پاکستان مسلم کے سربراہ میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری اور ان کے
ساتھیوں کے ساتھ لا تعداد ملاقاتوں اور وعدوں کے ایفا نہ ہونے کے بعد
بالآخر مورخہ25اگست کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
حکمران اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا جو جہاں سابق صدر مشرف کے حامیوں
کے لئے خوشی و مسرت کا باعث بنا وہاں بہت سی سیاسی قوتوں کیلئے مایوسی کا
پیغام بھی لایا۔ اتحاد مخالف قوتیں اس لئے خوش ہوئیں کہ اتحاد آٹھ دن بھی
نہ چل سکا اور اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی جبکہ مایوس ہونے والے
عناصر اس لئے مایوس ہو گئے کہ اگر حکومت کمزور ہو گی تو ملک دشمن لوگ
زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہونگے اور ایسے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے
اور پھر اس طرح کی سیاست سے بھی لوگ خوف زدہ ہیں جو دونوں پارٹیاں ماضی
میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتی رہی ہیں جب کام کم اور ایک دوسرے کو نیچا
دکھانے اور سیاست سے باہر کرنے کی سعی زیادہ ہوتی رہی۔ میاں نواز شریف
کے بقول ان کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد صرف ایک نکتہ پر ہوا تھا کہ بر
سرِ اقتدار آ کر فوری طور پر تمام معزول ججوں کو بحال کیا جائے گا جو تا
دم تحریر اسی طرح بحال نہیں ہو سکے جس طرح میاں صاحب چاہتے تھے۔ ججوں کی
بحالی کے ضمن میں میاں صاحب کا اپنا ایک نکتہ نظر تھا اور آصف زرداری اور
ان کے ساتھیوں کا اپنا۔ میاں صاحب ایک حکم کے ذریعے تمام ججوں کو بحال
کروانا چاہتے تھے مگر یہ بتانے کے لئے تیار نہ تھے کہ ایک صدارتی حکم نامے
جس کو سپریم کورٹ اور اس وقت کی اسمبلی بھی تحفظ دے چکی ہو کی موجودگی میں
دوسرے حکم نامے کا کیا جواز ہو گا یا اس کے بعد پیدا ہونے والی قباہتوں سے
کس طرح عہدہ بھرا ہو ا جا سکے گا۔ بہت ساری تگ و دو کے بعد جب یہ فیصلہ
ہوا کہ دونوں پارٹیوں کے کچھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی اس مسودے کا درافٹ
تیار کرے گی جو مورخہ25اگست کو ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جا سکے گا جس
کی روشنی میں ایک ایگزیکٹیور آرڈر کے ذریعے پھر جج بحال ہونا تھے مگر
میاں صاحب نے اس کمیٹی کا نامعلوم وجوہ کی بنا پر بائیکاٹ کر دیا اور اور
آصف علی زرداری کو پیر25اگست کی ڈیڈ لائن دے دی۔ اپنی طرف سے دی گئی ڈیڈ
لائن کے بعد آپ نے (میاں صاحب ) نے اتحاد سے کنارہ کشی کر لی۔ ملک
میں اس وقت قوم کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جس کی طرف کسی کی بھی کوئی
توجہ نہیں۔ سب سے پہلے تو بجلی ہی کو لے لیںاس کا بحران اس قدر سنگین ہوتا
چلا جا رہا ہے کہ کارخانے اور ملیں بند ہوتی جارہی ہیں کیونکہ جب ملوں اور
کارخانوں کے پاس مشینیں چلانے کیلئے بجلی ہی نہیں ہو گی تو چلیں گے کیسے؟
اور جب کارخانے اور ملیں بند ہو جائیں گی تو پھر ان میں کام کرنے والے
لوگوں کو کون تنخواہیں دے گااور اس طرح لاکھوں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا
خدشہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا جو بالآخر ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن
جائے گا۔ کیونکہ جن لوگوں کو کھانے کو کچھ نہ ملے گا، جن کے روز مرہ کے
معمولات متاثر ہوتے چلے جائیں گے وہ تنگ آ کر ملک کی تنصیبات ہی کو نقصان
پہنچائیں گے کیونکہ اب تک تو یہی دیکھنے کو ملا ہے کہ غصہ کمہار پر ہوتا
ہے اور نکلتا اس کی گدھی پر، ہم پریشان کسی بھی وجہ سے ہوں جلسے جلوس نکال
کر اپنی ہی دوکانوں کے شیشے توڑتے ہیں، اپنے ہی بھائیوں کی گاڑیوں کو
آگیں لگاتے ہیں۔ میاں صاحب اب تک ججوں کی رٹ لگائے ہوئے تھے وہ تو ان
کی منشا اور مرضی کے مطابق بحال نہیں ہو سکے ہاں البتہ جیسے پیپلز پارٹی
چاہتی تھی اسطرح ان کی بحالی شروع ہو چکی اور آج مورخہ27اگست کو سند ھ
ہائی کورٹ کے آٹھ (8) جج آئین کے تحت حلف اٹھا چکے ہیں اور باقی ہائی
کورٹوں میںبھی کچھ جج حلف اٹھانے کو تیار بیٹھے ہیں اور آنے والے دنوں
میں حلف اٹھا لیں گے اور غالب امکان یہی ہے کہ صدارتی الیکشن کے بعد جسٹس
افتخار چوہدری بھی حلف اٹھا کر بحال ہو جائیں کیونکہ بجٹ کے موقع پر سپریم
کورٹ میں ججوں کی بحالی کے ضمن میں ان کی تعداد بڑھائی جا چکی ہے تاکہ
موجودہ اور بحال شدہ ججوں کے ساتھ ان کی تعداد کا جھگڑا ہی نہ پڑ ے اور جب
ججوں کی بحالی کا مسلۂ جس طرح حکومت چاہتی ہے حل ہو جائے گا تب پھر میاں
صاحب کے پاس لڑنے یا آصف زرداری سے لینے کیلئے کیا رہ جائے گا؟ اور کیا
اس وقت میاں صاحب اس آصف زرداری سے جو اس وقت تک صدر پاکستان بن چکا ہو
گا کچھ حاصل کر سکیں،کچھ منوا سکیں گے؟ یا پھر کوئی نیا ایشو لے کر حکومت
کو لتاڑنا شروع کر دیںگے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ سیاسی طور پر یہ گھاٹے
کا سودا ہے یا اس سے کوئی نفع بھی ہوگا؟ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میاں
صاحب کے اتحاد سے نکلنے کے بعد ہونے والی کمزور حکومت کا کچھ بگڑ سکے گا
تو وہ بھول میں ہے کیونکہ جو طاقتیں پیپلز پارٹی کو اوپر لائی ہیں وہ اس
حکومت کو اس وقت تک گرنے ہی نہیں دیں گی جب تک کہ ان کے اپنے مقاصد پورے
نہ ہو جائیں؟بڑی طاقتوں کو اس وقت کھلے ڈھلے ذہین کے لوگوں کی ضرورت ہے،
شدت پسند اور تنگ نظر مولوی کی طرف بھاگ بھاگ کر جانے والوں کی نہیں
کیونکہ قبائلی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسی تنگ نظری اور شدت پسندی
کا شاخسانہ ہی تو ہے، اگر میاں صاحب کو ابھی بھی سمجھ نہیں آ سکی تو پھر
کبھی نہ آ سکے گی۔
This entry was posted on 28-08-2008 21:10. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 232
Views: 232