کو یہی بات سمجھ آئی ہے ۔کیونکہ
اگر وہ مسلمان ہیں اور پاکستان کے ہمدرد ہیں ۔تو پھر وہ یہاں کیا کررہے
ہیں ۔اور دیگر ممالک کے جنگجوؤں کو بھی یہاں کیوں پناہ دیئے ہوئے ہیں ۔جن
کی وجہ سے پاکستان پوری دنیامیں بدنام ہورہا ہے۔ ہزاروں فوجی اور شہری
شہید کروا کر بھی پاکستان کو عالمی سطح پر شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے
۔جب کہ پاکستان نے با رہا مزاکرات اور امن معاہدوں کے ذریعے کوشش کی ہے۔
کہ قبائلی عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے والے جنگجو اور غیر ملکی شدت
پسند یہاں سے نکل جائیں ۔یا اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں۔ تو ان کے پرموٹر
اس بات کی ضمانت دیں ۔کہ وہ پاکستان سے جاکر افغانستان میں دہشت گردی کی
کاروائیاں نہیں کریں گے ۔لیکن ہربار معاہدوں کو ان ہی شر پسند بروکروںاور
پاکستان دشمن عناصر نے سبوتاژکیا ہے۔حال ہی میں سوات میں صوبہ سرحد اے این
پی کی حکومت اور مولانا فضل للہ کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی مثال
ہمارے سامنے ہے ۔جس میں ایک طرف امن معاہدہ میں یہ تسلیم کیا گیا ۔کہ وہ
حکومت کی رٹ کو چیلنج نہیں کریں گے ۔لیکن امن معاہدے کی ابھی سیاہی بھی
خشک نہیں ہوپائی تھی ۔کی طالبان نے نہ صرف درجنوں گرلز سکولوں اور
ہسپتالوں کو جلا کر راکھ کر دیا ۔بلکہ ہنگو تھانے کا معاصرہ کر کے پولیس
اہلکاروں کو یر غمال بنا لیا ۔جب کہ دیگر سرکاری اداروں کے کئی اہلکار بھی
اغوا کیے جاتے رہے ۔ایسی صورت حال میں صوبائی حکومت کو مجبورا امن معاہدہ
ختم کر کے فوج طلب کرنا پڑی ۔حالانکہ صوبائی حکومت جو حقیقی معنوں میں
پختونوں کی اپنی حکومت ہے۔اور پختونوں کے مزاج اور روایات سے اچھی طرح
واقف ہے ۔مزاکرات کے ذریعے صوبہ میں امن لانے کی خواہش مند ہے ۔تاکہ صوبہ
میں عوامی فلاح وبہبود کے کام کروا کر سرخرو ہوسکے ۔کیونکہ پاکستان بننے
کے بعد پہلی بار انھیں صوبہ میں وزارت اعلیٰ سمیت حکومت بنانے کا موقع ملا
ہے اور وہ یہ موقع کھونا نہیں چاہتے۔ لیکن اب وہ بھی شرپسندوں کے ساتھ
آہینی ہاتھوں سے نبٹنا چاہتے ہیں ۔کیونکہ شر پسندوں کی بڑھتی ہوئی
سرگرمیاں یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ وہ اسلام کے نام پر لوگوں کو
دھوکہ دے رہے ہیں ۔ان کا حقیقی ایجنڈا کچھ اور ہے ۔اور یہ بات اب قبائلی
علاقہ کے اور خصوصا سوات کی عوام کو سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے ۔جو اے این
پی کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔کیونکہ ان غیر ملکی ایجنٹوں سے نبٹنے کے لیے
مقامی لوگوں کی حمایت ضروری ہے ۔جو اب ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔یہ بات
طے ہے کہ اسلام اور طالبان کے نام پر کاروائیاں کرنے والے شرپسند پاکستان
دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔جن کی نظر ہمارے ایٹمی
اثاثوں پر ہے ۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے ۔کہ شمالی
اتحاد اور افغان آرمی کے قبائلی علاقوں میں کاروائیاں کرنے میں ملوث ہونے
کے وردی اور بوٹوں کے ثبوت ملے ہیں ۔ اس لیے حکومت کو چاہیے ۔کہ عام
قبائلی عوام کی زندگیوں آسان بنانے کے لیے وہاں بنیادی سہہولتوں کی فرہمی
کو یقینی بنائے ۔جیسا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کو
بتایا ہے ۔کہ فاٹا میں ایک ہزار ارب ترقیاتی کاموں پر خرچ کرنے کا پروگرام
بنایا گیا ہے ۔جسے جلد قابل عمل بنایا جائے ۔تاکہ قبایلی عوام شرپسند
عناصر کی بلیک میلنگ اور شکنجے سے نکل سکیں ۔اور یہی ایک راستہ ہے۔ ا ن
