میں
ایک کتاب ہوں.میرا مصنف مالک کائنات ہے میں بادشاہوں کے بادشاہ کا کلام
ہوں بادشاہوں میں جو صفات پائی جاتی ہیں انکا عکس میرے اندر سے بھی جھلکتا
ہے خدا علم الحاکمین ہے.جس نے انسانیت کی فلاح کے لئے عرش سے چار کتابیں
نازل کیں لیکن میرے ظہور کے بعد دیگر تین کالعدم ہوگئیں گو کہ دنیا میں
بین شدہ کتابوں کو اب بھی پوجا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کو میری تقلید کرنے
کا حکم ربی تا قیامت رائج رہے گا. .میرے سینے میں اس جہاں کے کئی سربستہ
راز موجود ہیں.میں دنیا بھر کے اربوں انسانوں کو حکومت سے لیکر خلافت تک
جمہوریت سے لیکر سیاست تک طرز حاکمیت سے لیکر جدید سائنسی علوم تک اور
حکمت سے لیکردنیا کے ہر گنجلک و پیچدہ مسئلے کی سلجھن کے طریقے بتاتا ہوں.
ہوں.میں نے انسانوں اور رب العالمین اور پیغمبروں کے درمیان براہ راست
تعلق قائم کررکھا ہے.انسانوں کی موجودہ تحیر انگیز اور عقل کو دنگ کردینے
والی ترقی میری مرہون منت ہے.یورپ جسے اپنی سائنسی ترقی پر ناز ہے انہوں
نے بھی میرے سینے میں پوشیدہ علوم کے ایک ایک حرف کو کھنگال کر ستاروں پر
کمند ڈالنے میںکامیابی حاصل کی ہے. عرب اسرائیل جنگ میں فتح حاصل کرنے
والی خاتون یہودی وزیراعظم گولڈ میر سے جب اسرائیل کی فتح کے اسباب دریافت
کئے گئے تو اس نے مسکرا کر کہا کہ میری کامیابی کا راز مسلمانوں کی مقدس
کتاب اور اسوہ حسنہ سے رہنمائی لینے میں پنہاں ہے علاوہ ازیں میں نے
مسلمانوں کے آخری پیغمبر کی جنگی پالیسیوں کی تقلید کی .مسلمان بدقسمت
ہیں کہ انہوں نے اپنی عظیم و انیق کتاب کو فراموش کردیا ہے. میری عظمت کا
اندازہ ایک ہی امر سے لگایا جاسکتاہے کہ میری نگہبانی کا فریضہ رحمن و
رحیم نے اپنے زمہ لیا ہوا ہے، میں مسلمانوں کے نذدیک معتبر ترین ہوں میری
دنیا کے کسی کونے میں بے حرمتی کا واقعہ رونما ہوجائے تو ڈیڈھ ارب سے زائد
مسلمان چشم زدن میں شعلہ فروزاں بنکر احتجاج کرتے ہیں جو انکی میرے ساتھ
الفت و عقیدت کی اظہر من التمش مثال ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ مسلمانوں کی
اکثریت میرے گن گانے کے باوجود مجھے اپنی الماریوں میں سجا کر خود دنیاوی
بکھیڑوں اور بھول بھلیوں میں گم ہوچکی ہے.مسلمان میری تلاوت تو بڑے عجز و
نیاز سے فرماتے ہیں لیکن میری صدا کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے. وہ میری
اواز کو سنکر انکھوں سے اشک تو بہاتے ہیں ہیں لیکن وہ میری تفسیر سے نابلد
ہیں. مسلمانوں کے زوال کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ میری ہدایات پر عمل پیرا
نہیں کرتے.ہمارے رب نے میرے توسط سے انسانوں اور مسلمانوں کی ہدایت کے
واسطیدین حق کو دنیا میں بھیجا.مسلمان دور حاظرہ میں روبہ زوال ہیں.ظلم تو
یہ ہے کہ مسلمان حکمران اپنے مصائب و الام کی گھتی سلجانے کے لئے یہود
ونصاری کے ہاں جاتے ہیں بڑی طاقتوں کو اپنا طبیب سمجھتے ہیں حالانکہ خدا
نے میرے متن میں صاف صاف لکھ دیا ہے کہ آئے محمد کہہ دو کہ اللہ تعالی کے
علاوہ تم جن کو پکارتے ہو وہ تمھاری مصیبت کو ہٹانے یا بدلنے کا کوئی
اختیار نہیں رکھتے .کیا تم ان ناموں کے لئے میرے ساتھ جھگڑتے ہو جو تم نے
اور تمھارے بڑوں نے گھڑ لئے ہیں اللہ تعالی نے انکے حق میں کوئی سند نازل
نہیں کی.خدائے لم یزل نے میرے متعلق فرمایا آئے پیغمبر.یہ کتاب(قران
مجید) جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے بڑی بابرکت ہے . لوگوں کو چاہیی کہ اس
کی ایتوں پر غور کریں اور جو عقل رکھتے ہیں وہ اس کے مطالب سے نصیحت کا
عرق کشید کریں.لیکن دکھ تو یہ ہے کہ جس قوم نے مجھ سے رشد و ہدایت کاذادہ
راہ تلاش کرنا تھا وہ یا تو مجھے بھول چکے یا پھر میرے چند اوراق کو پڑھنے
کا سوانگ رچا کرفرض کرلیتے ہیں کہ ہم نے مسلمان ہونے کاقرض چکا دیا ہے اور
یوں ہم نے اپنی عاقبت سنوار لی ہے.ایک اور فران خداوندی جو میری سورتوں
میں قلم بند ہے کہ اللہ کی زات بابرکات ہے بے مثل ہے مہربان ہے جس نے
انسان کو پیدا کیااور بولنا سکھایااور قران پاک کا علم دیا. میری ایک
فریاد ہے جو مسلمانوں کی موجودہ حالت زار پرکھنے اور دین اسلام سے دوری
اور خدائی احکامات سے مسلمانوں کی روگردانی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے.آئے
مسلمانو تم مجھے طاقوں میں سجاتے ہو،مجھے انکھوں سے چومتے ہو، میرے تعویز
بناتے ہو، مریضوں کو دھو دھو کر پلاتے ہو تاکہ وہ شفایاب ہوں،جزوان حریرہ
ریشم اور چاندی کے پھول ستاروں اور عطر کی جب بارش ہوتی ہے تو اس بارش کے
نتیجے میں پیدا ہونے والی خوشبو میں مجھے ایسے بساتے ہو جس طرح سے
طوطامیناکو کچھ بول سکھائے جاتے ہیں.جب دو گروہوں کی اپس میں تو تکار ہوتی
ہے تو پھر ساروں کو میری یاد تڑپاتی ہے اور تم مجھے حلف لینے اور دینے کے
لئے استعمال کرتے ہو اور پھر تمھارا مصمم ایمان جاگ اٹھتاہے اور تم میری
جلد پر ہاتھ رکھنے کے قول و فعل کو تسلیم کرلتے ہو، تم ہر تقریب کا اغاز
میری تحریروں سے کرتے ہو، جلسوں میں مجھے بار بار پڑھتے ہولیکن ایسی دورخی
پر تمھارا سینہ اور دل نور سے تہی داماں بن جاتا ہے.کیا میرا یہی کام باقی
رہ گیا ہے کہ تم مجھے پنچائتوں میں استعمال کرتے رہو؟ کیا قران پاک کے
دوچار اوراق پڑھ لینے سے تمھارے فرائض پورے ہوجاتے ہیں؟ڈیڈھ ارب مسلمانوں
میں سے کتنے فیصد ایسے ہیں جو منشورٍ قران سے بخوبی اگاہ ہونگے اور پھر
فرمودات خدا کی بندگی بھی کرتے ہونگے؟بادشاہوں میں دو صفات پائی جاتی ہیں
کہ کوئی وفا کرے تو اسے نوازتے ہیں اور اگر کوئی دغا کرے تو مڑ کر بھی اس
کی طرف نہیں دیکھتے.کائنات کے واحد شہنشاہ معظم کے کلام میں بھی شہنشہانہ
خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں.مسلمان جب تک مجھے خضراہ راہ مان کر میری
پیروی کرتے رہے اور اپنی سماجی سیاسی تہذیبی اور معاشرتی زندگی میں اللہ
کے کلام سے وفا کرتے رہے جب تک وہ قران کے غلبے کے لئے اپنے اپکو فنا کرتے
رہے،دنیا کے کونے کونے میں اسلام اور قرانی تعلیمات کے غلبے کے لئے لڑتے
رہے جدوجہد کرتے رہے تو میں نے بھی انہیں اس عالم میں برتری سرخروئی
سرفرازی اور سربلندی سے نوازا،وفا کا بدلہ وفا احسان کا بدلہ احسان لیکن
جب انسان میری بوقلمونیوں کو بھلا بیٹھا،مسلمان کلام خدا کی بے حرمتی ،بے
اکرامی پر اتر ایا تو وہ ہماری نظر کرم سے محروم ہوگیا،مسلمانوں کے جس ملک
یا کسی معاشرے میں جہاں خدائی قوانین کو بھلا کر دنیاوی آئین تشکیل دئے
گئے۔جہاں قرانی ایات کو حرف آخر نہیں سمجھا جاتا توپھر وہ قومیںعرش والے
کی افلاکی کونسل نے دھتکار دیا،آج کے مسلمانوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں
کہ غفار و ستار کی کتاب کو کس طرح پڑھا جائے،قران کریم کو اللہ نے سات
طریقوں سے نازل کیا،جبریل علیہ اسلام نے بھی قران کو سات طریقوں سے پڑھا
اور پیغمبر انسانیت نے بھی اصحابہ کو سات طریقوں سے پڑھنا سکھایا.میری
مقدسیت پر یقین رکھنے والو تم اپنے مسلمان ہونے کا ایک قلیل قرض تو ادا
کردو کہ مجھے پڑھتے وقت وہی طریقے اپناو جو خاتم المرسلین نے اپنے پیارے
اکارب کو سکھائے.تم (مسلمان) پچھلی کی صدیوں سے زہنی خلجان کا شکار
ہو،تمھاری حالت زار پر ترس اتا ہے،تم جب تک افکار قران پر عمل پیرا رہے
پوری دنیا تمھاری مٹھی میں تھی،لیکن جب تم نے دنیاوی اطوار کو اپنا لیا تو
تم دربدر ہوگئے.فلسطین سے لیکر عراق تک اور مراکش سے لیکر پاکستان تک ہر
جگہ مسلمانوں کے خون کی ہولیاں بہائی جارہی ہیں.یہود نصاری تمھارے اقا و
ملجی بنے ہوئے ہیں.مسلم امہ وسائل رکھنے کے باوجود کفار کی دست نگر بنی
ہوئی ہے،اج کے انسان کو سکون نہیں کوئی ریاستی استحصال پر شکوہ کناں ہے تو
کوئی روٹی کے لئے بلک رہا ہے،کوئی غیروں کی بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے تو
کوئی اپنوں کے گھاو سے جاں بلب ہے، حکمران سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ وہ خدا
کی مخلوق کو نہ تو مطمئن کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی
ظلمت کا خاتمہ کرسکتے ہیں.کوئی روشن خیالی کے نام پر تجربات کی بھٹی
دھکائے ہوئے ہے تو کوئی جمہوریت کا ڈھول پیٹ رہا ہے،کوئی کاغذ کے چند
ٹکڑوں کے آئین کو شفایابی کا واحد حل تصور کرتا ہے تو کوئی قوت کے زور پر
حالات پر گرفت کی درفطنیاں کرتا ہے،پاکستان نام کے ملک میں حکمرانوں سے
لیکر سیاست دانوں اور مزدوروں سے لیکر علما تک ہر کوئی پریشان حال ہے،
تمھاری تمام ناسور بن جانے والی مشکلات کا واحد ذریعہ قران فرقان ہے،قران
رہتی دنیا تک ایک ایسا سکہ بند آئین ہے جو تمھیں انصاف،روزی روٹی،بندگی
خدا،یگانگت رسول،کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کی واپسی،تفرقہ بندی کے خاتمے طرز
حکمرانی کے اصول و ضوابط کے گر،قانون کی پاسداری اور دنیا و آخرت میں
سرخرو ہونے کے کلئیی بتاتا ہے ۔آو تم توبہ کرلو سینوں میں کلام ربی کی
خوشبو رچاو،تیس پاروں کے ایک ایک جملے کی پیروکاری کرلو تو پھر میری وفا
بھی دیکھو کہ تم ایک قدم اگے بڑھاو گے تو مجھے تیس کوس اگے پاو گے.جس روز
تم نے قران فرقان کو اپنے ازہان و قلوب میں جگہ دے ڈالی تو یاد رکھو اس
روز تمھیں ایسی روحانی مسرت نصیب ہوگی کہ حوادث زمانہ کے تمام غم قصہ
پارینہ بن جائیں گے.ہر طرف رب العالمین کی نوازشات کی بارش ہوگی جس میں
تمام برائیاں اور تمھارے گناہ بہہ جائیں گی.ہر طرف بھائی چارے کا بول بالا
ہوگا،تمھیں امریکہ فرانس جاکر کشگول نہیں پھیلانے پڑیں گے.بم دھماکے خود
کش حملے ظلم و ستم اقربا پروری کرپشن لوٹ مار معاشرتی تفاوت اور مذہبی
بعدالمشرقین نفرتیں حقارتیں غیروں کی غلامی معاشی و سماجی استحصال ہمیشہ
کے لئے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے.آو جلدی کرو کہ کہیں توبہ کے دروازے بند
نہ ہوجائیں اور جہان رنگ و بو کا واحد بادشاہ تم سے نظریں نہ پھیر لے.خدا
کے اس فرمان کو یاد رکھو جس میں پیغمبر انسانیت نے کہا تھا کہ جب کوئی
انسان بے حیا بن جائے تو پھر اللہ بھی اسے اسکے حال پر چھوڑ دیتا ہے.
This entry was posted on 26-08-2008 19:33. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 174
Views: 174