| بے نظیر جماعت کے خاتمہ کیلئے زرداری کو عہدہ صدارت |
|
|
|
پاکستان میں پاکستان پیوپلس پارٹی (پی پی پی) کے خاتمہ کا ایک نیا آغاز
مسٹر آصف علی زرداری عہدہ صدارت کی پیش کش کرکے ہوچکا ہے ۔ اور ہوسکتا
ہے۔ مسٹر آصف علی زرداری پارٹی کے خاتمہ کیلئے اس پیش کش کو قبول کرلیں
گے۔ اس لئے ان کو اس عہدے کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ جو لوگ ان کو اس طرف
دھکیل رہے ہیں ۔ ان کی کوشیش ہے۔ کہ ان کی پارٹی کے اتحاد کو متزلذل کردیا
جائے۔ قیادت سے پارٹی مضبوط ہوتی ہے۔ اور قیادت عہدہ صدارت پر پہنچ کر
مسمار ہوجائے تو یہ کسی المیہ سے کم نہیں۔
مستحکم و پائیدار پاکستان ۔اس خطہ کیلئے ضروری ہے۔ ملک میں مذید استحکام کیلئے ان کی پارٹی کو ان کی ضرورت ہے۔ مگر کچھ لوگ ان کی پارٹی کو ہی عدم استحکام بخش رہے ہوں تو پھر کیا کیا جائے۔۔۔؟
نواز لیگ مسٹر آصف علی زرداری کی عہدہ صدارت پر تقرری کے بعد وزارت عظمیٰ کی دعویداری کرے گی۔جس پی پی پی اور مسٹر آصف علی زرداری کو جھکنا پڑے گا۔ پھر جس سے ان کی جماعت انتشار کا سبب بنے گی۔ اسی انتشار کے بدولت پی پی پی کا قومی اسمبلی میں ممبران کا جمع شدہ زخیرہ پر سب سے پہلے ہی وہ جماعتیں ہاتھ صاف کریں گی۔ جو ان کو ایوان صدر میں پہنچانے کی سیاسی طور پر خواہش مند ہیں۔اور یہ غالباََ مشرف میاں کے مشورہ وہدایت پر عمل کرنے جیسا ہوگا۔مسٹر زرداری سے پاکستان میں ایک نیا کھیل شروع ہونے والا ہے۔ جس کو مشرف میاں اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اب زرداری ملک و پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔ پھر معذرت کے یہ کہتا ہوں کہ ان کو رقص بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
بہرحال ۔مسٹر آصف علی زرداری کیلئے پارٹی کے تئیں وفاداری کا امتحان اب شروع ہوچکا ہے۔ صدارتی عہدہ کا حصول سے لوگ ا ن کو لالچی و حریص کہیں گے۔۔ اور اس کا خمیازہ ان کی پارٹی کو بھگتنا پڑے گا۔ لہذا اب اگر انہوں نے اپنی جماعت کو بچانا ہے۔ تو وہ اس منصب کیلئے مسٹر مخدوم امین فہیم صاحب کا نام پیش کرکے اپنی پارٹی میں استحکام لائیں۔ حالانکہ اس عہدے کیلئے موضوع ترین شخصیات اور بھی ہیں ، جن میں ڈاکٹر ٘قدید خاں صاحب، مولانا فضل الرحمان صاحب ، مولانا قاضی حسین احمد صاحب ، مسٹر اسفندر یار ولی خان صاحب، مسٹر رفیق طرار صاحب، مسٹر الطاف حسین صاحب اور اس کے علاوہ قائد آعظم محمد علی جناح کی بہن ،اور علامہ اقبال کے فرزند ہیں ۔ اگر ان کو موقع دیاجائے۔ تو یہ پاکستان کی خوشحالی اور پی پی پی کی خوشحالی کا سبب بنے گا۔
فی الوقت اگر مسٹر آصف علی زرداری پاکستان کے صدارتی عہدے پر فائز ہوئے تو بے ساختہ ہر ایک کی زبان سے مشرف میاں کے یہ الفاظ نکل کر سامنے آئیںگے۔نیز اس وقت غور فکر کی سخت ضرورت درپیش ہے۔
