Nov
22
2008
Today

Who is Better Politician...
Attock
9°C
آو کچھ سوچیں ذرا PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
آو مواخذہ موا خذہ کھلیں یا پھر سیا ست سیاست کھلیں ،کوئی اور کھیل تو اب قوم کے پاس رہ نہیں گیا ، قوم کا اجتماعی مزاج بھی کچھ ایسا ہی بن چکا ہے کہ یہ بھی اب قومی سیاسی دنگلکی تماشائی بن کر رہ گئی ہے ،لوگوں کے گھروں میں فاقے لڈیاں ڈال رہے ہیں مگر صدر استفعی دے گا یا نہیں پر شرطیں عروج پر ہیں ،قدرت جب کسی قوم سے ناراض ہوتی ہے تو اس قوم سے عقل چھین لیتی ہے ایسی قوم پھر اپنا برا بھلا سوچنے سے بھی عاری ہو جاتی ہے قدرت کی نارضگی کا اس سے بھی پتہ چلتی ہے کہ ایسی قوم رزق کے سر چشموں کے ہوتے ہوے بھی بھوکوں مر رہی ہوتی ہے چور بازاری، دھوکہ دہی ایسی قوم کی معاشرتی "قدریں" بن جاتی ہیںاور وہ اس پر بھی اترا رہی ہوتی ہے اور ایسے اپنی خوبی سمجھ رہی ہوتی ہے قوموں کی صف میں ہم کہاں کھڑے ہیں اس پر سوچنے کی ہم نے کبھی زحمت ہی گوارہ نہیں کی قدرت نے بڑے واضع الفاظ میں کہا کہ حیات نو کی بقا اس کے غور فکر کرنے کے عمل میں مضمر ہے ،قدرت کا فرمان ہم کس طرح پورا کر رہے ہیں یہ کوئی اب ڈھکی چپھی بات نہیں رہی اس ملک میں جو کچھ اور جس طرح سے ہو رہا ہے یہ فطرت کے مطابق ہی ہو رہا ہے اس لئے اسے منطقی انجام تک پہنچنا ہے ۔بیس کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں انسان کتنے ہیں یہ ڈھونڈنا پڑے گا ۔
کیا یہ زندہ حقیقت نہیں ہے کہ انرجی قدرت کی ایک صفت ہے اور ہم اس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں انرجی کے ذرائع میں تو ہم نے کوئی اضافہ برسوں سے نہیں کیا جو ہیں انہیں بچانے کی بھی کوئی تدبیر نہیں کر رہے اور ملک بھی اندھیرے میں ڈوب رہا ہے اور عوام بھی ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے ،وہ جو ارباب بست کشاد ہیں جو اس دنیا میں ہمارے خدا وندگان ہیں اور جنہیں عوام نے اپنا نجات دھندہ ایک بار پھر سمجھ کر ایوان بالا میں پہنچنے میں اپنے ووٹوں کے زریعے مدد دی وہ بجائے اس کے کہ ہمارے مسائل حل کرتے ہمیں اندھیروں سے باہر نکالتے کرنٹ لگی بجلی کو کنٹرول کرتء آ ٹا جو اب عطر کے بھاوء بک رہا ہے گھی سے ہنڈیا نہیں پکتی ہمارے سفر کا ذریعہ پٹرول بھی ہماری دسترس سے دور ہوتا جارہا ،اس جیسے مسائل کے ساتھ جڑے اور دیگر مسائل کو حل کرتے یہ تو ان سے ہوا نہ بلکہ مسائل میں اور اضافہ کر دیا گیا ہے ، بھوک ،افلاس اور بیماریوں سے تنگ آے ہوے خود کشیاں کرنے والوں کی تعداد ابھی تو صرف پندرہ بیس روزانہ ہے لیکن ھالات جس نہج پر لے جاے جا رہے ہیں امید کی جا سکتی کہ ان کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا اس طرف توجہ نہ موجودہ حاکموں کی ہے اور نہ اس پہلے والوں نے سوچا تھا اور اب بھی سوچا نہیں جارہا البتہ اقتدار کے مکمل حصول کی خاطر ایک نئی جنگ کا آغاز حکمران اتحاد نے صدرمشرف کیخلاف مواخذے کی تحریک پیش کرکے کر دیا ہے ۔
جب ہماری عبادت گاہیں درسگاہیں ' گلیاں ، بازار،میدان ، بیٹھکیں اور چوک کسی قسم کے لسانی ، علاقائی اور مذہبی تعصب سے پاک تھے، اور جب سے یہ جنس نایاب ہوئی ہے تب سے ہماری شناخت ہماری بقا ،عزت نفس اور خوشحالی کا سوال سرخ ڑالہ باری کی زد میں ہے۔ ایک عجیب سی اجنبیت ، ایک عجیب ساخوف اورعجیب سا با نجھ پن ہے کہ جس کا ہمیں ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے تدارک کیلئے ہمارے پاس ''وقت '' نہیں یا شاید وقت نکالنا ہی نہیں چاہتے۔
جس کو بھی دیکھو وہ وہ اس ملک سے کو چ کرجانے کی باتیں کرتا دکھائی دیتا ہے ، وجہ ؟صرف یہی کہ ہمارے دلوں میں یہ احساس گھر کر چکا ہے کہ ہم متحد نہیں رہ سکتے اور نہ یہاں امن وامان قائم ہو سکتا ہے ، یہ وقت محض کنویں کا پانی بدلنے کا نہیں بلکہ کنویں کو بند کر کے نیا کنواں کھودنے کا ہے کیونکہ پانی نکالنے سے ہم بہت آگے جا چکے ہیں ۔ کنواں بند کرنا کیوں ضروری کیونکہ یہ کنواں تعصب کی وہ عینک ہے کہ جس کے تحت ہم نے دوسروں سے انکی مذہبی آزادی چھین لی ہے۔ جہاں ہم پہلے ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹاکرتے تھے اب اسکی جگہ ہم نے ایک دوسرے کے خلاف '' کفر کے فتوے '' بانٹنے شروع کردئیے ہیں۔ یہی سوچ یہی رویہ ہی کہ جسکی بیخ کنی کئے بغیر ہمارے کنویں کا پانی پاک وصاف نہیں ہو سکتا۔
یہ تعصب ہمارے اندر کی وہ خبا ثتیںہیں کہ جن سے نظریں چرا کر ہم حقوق کے دائمی لیکن اپنے ذمے فرائض کے اشتہاری بن چکے ہیں اور وہ لوگ بھی کہ جو کبھی پہاڑوں سے اتر کر ہمارے بازاروں و چوراہوں پر پھل و خشک میوہ جات لایا کرتے تھے لیکن آج ان کی نئی نسل ہمیں ''بارود '' بھیج رہی ہے آج ہم نے احترام آدمیت کے شرف اور اسکی عظمت کو شعیہ سنی ، دیوبندی بریلوی ، جٹ پٹھان کی پر کارسے کاٹنا شروع کررکھا ہے حالا نکہ انسان تو صرف انسان ہی ہوتا ہے اور بنا کسی جرم و گنا ہ کے اسکی جان کا ضیاع، کائنات کا سب سے بڑا خسارہ ٹھہرا۔
حیر ت کی بات ہے کہ جبیہاں شرح تعلیم واجبی سی تھی تو اس وقت جیو اور جینے دو کا اصول پوری شدت سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔ اب جبکہ اینٹ اٹھائو تو نیچے سے سینکڑوں پوسٹ گریجویٹ' ماسٹرز ڈگری ہولڈرز اور درجنوں پی ایچ ڈی نکل آتے ہیں۔ ایسے میں ہم خونخوار جانور بن چکے ہیں۔ ان حالات میں آدمی کی جلد سے چیتے کی کھال زیادہ نرم اور حسین اور بھیڑئیے کے پنجے آدمی کے دندان تبسم سے زیادہ نیک دکھائی دیتے ہیں۔ کیسی افتاد آن پڑی ہے کہ درندوں کے بھٹ اور سانپوں کے جنگلوں میں تو امن و راحت ہے مگر ہمارے گھر ،بازاراور بستیاں راحت کی سانس اور امن کی خوشبو سے خالی ہوتی جارہی ہیں۔ کہا جاتا ہے شیر خونخوار اور سانپ زہر یلا ہے مگر دوسروں کیلئے ،لیکن یہاں انسان دنیا کی اعلیٰ ترین مخلوق ہونے کے باوجود خود اپنے ہم جنسو ں کا خون بہارہا ہے اور اپنوںہی کیلئے درندہ بن چکا ہے
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے آپ سے لڑرہے ہیں ، خدا وند کریم سے لڑرہے ہیں ؟ یقین نہیں آتا کہ جو ملک دوسروں کیلئے غلہ فراہم کرتا تھا آج اس کے باسی روٹی کے ایک ٹکڑئے کے لئے لڑتے دکھائی دے رہے ہیں یہاں دنیا بھر سے لوگ سیاحت کے لئے آیا کرتے تھے اور ہماری محبتوں کی داستانیں اپنے وطن جا کر سنایا کرتے تھے وہ لوگ آج ہم سے خوفزدہ ہیں اور اپنے ملکوں میں داخلے کے ہمارے راستے بند کر رہے ہیں ۔



20-08-2008 18:01 Zameer Afaqi
This entry was posted on 20-08-2008 18:01. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 163    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >