| ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔۔۔ |
|
|
|
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ کے بعد حکمران اتحاد اور
خصوصاً آصف علی زرداری میں بے پناہ اعتماد در آیا۔چناچہ پی پی پی اور
(ن)لیگ نے مثالی گٹھ جوڑ کا مظاہرہ کیا ،اور مواخذے کاڈول ڈالا۔پرویز مشرف
نے پہلے تو مقابلے کی ٹھانی ۔لہٰذا مقابلے کے پہلے مرحلے میں سکرپٹ کے
مطابق ایوانِ صدر کے جوشیلے ترجمان راشد قریشی نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ
’’صدر مستعفی نہیں ہو ں گے ‘‘ بعد ازاں سابق صدر نے یہ کہا کہ ’’وہ میدان
چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے اور مواخذے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘‘مگرپھر شائد
انھیں اپنی شکست کا یقین ہوتا چلا گیا۔کیوں کہ انکے قریبی رفیق جن میں شیخ
رشید،آفتاب شیر پائو،ظفر اللہ جمالی،شریف الدین پیر زادہ ۔اٹارنی جنرل
ملک عبدالقیوم وغیرہ وغیرہ نے اپنا دامن پرویز مشرف کی قربت سے چھڑانا
شروع کر دیا۔حالانکہ یہ وہی لوگ تھے ،جنہوں نے اس بہتی ’’گنگا‘‘ میں خوب
خوب ہاتھ دھوئے تھے۔ شیخ رشید نے تو پہلے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ
’’مشرف کو استعفیٰ دے دینا چاہئے،کیونکہ حکمران اتحاد کے پاس نمبرز گیم
پوری ہے۔ مصیبت کے وقت تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے یہ تو پھر شیخ رشید
تھے تو جو اس سے قبل نواز شریف کو بھی چھوڑ چکے تھے۔پتہ چلا ہے کہ ایوانِ
صدر سے مصطفی کھر سے بھی تعاون کے لئے رابطہ کیا گیا ہے مگر انھوں نے جواب
میں کہلا بھیجا کہ ’’اگر ضمیر کا سودا کرنا ہوتا توبہت پہلے کر لیتا اس
لئے مجھے معاف ہی رکھا جائے‘‘بہرحال بات کرنے کامقصد یہ ہے کہ مشرف نے
اپنے غیر ملکی دوستوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ان میں سے کچھ کام بھی آئے
اور بالاخر مشرف نے میدان چھوڑنے کا ارادہ کرکے اپنے ہی عزم کی نفی کر
دی۔اور استعفیٰ دے دیا۔
پاکستان کی اکژیت کی رائے میں مشرف کے جانے کے بعد اب ملک میں بہتری آنے کی موہوم امید روشنی میں بدل گئی ہے۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔اب حکمران اتحاد اور خصوصاً آصف علی زرداری کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے۔حکمران اتحادمیں یہ بھی طے پایا تھا کہ ’’صدر کے جانے کے 72گھنٹوں بعد تمام معزول ججز بحال ہو جائیں گے۔‘‘یہ کالم لکھنے تک 48گھنٹوں سے زائد وقت گذر چکا ہے۔مگر ابھی تک ججز کی بحالی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔یہ بات علم میں آئی ہے کہ دو روز بعد یعنی جمعتہ المبارک کے روز حکمران اتحاد کا اجلاس ہو رہا ہے۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ ججز کی فوری بحالی میں تاخیر پر (ن)لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے اتحاد سے نکل جانے کی دھمکی دی ہے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیرٗمین آصف علی زرداری نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔اس کے ساتھ ہی میاں نواز شریف کو انھوں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری
سے ابھی ،یاپھر بحال ہونے کے چند دنوں بعد استعفیٰ لینے کا ٹاسک دیا ہے۔ جناب عبد الحمید ڈوگر کے آئندہ ارادے کے بارے میں تو مجھے علم نہ ہے مگر افتخار محمد چودھری نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نہ تو اب استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی بحال ہونے کے بعد ان کا ایسا کوئی پروگرام ہے۔آصف علی زرداری کو شائد معزول چیف جسٹس سے این آر او کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں،اسی لئے وہ ان کی بحالی کے issueپرقدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔حالانکہ ڈیل کارنیگی کے مطابق کچھ خوف صرف خوف کی حد تک ہی محدود ہوتے ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ کچھ اور ہی منظر پیش کر رہا ہے۔زرداری صاحب نے پہلے تو صدر کے لیے قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا ،اور اپنی بہن فریال تالپور کے علاوہ آفتاب شعبان میرانی کا نام تجویز کیا۔ادھر مسلم لیگ(ن) کی طرف سے بھی عہدہٗ صدارت کے لئے چند نام دیئے گئے،چناچہ موقع کی مناسبت سے آصف علی زرداری نے معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کو صدر کے عہدے کی پیش کش کر دی۔بہتر ہوتا اگر زرداری صاحب ،میاں نواز شریف کی رائے کا احترام کرتے اور ملک کے صدر کا انتخاب بلوچستان میں سے کرتے۔کیونکہ اس عمل سے ہوسکتا ہے کہ بلوچستان کی رگ رگ میں پھیلی ہوئی احساسِ کمتری اور مایوسی میں خاطر خواہ کمی ہوتی۔بہر حال ابھی بھی وقت ہے فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے۔
صدر کا معاملہ باہمی اشتراکِ رائے سے طے ہونے کے بعدضرورت اس امر کی ہے کہ وعدے کے مطابق ججز کی بحالی،امن و امان کی صورتِ حال،لاء اینڈ آرڈر کی گھمبیر پریشانی۔مہنگائی کا عفریت،بے روزگاری جیسی بلائوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ملک کے قبائلی علاقوں میں پھیلی ہوئی خانہ جنگی دعوتِ فکر کے سامان مہیا کر رہی ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے بم دھماکے نے35زائد قیمتی جانیں نگل لیں۔حالیہ دھماکہ ملا کر 2002ء سے لے کر اب تک 99دھماکے ہو چکے ہیں۔2007ء اس حوالے سے سب سے بدقسمت سال رہا۔گذشتہ برس 50بم دھماکے ہوئے جس میں سینکڑوں سے زائد قیمتی جانیں پیوندِ خاک ہو گئیں۔میں نہیں جانتا کہ مسلمان ہو کر مسلمان کی جان لینے والے کس اسلام کے نام لیوا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔اسلام تو امن و آشتی کا دین ہے۔اور اگر اس کے ماننے والے ،اس کے پر چارک اس طرح کے فعل سر انجام دیں گے تویہ کسی طور بھی ہرگز ہرگز اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اس طرح کی انسان دشمن سرگرمیوں سے باقی دنیا میں اسلام کی نیک نامی نہیں بلکہ اس کی بدنامی ہو رہی ہے۔شائد اسی لئے مسلمانوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگ چکا ہے۔
بات کہاں کی کہاں نکل گئی۔وطنِ عزیز ابھی بھی کئی بحرانوں کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے،پھنسا ہو اہے۔اسے ان بحرانوں سے نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔اور یہ اسی صورت ممکن ہو سکے گا اگر ہماری صفوں میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی ہو گی۔حکمران اتحاد کے سربراہان جہاں تک ممکن ہو سکے ملک کے لئے لچک کا مظاہرہ کریں اور اپنی صفوں میں چھپے ہو ئے میر جعفروں اور میر صادقوں کو پہچانیں۔ملک کی خدمت کا موقع عبادت جان کر کریں۔اپنے غیر ملکی دشمنوں کو پہچانیں۔ان کے کسی جھانسے میں نہ آئیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ لاکھ پینترے بدلے۔بلکہ ایسا کریں گے،یہ وہی وقت ہوگا جب ان مکاریوں کو ذہن سے سمجھنا ہو گا۔وہ کیسے ممکن ہے ۔یہ’’کام کی بات ‘‘پڑھیں شائد آپ کو اس سے کوئی مدد مل سکے۔
کام کی بات
ایک گدھ اور چیل کی یاری ہو گئی۔ان کی آپس میں محبت اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ اردگرد کے جانور ان کی محبت سے جلنے لگے۔دونوں جہاں بھی جاتے ہر کوئی انھیں رشک بھری نظروں سے دیکھتا ،جنگل میں ہر جگہ ان کی ہی باتیں ہونا شروع ہوگئیں۔ایک دن دونوں کسی دوسرے علاقے میں سیر کے لئے چلے گئے۔دونوں کو ایک نسبتاً اونچی جگہ بے حد پسند آئی ۔اس لئے دونوں نے اس جگہ پر بیٹھ کر علاقے کا نظارہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔دونوں اردگرد کی باتیں کرنے لگے۔باتوں کے دوران گدھ نے چیل سے کہا۔’’دنیا میںمجھ سے زیادہ کسی کی نظر تیز نہیں ہوگی۔‘‘چیل نے سنا تو مصنوعی غصے سے بولی۔’’لگتا ہے کہ نئی آب و ہوا میں آکر تیرا دماغ چل گیا ہے۔‘‘گدھ نے کہا ’’میں تیری بات کا مطلب نہیں سمجھا۔۔؟‘‘چیل نے کہا ’’ناسمجھ،انجان میری بصارت تو دنیا بھر میں مشہور ہے۔مجھ سے تیز سنظر بھلا اور کس کی ہوسکتی ہے۔اللہ نے یہ اعزاز صرف مجھ کو ہی عطا کیا ہے۔‘‘گدھ اپنی بات پر اڑ گیا۔اور دوبارہ وہی بات زور دے کے بولا۔’’تجھے بہت غلط فہمی ہے۔اپنی اصلاح کر اور میری برتری تسلیم کرکہ میری نظر تجھ سے زیادہ تیز ہے۔‘‘چیل پھر تنک کر بولی۔’’اب تو مجھے واقعی پورا یقین ہو گیا ہے کہ تو ابنارمل ہے۔ تجھے ایسی ڈینگیں زیب نہیں دیتیں۔ مجھے تو یقین نہیں آتا کہ تیری نظر مجھ سے زیادہ تیز ہے،‘‘گدھ اترا کر بولا۔وہ دیکھ دور نیچے گندم کا دانہ پڑا ہوا ہے،وہ دانہ مجھے تو صاف دکھائی دے رہاہے ۔کیا وہ دانہ تجھے میری طرح دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ چیل بے بسی سے بولی مجھے وہ دانہ تو دکھائی نہیں دے رہا۔لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ کہ تو سچ کہہ رہا ہے۔‘‘؟گدھ نے جھنجلا کر کہا ’’یہ کون سا مشکل کام ہے میں ابھی جاتا ہوں اور وہ دانہ اٹھا کر لا تا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر وہ اپنی اڑان اور نظر کی تیزی کے گھمنڈ میں گندم کے دانے پر جھپٹا۔وہاں کسی شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔گدھ اسی میں پھنس کر رہ گیا۔اور اس کی ساری شیخی کرکری ہو گئی۔چیل نے غصے اور دکھ کے ملے جلے تاثر سے کہا۔’’بیوقوف گندم کے اس دانے کو دیکھنے سے کیا فائدہ جب تجھے اتنا بڑا جال نظر نہیں آیا۔‘‘
پاکستان کی اکژیت کی رائے میں مشرف کے جانے کے بعد اب ملک میں بہتری آنے کی موہوم امید روشنی میں بدل گئی ہے۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔اب حکمران اتحاد اور خصوصاً آصف علی زرداری کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے۔حکمران اتحادمیں یہ بھی طے پایا تھا کہ ’’صدر کے جانے کے 72گھنٹوں بعد تمام معزول ججز بحال ہو جائیں گے۔‘‘یہ کالم لکھنے تک 48گھنٹوں سے زائد وقت گذر چکا ہے۔مگر ابھی تک ججز کی بحالی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔یہ بات علم میں آئی ہے کہ دو روز بعد یعنی جمعتہ المبارک کے روز حکمران اتحاد کا اجلاس ہو رہا ہے۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ ججز کی فوری بحالی میں تاخیر پر (ن)لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے اتحاد سے نکل جانے کی دھمکی دی ہے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیرٗمین آصف علی زرداری نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔اس کے ساتھ ہی میاں نواز شریف کو انھوں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری
سے ابھی ،یاپھر بحال ہونے کے چند دنوں بعد استعفیٰ لینے کا ٹاسک دیا ہے۔ جناب عبد الحمید ڈوگر کے آئندہ ارادے کے بارے میں تو مجھے علم نہ ہے مگر افتخار محمد چودھری نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نہ تو اب استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی بحال ہونے کے بعد ان کا ایسا کوئی پروگرام ہے۔آصف علی زرداری کو شائد معزول چیف جسٹس سے این آر او کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں،اسی لئے وہ ان کی بحالی کے issueپرقدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔حالانکہ ڈیل کارنیگی کے مطابق کچھ خوف صرف خوف کی حد تک ہی محدود ہوتے ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ کچھ اور ہی منظر پیش کر رہا ہے۔زرداری صاحب نے پہلے تو صدر کے لیے قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا ،اور اپنی بہن فریال تالپور کے علاوہ آفتاب شعبان میرانی کا نام تجویز کیا۔ادھر مسلم لیگ(ن) کی طرف سے بھی عہدہٗ صدارت کے لئے چند نام دیئے گئے،چناچہ موقع کی مناسبت سے آصف علی زرداری نے معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کو صدر کے عہدے کی پیش کش کر دی۔بہتر ہوتا اگر زرداری صاحب ،میاں نواز شریف کی رائے کا احترام کرتے اور ملک کے صدر کا انتخاب بلوچستان میں سے کرتے۔کیونکہ اس عمل سے ہوسکتا ہے کہ بلوچستان کی رگ رگ میں پھیلی ہوئی احساسِ کمتری اور مایوسی میں خاطر خواہ کمی ہوتی۔بہر حال ابھی بھی وقت ہے فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے۔
صدر کا معاملہ باہمی اشتراکِ رائے سے طے ہونے کے بعدضرورت اس امر کی ہے کہ وعدے کے مطابق ججز کی بحالی،امن و امان کی صورتِ حال،لاء اینڈ آرڈر کی گھمبیر پریشانی۔مہنگائی کا عفریت،بے روزگاری جیسی بلائوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ملک کے قبائلی علاقوں میں پھیلی ہوئی خانہ جنگی دعوتِ فکر کے سامان مہیا کر رہی ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے بم دھماکے نے35زائد قیمتی جانیں نگل لیں۔حالیہ دھماکہ ملا کر 2002ء سے لے کر اب تک 99دھماکے ہو چکے ہیں۔2007ء اس حوالے سے سب سے بدقسمت سال رہا۔گذشتہ برس 50بم دھماکے ہوئے جس میں سینکڑوں سے زائد قیمتی جانیں پیوندِ خاک ہو گئیں۔میں نہیں جانتا کہ مسلمان ہو کر مسلمان کی جان لینے والے کس اسلام کے نام لیوا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔اسلام تو امن و آشتی کا دین ہے۔اور اگر اس کے ماننے والے ،اس کے پر چارک اس طرح کے فعل سر انجام دیں گے تویہ کسی طور بھی ہرگز ہرگز اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اس طرح کی انسان دشمن سرگرمیوں سے باقی دنیا میں اسلام کی نیک نامی نہیں بلکہ اس کی بدنامی ہو رہی ہے۔شائد اسی لئے مسلمانوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگ چکا ہے۔
بات کہاں کی کہاں نکل گئی۔وطنِ عزیز ابھی بھی کئی بحرانوں کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے،پھنسا ہو اہے۔اسے ان بحرانوں سے نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔اور یہ اسی صورت ممکن ہو سکے گا اگر ہماری صفوں میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی ہو گی۔حکمران اتحاد کے سربراہان جہاں تک ممکن ہو سکے ملک کے لئے لچک کا مظاہرہ کریں اور اپنی صفوں میں چھپے ہو ئے میر جعفروں اور میر صادقوں کو پہچانیں۔ملک کی خدمت کا موقع عبادت جان کر کریں۔اپنے غیر ملکی دشمنوں کو پہچانیں۔ان کے کسی جھانسے میں نہ آئیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ لاکھ پینترے بدلے۔بلکہ ایسا کریں گے،یہ وہی وقت ہوگا جب ان مکاریوں کو ذہن سے سمجھنا ہو گا۔وہ کیسے ممکن ہے ۔یہ’’کام کی بات ‘‘پڑھیں شائد آپ کو اس سے کوئی مدد مل سکے۔
کام کی بات
ایک گدھ اور چیل کی یاری ہو گئی۔ان کی آپس میں محبت اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ اردگرد کے جانور ان کی محبت سے جلنے لگے۔دونوں جہاں بھی جاتے ہر کوئی انھیں رشک بھری نظروں سے دیکھتا ،جنگل میں ہر جگہ ان کی ہی باتیں ہونا شروع ہوگئیں۔ایک دن دونوں کسی دوسرے علاقے میں سیر کے لئے چلے گئے۔دونوں کو ایک نسبتاً اونچی جگہ بے حد پسند آئی ۔اس لئے دونوں نے اس جگہ پر بیٹھ کر علاقے کا نظارہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔دونوں اردگرد کی باتیں کرنے لگے۔باتوں کے دوران گدھ نے چیل سے کہا۔’’دنیا میںمجھ سے زیادہ کسی کی نظر تیز نہیں ہوگی۔‘‘چیل نے سنا تو مصنوعی غصے سے بولی۔’’لگتا ہے کہ نئی آب و ہوا میں آکر تیرا دماغ چل گیا ہے۔‘‘گدھ نے کہا ’’میں تیری بات کا مطلب نہیں سمجھا۔۔؟‘‘چیل نے کہا ’’ناسمجھ،انجان میری بصارت تو دنیا بھر میں مشہور ہے۔مجھ سے تیز سنظر بھلا اور کس کی ہوسکتی ہے۔اللہ نے یہ اعزاز صرف مجھ کو ہی عطا کیا ہے۔‘‘گدھ اپنی بات پر اڑ گیا۔اور دوبارہ وہی بات زور دے کے بولا۔’’تجھے بہت غلط فہمی ہے۔اپنی اصلاح کر اور میری برتری تسلیم کرکہ میری نظر تجھ سے زیادہ تیز ہے۔‘‘چیل پھر تنک کر بولی۔’’اب تو مجھے واقعی پورا یقین ہو گیا ہے کہ تو ابنارمل ہے۔ تجھے ایسی ڈینگیں زیب نہیں دیتیں۔ مجھے تو یقین نہیں آتا کہ تیری نظر مجھ سے زیادہ تیز ہے،‘‘گدھ اترا کر بولا۔وہ دیکھ دور نیچے گندم کا دانہ پڑا ہوا ہے،وہ دانہ مجھے تو صاف دکھائی دے رہاہے ۔کیا وہ دانہ تجھے میری طرح دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ چیل بے بسی سے بولی مجھے وہ دانہ تو دکھائی نہیں دے رہا۔لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ کہ تو سچ کہہ رہا ہے۔‘‘؟گدھ نے جھنجلا کر کہا ’’یہ کون سا مشکل کام ہے میں ابھی جاتا ہوں اور وہ دانہ اٹھا کر لا تا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر وہ اپنی اڑان اور نظر کی تیزی کے گھمنڈ میں گندم کے دانے پر جھپٹا۔وہاں کسی شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔گدھ اسی میں پھنس کر رہ گیا۔اور اس کی ساری شیخی کرکری ہو گئی۔چیل نے غصے اور دکھ کے ملے جلے تاثر سے کہا۔’’بیوقوف گندم کے اس دانے کو دیکھنے سے کیا فائدہ جب تجھے اتنا بڑا جال نظر نہیں آیا۔‘‘
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 206