رپورٹس
کے مطابق موجودہ حکومت کے بر سراقتدار آنے سے پہلے ملک کے زرِ مبادلہ کے
ذخائر کوئی پندرہ ارب ڈالر سے زائد تھے جو اب کم ہو کر تقریباً دس ارب
ڈالر کے قریب رہ گئے ہیں، اور یہ بات جہاں تنزل کی نشاندہی کر رہی ہے وہاں
ان بے ضابطگیوں اور لا پرواہیوں کو بھی عریاں کر رہی ہے جن کی بابت مختلف
باتیں سینہ بہ سینہ اور اخبارات و میڈیا کی طرف سے عوام تک پہنچ رہیں تھیں
کہ کس طرح کہاں کہاں لوٹ مار ہو رہی ہے اور کس طرح عوام کے جسموں سے بزورِ
طاقت نچوڑے گئے ٹیکسز کی صورت میں سرمایہ کو اپنی ذاتوں کے لئے حلال کیا
جا رہا تھا۔ مورخہ17جون 2008ء کو ہونے والے اسمبلی اجلاس کے دوران مسلم لیگ (نواز گروپ) کے خواجہ محمد آصف نے فرمایا تھا کہ "اپوزیشن
لیڈر (چوہدری پرویز الہی) سات ارب روپے کی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں
میں ملوث ہیں، جنہوں نے رخ روشن کی تشہیر کے لئے اڑھائی ارب اشتہارات پر
خرچ کر دیئے جس میں سے پچاس کروڑ روپے اب بھی حکومت کے ذمہ واجب الادا
ہیں۔، ایک ارب سے جہاز خریدا گیا، جہاز کی پارکنگ پر 25کروڑ روپے خرچ کیے
گئے، 65کروڑ روپے سے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئیں،70کروڑ مونس الہی کے حلقے
میں خرچ کیے گئے، رنگ روڈ پر 25کروڑ خرچ کیے مگر رنگ روڈ کا ابھی تک کچھ
اتہ پتہ نہیں کہ یہ کب مکمل ہو گی۔ اپنے بیٹے کو نوازنے کے لئے
عشاریہ2فیصد پرڈیڑھ ارب کا قرضہ دلوایا، میٹرو سٹور کی تعمیر کیلئے100کنال
زمیں 26کروڑ میں بیچی دی گئی جس کی اُس وقت مالیت75سے80کروڑ تھی، اسی طرح
مورخہ17اپریل کی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق2007ء میں 560سیاستدانوں اور
صنعت کاروں کے22ارب سے زائد کے قرضے معاف کئے گئے جن میں چوہدری شجاعت
حسین کا بیٹا شافع حسین بھی شامل تھا جس کے ذمے پانچ کروڑ 95لاکھ سے زائد
کا قرضہ تھا، سابق اسپیکر اسمبلی الہی بخش سومرو کے بیٹے نصیر احمد کی سند
ھ فائن ٹیکسٹائل مل کے ذمے چار کروڑ 78لاکھ روپے تھے جو معاف کر دیے گئے
جبکہ بنکوں میں سے حبیب بنک نے سب سے زیادہ قرضے معاف عزیز سپننگ مل کے
معاف کئے جو86کروڑ49لاکھ روپے تھے، الائیڈ بنک نے سب سے زیادہ قرضے مست
قلند رکاٹن فیکٹری جس کے ذمے سترہ ارب ستر کروڑ بیس لاکھ روپے معاف کئے۔"
جن بااثر سیاست دانوں کے گذشتہ سال قرضے معاف ہوئے یہ وہ سیاستدان تھے جو
ابھی حال ہی میں(چند ماہ قبل تک) ہمارے حکمران تھے جن کی زبانیں اس بات کا
اظہار کرتے نہ تو تھکتی تھیں اور نہ خشک ہوتی تھیں کہ یہ لوگ ہمارے تمھارے
غم گسار یا ہمدرد ہیں دوسری طرف ان کی کوٹھیاں اور محل دیکھیں تو یہ کسی
اور ہی دنیا کا پتا دیتی ہیں، کل تک جو گھر اور کوٹھیاں چند مرلوں پر تھیں
آج وہ پھیل پھیل کر محل کہلانے لگی جس کی مثال ایک طرف ہمارے سامنے اگر
بے نظیر کا دوبئی میں محل ہے تو دوسری طرف پاکستان میں شریف بردران کی
رائے ونڈ کی رہائش گا ہ اور چوہدری برادران میں سے چوہدری شجاعت حسین کا
گجرات میں جو گھر ہے وہ اب ظہور الہی پیلس کہلانے لگا ہے، چوہدری پرویز
الہٰی کی گلبرگ میں بننے والی کوٹھی میں سارا ماربل اور دوسری فٹنگز
بیرونِ ملک سے آئی ہیں۔ماسوائے چند ایک کے سیاستدانوں کے جو جدی پشتی
جاگیردار اور وڈیرے تھے اور مال و دولت ان کے گھر کی لونڈی تھی، زیادہ تر
وہ لوگ ہیں جو ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہڑپ کرکے ما ل دار بن گئے ہیں
اور آج انہوں نے امیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے ناموں کے ساتھ کئی
لاحقے اور سابقے لگا لئے ہیں۔ اب جبکہ ملک کی معیشت اور سا لمیت
مجموعی طور پر خطرات میں گھری ہو ئی ہے،اس کو چاروں طرف سے طرح طرح کے
مسائل کا سامنا ہے اوراپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے دوسری طاقتوں اور
ملکوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑ رہے ہیںایسے میں وہ لوگ جو اپنے ذاتی
کاروباروں کیلئے قرضوں کی صورت میں لئے گئے مال کو معاف کروا نے میں لگے
ہوں کو کس طرح ملک و قوم کے ساتھ مخلص قرار دیا جا سکتا یا ان کو کس طرح
محب وطن قرار دیا جا سکتا ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ ہی کہا
تھا کہ" میری امت کا فتنہ مال ہے" اور ہم اب تک کی گذاری گئی پوری زنذگی
میں دیکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ مال و زرکی محبت میں اندھے ہو کر اپنے ہیملک
کو لوٹ رہے ہیں، اپنی ہی تجوریاں بھر رہے ہیں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں
ہے کہ ملک کی معیشت تباو و برباد ہو رہی یا اہلِ حکومت کو اپنے اخراجات
پورے کرنے کے لئے دوستوں اوربڑی طاقتوں کے آگے نہ صرف ہاتھ پھیلانے پر
مجبور ہیں بلکہ ان کی ہر جائز و ناجائز خواہش بھی پوری کرنے پر مجبور ہیں ۔
This entry was posted on 21-08-2008 16:08. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 174
Views: 174