دہشت
گردی ہمارے معا شرے کے لئے ایک سلگتا سوال بن چکا ہے جس کا جواب کہیں سے
نہیں مل رہا ،تحریک طالبان جیسی تنظیمیں کھلے بندوں حکومت کو بھی دھمکا
رہی ہیں اور ہر خود کش بم دھماکے کے بعد اس کی زمہ داری بھی قبول کر ر ہی
ہیں اس سے بڑھ کر حکومت کی بے توقیری اورکیا ہو سکتی ہے کہ اس کی ناک کے
نیچے بیٹھ کر صرف دھمکایا ہی نہ جاے بلکہ جو دل چاہے وہ کر بھی لیا جاے اب
یہی دیکھ لیں ڈیرہ اسمعیل خان کے بعد واہ کینٹ جیسے حساس علاقے میں دن
دہاڑے وارداتیں کر رہے ہیں ،حکومت سے یہ پوچھا جانا چاہیی کہ اس کی "رٹ"
کہاں ہے ؟ کیا بیان بازیوں سے ہلاک شدگان کے لواحقین کے زخموں پر مرہم
رکھا جا سکتا ہے ۔جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے ساتھ مزاکرات
کئے جائیں ان سے بھی یہ پوچھا جانا چاہیی کہ جو لوگ ان کی درندگی کا شکار
ہورہے ہیں ان کا اور انکے پیچھے رہ جانے والے ان کے معصوم بچوں کا کیا
قصور ہے ۔اس ذہنیت سے مزاکرات کیسے کیی جا سکتے ہین جو ہو ہی انسانیت کی
قاتل اور مجرم ان پر سختی سے ہے قابو پایا جاسکتا ہے ورنہ یہ لوگ شہروں کو
کھنڈر اورانسانوں کو لوٹھڑوں میںبدلنے کے لئے آزاد ہیں یہ بات اب عیان ہو
چکی ہے کہ یہ لوگ دشمن کے آلہ کار ہیں جو پاکستان کو ہر طریقے سے کمزور
کرنا چاہتے ہیں اس لئے یہ کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ اب یہی دیکھ
لیں گزشتہ دو تین دنوں میں ڈیرہ اسمعیل خان اور واہ کینٹ میں ہونے والے
خود کش حملوں کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں
،یہ سب ہلاکتیں معصوم اور بے گنا انسانوں کی ہوئی ہیں ۔عمومی طور پر یہی
ہوتا ہے کہ ہر خود کش حملے کے بعد حکومت اور دیگر کرتا دھرتاوں کے بیان
آنے شروع ہو جاتے ہیں کی ان واقعات میں ملوث افراد کو کڑی سزا دی جاے گی
اور یہ کہ یہ حملے ملک کے خلاف سازش ہیں اور ہم ان کی مذمت کرتے ہیں وغیرہ
لیکن ابھی تک ان کی مکمل روک تھام کے لئے کوئی طریقہ کار وضح ہوتا ہو
دکھائی نہیں دے رہا لوگ خوف زدہ ہیں کہ نہ جانے کب کس کے ساتھ کیا ہو
جاے۔حکومت کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے حولے سے موثر اور سخت
اقدامات اٹھانے پڑیں گے ،ملک اور انسانیت دشمن لوگوں کو کسی طور بھی معاف
نہیں کرنا چاہیی انکی اب تک کی کاروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ ہلاک و
زخمی ہو چکے ہیں ، پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ انیس نومبر
انیس سو پچانوے میں اسلام آباد میں قائم مصر کے سفارتخانے میں ہوا۔ مصری
حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک سفارتخانے کے احاطے میں اڑا دیا جس کے
نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد سنہ دو ہزار دو میں ایک
اور خودکش حملہ چودہ جون کو کراچی ہی میں ہوا۔ اس حملے میں بارود سے بھرا
ٹرک امریکی سفارتخانے کے سامنے دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں بارہ
افراد ہلاک ہوئے۔ اس خود کش حملے کے بعد پاکستان میں ہونے والے خود کش
حملوں کے تعداد باسٹھ ہو گئی تھی اور ان حملوں میں تقریباً آٹھ سو افراد
ہلاک ہوئے تھیسنہ دو ہزار تین میں صرف ایک خودکش حملہ ہوا۔ یہ حملہ پچیس
دسمبر کو راولپنڈی میں ہوا اور اس حملے میں ہدف صدر جنرل پرویز مشرف تھے۔
اس واقع میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ سنہ دو ہزار چار میں پانچ خودکش حملے
ہوئے جن میں ستاون افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں سے چار حملے فرقہ وارانہ
تھے جبکہ ایک حملہ سابقہ وزیر اعظم شوکت عزیز پر اٹک میں ہواتھا ۔ سنہ
دو ہزار پانچ میں خودکش حملوں میں کمی آئی اور صرف دو حملے ہوئے۔ یہ
دونوں حملے فرقہ وارانہ تھے جن میں اکتیس افراد ہلاک ہوئے۔ اگلے سال یعنی
دو ہزار چھ میں ایک بار پھر خودکش حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس سال
چھ حملوں میں لگ بھگ ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں صرف دو
حملے فرقہ وارانہ تھے جن میں چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ان دو حملوں کے علاوہ
ایک حملہ امریکی سفارتخانے کے سامنے ہوا جب کہ باقی تین سکیورٹی اہلکاروں
کے خلاف ہوئے تھے۔ ان تمام حملوں کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ
ک٘ل آٹھ فرقہ وارانہ حملے ہوئے اور اس نوعیت کا آخری حملہ آٹھ نومبر دو
ہزار چھ کو ہوا جس میں علامہ حسن ترابی مارے گئے۔ اس کے علاوہ سات حملوں
میں سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ جیسا کہ دسمبر دو ہزار تین میں جنرل
پرویز مشرف پر خودکش حملہ۔ دو ہزار چار میں وزیر اعظم شوکت عزیز پر اٹک
میں جلسے کے بعد حملہ۔ دو ہزار سات میں وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ پر
چارسدہ کے جلسے میں حملہ اور بینظیر بھٹو کے قافلے پر دو حملے۔ ان حملوں
میں سیاسی شخصیات تو بال بال بچ گئی لیکن ایک سو ستتر لوگ مارے گئے تھے۔ پشاور
میں وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر پر خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں دو
سکیورٹی اہلکار ہوئے تھے۔سنہ دو ہزار دو سے اب تک کراچی میں نو حملے ہوئے۔
ان حملوں میں دو سو تیس افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک سو پینتیس بینظیر
کی ریلی میں اور سینتالیس دو ہزار چھ کی سنی تحریک کے مجمعے میں حملوں میں
جاں بحق ہوئے۔ باقی اڑتالیس لوگ فرقہ وارانہ حملوں میں ہلاک ہوئے۔ پنجاب
میں گیارہ خودکش حملے ہوئے جن میں نوے افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے چھتیس
افراد تین حملوں میں فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھے ۔ جبکہ باقی حملے سیکورٹی
اہلکاروں پر ہوئے۔ ان گیارہ حملوں میں سے سے پانچ حملے راولپنڈی میں ہوئے۔
جبکہ ان پانچ حملوں میں سے چار حملے فوجی ہیڈ کوارٹر کے بہت قریب تھے۔
بلوچستان میں صرف دو خودکش حملے ہوئے جس میں سینتالیس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ
دونوں حملے دو ہزار سات میں ہوئے۔ ایک حملہ کوئٹہ کی عدالت میں ہوا اور
دوسرا حملہ چینی قافلے پر ہوا جس میں تیس افراد ہلاک ہوئے۔ صوبہ سرحد میں
اب تک پینتیس خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں تقریباً تین سو ستر
افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے صرف ایک فرقہ وارانہ خودکش حملہ تھا جن میں
انتالیس افراد مارے گئے۔ باقی بیشتر حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ
بنایا گیا۔ اسلام آباد میں پانچ خودکش حملوں میں اکسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔
ان حملوں میں سے ایک حملہ فرقہ وارانہ نوعیت کا تھا جس میں پچیس افراد
ہلاک ہوئے۔ باقی حملوں میں میریٹ ہوٹل، ائرپورٹ اور سیکورٹی اہلکاروں پر
حملے شامل ہیں۔ ان حملوں میں سے چھیالیس خودکش حملے بندوبستی علاقوں
میں ہوئے جن میں سات سو سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ صرف سولہ حملے علاقہ غیر
میں ہوئے جن میں نوے افراد ہلاک ہوئے۔ اور اب دو تین دنوں میں دو بڑے حملے
ہو چکے ہیں جو ہمیں بحثیت مجموعی سوچنے کی دعوت دیتے ہیں کہ کیا اس ملک کے
معصوم اور بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے کے لئے بے یارو
مددگار چھوڑ دیا جاے؟۔ یہ تفصیل لکھنے کا صرف یہ مقصد ہے کہ خدا و کے
واسطے اس ملک کو بچانے کی کو ئی تدبیر کی جاے اور دہشت گردوں کی حمایت سے
ہاتھ کھنچ لیا جاے ،ریاست کو بھی اب اس بات کا تعین کر لینا چاہیی کہ خود
ساختہ مذہب پھیلانے والوں کو کب تک کھلی چھوٹ دی جا سکتی ہے۔
This entry was posted on 28-08-2008 21:29. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 259
Views: 259