Dec
02
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
19°C
جمہوریت کے لئے زرداری اور نواز کی ڈیوٹی PDF Print E-mail
User Rating: / 1
PoorBest 
 
پاکستان کی سیاسی رزم گاہ شعلہ زن بنی ہوئی ہے.ایک طرف پی پی اور ن لیگ کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے تو دوسری طرف ن لیگ نے چھ ستمبر کو پرویزمشرف کے خالی کردہ تخت صدارت کے لئے نواز لیگ اور پی پی کے امیدوار اصف علی زرداری کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزد کرکے سیاسی فضا کو مذید بھڑکا دیا،پی پی اور ن لیگ کی علحیدگی پر جمہور پرور لوگوں پر دل شکستگی طاری ہے کیونکہ دونوں کے اتحاد سے عوام کے دلوں میں سیاسی استحکام کے فروغ اور جمہوریت کی کبریائی و قومی یکجہتی کے لئے امیدوں کے جن چراغوں نے پانچ ماہ پہلے راحت کے سوتے جگائے تھے وہ حسرت ناتمام بنکر بجھ گئے،قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ سیاست میں جذباتیت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی،لیکن سچ تو یہ ہے کہ قائداعظم کی وراثت کی دعویداری کرنے والی مسلم لیگ نواز اور اسکے سرپنچوں نے معزول ججز کے معاملہ پر لچک نہ دکھا کر جذباتی رویوں کا اظہار کیا،صرف ایک معزول چیف کی بحالی کا ہوا کھڑا کرکے ایک دوسرے کے سامنے مورچہ زن ہونادانشمندی نہیں،نواز لیگ نے مخلوط اتحاد کو خدا حافظ کہہ کر پاکستان کے مستقبل کو داو پر لگا دیا،قوم کی اکثریت دعائیں کررہی تھی کہ اتحاد کو مذید اگے جانا چاہیی چاہے لڑکھڑاتے ہوئے ،پی پی اور نواز لیگ کے اتحاد کو پاش پاش کرنے کی کوششوں میں رطلب السان دشمنان جمہوریت کی خوشی دیدنی ہوگی جو دونوں کی طلاق کیلئے ابتدا سے ہی سرگرم عمل تھے،ن لیگ نے اپوزیشن کا لبادہ اوڑھ کر حاسدین میثاق کے مکروہ و امرانہ منصوبوں کو جلا بخشی،ن لیگ کے سلطان العارفین نے پی پی کے شریک چیرمین اصف علی زرداری کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزدکرکے واپسی کی راہیں مسدود کردیں،دنیا کے مہذب و باوقار ممالک کی تاریخ پر نظریں دوڑانے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح بے نقاب ہوتی ہے کہ کینیڈا برطانیہ بھارت روس امریکہ اور برطانیہ میں یہ موقع خال خال ہی ملتا ہے جب ریاست کی دوبڑی جماعتوں نے مل کر حکومت بنائی ہو،قومی حکومت کی اکا دکا مثالیں ہی سامنے اتی ہیں.برطانیہ میں عالمی جنگ کے بعد قومی حکومت تشکیل دی گئی،جس کے پردھان منتری چرچل تھے،کنیڈا اور اسٹریلیا و تین چار یورپی ملکوں میں جنگی صورتحال سے نپٹنے کے لئے قومی حکومتیں تشکیل دی گئیں،بھارت میں کانگرس نے طویل عرصہ تک حکمرانی کی،اندراگاندھی کی بدترین ایمرجنسی میں اپوزیشن جماعتوں نے جنتاپارٹی کے نام سے سرکار بنائی،مرار جی ڈیسائی مخلوط سرکار کے کہنہ مشق وزیراعظم تھے،لیکن یہ تجربہ بھی ناکام رہا،اور مرار جی ڈیسائی کی حکومت اپنی نصف مدت بھی پوری نہ کرسکی،بھارت میں اسکے بعد بھی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے،مختلف اوقات میں چندر شیکر ائی کے گجرال اور دیوگوڑا مخلوط حکومتوں کے سرخیل رہے لیکن کامیابی کسی کا مقدر نہ بن سکی. ،چند ہفتے قبل من موہن سنگھ اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اتحادی جماعتیں کانگرس کو الوداع کہہ گئیں،اگر بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کا لنڈا بازار نہ جمتا تو یقین واثق تھا کہ نئے انتخابات کی نوبت اجاتی،سیاست کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں،مضبوط حکومت