| میں اور پاکستانی میلہ |
|
|
|
65 کی جنگ کے زمانے میں ملی نغموں میں ایک یہ نغمہ بھی بڑا مشہور ہوا تھا۔
زندہ باد اے چین و انڈونیشیاء
تم سے قائم ہے امن ایشیاء
جو اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ چین اور انڈونیشیاء ایک تو پاکستان کے نہ صرف دوست اور برادر ملک ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ایشیاء کا امن بھی قائم ہے یعنی ایشیاء میں امن قائم رکھنے میں ان دونوں برادر ملکوں کا کردار خاصا اہم ہے۔صدر سوکارنو کو پاکستانی عوام بھی اپنا ہیرو مانتے تھے۔لہذا اندونیشیاء کے لئے بچپن سے ہی ایک ہمدردانہ اور محبت کا جذبہ موجود تھا۔ دنیا میں ہمیں جہاں کہیں بھی کسی انڈونیشین سے ملنے کا اتفاق ہوتا تو پتہ چلتا کہ وہ بھی ہماری طرح محبت اور خیر سگالی کے جذبوں سے سرشار ہیں،اور پاکستان اور پاکستانیوں کو عزیز جانتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان ایمبیسی کے تھرڈ سیکرٹری مرزا سلمان بابر بیگ نے اچانک ایک دن فون کر کے یہ دعوت دی کہ وہ جکارتا میں پاکستان کے اکسٹھویں یوم آزادی کے موقع پر ایک ’’فوڈ فیسٹیول‘‘کا اہتمام کر رہے ہیں جو کہ جکارتا کے سلطان ہوٹل جو دو سال پہلے ہلٹن ہوٹل تھامیں 26 اگست سے لے کر 8ستمبر تک چلے گا اور س کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ میں جکارتا آؤں تو میں انکار نہ کر پایا۔کیونکہ ایک تو عزیزی سلمان سے جو محبت کا رشتہ ہے وہ اس بات کا متقاضی تھا کہ اس کی بات کو ٹالا نہ جائے۔دوسرا یہ میری ماںدھرتی کے کلچر کے فروغ کا مسئلہ تھا اور سونے پر سہاگہ انڈونیشیا۔لہذا ہم نے فوراً ہاں کر دی۔جس دن سلمان کا فون آیا اس دن جمعہ تھا لہذا ہم نے ان سے سوموار تک کا ٹائم مانگا تا کہ پاکستان میں اپنے معاملات کو درست کر لیں اور پھر سوموار کو ہم نے پکی ہاںکر دی۔لہذا اسی روز ہم نے اپنے پاسپورٹ کے اور دیگر مندرجات سلمان کو ای میل کئے،اور اگلے چند روز میں سلمان نے ہمیں اسلام آباد میں انڈونیشیا کی ایمبیسی کے نام لکھے گئے ایک خط کی کاپی بھیجی اور تاکید کی کہ ہم فواً اسلام آباد روانہ ہو جائیں کیونکہ ویزہ پراسس میںکم سے کم تین ہفتے درکار ہوتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ میں ہر صورت میں جکارتا 24 اگست تک پہنچ جاؤں بعد میں یہ تاریخ ایک دن پہلے ہو گئی یعنی 23 اگست۔لہذا ہم بھاگم بھاگ اسلام آباد پہنچے اور ’’کنوینشن سنٹر‘‘ کے عذاب سے گزرتے ہوئے اندونیشیاء کے سفارتخانے پہنچے۔وہاں سے ہم نے ویزہ فارم لئے۔کیونکہ یہ واحد ایمبیسی تھی جس کے ویزہ فارم وہاں حاصل نہیں تھے ایمبیسی ویزہ فارم خود دیتی ہے۔مگر کہتی ہے کہ اس کی فوٹو کاپی بھی کی جاسکتی ہے۔لہذا ہم نے احتجاجاً اصلی فارم اپنے پاس رکھے اور دونوں فارم فوٹو کاپیاں ہی دیں جو قبول کر کی گئیں،مگرایک بات نے ہمیں خوش کر دیا کہ ویزہ افسر نے جو پہلا مژدہ جاں فضاء سنایا وہ یہ تھا کہ ویزہ فیس تب لی جائے گی جب ویزہ لگ جائے گا۔جب کہ ویزہ فیس اچھی خاصی ہے یعنی 45 ڈالر۔بہر طور اگلے روز ہم نے کاغذات جمع کروائے تو ویزہ افسر نے خاصی خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا اور کہا،
’’مسٹر!آپ ایک بڑے کاز کے لئے جکارتا جا رہے ہیں ،یہ ایک بڑا موقع ہے۔’’یوم آزادی ‘‘کیا آپ کو معلوم ہے کہ انڈونیشیاء کا یوم آزادی بھی اگست میں ہے،17 اگست۔‘‘
میں نے دل ہی دل میں کہا کہ پاکستانی قوم کو دوسری دفعہ آزادی بھی سترہ اگست کو ملی تھی جب صدر جنرل ضیاء الحق کا سی ون تھرٹی بہاولپور کے قریب گرا تھا ۔آج سوچتا ہوں کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف اگر 17 اگست کو ہی مستعفی ہو جاتے تو ان کا کیا جاتا تھا۔ سترہ اگست ہماری آزادی کا دوسرا بڑا تہوار بن سکتا تھا۔مگر صدر مشرف نے ایسا ممکن نہیںہونے دیا۔ بہرطور ویزہ افسر نے مجھے کاغذات کی وصولی کی رسید تھماتے ہوئے کہا کہ میں اگلے روز یعنی جمعرات کے دن تقریباً دس بجے کے بعد اسے فون کر لوں۔اگلے روز جب ہم نے اسے کوئی گیارہ بجے فون کیا تو اس نے ہم سے بعد میں کال بیک کرنے کا وعدہ کیا مگر اڑھائی بجے تک جب اس کا فون نہ آیا تو ہم نے ٍلاہورواپسی کا ارداہ کر لیا ۔مگر ٹھیک دس منٹ بعد ویزا آفیسر کا فون آیا کہ ویزا لگ گیا ہے اور ہم کل یعنی اگلے روز اڑھائی بجے اپنا پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں۔یہ انڈونیشینز کا پاکستان کے لئے خیر سگالی کا پہلا تحفہ تھا۔جس پر خود سلمان کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی۔
بہر طور ویزا تو مل ہی گیا اب ٹکٹ کا ملنا نوکری کا ملنا بن گیا۔پتہ چلا کہ آجکل ’’برٹش میر پوریوں‘‘ کی واپسی کا سیزن ہے لہذا ہر ایر لائن ان کو ترجیح دیتی ہے۔مگر ہماری ٹریول ایجنٹ عزیزی گل نے ہمیں قطر ایر لائن کا ٹکٹ لے ہی دیا وہ بھی اٹھارہ گھنٹے قطر سٹاپ اوور کے ساتھ۔مگر قطر ایر ویز نے آن ایر اور آن گراؤنڈ میزبانی کی تمام روایات کو توڑ دیا۔قطر لینڈ کرتے ہی ہمیں ٹرانزٹ کاؤنٹر سے رجوع کرنے کے لئے کہا گیا۔اور دس منٹ میں ہمیں قطر کے ایک پانچ ستاروں والے ہوٹل میں بھیج دیا گیا۔اور پھر ہم قطر کی سیرکرنے کے بعد رات بارہ بج کر چالیس منٹ پر جکارتا کے لئے روانہ ہوگئے۔قطر سے سنگا پور تک ہماری ساتھ والی سیٹ پر ایک نوجوان خوبصورت انگلش لڑکی ہم سفر رہی۔ اس آٹھ گھنٹے کے سفر میں ہم نے چھ گھنٹے سو کر گزارے۔یہ پیاری سی بچی ایلس تھی۔جو جے پور انڈیا کے ایک سکول میں اپنی زبان یعنی انگریزی پڑھاتی ہے۔وہ در اصل ملائیشیا جا رہی تھی وہاں اس نے کسی جنگل کو کھنگالنا تھا۔خاصی دوستانہ مزاج کی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کا بوائے فرینڈ اداکار ہے اور لندن میں ہوتا ہے۔اس کے پاس ایک چھوٹا سا بیئریعنی ریچھ اور ایک ننھا اور پیدا سا مکی ماؤس تھا۔جو اس نے سونے سے پہلے اپنے بیگ سے نکالے اور ان سے لپٹ کر سو گئی۔پیدا سا مکی ماؤس اس کی ماں نے اسے تحفے میں دیا تھا۔جبکہ چھوٹا ریچھ اس کے بوائے فرینڈ نے۔اسے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ تنہائی کتنی بری بلا ہے۔بسا اوقات انسان کھلونوں اور بیجان چیزوں تک کو زندہ تصور کر لیتا ہے۔اور ان کے ذریعے اپنی تنہائی کا تدارک کرتا ہے۔وہ اس کے لئے انسانی رشتے بن جاتے۔مگر اپنا تو عجب معاملہ ہے،ہمیں تو تنہائی میسر ہی نہیں ہوتی۔ہم نے بہت پہلے کہا تھا،
آ جاتا ہے چپ چاپ خیالوں میں وہ خود ہی
تنہائی کے دوزخ میں بھی جلنے نہیں دیتا
بہر طور ایلس ہم سے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر اور دعائیں بٹور کر رخصت ہوگئی ۔اور ہم اگلے ہمسفر کا انتطار کرنے لگے۔وہ ایک انڈونیشین امریکن نکلے۔امریکا سے آرہے تھے اور جکارتا جا رہے تھے۔سنگاپور سے جکارتا کی مسافت ایک گھنٹہ اور بیس منٹ تھی،لہذا ٹھیک تین بج کر ۳۵ منٹ کے مقامی وقت مقررہ پر ہم جکارتا ایر پورٹ لینڈ کر گئے۔ہم نے جہاز سے باہر قدم رکھنے سے پہلے رب رحیم و کریم سے دعا مانگی کہ وہ ہمیں اپنی رحمتوں سے نوازے اور ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف فرماتے ہوئے ہمیں اس مقصد اور کام میں کامیابی عطا کرے جس کے لئے ہم جکارتا آئے ہیں۔
جہاز سے باہر آئے تو ایک صاحب کو گیٹ کے باہر اپنے نام کا پرنٹ آؤٹ تھامے منتظر پایا۔یہ حبیب صاحب تھے پاکستان ایمبیسی کے پروٹو کول آفیسر۔
زندہ باد اے چین و انڈونیشیاء
تم سے قائم ہے امن ایشیاء
جو اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ چین اور انڈونیشیاء ایک تو پاکستان کے نہ صرف دوست اور برادر ملک ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ایشیاء کا امن بھی قائم ہے یعنی ایشیاء میں امن قائم رکھنے میں ان دونوں برادر ملکوں کا کردار خاصا اہم ہے۔صدر سوکارنو کو پاکستانی عوام بھی اپنا ہیرو مانتے تھے۔لہذا اندونیشیاء کے لئے بچپن سے ہی ایک ہمدردانہ اور محبت کا جذبہ موجود تھا۔ دنیا میں ہمیں جہاں کہیں بھی کسی انڈونیشین سے ملنے کا اتفاق ہوتا تو پتہ چلتا کہ وہ بھی ہماری طرح محبت اور خیر سگالی کے جذبوں سے سرشار ہیں،اور پاکستان اور پاکستانیوں کو عزیز جانتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان ایمبیسی کے تھرڈ سیکرٹری مرزا سلمان بابر بیگ نے اچانک ایک دن فون کر کے یہ دعوت دی کہ وہ جکارتا میں پاکستان کے اکسٹھویں یوم آزادی کے موقع پر ایک ’’فوڈ فیسٹیول‘‘کا اہتمام کر رہے ہیں جو کہ جکارتا کے سلطان ہوٹل جو دو سال پہلے ہلٹن ہوٹل تھامیں 26 اگست سے لے کر 8ستمبر تک چلے گا اور س کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ میں جکارتا آؤں تو میں انکار نہ کر پایا۔کیونکہ ایک تو عزیزی سلمان سے جو محبت کا رشتہ ہے وہ اس بات کا متقاضی تھا کہ اس کی بات کو ٹالا نہ جائے۔دوسرا یہ میری ماںدھرتی کے کلچر کے فروغ کا مسئلہ تھا اور سونے پر سہاگہ انڈونیشیا۔لہذا ہم نے فوراً ہاں کر دی۔جس دن سلمان کا فون آیا اس دن جمعہ تھا لہذا ہم نے ان سے سوموار تک کا ٹائم مانگا تا کہ پاکستان میں اپنے معاملات کو درست کر لیں اور پھر سوموار کو ہم نے پکی ہاںکر دی۔لہذا اسی روز ہم نے اپنے پاسپورٹ کے اور دیگر مندرجات سلمان کو ای میل کئے،اور اگلے چند روز میں سلمان نے ہمیں اسلام آباد میں انڈونیشیا کی ایمبیسی کے نام لکھے گئے ایک خط کی کاپی بھیجی اور تاکید کی کہ ہم فواً اسلام آباد روانہ ہو جائیں کیونکہ ویزہ پراسس میںکم سے کم تین ہفتے درکار ہوتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ میں ہر صورت میں جکارتا 24 اگست تک پہنچ جاؤں بعد میں یہ تاریخ ایک دن پہلے ہو گئی یعنی 23 اگست۔لہذا ہم بھاگم بھاگ اسلام آباد پہنچے اور ’’کنوینشن سنٹر‘‘ کے عذاب سے گزرتے ہوئے اندونیشیاء کے سفارتخانے پہنچے۔وہاں سے ہم نے ویزہ فارم لئے۔کیونکہ یہ واحد ایمبیسی تھی جس کے ویزہ فارم وہاں حاصل نہیں تھے ایمبیسی ویزہ فارم خود دیتی ہے۔مگر کہتی ہے کہ اس کی فوٹو کاپی بھی کی جاسکتی ہے۔لہذا ہم نے احتجاجاً اصلی فارم اپنے پاس رکھے اور دونوں فارم فوٹو کاپیاں ہی دیں جو قبول کر کی گئیں،مگرایک بات نے ہمیں خوش کر دیا کہ ویزہ افسر نے جو پہلا مژدہ جاں فضاء سنایا وہ یہ تھا کہ ویزہ فیس تب لی جائے گی جب ویزہ لگ جائے گا۔جب کہ ویزہ فیس اچھی خاصی ہے یعنی 45 ڈالر۔بہر طور اگلے روز ہم نے کاغذات جمع کروائے تو ویزہ افسر نے خاصی خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا اور کہا،
’’مسٹر!آپ ایک بڑے کاز کے لئے جکارتا جا رہے ہیں ،یہ ایک بڑا موقع ہے۔’’یوم آزادی ‘‘کیا آپ کو معلوم ہے کہ انڈونیشیاء کا یوم آزادی بھی اگست میں ہے،17 اگست۔‘‘
میں نے دل ہی دل میں کہا کہ پاکستانی قوم کو دوسری دفعہ آزادی بھی سترہ اگست کو ملی تھی جب صدر جنرل ضیاء الحق کا سی ون تھرٹی بہاولپور کے قریب گرا تھا ۔آج سوچتا ہوں کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف اگر 17 اگست کو ہی مستعفی ہو جاتے تو ان کا کیا جاتا تھا۔ سترہ اگست ہماری آزادی کا دوسرا بڑا تہوار بن سکتا تھا۔مگر صدر مشرف نے ایسا ممکن نہیںہونے دیا۔ بہرطور ویزہ افسر نے مجھے کاغذات کی وصولی کی رسید تھماتے ہوئے کہا کہ میں اگلے روز یعنی جمعرات کے دن تقریباً دس بجے کے بعد اسے فون کر لوں۔اگلے روز جب ہم نے اسے کوئی گیارہ بجے فون کیا تو اس نے ہم سے بعد میں کال بیک کرنے کا وعدہ کیا مگر اڑھائی بجے تک جب اس کا فون نہ آیا تو ہم نے ٍلاہورواپسی کا ارداہ کر لیا ۔مگر ٹھیک دس منٹ بعد ویزا آفیسر کا فون آیا کہ ویزا لگ گیا ہے اور ہم کل یعنی اگلے روز اڑھائی بجے اپنا پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں۔یہ انڈونیشینز کا پاکستان کے لئے خیر سگالی کا پہلا تحفہ تھا۔جس پر خود سلمان کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی۔
بہر طور ویزا تو مل ہی گیا اب ٹکٹ کا ملنا نوکری کا ملنا بن گیا۔پتہ چلا کہ آجکل ’’برٹش میر پوریوں‘‘ کی واپسی کا سیزن ہے لہذا ہر ایر لائن ان کو ترجیح دیتی ہے۔مگر ہماری ٹریول ایجنٹ عزیزی گل نے ہمیں قطر ایر لائن کا ٹکٹ لے ہی دیا وہ بھی اٹھارہ گھنٹے قطر سٹاپ اوور کے ساتھ۔مگر قطر ایر ویز نے آن ایر اور آن گراؤنڈ میزبانی کی تمام روایات کو توڑ دیا۔قطر لینڈ کرتے ہی ہمیں ٹرانزٹ کاؤنٹر سے رجوع کرنے کے لئے کہا گیا۔اور دس منٹ میں ہمیں قطر کے ایک پانچ ستاروں والے ہوٹل میں بھیج دیا گیا۔اور پھر ہم قطر کی سیرکرنے کے بعد رات بارہ بج کر چالیس منٹ پر جکارتا کے لئے روانہ ہوگئے۔قطر سے سنگا پور تک ہماری ساتھ والی سیٹ پر ایک نوجوان خوبصورت انگلش لڑکی ہم سفر رہی۔ اس آٹھ گھنٹے کے سفر میں ہم نے چھ گھنٹے سو کر گزارے۔یہ پیاری سی بچی ایلس تھی۔جو جے پور انڈیا کے ایک سکول میں اپنی زبان یعنی انگریزی پڑھاتی ہے۔وہ در اصل ملائیشیا جا رہی تھی وہاں اس نے کسی جنگل کو کھنگالنا تھا۔خاصی دوستانہ مزاج کی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کا بوائے فرینڈ اداکار ہے اور لندن میں ہوتا ہے۔اس کے پاس ایک چھوٹا سا بیئریعنی ریچھ اور ایک ننھا اور پیدا سا مکی ماؤس تھا۔جو اس نے سونے سے پہلے اپنے بیگ سے نکالے اور ان سے لپٹ کر سو گئی۔پیدا سا مکی ماؤس اس کی ماں نے اسے تحفے میں دیا تھا۔جبکہ چھوٹا ریچھ اس کے بوائے فرینڈ نے۔اسے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ تنہائی کتنی بری بلا ہے۔بسا اوقات انسان کھلونوں اور بیجان چیزوں تک کو زندہ تصور کر لیتا ہے۔اور ان کے ذریعے اپنی تنہائی کا تدارک کرتا ہے۔وہ اس کے لئے انسانی رشتے بن جاتے۔مگر اپنا تو عجب معاملہ ہے،ہمیں تو تنہائی میسر ہی نہیں ہوتی۔ہم نے بہت پہلے کہا تھا،
آ جاتا ہے چپ چاپ خیالوں میں وہ خود ہی
تنہائی کے دوزخ میں بھی جلنے نہیں دیتا
بہر طور ایلس ہم سے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر اور دعائیں بٹور کر رخصت ہوگئی ۔اور ہم اگلے ہمسفر کا انتطار کرنے لگے۔وہ ایک انڈونیشین امریکن نکلے۔امریکا سے آرہے تھے اور جکارتا جا رہے تھے۔سنگاپور سے جکارتا کی مسافت ایک گھنٹہ اور بیس منٹ تھی،لہذا ٹھیک تین بج کر ۳۵ منٹ کے مقامی وقت مقررہ پر ہم جکارتا ایر پورٹ لینڈ کر گئے۔ہم نے جہاز سے باہر قدم رکھنے سے پہلے رب رحیم و کریم سے دعا مانگی کہ وہ ہمیں اپنی رحمتوں سے نوازے اور ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف فرماتے ہوئے ہمیں اس مقصد اور کام میں کامیابی عطا کرے جس کے لئے ہم جکارتا آئے ہیں۔
جہاز سے باہر آئے تو ایک صاحب کو گیٹ کے باہر اپنے نام کا پرنٹ آؤٹ تھامے منتظر پایا۔یہ حبیب صاحب تھے پاکستان ایمبیسی کے پروٹو کول آفیسر۔
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 220