Dec
02
2008
Today

Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?
Attock
19°C
مسلم امہ کی یکسوئی ناگزیر کیوں PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
سلطنت عثمانیہ اپنی زندگی کے اخری ہچکولے لے رہی تھی تو برطانیہ میں معروف مصنف والٹیر کا ایک ڈرامہ نمائش کے لئے پیش ہوا لیکن اس ڈرامے میں مسلمانوں کی دل ازاری کے لئے تکذیب اسلام کے مناظر بھی شامل تھے بلکہ ڈرامے کی کئی تحریروں میں حضرت محمد صلعم کی شان کی بے اکرامی اور بے حرمتی نے مسلمانوں کے سینے میں اگ بڑھکادی.سلطنت عثمانیہ کے تاجدار عبدالحمید ثانی ایسی اطلاعات پر اگ بگولہ بن گئے.انہوں نے فوری طور پر فرانسیسی سفیر کو شاہی محل میں طلب کیا اور نیام سے تلوار نکال کر اسکے سامنے رکھ دی اور گرجے ڈرامہ بند کردو، سفیر نے تاویل پیش کی کہ ڈرامے کی ٹکٹیں ایڈوانس فروخت ہوچکی ہیں.ڈرامہ بند کرنے سے کروڑوں کا نقصان ہوگا.خلیفہ بگڑ گیا تلوار اٹھائی اور گونج دار لہجے میں کہا کہ پھر جنگ کے لئے تیار ہوجاو کیونکہ تمھاری دریدہ دہنی سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔فرانسیسی سفیر ہانپتا ہوا باہر نکلا اور چند گھنٹوں بعد ڈرامہ بند ہوگیا.ایسی جرات رندانہ کا اظہار ایک ایسے خلیفہ کی طرف سے کیا گیا جس کی خلافت کی کشتی کچھ عرصے بعد اپنوں کی فتنہ گریوں مغرب کی سازشوں کے سمندر میں ڈوبنے والی تھی.خلیفہ کو ایک اور کریڈٹ بھی حاصل ہے کہ اس نے یہودیت کے بانی ہرئزل کی ایک پرکشش افر کو ٹھکرا ڈالا جس میں اربوں کے عوض یروشلم میں یہودیوں کے لئے زمین خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی.یہودی بدطنیت کی افر پر خلیفہ بروفراختہ ہوگیا اور بولا چاہے تم میری سلطنت ختم کردو میرے جسم کو قینچوں سے کاٹ دو لیکن میری زندگی میں تمھارا یہ خواب پورا نہیں ہوسکتا.اور سچ تو یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی مملکت کا خواب سلطنت عثمانیہ کے پاش پاش ہونے کے بعد ہی ممکن ہوسکا.لیکن دکھ تو یہ ہے کہ کرہ ارض پر امہ کے ستاون ملک ہیں جنکی فوجوں کی تعداد چالیس لاکھ سے زائد ہے،ایٹمی قوت کا گوہر نایاب بھی موجود ہے،عراق سے لیکر افغانستان اور کشمیر سے لیکر فلسطین تک یہود و نصاری نے مسلمانوں پر انتہاپسندی کا لیبل لگا کر بے گناہ مسلمانوں کے خون کی ہولیاں برسائی جارہی ہیں.یورپ میں مسلمانوں کے جذبات و احساسات میں طنز کی سوئیاں چبھونے کے لئے رسول پاک کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں.امریکی ڈنکے کی چوٹ پر مسلمانوں اور پاکستانیوں کو ہمارے گھروں سے اٹھا کر لے جاتے ہیں .ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پانچ سال قبل اغوا کیا گیا اور وہ امریکیوں کی ذلت امیز قید میں کسی محمد بن قاسم کی راہ دیکھ رہی ہے.لیکن سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں پر برپا کی جانے والی قیامت صغری پر کسی مسلمان خلیفے کی رگ حمیت نہیں پھڑکتی ،کوئی بھی اتنا باغیرت نہیں جو امریکی سفیروں کو تلوار دکھا سکے.کسی میں اتنی بصیرت نہیں کہ وہ امہ کو پھر سے اتحاد و اتفاق و مسلم یونین کی لڑی میں پرو سکے.اگر ہمارے اندر شجاعت علی اور صداقت عمر کا قلیل سا عنصر موجود ہوتا تو برصغیر میں برطانوی سامراج کے کرنل ایجرٹن انچارج امور کشمیر1888 میں انگریز کے مسلمان پٹھووں کے متعلق ایسی درفطنی نہ چھوڑتا کہ مسلمان(سامراج کے ایجنٹ) پست اور دوں ہمت ہیں، کہ اپنے انگریز اقاوں کے ایک اشارے پر اتنی لجاجت عاجزی اور بے غیرتی سے جھکے چلے اتے ہیں، جیسے بڑے بالوں والا کتا جس کے کان نیچے گرے رہتے ہیں.اور امریکیوں کو یہ لاف زنی کرنے کی ہمت نہ ہوتی کہ مسلمان دولت کے عوض اپنی ماں تک کو فروخت کردیتے ہیں.جس دور میں مسلمانوں کی خلافت کا ڈنکا بج رہا تھا تو یہود و نصاری مسلمانوں کو اپس میں لڑوانے کی منصوبہ بندیاں کررہے تھے.انگریزوں نے فرقہ واریت رنگ و نسل اور لسانی گروہ بندیوں کے بیج بونے کی تیاری کی تو انکا مطمع نظر یہ تھا کہ اگر مراکش سے انڈونیشیا تک مسلم علاقوں کے حصے بخرے کردئیی جائیں تو انکی قوت تقسیم ہوجائے گی.ہم جمہوریت کے نام پر انکے رگ و پے سے عشق رسول بندگی خدا اور جذبہ جہاد کی عقیدت کے نظریات کشید کرلیں گے.اور پھر چھوٹے چھوٹے مسلمان ملکوں میں ایسے حکمران بٹھا دیں گے ، جو ہمارے کاسہ لیس بنکر ہمارے اشاروں پر ناچیں گے.انکے دل ہمارے لئے دھڑکیں گے.ہم ہی انکی قسمت کے فیصلے کریں گے،کس ریاست میں کس کو حکمرانی کا تاج پہنایا جائے یہ ہم طے کریں گے.مسلمان خطوں کو رب نے گرانقدر وسائل اور خاص طور پر تیل کے سونا اگلتے معدنی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے ، جب مسلمان ڈکٹیٹر ہماری چاپلوسی کریں گے تو ہم انکی یہ دولت بھی حاصل کرلیں گے.یوں افرنگ نے سلطنت عثمانیہ کی بنیادوں میں فرقہ واریت کا بیج بونے کے لئے لارنس اف عریبیہ کو جال میں جکڑا،جس نے مغرب کی مسلم کش پالیسیوں کو اگے بڑھانے کے لئے نسلی منافرت اور تفرقہ بندی کی اڑ میں سلطنت عثمانیہ کو زمین بوس کردیا.گو کہ سلطنت عثمانیہ کمزور ترین تھی لیکن تیل سے مالا مال علاقے اسکے زیر نگین تھے.انگریزوں نے اپنی ریشہ دوانیوں کے بل بوتے پر سلطنت کو شام فلسطین اردان عراق سعودی عریبیہ و دیگر ریاستوں میں تقسیم کرڈالا.اس پر مستزاد یہ کہ ستاون اسلامی ریاستوں کے چھپن حکمران اج وائٹ ہاوس کے مدح سرا اور غلام ہیں.ہمارا حال تو اس بستی جیسا ہے جہاں لوگ ملیریا سے مررہے ہوں اور اس کے سردار یہ فیصلہ کریں کہ پہلے صاف پانی کا بندوبست کرو اسے کے بعد علاج کیا جائے گا،مسلم علاقوں پر مسلط حکمران یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہماری ذلت ،رسوائی جگ ہنسائی اور امریکن غلامی سے نجات کس طرح ممکن ہے؟ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اخر کب تک یہود و نصاری کے باجگزار اور مزارعین بنے رہیں گے؟اور کب تک ہم امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاکر اپنی سرفروشی کی حمیت کو تار تار کرتے رہیں گے.آئیی ذرہ تاریخ کے جھرونکوں میں جھانک کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یورپ نے کس طرح ترقی کی برق رفتار منازل طے کیں؟یورپ کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو حیرت و استعجاب دماغ کے پردہ سکرین پر ناچنے لگتا ہے.یورپ کی تاریخ درد ناک اور خونخوار جنگوں سے بھری ہوئی ہے.یورپ میں پانچ چھ درجن زبانیں بولی جاتیں ہیں.یورپ پر جب سیاہی کا دور چھایا ہوا تھا تو نسلی منافرت تعصب اور حسد کا یہ عالم تھا کہ چھوٹی چھوٹی تو تکار پر ایک دوسرے پر جنگوں کی وحشیانہ بھرمار کرتے تھے.یورپ کے دامن پر مسلسل سو سال خون اشام جنگیں کرنے کا ایورڈ اج بھی تاریخ کی کتب میں فرقہ واریت کی بہیمانہ یاد دلاتا ہے.دور جانے کی ضرورت نہیں گوروں نے صرف پہلی و دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کو کچل ڈالا کہ ہنستے بستے شہر کھنڈرات میں بدل گئے.کروڑوں یورپی جنگوں کی جوف جہنم کا ایندھن بنے،دور حاظرہ کے خود ساختہ مہذب و انسانی حقوق کے نام نہاد مبلغ امریکہ نے ہی ایٹم بم برسا کر انسانیت کے بخئیی ادھیڑے،گوروں نے جب تباہی و بربادی کا نظارہ کرلیا تو ایک دوسرے میں ایسے ضم ہوئے کہ ایک ملت کا روپ دھار بیٹھے.یورپ کے تمام ممالک اج یورپی یونین کے جھنڈے تلے جمع ہیں،ایک کرنسی ایک فوج ایک ہی طرز حاکمیت نے یونین کو دفاعی سائنسی و صنعتی اور معاشی میدانوں میں ناقابل تسخیر بنا دیا،ایک دفاع اور مرکزیت نے یورپ کو دنیا کی باوقار قوموں کی صف میں پہلی پوزیشن پر فائز کردیا،کیا ایسا ممکن نہیں کہ یورپی یونین کی طرح مسلم امہ بھی مسلم یونین کے پلیٹ فارم پر متحد ہو جائے.مسلم ریاستوں کو رب نے کئی لازوال نعمتوں سے نوازا ہے.زرخیز زمینیں سرسبز و شاداب وادیاں اہم ترین بندرگاہیں.خصوصی اہمیت رکھنے والی جغرافیائی پوزیشن معدنی وسائل سے اٹے ہوئے پہاڑ بہترین موسم جفاکش لوگ اور یورپ کی ترقی میں اکسیجن کا کردار اداکرنے والی توانائی کے اسی فیصد ذخائر بیدار مغز سائنس دان شاہینوں کی اڑان کرنے والی افواج ہمارے پاس موجود ہیں،تو پھر ہم کیوں بکھرے ہوئے ہیں اور ہم کب تک اپس میں تعصب فرقہ واریت اور گروہ بندیوں میں گروہ در گروہ تقسیم ہوکر ایک دوسرے کا خون بہاتے رہیں گیں.؟ کیا ڈیڈھ ارب کی ابادی میں ایک بھی خلیفہ حمید ثانی ایسا نہیں جو اسلامی شعائر کی تذلیل پر شاتمین و کفار کو انکھ دکھا سکے.جو امریکہ جیسے شاطر ملک کو شیر مشتاق کی گھن گرج سے کہے کہ عراق و افغانستان سے نکل جاو،عافیہ صدیقی اور گوانتاناموبے میں بند مجاہدین کو رہا کرو ورنہ دندان شکن جواب کے لئے تیار رہو، ہاں سب کچھ ممکن ہے.مگر کیسے دنیا بھر کے مسلمان اپنے امریکن نواز حکمرانوں کو مسلم یونین کے پلیٹ فارم کی راہ دکھانے پر مجبور کردیں.جس روز مسلمانوں نے انگڑائی لی اور خواب غفلت سے چھٹکارا حاصل کرلیا، خدا کی حاکمیت اعلی پر دل و جان سے متفق ہوگئے تو اس روز نہ تو نائن الیون کی زنبیل سے انتہاپسندی کا ڈرامہ نکال کر یہود و نصاری کسی مسلم ملک پر حملے کی جسارت کرے گا اور نہ ہی کوئی شاتم ہمارے پیارے پیغمبر کے بیہودہ کارٹون بنانے کی ہمت کرے گا، بلکہ ہر طرف امن سکون شانتی کی خوشبو ہمارے کمزور ایمانوں کو معطر کردے گی ،لیکن شرط ہے مسلم یونین کا فوری قیام مشترکہ کرنسی مشترکہ فوج مشترکہ دفاع اور عبدالحمیدثانی ایسا مرد قلندر و عاشق رسول امیر المومنین..ہمیں علامہ اقبال کے اس شعر کی پیروی کرنا ہوگی.بتان رنگ و بو توڑ کر ملت میں شامل ہوجا.نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی و اسفھانی



28-08-2008 21:13 Rauf Amir
This entry was posted on 28-08-2008 21:13. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 180    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >