| قیدی نمبر چھ سو پچاس |
|
|
|
یہاں قیدی نمبر چھ سو پچاس کی روح کو زخمی کردینے والی چیخیں زندان میں گونجنا شروع ہوئی وہاں دوسرے قیدیوں نے اپنے کانوں میں ُاُنگلیاں گھسا دیں ۔ قید کا تشدد انہیں پھر بھی برداشت تھا ۔ مگر یہ چیخیں ان کے جسموں میں سوئیاں بن پر پیوست ہوجاتیںتھیں۔
ان کے قید خانے قیدی نمبر چھ سو پچاس کے زندان سے کافی فاصلے پر تھے ۔ لیکن چیخیں اتنی بلند ہوتی تھیں کہ فاصلے سمٹ کراور سماعتیں لرز کر رہ جاتیں ۔ جب چیخیں دم توڑتی اور تکلیف دہ سسکیوں میں بدل جاتیں تو ان کے دل موم بن کر پگھل جاتے اور وہ یہ سوچتے کہ تشدد کی وہ کون سی سلیب ہے جس پر روزانہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کولٹکایا جاتا ہوگا ۔ وہ جتنا بد ترین تشدد کا تصور کرتے ان کا گمان نفی میں سر ہلادیتا اور آخر کار ایک روح فرساخیال ان کے دماغ میں سر سراتا اور شرم سے ان کی ٹھوڈیاں ان کے سینوں سے لگ جاتیں ۔
اور یہ بے ساختہ دعا کرتے ۔ یا رب ! یا رہائی یا موت ۔ ذلت کی قید سے مو ت بھلی ۔
بھاری بھرگم بوٹوں کی آوازیں تیز ہوئی اور آہستہ آہستہ مندھم ۔ وہ جا چکے تھے اور چیخیں تھم چکیں تھے ۔ قیدی نمبر چھ سو پچاس نے اپنے زخمی پیر کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر سیدھا کیا اور اپنے وجود کو سیمیٹنے کی ناکام کوشش کی ۔ لیکن وجود تھا کہ سمٹنے کا نام نہ لے رہا تھا ۔ کیسے سمٹتا کہ اس وجود پرہر نوع کے تشددکی انسان تو کیا درندوں تک کو شرمادینے والی تمام کہانیاں ثبت تھیں۔ ایسی کہانیاں جو بتاتی تھی کے جسم پر عصمت کی کھال کو کیسے نوچا جاتا ہے پھر کیسے اُسے لقمہ بنانے کے لیے بھمبھوڑا جاتا ہے ۔ اُف خدایا ۔ کوئی درندہ یہاں ہوتا تو اس درندگی پر نادم ہو کر خودکشی کرلیتا ۔
قیدی نمبر چھ سو پچاس نے اک آہ بھرکر اپنی آنکھیں موند لیں ۔ اپنے قصور کے ساتھ اپنی شناخت یاد کرنے کی کوشش کی لیکن شاید جسم کے ساتھ زہن بھی توازن کھو بیٹھا تھا ۔ اُسے بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک قیدی ہے ۔ جسکا کا جسم جسکا وجود ظلم و تشدد کی ایک تجربہ گاہ ہے اور بس ۔
وہ فقط قیدی نمبر چھ سو پچاس ہے ۔
سنڈے ایکسپریس کی رپورٹر یوآن ریڈلی کا یہ ایک خطرناک فیصلہ تھا ۔ لیکن اُس نے بی بی سی کے رپورٹر جان سیمپسن بننے کا فیصلہ کیا جو بغیر قانونی دستاویزات کے کئی بار بارڈر عبور کرچکا تھا ۔ سنڈے ایکسپریس نے اُسے اس ایڈوینچر سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اُسکے لیے انٹری ویزا کا انتظام کرنے سے معزرت کرلی ۔ لیکن یوآن ریڈلی پروہاں جانے کا بھوت سوار ہوچکا تھا ۔ اُسکے کئی احباب اُسے سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے ۔افغانستان کوئی پیرس نہیں جہاں گھوتے پھرتے تم اپنا سفر نامہ لکھ لوگی ۔ یہاں طالبان کی حکومت ہے جو عورتوں پر بڑے جابر ہیں۔ ریڈلی پر ان باتوں کا کچھ اثر نہ ہوا ۔ اور آخر کار وہ افغانستان جاپہنچی ۔
اُسکے دوستوں اور اخبار کے خدشات درست ثابت ہوئے اور ایک دن اخبار نے سرخی لگائی کہ یوآن ریڈلی کو طالبان نے گرفتار کرلیا ۔
لمبی لمبی داڑھی والے سر پر پگڑی پہنے اورکاندھوں پر کلاشنکوف سجائے جوانوں میں گھر ی ہوئی یوآن ریڈلی بہت پریشان تھی ۔ اُس کے گمان میں بھی نہ تھا کے برقع پہننے کے باوجودوہ اس طرح پکڑی جائے گی ۔
اب وہ منتظر تھی کہ کب اُسکی موت کا لمحہ قریب آتا ہے ۔ کب ملا عمر اُسکے موت کے پروانے پر دستخط کرتا ہے اور یہ کلاشنکوف بردار جوان اپنی کلاشنکوفیں اُ س پر خالی کر دیتے ہیں۔
لیکن اُسکی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔ طالبان اُس سے نہایت احترام سے پیش آئے اوراُسکی توقع کے بر عکس جیل کے بجائے طالبان نے ایک صاف ستھرے کمرہ اُسکے حوالے کردیا اور اُسے وہاں سے باہر نکلنے سے سختی سے منع کردیا۔ انہوں نے اُسے ہاتھ بھی نہ لگایا تھا ۔
وہ سوچنے لگی کہ یہ طالبان ہی ہیں یا کوئی اور ۔
اسے وہاں تین وقت اعلی قسم کا کھانا ملتا اورسوال پوچھنے والے اُس سے نہایت حسن اخلاق سے پیش آتے رہے ۔
یونہی اُسکی قید کے دن آسانی سے گزرتے رہے ۔
طالبان کے حسن اخلاق نے اُسے محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ وہ یرغمال ہے بلکہ وہ و ہاں خود کو مہمان سمجھنے لگی ۔ اس مہمان نوازی میں اُس نے گیارہ دن گزارلیے ۔ اب اُسے یقن ہوچکا تھا کہ اُسکی جان اور عزت محفوظ ہے ۔ گیارہ دنوں میں اُسکے حوالے سے تفتیش مکمل کرلینے کے بعد مطمین ہو کر طالبان نے اُسے چھوڑ دیا ۔
لیکن یہ گیارہ دن اُسکی زندگی کے ۳۳ سالوں پر غالب آگئے اور وطن واپس پہنچنے کے بعد بھی وہ طالبان کے حسن اخلاق کے حصار میں رہی اور اس نے قرآن کا مطالعہ شروع کردیا ۔ دوران قید ایک طالب نے جب اس سے اسلام قبول کرنے کا کہا تھا تو اس نے انکار کردیا اور کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد قرآن کا مطالعہ کرے گی پھر اُس کے بعد فیصلہ کرگے گی ۔ وہ دو سال مسلسل قرآن کا مطالعہ کرتی رہی اور آخر کار ۲۰۰۳ میں سنڈے ایکسپریس کی چیف رپورٹر یو آن ریڈلی نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا ۔
جب اُس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو اُس وقت امریکہ افغانستان کے بعد عراق میں آگ اور بارود کا کھیل شروع کر چکا تھا ۔
ریڈلی کو سخت گیر طالبان کی وہ نرم قید یادتھی اسلیے اس نے اپنی تمام تر توجہ جنگی قیدخانوں پر مرکوز کردی کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے یہ عالمی علمبر دار جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں۔
ریڈلی نے عراق میں ابو غریب جیل اور امریکہ میں گوانتا ناموبے کو ایکسپوز کیا اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب کردیںساتھ ہی ساتھ وہ مسلسل بگرام ابو غریب اور گوانتا نا موبے میں موجود قیدیوں سے متعلق تحقیق کرتی رہی ۔اس تحقیق کے دوران جب اُس نے گوانتا ناموبے کی جیل سے رہا ہونے والے معظم بیگ کی کتاب ’’ دی اینمیمی کومبیٹینٹ ‘‘ پڑھی تو اس کا دماغ چکر اگیا ۔معظم بیگ نے بگرام کے قید خانے میں کسی عورت کی دلخراش چیخوں کا ذکر کیا تھا ۔ معظم بیگ کی یہ تحریر پڑھتے ہی اُسے گوانتا ناموبے سے۲۰۰۵ میں فرار ہونے والے چار عرب نوجوانوں کا ایک ٹی وی چینل کو دیا گیا انٹر ویو یاد آگیا ۔
’’ ہمیںگوانتا ناموبے سے پہلے افغانستان میں بگرام کے ایک قید خانے میں رکھا گیا ۔ جہاں ہمیں روزانہ رات کو کسی عورت کی چیخیں سنائی دیتیں تھی ۔ لیکن ہم اُسے کبھی دیکھ نہ سکے ‘‘۔