علاقوں میں امن قائم کرنے کا کیونکہ جب مقامی لوگ طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے
ہوئے ۔تو ان کاوہاںٹکنا مشکل ہوجائے گا ۔جب کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ
سے اکھاڑنے کے لیے قبائلی عوام کو بھی آگے آنا ہوگا ۔اور یہی ان کے مفاد
میں ہے ۔ورنہ امریکی فورسسز کو دہشت گردوں کے نام پر مزیددہشت گردی کا
بہانہ مل جائے گا ۔جو اب بھی شرپسندوں کے نام پر بے گناہ قبائلی عوام پر
میزائل راکٹ اور بم برسا رہے ہیں ۔بقول ا پنے اس قطعہ کے
۔۔۔۔۔۔۔ گر د شیں یہ نہیں زما نے کی
سا ز شیں ہیں تجھے مٹا نے کی
پھر عدو ہیں ترے تعا قب میں
کو ششیں ہیں نقب لگا نے کی
خصوصی طورپر اسلام کے نام پر ملک اور اسلام دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے ان بد قسمت سوئی سائیڈ بمر کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے ۔کہ وہ غیر محسوس طریقے سے اپنی دنیا اور آخرت کن مفاد پرست عناصر کے لیے خراب کر رہے ہیں ۔جو ہر دھماکے بدلے میں ہمارے دشمنوںسے لاکھوں ڈالرو صول کر رہے ہیں ۔ایٹمی قوت پاکستان بیرونی دشمنوں سے تو نبرد آزما ہوسکتا ہے۔ اور کسی کی جرت نہیں کہ وہ ہماری طرف میلی آنکھ أٹھاکر دیکھے ۔مگر بد قسمتی یہاں سے شروع ہو تی ہے جب ہمارے اپنے ہی سینوں سے بم باندھ کر اپنے ہی گھرکو تباہ وبرباد کرنے پر تل جایئں ۔حالانکہ ہماری روایت تو دشمن کے ٹینکو ں کو بموں سے أڑانا رہی ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ گھرکے کسی فرد سے لڑائی ہوجائے یا ناراضگی ہو۔ توآدمی ا پنے گھرکو آگ لگادے ۔نہیں ایسا کبھی نہیں ہوتا کیو نکہ۔۔ گھرتو اپناہے۔۔۔ جس کی خاطر ہمارے
آباؤاجداد نے سو دکھ جھیلے ہیں۔لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دردِدل ہوتودواکی جیئے،،،،،،،، دل ہی جب دردہوتوکیاکی جیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو نس مجاز ۔۔۔۔ رائے عامہ روڈ الحمید پلازہ ہری پور۔۔ فون نمبر03018126146
۔۔۔۔۔۔۔ گر د شیں یہ نہیں زما نے کی
سا ز شیں ہیں تجھے مٹا نے کی
پھر عدو ہیں ترے تعا قب میں
کو ششیں ہیں نقب لگا نے کی
خصوصی طورپر اسلام کے نام پر ملک اور اسلام دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے ان بد قسمت سوئی سائیڈ بمر کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے ۔کہ وہ غیر محسوس طریقے سے اپنی دنیا اور آخرت کن مفاد پرست عناصر کے لیے خراب کر رہے ہیں ۔جو ہر دھماکے بدلے میں ہمارے دشمنوںسے لاکھوں ڈالرو صول کر رہے ہیں ۔ایٹمی قوت پاکستان بیرونی دشمنوں سے تو نبرد آزما ہوسکتا ہے۔ اور کسی کی جرت نہیں کہ وہ ہماری طرف میلی آنکھ أٹھاکر دیکھے ۔مگر بد قسمتی یہاں سے شروع ہو تی ہے جب ہمارے اپنے ہی سینوں سے بم باندھ کر اپنے ہی گھرکو تباہ وبرباد کرنے پر تل جایئں ۔حالانکہ ہماری روایت تو دشمن کے ٹینکو ں کو بموں سے أڑانا رہی ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ گھرکے کسی فرد سے لڑائی ہوجائے یا ناراضگی ہو۔ توآدمی ا پنے گھرکو آگ لگادے ۔نہیں ایسا کبھی نہیں ہوتا کیو نکہ۔۔ گھرتو اپناہے۔۔۔ جس کی خاطر ہمارے
آباؤاجداد نے سو دکھ جھیلے ہیں۔لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دردِدل ہوتودواکی جیئے،،،،،،،، دل ہی جب دردہوتوکیاکی جیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو نس مجاز ۔۔۔۔ رائے عامہ روڈ الحمید پلازہ ہری پور۔۔ فون نمبر03018126146
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 224