گاندھی
جی کا جملہ ہے کہ تم جس چیز کی نصیحت دوسروں کو کرتے ہو پہلے اس پر خود
عمل کرو. امریکہ نے اسی کی دہائی میں اپنی حریف سپرپاور سویت روس کو
افغانستان کے بے اب و گیاہ پہاڑوں اور گھاٹیوں میں اسلامی رجال کاروں کے
ہاتھوں پاش پاش کروا کر اس عالم کی واحد عالمی طاقت کا کریڈٹ حاصل
کیا.سوویت یونین کی توڑ پھوڑ کے بعد وائٹ ہاوس کو امریکہ کی عسکری طاقت پر
بڑا غرور و تکبر ہوگیا.امریکہ کے عسکری تجزیہ نگاروں نے اپنی فوجوں کو
ناقابل تسخیر ثابت کرنے کے لئے ماضی کی عظیم طاقتوں کے مفروضے پیش کئے.کسی
نے امریکی افواج کو قیصر و کسری سے تشبہیہ دی تو کسی نے رومن دور کے فلسفے
پیش کئے.امریکی کونسل RELATION on foreignکے رکن میکس بوٹ نے تو اعداد و
شمار کی روشنی میں امریکہ کو ماضی کی سپر پاوروں برطانیہ روم اور فرانس سے
بھی زیادہ معتبر ثابت کرڈالا.امریکیوں کا دعوی ہے کہ انہیں دنیا کے ہر
کونے میں ہونے والی فوجی نقل و حمل کی پیشگی اطلاع ہوتی ہے.امریکہ کے فوجی
اور میزائل منٹوں میں دنیا کے ہر ملک میںدشمنوں کو نہ صرف تلاش کرسکتے ہیں
بلکہ وہ حملوں سے قبل ہی حملہ اوروں کو دبوچ لینے کی خوبیوں سے مالا مال
ہیں.امریکہ دنیا میں دفاعی امور پر خرچ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے.مسلم
دنیا کے ستاون ممالک مجموعی طور پر اتنے جنگی اخراجات نہیں کرتے جتنا
واشنگٹن کرتا ہے.امریکہ کے پاس پندرہ ہزار سے زائد جوہری بم ہیں جو دنیا
کو دس مرتبہ بھسم کرسکتے ہیں.امریکی اسلحہ سازوں نے ایسی تحیر انگیز جنگی
ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے جسکے متعلق پڑھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے
ہیں.امریکیوں نے دنیا کے کونے کونے میں ہزاروں فوجی اڈے قائم کئے ہوئے ہیں
جہاں قیامت سوز ہتھیاروں سے مسلح جہاز ہیلی کاپٹر اور میزائل الرٹ موجود
ہیں تاکہ وائٹ ہاوس میں بیٹھے فرعونوں کے ہلکے سے اشارے پر کسی بھی ملک یا
فوج پر شب خون مارا جائے. امریکہ کو ناقابل شکست تصور کرنے والے منصوبہ
بازووں اور تھنک ٹینکس کے کاریگروں کا غرور اس وقت مٹی مٹی ہوگیا جب انہیں
عراق و افغانستان میں امریکی فوجیوں کی دندان شکن شکست کے اسباب کا پتہ
چلا.اور انہوں نے تسلیم کیا کہ کسی بھی معرکہ ارائی میں سو فیصد کامیابی
کے لئے امریکی افواج پر یقین کامل نہیں کیا جاسکتا. عراق و افغانستان میں
نہتے و بے سائبان مجائدین نے خون ریز جنگی سازو سامان سے لیس گورے فوجیوں
کو اپنے عزم و جنون اور یقین خدا کے نظرئیی کی دیوانگی میں ڈوب کر ناکوں
چنے چبوادئیی .گورے و نازک اندام امریکی فوجی مجاہدین کا نام سن کر ہی دہل
جاتے ہیں.مجاہدین گوروں کے لئے ڈراونا خواب بن چکے.شائد اسی لئے خلیج
ٹائمز کی ایک رپورٹ میں امریکی فوجی ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ عراق سے
اٹھ ہزار امریکی فوجی میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرکے دوسرے ممالک میں
سیاسی پناہ حاصل کرچکے ہیں.دس ہزار کو نفسیاتی بیماریوں نے گھیر رکھا
ہے.پانچ سو سے ذائد فوجیوں نے مجاہدین کے ہاتھوں جہنم رسید ہونے کی بجائے
خود کشی کو سینے سے لگا کر موت کو گلے لگایا . انتہاپسندی و دہشت گردی کے
القابات سے شہرت حاصل کرنے والے جہادی مجاہدین نے کردار و عمل سے افلاکی
کونسل کے اس فلسفے کو درست ثابت کردیا ہے.جس کی رو سے حق و باطل کی لڑائی
میں فتح کا ہما حق پرستوں کے سروں پر بیٹھتا ہے.علاوہ ازیں مزاحمت کاروں
نے کائنات کی اس سب سے بڑی سچائی کو بھی حقیقت کے سانچے میں ڈھال دیا کہ
جہاد کو شکست دینا ناممکن ہے.صدر بش نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے
خلاف اپنی دہشت گردانہ و مشرقانہ جنگ میں کچھ اصول وضع کئے تھے کہ جنگ کو
دشمن پر پلٹ دو.مخالفین کے منصوبے تلپٹ کر رکھ دو اور بدترین واقعات کے
وقوع پزیر ہونے سے قبل ہی اس سے نبزدازما ہوجاو.لیکن سچ تو یہ ہے کہ بش کی
جارہانہ عسکری پالیسیوں کے سو فیصد کامیابی کے امکانات پانی کے ابال کی
طرح ریزہ ریزہ ہوگئے.کرنل اینڈریو بوسٹن یونیورسٹی میں تعلقات عامہ کے
پروفیسر اور معروف جنگی تجزیہ نگار ہیں .وہ ویت نام کی جنگ میں کرنل کی
حثیت سے شامل تھے یوں انکے تجزیات کو پینٹاگون میں حرف اخر کے طور پر
دیکھا جاتا ہے.اینڈرو ہیپسی نے اپنی تازہ ترین تصنیف میں عراق و افغانستان
میں امریکی افواج کی کارکردگی کا پول کھولتے ہوئے لکھا ہے.کہ وہ تمام دعوے
جو امریکہ کی افواج کو ناقابل شکست سمجھتے ہوئے کئے گئے وہ تمام گرم ہوا
کی طرح فضاوں میں تحلیل ہوگئے ہیں. دہشت گردی کے خلاف مغرب کی شروع کردہ
جنگ میں اگر کوئی ناقابل ترید نتیجہ سامنے ایا ہے تو وہ یہ ہے کہ امریکی
افواج کی کارکردگی کا معیار وہ نہیں جس کا اندازہ صدر بش نے جنگ شروع کرنے
سے پہلے لگایا تھا.امریکی ہتھیاروں کے ضمن میں وائٹ ہاوس کے بادشاہ نے جو
اندازہ قائم کیا تھا وہ بھی غلط ثابت ہوچکا.رازداری میں اصل نشانوں و
ٹھکانوں تک پہنچائے جانے والے امریکی ہتھیاروں اور دشمن کے مقابلے میں
ہزار گنا ذائد فوجی قوت رکھنے کے باوجود امریکی فوجی نہ تو ہر مرض کی دوا
ہیں اور نہ ہی فوجوں سے کسی مشن کی سوفیصد کامیابی کی امید رکھی جاسکتی
ہے.امریکی مصنف اینڈریوکی کتاب طاقت کے علاوہ اور اسکے باب end of amrica
exceptionls میں فاضل مصنف نے صاف صاف لکھ ڈالا کہ امریکہ عراق و
افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوا.جنگیں اداروں یا فوجوں
کے لئے اڈیٹر کا درجہ رکھتی ہیں.پروفیسر اینڈریو کا کہنا ہے کہ امریکی
فوجیں کسوٹی کے اس معیار پر پورا نہیں اترتیں. اینڈریو نے عراق و
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ناکامی و کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے
لکھتے ہیںthe main aim of american forces was to deliver a knockouT blow
leading to a quick deceisive economicaly politicaly meaning full
victory ہتھیاروں اور خوفناک جنگی اسلحہ سے کامیابی کے منصوبے اخذ کرنے
والے دن میں تارے دیکھتے ہیں.بڑی فوج تو وہ ہے جو اپنے مشن کو بروقت پورا
کرے.لیکن امریکی افواج نے عراق و افغانستان میں کوئی مشن بروقت پورا نہیں
کیا.جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ کامیابیوں کے لئے جذبوں
یقین کامل اور اعتماد لزم و ملزوم ہیں.نائن الیون کے بعد بش نے افغانستان
اور اسکے بعد کابل پر حملہ کرنے کا حکم جاری کیا.کم سے کم وقت میں اپنے
مشن کی تکمیل کو ماٹو بنایا گیا.لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والہ
برامد ہوا.اینڈریو کہتا ہے کہ دونوں جگہوں پر امریکی اور اتحادی ناکام
ہوئے.افغانستان پر حملے کا مقصد القائدہ کا خاتمہ تھا.امریکی فوجوں نے
طالبان کی حکومت تو تختہ مشق بنا دیا. لیکن وہ القاعدہ کی جڑیں کاٹنے میں
ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی.مصنف نے بیانگ دہل لکھا ہے کہ افغانستان کی جنگ
امریکہ کے لئے جہنم بن گئی.طالبان تحریک تیزی سے زور پکڑ رہی ہے.وہ تسلیم
کرتے ہیں کہ سات سال سے جاری اس جنگ کا کوئی اختتام نظر نہیں اتا.اینڈریو
نے عراق میں امریکی افواج کی مشکلات کا زکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ
نے انیس مارچ 2003 میں عراق پر حملہ کیا.امریکی صدر بش 9 اپریل کو
متکبرانہ انداز میں امریکی قوم کو بشارت دی.کہ عراق میں مشن مکمل ہوچکا
ہے.اور عنقریب امریکی فوجی واپس اجائیں گی.لیکن بعد کے واقعات سے بش کی
ٹرٹراہٹ مضحکہ خیز بن گئی.عراق میں امریکی افواج کے گرو جنرل ٹومی نے سقوط
بغداد کو تاریخ میں برق رفتاری سے مشن کی کامیاب تکمیل کو جنگوں کی تاریخ
میں عدیم النظیر قرار دینے کی لاف زنی کی.لیکن ایک سچائی تو یہ بھی ہے کہ
صدر بش اور استعماری گماشتوں نے نواپریل کو عراق میں جس جنگ کے خاتمے کا
اعلان کیا تھا وہ دراصل مزاحمت کاروں کا امریکی جنگ میں بے خطر اتش نمرود
میں کودنے کا اعلان تھا.افغانستان و عراق کے خلاف جہادیوں کی روز افزوں
بہادریوں کے پیش نظر امریکہ کے وزیردفاع نے کہا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف
جنگ کا دورانیہ طویل ہوگا.2004 میں پینٹا گون نے اپنی ایک رپورٹ میں اس
بات کو تسلیم کیا تھا کہ مزاحمت کاروں کو امریکہ کے استعماری نظریات سے چڑ
ہے.امریکہ کے معتبر اخبار نے اس رپورٹ کو شائع کرتے ہوئے لکھا تھا.کہ
مسلمانوں کو ہماری ازادیوں سے کوئی علاقہ نہیں اور نہ ہی وہ ہماری ازادی
سے خائف ہیں.بلکہ جہادی ہماری خارجہ پالیسیوں کے ناقد ہیں.اسرائیل کی بے
جا حمایت اور فلسطینیوں کو دیوار سے لگانے کے امریکی عمل نے مسلمانوں کے
دلوں میں امریکہ کی مخالفت کا اتش فشاں دھکا رکھا ہے.اس پر مستزاد یہ کہ
جہادی مسلم ریاستوں میں غاصب بن کر حکمرانی کرنے والے مسلم حکمرانوں کی
امرانہ پالیسیوں کی سپورٹ کرنے پر بھی واشنگٹن سے بروفراختہ ہیں.اینڈریو
ایسے صاف گو دانشوروں اور مغربی میڈیا کے سقراطوں و بقراطوں نے بھی اپنی
تحریروں مذاکروں تجزیوں اور قیافیوں میںدہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو
لاحاصل قرار دیا ہے.یہ تو تھے امریکہ کے مصنفین کے حقائق نامے.لیکن ایک
اظہر من التمش حقیقت تو یہ بھی ہے کہ امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کی
نگہبانی کے لئے خود سر مجاہدین کو کچلنا اور پوری امہ کو اپنا غلام بنانے
کے درپے ہے.اسرائیل امریکہ کا بغل بچہ ہے جو مڈل ایسٹ میں امریکی مفادات
کا سب سے بڑا رکھوالہ ہے.وائٹ ہاوس اسرائیل کو خلیج کا چوہدری بنانا چاہتا
ہے.اس پر طرہ یہ کہ امریکہ مشرق وسطی کے معدنی وسائل کو ہڑپ کرنے کے لئے
عراق و افغانستان میں جنگی کھیل کھیل رہا ہے.سوشلزم کے انہدام کے بعد
امریکی تھنک ٹینکس نے اسلام کو یہودی و نصاری اور امریکہ کے لئے سب سے بڑا
خطرہ سمجھا گیا. اسلامی قوتوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے امریکہ نے نائن
الیون کا خودساختہ شعبدہ جمایا اور پھر دہشت گردی کو ختم کرنے کے بہانے
دور حاظرہ کے جابر ترین فرعون نے بغداد و کابل پر بارود کی بارش کردی.مسلم
حکمران بھی امریکہ کی ظالمانہ جنگ میں وائٹ ہاوس کی پشت پناہی کررہے
ہیں.لیکن اللہ کا نام لیکر دنیا کی ہر بڑی قوت سے ٹکرا جانیوالے مجاہدوں
نے جارح افواج کے خلاف گوریلہ کاروائی شروع کردی. جس کی شدت میں روز بروز
اضافہ ہورہا ہے .جہادیوں نے اللہ کی نصرت پر یقین کامل رکھنے کی بدولت
عراق و افغانستان میں قابض فوجوں کے دانت کٹھے کردئیی.امریکہ عراق و
افغانستان کے بعد ایران پر جوہری طاقت کی الزام تراشیاں کرکے تہران کے
ایٹمی پروگرام کو تہس نہس کرنے کے بہانے ڈھونڈھ رہا ہے.لیکن قرائن سے صاف
نظر ارہا ہے کہ گورے فوجیوں کی جو درگت کابل کے پہاڑوں اور بغداد کے
صحراوں میں بن رہی ہے.اسکے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ ایران
پر جنگ مسلط کرنے کی حماقت نہیں کرے گا.امریکہ اور اسکے فرعون صفت حکمران
بش ہر وقت دہشت گردی کی راگنی بجاتا رہتا ہے.لیکن سچ تو یہ ہے کہ امریکہ
ہی دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے.جس کی فوجوں کو دونوں ملکوں میں ایک زلت
امیز شکست کا سامنا ہے.دہشت گردی ہی انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے.امریکہ
دنیا کا امن بحال کروانا چاہتا ہے تو اسے خود گاندھی جی کے جملے ( تم جس
نصیحت کا پرچار کرتے ہو اس پر تمھیں بھی عمل کرنا چاہیی)کی روشنی میں پہلے
خود دہشت گردانہ کردار سے تہی دست ہونا پڑے گا.جس روز امریکہ نے گاندھی جی
کے فلسفے کی پیروی شروع کردی تو پوری زمین امن و بھائے چارے کی اماجگاہ بن
جائے گی.ورنہ سب کچھ بیکار ہے.
This entry was posted on 21-08-2008 16:05. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 178
Views: 178