ریڈلی اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی ۔ بگرام ایک مردانہ قید خانہ ہے اور وہاں ایک عورت کی چیخیں۔ریڈلی کو تفکرنے آدبوچا ۔
وہ کافی دیر تک سوچتی رہی اور بگرام کے معلوم قیدیوں کی پروفائیلز کو اپنے دماغ میںٹٹولتی رہی ۔ یکایک اُسکے دماغ میں ایک زور دار دھماکا ہوا ۔ اُف خدایا ۔ قیدی نمبر چھ سو پچاس ۔ اُسکے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
۲۰۰۵ میں بگرام کے قیدیوں سے متعلق معلومات کے دوران اُسے معلوم ہوا تھا کہ اس قید خانے میں ایک ایسا قیدی بھی ہے جسکے نام سے کوئی واقف نہیں ۔ اُسے بس قیدی نمبر چھ سو پچاس کہا جاتا ہے ۔
ہو نہ ہو یہ عورت یقینا قیدی نمبر چھ سو پچاس ہی ہے ۔ ’’ریڈ لی نے اپنے خیال کی تصدیق کی ‘‘۔
قیدی نمبر چھ سو پچاس کی دلخراش چیخیں ریڈلی کے دماغ میں گونجنے لگیں ۔ وہ تصور کر سکتی تھی کہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کے ساتھ بگرام جیل میں کیا ہوا ہوگا ۔ اس تصور نے گویا ریڈلی کا سکون سلب کرلیا اور وہ سیدھا بگرام جیل جا پہنچی وہاں وہ کسی طرح یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ قیدی نمبر چھ سو پچاس ایک پاکستانی خاتون ہے ۔
یہ معلوم کرنے کے بعد وہ سیدھا پاکستان دوڑی اور یہاں آتے ہی اس نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔
ٓ’’آج میں مدد کے لیے چیخ رہی ہوں ۔ اپنے لیے نہیں بلکہ ایک پاکستانی عورت کے لیے ۔ جس سے کبھی نہ آپ ملے ہیں اور نہ ہی میں ۔
وہ افغانستان میں امریکی فوج کی قید میں ہے اور اُسے مدد کی ضرورت ہے ‘‘۔
یو آن ریڈلی کی یہ پریس کانفرنس جنگل کی آگ ثابت ہوئی ۔ اور ۳۰ مارچ ۲۰۰۳ کو پر اسرار طور پر غائب ہوجانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کی سرد فائل پھر سے گرم ہوگئی ۔اس سے قبل امریکی اور پاکستانی حکومت انکار کرتی رہی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کسی امریکی قید خانہ میں ہیں۔ لیکن ریڈلی کی پریس کانفرنس کے بعد اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ قیدی نمبر چھ سو پچاس ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکا کی میاچوسٹس یونیورسٹی سے نیورولوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ وہ یونیورسٹی کی ایک قابل ترین طالبہ اور دماغی سائینسدان تھی ۔یکایک ایک خیال نے انہیں ایک قابل ترین ڈاکٹر سے ایک حقیر قیدی بنادیا ۔ وطن واپسی کا خیال ۔ یہ خیال ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے ایک ایسا دروازہ ثابت ہوا ۔ جس سے نکل کر وہ بگر ام کے ایک قید خانے جاپہنچی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے قیدی نمبر چھ سو پچاس بن گئی ۔
یہ وہ دور تھا جب جنرل مشرف نے امریکی ایف بی آئی کو ڈالروں کے عوض پاکستانی شہری فروخت کرنے کا نفع بخش بزنس شروع کر رکھا تھا اور مذہبی وضع قطع رکھنے والی شہریوں پر القائدہ کا اسٹیکر لگاانہیں غائب کر کے بیچا جارہا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی صوم صلاۃ کی پابند ایک باحجاب خاتون تھی ۔ وہ پاکستان میں جنرل مشرف کے اس زاتی کارربار سے بے خبر تھی ۔ ایک شام وہ جب گلشن اقبال کراچی میں اپنی والدہ کے گھر سے پیلی ٹیکسی میںراولپنڈی کی فلائیٹ پکڑنے کے لیے اپنے تین بچوں کے ساتھ کراچی ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئی تو گلشن اقبال کے سفاری پارک کے سامنے پیٹرول پمپ پر ان کی ٹیکسی شاید پیٹرول بھروانے کے لیے رکی ۔ ٹیکسی کا رکنا تھا کہ سادہ لباس میں ملبوس پاکستانی اہلکاراور چند جینز اور لائیٹ بلو ہالف شرٹ پہنے ہوئے امریکی خفیہ ادارے کے اہلکار وں نے اپنی گاڑیاں ڈاکٹر عافیہ کی ٹیکسی کے ٹھیک آگے لگادی اور یہ تما م افراد اپنی گاڑیوں سے اُترے اور ڈاکٹر عافیہ کی ٹیکسی پر ٹوٹ پڑے ۔ ڈاکٹر عافیہ کو ان کے تین بچوں سمیت ایک بڑی گاڑی میں زبردستی بٹھایا ۔ اور زناٹے کے ساتھ وہ گاڑی وہاں سے غائب ہوگئی اور دوسری گاڑیوں بھی اُس کے پیچھے پیچھے نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔ اغوا ہ کی یہ کاروائی ۳۰ سیکنڈ میں مکمل ہوگئی ۔ اُس کے بعد ڈاکٹر عافیہ کا کچھ پتا نہ چل سکا نہ ہی ان کے تین بچوں کا ۔
ٓآج جب ٹھیک پانچ سال بعد بگرام کے زندان سے نکلتی ہوئی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخیں ہم تک پہنچ رہی ہیں اور مس یو آن ریڈلی ہمیں بتارہی ہیں کہ یہ قیدی نمبر چھ سو پچاس ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں ۔وہ ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں جنہیں ان کے تین بچوں سمیت امریکی
ایف بی ائی کو بیچ دیا گیا تھا ۔ تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں بگرام کے قیدیوں کی طرح اپنے کانوں میں اُنگلیاں گھسادوں ۔ یو آن ریڈلی کی یہ کانفنرنس سننا شاید میرے لیے بگرام کے قیدیوں کی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخوں کو سننے سے بھی ذیادہ مشکل ہے ۔
کیونکہ اس پریس کانفرنس کو سننے کے بعد مجھے اپنے ملک کی ہر باحجاب عورت قیدی نمبر چھ سو پچاس نظر آتی ہے ۔ اور میں شرم کے پسینے میں نہانے لگتا ہوں ۔ اور میں سوچتا ہوں ۔ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ہم زلت اور شرمندگی کا کون سا ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ہم نے اپنے ایٹمی سائینسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو مجرم بنا دیا ۔ ہم نے دماغی سائینسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قیدی نمبر چھ سو پچاس بنادیااور ان کی عصمت کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کا بھی سودا کردیا ۔
آج ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو نیویارک میں منتقل کیا جا چکا ہے ۔ یو آن ریڈلی اور ہیومن رائیٹس کی کوششوں کی وجہ سے اب انہیں طبی سہولتیں بھی مہیا ہوگئیں ہیں ۔ ان کے کیس کی سماعت امریکی عدالت میں جاری ہے ۔ انہیں وہاں سے انصاف ملتا ہے یا نہیں اس بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں ۔ لیکن مجھے اتناضرور معلوم ہے کہ ہمیں اب تاریخ سے انصاف ملنے والا نہیں ۔
تاریخ نے آج ہماری پوری قوم کے گلے میں برائے فروخت کا طوق ڈال دیا ہے ۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک ا حتجاجی پلے کارڈ گھوم رہا ہے ۔ جس پر لکھا ہے’’ اے مشرف تو نے اپنی قوم کی بیٹی کا سودا کتنے میں کیا ‘‘۔
میرا دل چاہتا ہے میں چیخ کر اس پلے کار ڈ کا جواب دوں ۔ صرف دو ملین ڈالر میں ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قیدی نمبر چھ سو پچاس بنانے کی قیمت صرف دو ملین ڈالر ۔
ان کے قید خانے قیدی نمبر چھ سو پچاس کے زندان سے کافی فاصلے پر تھے ۔ لیکن چیخیں اتنی بلند ہوتی تھیں کہ فاصلے سمٹ کراور سماعتیں لرز کر رہ جاتیں ۔ جب چیخیں دم توڑتی اور تکلیف دہ سسکیوں میں بدل جاتیں تو ان کے دل موم بن کر پگھل جاتے اور وہ یہ سوچتے کہ تشدد کی وہ کون سی سلیب ہے جس پر روزانہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کولٹکایا جاتا ہوگا ۔ وہ جتنا بد ترین تشدد کا تصور کرتے ان کا گمان نفی میں سر ہلادیتا اور آخر کار ایک روح فرساخیال ان کے دماغ میں سر سراتا اور شرم سے ان کی ٹھوڈیاں ان کے سینوں سے لگ جاتیں ۔
اور یہ بے ساختہ دعا کرتے ۔ یا رب ! یا رہائی یا موت ۔ ذلت کی قید سے مو ت بھلی ۔
بھاری بھرگم بوٹوں کی آوازیں تیز ہوئی اور آہستہ آہستہ مندھم ۔ وہ جا چکے تھے اور چیخیں تھم چکیں تھے ۔ قیدی نمبر چھ سو پچاس نے اپنے زخمی پیر کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر سیدھا کیا اور اپنے وجود کو سیمیٹنے کی ناکام کوشش کی ۔ لیکن وجود تھا کہ سمٹنے کا نام نہ لے رہا تھا ۔ کیسے سمٹتا کہ اس وجود پرہر نوع کے تشددکی انسان تو کیا درندوں تک کو شرمادینے والی تمام کہانیاں ثبت تھیں۔ ایسی کہانیاں جو بتاتی تھی کے جسم پر عصمت کی کھال کو کیسے نوچا جاتا ہے پھر کیسے اُسے لقمہ بنانے کے لیے بھمبھوڑا جاتا ہے ۔ اُف خدایا ۔ کوئی درندہ یہاں ہوتا تو اس درندگی پر نادم ہو کر خودکشی کرلیتا ۔
قیدی نمبر چھ سو پچاس نے اک آہ بھرکر اپنی آنکھیں موند لیں ۔ اپنے قصور کے ساتھ اپنی شناخت یاد کرنے کی کوشش کی لیکن شاید جسم کے ساتھ زہن بھی توازن کھو بیٹھا تھا ۔ اُسے بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک قیدی ہے ۔ جسکا کا جسم جسکا وجود ظلم و تشدد کی ایک تجربہ گاہ ہے اور بس ۔
وہ فقط قیدی نمبر چھ سو پچاس ہے ۔
سنڈے ایکسپریس کی رپورٹر یوآن ریڈلی کا یہ ایک خطرناک فیصلہ تھا ۔ لیکن اُس نے بی بی سی کے رپورٹر جان سیمپسن بننے کا فیصلہ کیا جو بغیر قانونی دستاویزات کے کئی بار بارڈر عبور کرچکا تھا ۔ سنڈے ایکسپریس نے اُسے اس ایڈوینچر سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اُسکے لیے انٹری ویزا کا انتظام کرنے سے معزرت کرلی ۔ لیکن یوآن ریڈلی پروہاں جانے کا بھوت سوار ہوچکا تھا ۔ اُسکے کئی احباب اُسے سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے ۔افغانستان کوئی پیرس نہیں جہاں گھوتے پھرتے تم اپنا سفر نامہ لکھ لوگی ۔ یہاں طالبان کی حکومت ہے جو عورتوں پر بڑے جابر ہیں۔ ریڈلی پر ان باتوں کا کچھ اثر نہ ہوا ۔ اور آخر کار وہ افغانستان جاپہنچی ۔
اُسکے دوستوں اور اخبار کے خدشات درست ثابت ہوئے اور ایک دن اخبار نے سرخی لگائی کہ یوآن ریڈلی کو طالبان نے گرفتار کرلیا ۔
لمبی لمبی داڑھی والے سر پر پگڑی پہنے اورکاندھوں پر کلاشنکوف سجائے جوانوں میں گھر ی ہوئی یوآن ریڈلی بہت پریشان تھی ۔ اُس کے گمان میں بھی نہ تھا کے برقع پہننے کے باوجودوہ اس طرح پکڑی جائے گی ۔
اب وہ منتظر تھی کہ کب اُسکی موت کا لمحہ قریب آتا ہے ۔ کب ملا عمر اُسکے موت کے پروانے پر دستخط کرتا ہے اور یہ کلاشنکوف بردار جوان اپنی کلاشنکوفیں اُ س پر خالی کر دیتے ہیں۔
لیکن اُسکی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔ طالبان اُس سے نہایت احترام سے پیش آئے اوراُسکی توقع کے بر عکس جیل کے بجائے طالبان نے ایک صاف ستھرے کمرہ اُسکے حوالے کردیا اور اُسے وہاں سے باہر نکلنے سے سختی سے منع کردیا۔ انہوں نے اُسے ہاتھ بھی نہ لگایا تھا ۔
وہ سوچنے لگی کہ یہ طالبان ہی ہیں یا کوئی اور ۔
اسے وہاں تین وقت اعلی قسم کا کھانا ملتا اورسوال پوچھنے والے اُس سے نہایت حسن اخلاق سے پیش آتے رہے ۔
یونہی اُسکی قید کے دن آسانی سے گزرتے رہے ۔
طالبان کے حسن اخلاق نے اُسے محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ وہ یرغمال ہے بلکہ وہ و ہاں خود کو مہمان سمجھنے لگی ۔ اس مہمان نوازی میں اُس نے گیارہ دن گزارلیے ۔ اب اُسے یقن ہوچکا تھا کہ اُسکی جان اور عزت محفوظ ہے ۔ گیارہ دنوں میں اُسکے حوالے سے تفتیش مکمل کرلینے کے بعد مطمین ہو کر طالبان نے اُسے چھوڑ دیا ۔
لیکن یہ گیارہ دن اُسکی زندگی کے ۳۳ سالوں پر غالب آگئے اور وطن واپس پہنچنے کے بعد بھی وہ طالبان کے حسن اخلاق کے حصار میں رہی اور اس نے قرآن کا مطالعہ شروع کردیا ۔ دوران قید ایک طالب نے جب اس سے اسلام قبول کرنے کا کہا تھا تو اس نے انکار کردیا اور کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد قرآن کا مطالعہ کرے گی پھر اُس کے بعد فیصلہ کرگے گی ۔ وہ دو سال مسلسل قرآن کا مطالعہ کرتی رہی اور آخر کار ۲۰۰۳ میں سنڈے ایکسپریس کی چیف رپورٹر یو آن ریڈلی نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا ۔
جب اُس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو اُس وقت امریکہ افغانستان کے بعد عراق میں آگ اور بارود کا کھیل شروع کر چکا تھا ۔
ریڈلی کو سخت گیر طالبان کی وہ نرم قید یادتھی اسلیے اس نے اپنی تمام تر توجہ جنگی قیدخانوں پر مرکوز کردی کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے یہ عالمی علمبر دار جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں۔
ریڈلی نے عراق میں ابو غریب جیل اور امریکہ میں گوانتا ناموبے کو ایکسپوز کیا اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب کردیںساتھ ہی ساتھ وہ مسلسل بگرام ابو غریب اور گوانتا نا موبے میں موجود قیدیوں سے متعلق تحقیق کرتی رہی ۔اس تحقیق کے دوران جب اُس نے گوانتا ناموبے کی جیل سے رہا ہونے والے معظم بیگ کی کتاب ’’ دی اینمیمی کومبیٹینٹ ‘‘ پڑھی تو اس کا دماغ چکر اگیا ۔معظم بیگ نے بگرام کے قید خانے میں کسی عورت کی دلخراش چیخوں کا ذکر کیا تھا ۔ معظم بیگ کی یہ تحریر پڑھتے ہی اُسے گوانتا ناموبے سے۲۰۰۵ میں فرار ہونے والے چار عرب نوجوانوں کا ایک ٹی وی چینل کو دیا گیا انٹر ویو یاد آگیا ۔
’’ ہمیںگوانتا ناموبے سے پہلے افغانستان میں بگرام کے ایک قید خانے میں رکھا گیا ۔ جہاں ہمیں روزانہ رات کو کسی عورت کی چیخیں سنائی دیتیں تھی ۔ لیکن ہم اُسے کبھی دیکھ نہ سکے ‘‘۔
ریڈلی اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی ۔ بگرام ایک مردانہ قید خانہ ہے اور وہاں ایک عورت کی چیخیں۔ریڈلی کو تفکرنے آدبوچا ۔
وہ کافی دیر تک سوچتی رہی اور بگرام کے معلوم قیدیوں کی پروفائیلز کو اپنے دماغ میںٹٹولتی رہی ۔ یکایک اُسکے دماغ میں ایک زور دار دھماکا ہوا ۔ اُف خدایا ۔ قیدی نمبر چھ سو پچاس ۔ اُسکے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
۲۰۰۵ میں بگرام کے قیدیوں سے متعلق معلومات کے دوران اُسے معلوم ہوا تھا کہ اس قید خانے میں ایک ایسا قیدی بھی ہے جسکے نام سے کوئی واقف نہیں ۔ اُسے بس قیدی نمبر چھ سو پچاس کہا جاتا ہے ۔
ہو نہ ہو یہ عورت یقینا قیدی نمبر چھ سو پچاس ہی ہے ۔ ’’ریڈ لی نے اپنے خیال کی تصدیق کی ‘‘۔
قیدی نمبر چھ سو پچاس کی دلخراش چیخیں ریڈلی کے دماغ میں گونجنے لگیں ۔ وہ تصور کر سکتی تھی کہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کے ساتھ بگرام جیل میں کیا ہوا ہوگا ۔ اس تصور نے گویا ریڈلی کا سکون سلب کرلیا اور وہ سیدھا بگرام جیل جا پہنچی وہاں وہ کسی طرح یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ قیدی نمبر چھ سو پچاس ایک پاکستانی خاتون ہے ۔
یہ معلوم کرنے کے بعد وہ سیدھا پاکستان دوڑی اور یہاں آتے ہی اس نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔
ٓ’’آج میں مدد کے لیے چیخ رہی ہوں ۔ اپنے لیے نہیں بلکہ ایک پاکستانی عورت کے لیے ۔ جس سے کبھی نہ آپ ملے ہیں اور نہ ہی میں ۔
وہ افغانستان میں امریکی فوج کی قید میں ہے اور اُسے مدد کی ضرورت ہے ‘‘۔
یو آن ریڈلی کی یہ پریس کانفرنس جنگل کی آگ ثابت ہوئی ۔ اور ۳۰ مارچ ۲۰۰۳ کو پر اسرار طور پر غائب ہوجانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کی سرد فائل پھر سے گرم ہوگئی ۔اس سے قبل امریکی اور پاکستانی حکومت انکار کرتی رہی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کسی امریکی قید خانہ میں ہیں۔ لیکن ریڈلی کی پریس کانفرنس کے بعد اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ قیدی نمبر چھ سو پچاس ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکا کی میاچوسٹس یونیورسٹی سے نیورولوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ وہ یونیورسٹی کی ایک قابل ترین طالبہ اور دماغی سائینسدان تھی ۔یکایک ایک خیال نے انہیں ایک قابل ترین ڈاکٹر سے ایک حقیر قیدی بنادیا ۔ وطن واپسی کا خیال ۔ یہ خیال ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے ایک ایسا دروازہ ثابت ہوا ۔ جس سے نکل کر وہ بگر ام کے ایک قید خانے جاپہنچی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے قیدی نمبر چھ سو پچاس بن گئی ۔
یہ وہ دور تھا جب جنرل مشرف نے امریکی ایف بی آئی کو ڈالروں کے عوض پاکستانی شہری فروخت کرنے کا نفع بخش بزنس شروع کر رکھا تھا اور مذہبی وضع قطع رکھنے والی شہریوں پر القائدہ کا اسٹیکر لگاانہیں غائب کر کے بیچا جارہا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی صوم صلاۃ کی پابند ایک باحجاب خاتون تھی ۔ وہ پاکستان میں جنرل مشرف کے اس زاتی کارربار سے بے خبر تھی ۔ ایک شام وہ جب گلشن اقبال کراچی میں اپنی والدہ کے گھر سے پیلی ٹیکسی میںراولپنڈی کی فلائیٹ پکڑنے کے لیے اپنے تین بچوں کے ساتھ کراچی ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئی تو گلشن اقبال کے سفاری پارک کے سامنے پیٹرول پمپ پر ان کی ٹیکسی شاید پیٹرول بھروانے کے لیے رکی ۔ ٹیکسی کا رکنا تھا کہ سادہ لباس میں ملبوس پاکستانی اہلکاراور چند جینز اور لائیٹ بلو ہالف شرٹ پہنے ہوئے امریکی خفیہ ادارے کے اہلکار وں نے اپنی گاڑیاں ڈاکٹر عافیہ کی ٹیکسی کے ٹھیک آگے لگادی اور یہ تما م افراد اپنی گاڑیوں سے اُترے اور ڈاکٹر عافیہ کی ٹیکسی پر ٹوٹ پڑے ۔ ڈاکٹر عافیہ کو ان کے تین بچوں سمیت ایک بڑی گاڑی میں زبردستی بٹھایا ۔ اور زناٹے کے ساتھ وہ گاڑی وہاں سے غائب ہوگئی اور دوسری گاڑیوں بھی اُس کے پیچھے پیچھے نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔ اغوا ہ کی یہ کاروائی ۳۰ سیکنڈ میں مکمل ہوگئی ۔ اُس کے بعد ڈاکٹر عافیہ کا کچھ پتا نہ چل سکا نہ ہی ان کے تین بچوں کا ۔
ٓآج جب ٹھیک پانچ سال بعد بگرام کے زندان سے نکلتی ہوئی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخیں ہم تک پہنچ رہی ہیں اور مس یو آن ریڈلی ہمیں بتارہی ہیں کہ یہ قیدی نمبر چھ سو پچاس ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں ۔وہ ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں جنہیں ان کے تین بچوں سمیت امریکی
ایف بی ائی کو بیچ دیا گیا تھا ۔ تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں بگرام کے قیدیوں کی طرح اپنے کانوں میں اُنگلیاں گھسادوں ۔ یو آن ریڈلی کی یہ کانفنرنس سننا شاید میرے لیے بگرام کے قیدیوں کی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخوں کو سننے سے بھی ذیادہ مشکل ہے ۔
کیونکہ اس پریس کانفرنس کو سننے کے بعد مجھے اپنے ملک کی ہر باحجاب عورت قیدی نمبر چھ سو پچاس نظر آتی ہے ۔ اور میں شرم کے پسینے میں نہانے لگتا ہوں ۔ اور میں سوچتا ہوں ۔ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ہم زلت اور شرمندگی کا کون سا ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ہم نے اپنے ایٹمی سائینسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو مجرم بنا دیا ۔ ہم نے دماغی سائینسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قیدی نمبر چھ سو پچاس بنادیااور ان کی عصمت کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کا بھی سودا کردیا ۔
آج ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو نیویارک میں منتقل کیا جا چکا ہے ۔ یو آن ریڈلی اور ہیومن رائیٹس کی کوششوں کی وجہ سے اب انہیں طبی سہولتیں بھی مہیا ہوگئیں ہیں ۔ ان کے کیس کی سماعت امریکی عدالت میں جاری ہے ۔ انہیں وہاں سے انصاف ملتا ہے یا نہیں اس بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں ۔ لیکن مجھے اتناضرور معلوم ہے کہ ہمیں اب تاریخ سے انصاف ملنے والا نہیں ۔
تاریخ نے آج ہماری پوری قوم کے گلے میں برائے فروخت کا طوق ڈال دیا ہے ۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک ا حتجاجی پلے کارڈ گھوم رہا ہے ۔ جس پر لکھا ہے’’ اے مشرف تو نے اپنی قوم کی بیٹی کا سودا کتنے میں کیا ‘‘۔
میرا دل چاہتا ہے میں چیخ کر اس پلے کار ڈ کا جواب دوں ۔ صرف دو ملین ڈالر میں ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قیدی نمبر چھ سو پچاس بنانے کی قیمت صرف دو ملین ڈالر ۔
Users' Comments (1) |
|
![]()
03-09-2008 07:26, , Guest great article |
||
|
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 184