| اسلام کا مذاق اڑانے والے طالبان |
|
|
|
طالبان کی پیدوارکیلئے امریکن ری پبلیکن پارٹی کی طرف سے منظوری دی گئی۔۔؟
کہ طالبان کے عنوان سے مذہب اسلام کو دھشت مذہب میں تبدیل کیا جاسکے۔ جس
پوری دنیا میں یہ پیغام پہنچے کہ طالبان جہادی لوگ ہیں۔ اور یہ لوگ مذہب
اسلام کیلئے کام کررہے ہیں۔اسی لئے امریکہ کی مذکورہ جماعت کی قیادت کیلئے
القاعدہ و طالبان کی دھمکیاں تخلیقی کیسٹوں میں سجائی جاتی ہیں۔ اور اب( طالبان ) اسلام دشمنوں کو ان (امریکہ ) کے خلاف صف آرا ء دیکھایا جاتا ہے۔ جس سے مسلم دنیا کو پتہ چلے کہ یہ لوگ مذہب اسلام کے وفادار ہیں۔ اس خوبصورت کھیل کی آڑ میں اسلام دشمنوں کی یہ کوشیش ہے ۔ مذہب اسلام پر ان لوگوں سے اسلامی حلیہ شکل میں حملہ کراکر مذہب اسلام کو بدنام کیا جائے اور وہ اپنی اس کوشیش میں کامیاب ہیں۔آپ اگر اس کی مخالفت کریں گے۔ تو مسلمانوں کی ناراضگی مول لیں گے۔ اور اسلام کے دشمن کہلائیں گے۔
القاعدہ و طالبان جو امریکہ کو دھمکیاں دیتی ہے۔ یہ اصل حقیقت نہیں۔۔ بلکہ کیسٹوں سے تراشی گئی تحریک ہے۔ ۱۱ ستمبر کا امریکہ میں رونما حادثہ جس کو القاعدہ سے منسوب کرکے اس سے پوری دنیا میں پھیلے مسلمانوں کو بدنام کیا گیا۔ حالانکہ یہ ایک سیاسی شرارت تھی۔ اس حادثہ سے مسلمانوں کو امریکی عوام پر حملہ آور دیکھانا تھا ۔ اور مذکورہ پارٹی نے اس کے ذریعہ وہاں کے عوام کے ووٹوں کو بٹورنا تھا۔ اس حکمت عملی کے تحت ان کو زبردشت کامیابی ملی بھی تھی۔۔پھر اسی طرح کے اقدام کو انہوں نے اپنا محرک بنالیا ہے۔ الجزیرہ عربی چینل سے ہونے والی رونما ہونے والی القاعدہ کی تخلیقی کیسٹیں مذکورہ پارٹی کی قیادت کیلئے باربار آنے سے دنیا یہ سمجھنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ کہ الجزیرہ کا یہ چینل امریکہ مفاد کی نگہبانی کی خاطر وجود میں لایا گیا ہے۔ لیکن اس سچائی کی تصدیق کوئی کس طرح کرے ۔۔؟ لیکن مزے کی با ت یہ ہوئی کہ اچانک امریکن ری پبلیکن پارٹی کے سیاسی ماہرین اسی غلطی کربیٹھے کہ جس سے حقیقت خود بہ خود ہی منکشف ہوگئی۔ کہ القاعدہ و طالبان کی تخلیقی دھمکیاں۔انگریزی زبان میں امریکہ کے خلاف پیش کرنے کیلئے امریکہ وہ برطانیہ میں الجزیرہ کا انگریزی چینل قائم کیا گیا۔ جس سے القاعدہ و طالبان کے عربی زبان کے لوگ اپنی دھمکیاں انگریزی زبان میں تخلیقی کیسٹوں میں امریکہ کو دے سکیں۔جیسے ہی اس سیاسی حکمت کا آغاز ہوا مسٹر جارج بش صاحب کی یہ حکمت عملی برہنہ ہوکر منظر عام پر آئی۔ کہ’’ القاعدہ و طالبان ‘‘ سے مذہب اسلام پر حملہ کرانے کا اس کا تماشہ ہے۔۔؟جو صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خاطرتیار ہوا ہے۔ جس کے سہارے سے وہاںکی سیاسی جماعت ۔۔۔ امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست سے ہر بار دوچار کرایا جاتا رہے۔ چونکہ عربی زبان میں دھمکیاں امریکی عوام سمجھ نہیں پارہے تھے۔ ان کی سمجھ کی خاطر امریکہ کے خلاف دھمکیاں انگریزی زبان میں فلمائی گئیں اس طرح کے اقدام کرکے امریکی عوام کے ووٹ بٹورنے کیلئے ایسا ضروری سمجھا جارہا ہے۔۔
بہر حال اب تو طالبان و القاعدہ کی انگریزی زبان میں کیسٹوں سے وجود میں لائی جارہی تخلیقی دھمکیاں اس با ت کی گواہ بنتی جارہی ہیں۔ کہ یہ ری پبلیکن کا امریکہ کے صدارتی الیکشن جیتنے کا سیاسی کھیل ہے۔ نئے نئے طرز اسلامی حلیہ شکل کے مکھوٹے تیار کردئے گئے ہیں۔جن پر اب انعام کی رقم رکھی جارہی ہے۔ جس سے امریکی عوام کے ووٹوں کو حاصل کرنے کیلئے اس طرح ان کے ذہنوں میں ایک ہلچل سی پیدا کی جائے۔ کہ وہ ان کے تحفظ کیلئے بڑی مستعدی سے کام کررہے ہیں۔یہ سب ایک حکمت کے تحت اس مہم کو دراز کیا جارہا ہے۔یہ سرگرمیاں دھشت گردی کے خاتمہ کیلئے نہیں بلکہ اس عنوان سے امریکی عوام کو بے وقوف بنا کر ان کے ووٹ بٹور نے ہیں۔جس دن ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار اس مہم کو جان لیںگے۔ اور اس کا موثرق قجک جواب تلاش لیں گے۔ تو کامیابی ان کے قدموں میں آگرے گی۔اگر مسٹر بارک اوبامہ صرف دنیا کے اور امریکہ میں قائم الجزیرہ کے انگریزی چینل سمیت تما م تخلیقی کیسٹوں کی اشاعت پر دوران الیکشن پابندی لگوادیں تو ان کی کامیابی بہت ہی آسان ہوجائیگی۔مسٹر بش پارٹی کو اب تخلیقی امریکی القاعدہ لیڈ ر کیسٹوں میں تیار کرنے سے بھی زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔اس لئے کہ یہ حقیقت اب بے نقاب ہوچکی ہے۔
مذہب اسلام کا مذاق اڑانے والے طالبان لوگ ۔منافق اور اسلام دشمن ہیں۔ اور یہ اسلامی حلیہ شکل اختیار کئے ہوئے یہ لوگ اب امریکن ری پبلیکن پارٹی کے نمائیندے معلوم پڑتے ہیں۔ جو اس اس طرح اپنے چنائو پرچارکی سیاسی مہم چلارہے ہیں۔پہلے یہ لوگ طالبان کا ہوّا کھڑا کرتے ہیں۔ اور پھر اس پر حملہ کرکے اپنے مقاصد کے حصول میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹوںکو جو ان کی طرف بڑھتے ہیں ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اورپھر ان کی پارٹی کو ان کی ایسی حرکتوں سے شکست ہو جاتی ہے۔۔
اس لئے امریکہ کو دھمکیاں عربی وانگریز ی زبان میں جو دی جارہی ہیں۔ وہ اسلام و مسلمانوں کے خلاف کھلی سازش ہے اب پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کی قیاد ت میں ایک نیا سیاسی محاذ اسلام کے تحفظ میں قائم ہونا چاہئے ۔جو اس مہم کو ناکام بنانے لئے کام کرے۔ جس سے مکاروں کی مکاریوں کا پردہ فاش کیا جاسکے۔اب یہ زمہ داری پاکستان کے جمہوری جماعتوں کی ہے۔جن کو اب اسلام اور مسلمانوںکی خدمت کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی
Users' Comments (1) |
|
![]()
29-08-2008 09:38, , Guest Ayaz Mehmood sahab...you need to do some homework...later then hold your pen to right something true..... |
||
|
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 319