ہم تو ڈوبے ہیں صنم ۔۔۔ تم کو بھی لے ڈوبے گے۔
بہرکیف مخلص صلاح قبل از وقت کام آجائے۔ تو اچھا ہے۔ ان کے عہدہ صدارت پر پہنچ تے ہی یہ بات صادق آئے گی۔ کہ
دل کے ٹکرے ہزار ہوئے ۔کوئی یہاں گرا ۔کوئی وہاں گرا۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی
مستحکم و پائیدار پاکستان ۔اس خطہ کیلئے ضروری ہے۔ ملک میں مذید استحکام کیلئے ان کی پارٹی کو ان کی ضرورت ہے۔ مگر کچھ لوگ ان کی پارٹی کو ہی عدم استحکام بخش رہے ہوں تو پھر کیا کیا جائے۔۔۔؟
نواز لیگ مسٹر آصف علی زرداری کی عہدہ صدارت پر تقرری کے بعد وزارت عظمیٰ کی دعویداری کرے گی۔جس پی پی پی اور مسٹر آصف علی زرداری کو جھکنا پڑے گا۔ پھر جس سے ان کی جماعت انتشار کا سبب بنے گی۔ اسی انتشار کے بدولت پی پی پی کا قومی اسمبلی میں ممبران کا جمع شدہ زخیرہ پر سب سے پہلے ہی وہ جماعتیں ہاتھ صاف کریں گی۔ جو ان کو ایوان صدر میں پہنچانے کی سیاسی طور پر خواہش مند ہیں۔اور یہ غالباََ مشرف میاں کے مشورہ وہدایت پر عمل کرنے جیسا ہوگا۔مسٹر زرداری سے پاکستان میں ایک نیا کھیل شروع ہونے والا ہے۔ جس کو مشرف میاں اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اب زرداری ملک و پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔ پھر معذرت کے یہ کہتا ہوں کہ ان کو رقص بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
بہرحال ۔مسٹر آصف علی زرداری کیلئے پارٹی کے تئیں وفاداری کا امتحان اب شروع ہوچکا ہے۔ صدارتی عہدہ کا حصول سے لوگ ا ن کو لالچی و حریص کہیں گے۔۔ اور اس کا خمیازہ ان کی پارٹی کو بھگتنا پڑے گا۔ لہذا اب اگر انہوں نے اپنی جماعت کو بچانا ہے۔ تو وہ اس منصب کیلئے مسٹر مخدوم امین فہیم صاحب کا نام پیش کرکے اپنی پارٹی میں استحکام لائیں۔ حالانکہ اس عہدے کیلئے موضوع ترین شخصیات اور بھی ہیں ، جن میں ڈاکٹر ٘قدید خاں صاحب، مولانا فضل الرحمان صاحب ، مولانا قاضی حسین احمد صاحب ، مسٹر اسفندر یار ولی خان صاحب، مسٹر رفیق طرار صاحب، مسٹر الطاف حسین صاحب اور اس کے علاوہ قائد آعظم محمد علی جناح کی بہن ،اور علامہ اقبال کے فرزند ہیں ۔ اگر ان کو موقع دیاجائے۔ تو یہ پاکستان کی خوشحالی اور پی پی پی کی خوشحالی کا سبب بنے گا۔
فی الوقت اگر مسٹر آصف علی زرداری پاکستان کے صدارتی عہدے پر فائز ہوئے تو بے ساختہ ہر ایک کی زبان سے مشرف میاں کے یہ الفاظ نکل کر سامنے آئیںگے۔نیز اس وقت غور فکر کی سخت ضرورت درپیش ہے۔
ہم تو ڈوبے ہیں صنم ۔۔۔ تم کو بھی لے ڈوبے گے۔
بہرکیف مخلص صلاح قبل از وقت کام آجائے۔ تو اچھا ہے۔ ان کے عہدہ صدارت پر پہنچ تے ہی یہ بات صادق آئے گی۔ کہ
دل کے ٹکرے ہزار ہوئے ۔کوئی یہاں گرا ۔کوئی وہاں گرا۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دہلی
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 274