کے مقابلے میں مضبوط اپوزیش کا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ حکومتی افعال پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جاسکے،یوں نواز لیگ کی علحیدگی پر بھانت بھانت کی بولیوں میں ایسے اوازے کسنا کہ پی پی سرکار اپنی موت اپ مرجائے گی سچ کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے،گو حکومت کو کئی محاذوں پر جنگ لڑنی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ پی پی میں ایسے مدبر لیڈرشپ موجود ہے جو تمام مسائل سے نبزد ازما ہونے کی خداد صلاحیتوں سے مالامال ہے،پی پی نے اٹھارہ فروری کے الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا انگ انگ لہو لہو تھا،پی پی مخالفین نے بی بی کی شہادت پر دور کی کوڑیاں لاتے ہوئے کہا تھا کہ پی پی کی سوچ ہی شل و مفلوج ہوجائے گی،لیکن ایسی طفلانہ سوچ رکھنے والوں والے تاریخ سے نابلد ہیں کہ پی پی کی سوچ کے سوتے کسی فرد کی بجائے نظریات و عقیدے کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں اور یہ سوچ قریہ قریہ گلی گلی عام لوگوں کے رگ و پے میں جولانیاں برپا کئے ہوئے ہیں.بھٹو کو عدالتی قتل کی مالا پہنائی گئی تو لال بجھکڑ اور عقل کے اندھوں اور گانٹھ کے پوروں نے دھمال ڈالا تھا کہ انہوں نے پی پی کے گلے میں پھندا ڈالا ہے، بھٹو کے دونوں بیٹوں کو موت کا سرخ کفن پہنانے والوں نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ بھٹو کے خون میں پی پی کی روح بھی بہہ جائے گی،لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ بھٹوز کی جان افریں وتابندہ قربانیوں کے بعد پی پی مذید قوت کے ساتھ ابھری ہے،جس کا ثبوت پی پی کی چوتھی وزارت عظمی کی شکل میں موجود ہے۔بی بی کی شہادت کے بعد بھی ایسی دریدہ دہنیوں کے بازیگروں کے تمام تجزیوں پر اس وقت اوس پڑگئی کیونکہ زرداری ایک نئی شکل میں وارد ہوئے ،فطرت حنا کی لالہ بندی خود کرتی ہے اور بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.زرداری کو فطرت نے نئی سوچ عطا کی اور وہ دیدہ ور کے روپ میں سامنے ائے،زرداری نے باہمتی اور اولعزمی سے نہ صرف انتخابی معرکہ جیتا بلکہ انہوں نے پرویز مشرف کو ایوان صدارت سے ایسے نکالا جیسے مکھن سے بال.زردای بی بی کی شہادت کے بعد واپس پلٹ تو ان کی روح غم و اندوھ کے پہاڑ تلے دبی ہوئی تھی.انکا پہلا امتحان اسوقت شروع ہوا جب سندھیوں نے بھٹوز کو عتاب کا نشانہ بنانے پر وفاق پاکستان کے خلاف نعرے بازی شروع کردی.زرداری چاہتے تو سندھیوں کے شعلہ جوالہ کو اتش فشاں میں بدل ڈالتے.لیکن انہوں نے سندھیوں کو صبر و تحمل اور ملک سے وفاداری کرنے پر راضی کرلیا.یوں زرداری قائداعظم کی میراث کے قطب مینارر پر چاند کی طرح چمک رہے ہیں..زرداری تین حکومتوں کے قیدی رہے.نواز شریف کے ڈس انفارمیشن اور احتساب بیورو نے زرداری کی شخصیت کو مسخ کرنے اور زندان کی غذا بنانے کے لئے نہ صرف غیرسروپا پروپگنڈا کیا بلکہ زرداری پر درجنوں بے ہودہ و غیر منصفانہ مقدمات قائم کئے.پاکستان سمیت دنیا کی کوئی عدالت زرداری کو مجرم ثابت نہ کرسکی.سانحہ لیاقت باغ کے بعد جو زرداری کارزار سیاست میں بے خطر اتش نمرود میں کودا وہ اسی کی دہائی والے زرداری سے قطعی مختلف تھا.اور اب زرداری غم رسیدہ بدن دریدہ پاکستان کی قیادت کے لئے تیار تھا.پرویز مشرف کو گھر بھیج کر زرداری نے نئی تاریخ رقم کی اور جمہوریت کی ایسی وکالت کی کہ کسی تحریک کے بغیر امر ایوان صدر سے نامراد ہوکر بھاگا.1969 میں پوری قوم نے زور لگایا کہ ایوب خان کو گھر بھیجا جائے.ایوب خان نے جاتے جاتے پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپ دیا اور اقتدار ایک اور ڈکٹیٹر و شرابی جرنیل کے سپرد کیا جس کے بادہ وجام میں ڈھاکہ گھل گیا.ضیاالحق نے بھی جونیجو گورنمنٹ کو گھر بھیج دیا تھا.طیارہ ذدہ مرد مومن نے اس وقت قوم کی جان چھوڑی جب افلاکی کونسل نے اسے اوپر بلالیا.فاروق لغاری اور اسحق خان نے بھی اقتدار کی ہوس میں منتخب حکومتوں کا تیاپانچہ کیا.مشرف نے نواز لیگ کے ہیوی مینڈیٹ کو فوجی بوٹوں تلے کچل دیا.لیکن سچ تو یہ ہے کہ زرداری نے اپنے پتے ایسی فراست سے استعمال کئے کہ پارلیمانی نظام کو خراش تک نہ ائی.اور امریت کا سورج بھی ڈوب گیا.زرداری نے فہم و فراست سے ایم کیو ایم اور نیشنل پیپلز پارٹی و جے یو ائی کو اپنے ساتھ ملایا کہ زرداری کی بطور صدر نامزدگی بھی ان جماعتوں کی طرف سے ہوئی.نواز شریف نے اپنے ادورا میں ایم کیوایم اور ایاین پی کو اتحادی بنایا تھا لیکن یہ اتحاد چکنا چور ہوگئے.بے نظیر کی شہادت کے بعد نواز شریف ہی قومی افق پر اکیلے لیڈر کی شکل میں جگمگا رہے تھے.لوگوں نے نواز شریف کو دلوں میں بسا رکھا تھا.لیکن سچ تو یہ ہے کہ زرداری کے درخشندہ اقدامات نے انہیں نوز شریف کے پائے کا لیڈر بنا دیا.اور وہ وقت دور نہیں جب زرداری ملک کے سب سے بڑے عہدے پر براجمان ہوجائیں گے.زرداری اتحادیوں کو قدم قدم پر ساتھ لے کر چل رہے ہیں.اور یہ بھی سچ ہے کہ صدر بننے کے بعد پاکستان میں جمہوریت پروان چڑھے گی.انہوں نے جے یو پی ائی ایم کیو ایم اور اے این پی کو ساتھ ملا کر عظیم المرتبت مثال قائم کی ہے.multon معروف انگریز دانشور تھے.ملٹن کی انکھیں خراب ہوئیں تو ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ لکھنا پڑھنا چھوڑ دو.لیکن ملٹن اندھا ہوگیا لیکن قلم قرطاس کو نہ چھوڑا. اور اندھا ہو گیا.اور انکھوں کے بغیر اپنی شہرہ افاق کتاب لکPARADISE LOST لکھی.یوں اس نے اس کتاب کی پوری پوری قیمت چکائی.جو اندھا پن تھا.پی پی اگر اج وزیراعظم ہاوس کی مالک ہے اور چھ ستمبر کو پی پی کا جھنڈا ایوان صدر پر بھی لہرا رہا ہوگا.تو پی پی نے ملک و قوم کے لئے خون ریز قربانیاں دیکر قیمت چکائی.نواز شریف کو چاہیی کہ وہ بھی ریاست میں جمہوریت کی سرفرازی کے لئے کوئی قیمت ادا کرکے اعجاز و افتخار کے رتبے پر فائز ہوں.ن لیگ کے قائدین جیل کی مشقتوں سے گھبرا کر خود ساختہ جلاوطن ہوئے.نواز کے مقابلے میںقائد عوام اور بے نظیر بھٹو نے عوام میں بسیرا کیا.پی پی نے اپنے بانیوں ورکروں اور عظیم راہنماوں کی جانوں کا نزرانہ دیکر جمہوریت اور عوام کی لاج رکھی.پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں زرداری اور نواز شریف پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دونوں اپنا اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کریں.ورنہ کل کلاں دونوں کے اختلافات کو بنیاد بنا کر امریت کے گماشتے اس مملکت خداداد پر دوبارہ امریت کی شب دیجور مسلط کرسکتے ہیں.پی پی اور ن لیگ کی قیادت کو حضرت عمر کے اس قول کی روشنی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا. حضرت عمر کا فرمان ہے .خدا کے نذدیک سب سے پسندیدہ حاکم وہ ہے جسکی زات سے رعیت کو سکھ اور ارام ملے.email'raufamir.kotaddu[L: 64]gmail.com



28-08-2008 21:13 Rauf Amir
This entry was posted on 28-08-2008 21:13. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 227    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >