Dec
02
2008
Today

Maj. Tahir Sadiq is ....
Attock
19°C
کشمیر کی پنجرہ نما آزادی مسلمانوں کیلئے مصیبت PDF Print E-mail
User Rating: / 1
PoorBest 
 
کشمیر میںحریت کی ڈکیتی ڈالنے میں سرگرمی کا مظاہر ہ کرکے کچھ لوگ اس فراق میں لگ گئے ہیں۔ کہ کشمیر کو پنجرہ نما آزادی کی آڑ میں کشمیر کی ایک نئی حصار بندی کرکے ان کو کمزور اور ناتواںبناکر اس حصہ کو اور اس حصہ کے عوام کو غلامی میں تبدیل کردیا جائے۔ اور پھر کشمیر کی آزادی کا پنجرہ لے جاکر اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر ٹانگ دیا جائے۔ جہاں امریکہ و برطانیہ اپنی سیاست کاری و ہوائی حملوں کی دھشت گردی پھیلاکر بڑے ملکوں کے حصوں کو پنجرہ نما آزادی دلاکر یرغمال بنایا جائے۔ اور ان کو قید نما پنجرہ میں جکڑ کر اقوام متحدہ کی جو کھٹ پر پیوست کردیا جائے۔ وہ یرغمال لوگ اسی قید نما پنجر ے میں اچھل کود کرتے رہیں۔ کیونکہ اچھل کود کرنے والے بالغ الذہن نہیں ہوتے۔ وہ ناسمجھ ہوتے ہیں ۔ ان کو مذید بے وقوف بنایا جاتا ہے۔اس لئے وہ سمندر میں رہنے کے بجائے تالاب کو پسند کرتے ہیں۔ سمندر کا پانی صاف ہوتا ہے۔ جبکہ تالاب کا پانی گندہ اور گندگی سے آلودہ ہوتا ہے۔ سمندرمیں غسل کرنے والا تالاب میں غسل کرنے کو اپنی حماقت سمجھتا ہے۔ چند مفاد پر ست لوگ محض ذاتی راحت و آرام کی خاطر آہستہ آہستہ گندے و آلودہ غسل کراکر اس کو نالی کا کیڑا بناتے ہیں پنجرہ نما آزادی کے ساتھ غلامی وہ لوگ ناسمجھوں کو غلامی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ آزادی کی حقیقت جب ان کو معلوم ہوتی ہے۔ جب وہ معصوم اس قید نما پنجرے میں پھنس جاتے ہیں۔ پیروں میں جھنجیر بڑجاتی ہے۔ کہ وسیع رقبہ کی سیروتفریح کرنے والا شخص اب چاردیواریوں میں قید ہو کے رہ جاتا ہے۔
مسلمانوں کی مجموعی آزدی کو حقیقی طور پر سلب کرنے کیلئے امریکہ و برطانیہ اس کوشیش میں سرگرم رہتے ہیں۔ کہ بہر صورت وہ دنیا میں آبا د مسلمانوں کو پنجرہ نما آزادی میں[L: 8] رکھ کر ان کو پتنگ اڑانے کی آزادی تک محدود رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ پنجرہ نما آزادی دنیاکے مسلمانوں کیلئے مصیبت ہے۔ اب مسلمانوں کو آزادی کی تحریک کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی تعلیمی ترقی کی تحریک ضرورت ہے۔
واقعات شاہد ہیں۔ جیسے یوگوسلاویہ کا حصہ کوسوو، پنجرہ نما آزادی کے تحت غلام بن چکا ہے۔ چین کا حصّہ تائیوان ، ہندوستا ن کا حصہ پاکستان اور پھر پاکستان کو حصہ بنگلہ دیش ، انڈونیشاء کا حصہ مشرقی تیمور ، ماضی میں عراق کا حصہ کویت ، اردو کا حصہ فلسطین ، شام کا حصہ اسرائیل ، روس کے دس و بارہ حصّے ، افریکہ کے آٹھ نو حصّے پنجرہ نما آزادی کے جال میں پھنس کر غلامی کا شکار ہوچکے ہیں۔ اب تبتیوں کو پنجرہ نما آزادی کی جھنجیروں میں جکڑنے کی تیاری چل رہی ہے۔ کتنے خوبصور ت طور پر ملکوں کے حصوں کو غلام بنایا جارہا ہے۔ان اتنا خون خرابہ ترقی پذیر ملکوں کوکمزور کرنے کی گہری سازش ہے۔
کشمیری عوام اگر واقعی آزادی چاہتے ہیں۔ تو ہو ایسا پلان تیار کریں۔ جس سے پتہ چلے کہ وہ واقعی آزاد ذہن ہیں۔ ا ن کو حریت کی ڈکیتی ڈالنے والوں کو ہدایت دینی چاہییے۔ کہ کشمیری عوام آزادی چاہتے ہیں۔ ان کی آزادی میں ان کے ملک کا حصہ واقعی وسیع ہونا چاہیئے۔ جس میں پورا ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش شامل ہو ۔۔ پنجرہ نما آزادی قید ِمصیبت ہے۔ ان تینوں ملکوں کے حصوں کو یکجا کرکے اس کا نام کشمیرستان ہوں۔آزادی وسعت اور بلندی کا نام ہے۔ پنجرہ نما آزادی تو ابو غریب جیل سے بھی بد تر ہے۔ پنجرہ نما آزادی کے تحت کشمیر کو گونتا نامو جیسی جیل بنادیا جائے۔ جہاں قیدیوں کو میڈیا میں سزا دی جاتی ہے۔ اور وہ ہے دھشت گردوں کی جنت ۔۔۔ تو یہ کسی طرح قابل قبول نہیں۔چند لوگو ں کے جذبات گرما کر ان سے کھیلنے والے درندہ صفت بھیڑئے جو یہاں حریت کی ڈاکیتی اپنے آقائو ں کے اشارے پر ڈالنے میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ لوگ صڑف نوٹ پجاری ہیں۔ یہ لوگ مذہب کے نام پر کلنک ہیں۔ جو کشمیریوں کو پنجرہ نما آزادی میں قید کرکے گمراہ کن پروپیگینڈے سے اپنی تجوریا ں بھرتے ہیں۔ جوکہ افسوس ناک ہی نہیں بلکہ شرمناک ہے۔
بہرحال کشمیری عوام کو مکمل آزادی کیلئے ہندپاک و بنگلہ کو ایک کرکے ایک کشمیر ستان بنایا جائے۔ پنجرہ نما آزادی کے کھوکھلے نعرے دینے والون کا ببول کے کانٹون کا ہار پہناکر ان کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ جو ملک و کشمیری عوام کے اصل دشمن ہیں اور دوسرے ملکوں کے دیرینہ ایجنٹ۔۔۔۔؟؟
بہرکیف کشمیر کو آزادی نام پر بیرونی ملکوں کا یرغمال بنانے کی سازش مذہب اسلام پر حملہ بھی ہے ۔ چونکہ یہ اپنے ہی ملک سے غداری بھی ہے۔ لہذا ۔ اب ضرورت پنجرہ نما آزادی کی نہیں ۔ بلکہ ضرور ت اس خطہ کے لوگوں کو سپر پاور بنانے کی ہے۔ اور خواب کشمیرستان بناکر ہی پور ہوسکتا ہے۔ اس قبل نہیں۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی




26-08-2008 19:21 Ayaz Mehmood
This entry was posted on 26-08-2008 19:21. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 230    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >