Nov
22
2008
Today

Maj. Tahir Sadiq is ....
Attock
9°C
امن اور نوجوان PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
کرسچئین سٹڈی سنٹر راولپنڈی گزشتہ ایک عشرے سے ’’مذہبی اور سماجی ہم آہنگی‘‘ کے لئے کام کر رہا ہے۔اس ایک عشرے میں انہوں نے بے شمار کام کیا۔اسی کام کے تسلسل میں انہوں نے بارہ اور تیرہ اگست کو ایک نیشنل یوتھ اسمبلی کاانعقاد کیا۔جس مین چاروں صوبوں سے یوتھ اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ موضوع تھا،’’نوجوان اور امن کا کلچر‘‘۔بارہ اگست کو مجھے بھی یوتھ سے بات چیت کا اعزاز حاصل ہوا۔ مین نے اپنی گفتگو کے دوران عرض کی کہ امن کوئی تجرید نہیں۔بلکہ باقائدہ ایک جسم کا نام ہے۔جیسے انسانی جسم کو ہاتھ،پاؤں ،ناک ، آنکھیں ،کان اور دیگر انسانی اعضاء مل کر ایک صورت دیتے ہیں اسی طرح ’’امن‘‘ بھی اپنے اجزاء رکھتا ہے۔رواداری ،درگزر،برداشت، بھائی چارہ اور دوسروں کی خیر خواہی مل کر امن کی صورت بناتے ہیں۔آج اگر ہمیں امن کی صورت نظر نہیں آتی یا اسکے خدو خال دھندلے پڑ گئے ہیں تو اس کی اصل وجہ امن کے اعضاء یااجزاء ترکیبی کا مفقود ہونا ہے۔
گو کہ نیو ملینیم کے آغاز میں نئی صدی کو امن کی صدی قرار دیا گیا تھا مگر ہم نے گزشتہ نو سالوںمیں لاکھوں انسانوں کو ہلاک کیا اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کی بجائے میدان جنگ اور مقتل بنا دیا ہے۔اس وقت میڈل ایسٹ کی صورتحال تو نا گفتہ بہ ہے ہی مگر جنوبی اشیاء کو بھی اب جنگ کی تباہ کاری کی طرف دھکیلا جا رہاا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ جنوبی ایشیاء میں علیحدگی پسنداور شر پسند عناصر کو ریاستوں کے خلاف طاقت ور کیا جائے،اور اقوام کے مابین نفرتیں پیدا کر کے تضادات کو ابھار کر براہ راست تصادم کی فضا پیدا کی جائے۔لہذا اس کے لئے سب سے آسان اور سہل راستہ عوام الناس کے مذہبی جذبات کو بھڑکانا ہے، اور جنوبی ایشیاء میں اس کا مظاہرہ وقفے وقفے سے ہوتا رہتا ہے۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ اوپر بیان کردہ صورتحال درست ہے تو پھر سوال پیدا ہوتے ہیں کہ
[L:4 R:232]یہ صورتحال پیدا کیوں ہوئی۔۔۔؟
[L:4 R:232]نیز اس صورتحال کا حل کیا ہے۔۔۔؟
پہلے سوال کاجواب بڑا آسان ہے،استعماری قوتوں نے ہمارے معاشروں میں رواداری،درگزر،برداشت، بھائی چارے اور دوسروں کی خیر جیسے عناصر کو ختم کر دیا تا کہ معاشرہ کھوکھلا اور حیوانی ہو جائے۔انسان کی معراج تو یہی جذبات ہیں جنہیں ہم ’’آدمیت‘‘ یا ’’انسانیت‘‘ کہہ کر پکار سکتے ہیں۔لہذا ایک بات تو طے ہے کہ اس وقت جنوبی ایشیاء کے معاشروں میں سے سرعت سے یہ ’’آدمیت‘‘ یا ’’انسانیت‘‘ مفقود ہوتی جاتی ہیں جس کی وجہ سے باہم تصادم اور ٹکراؤ کی فضاء پیدا ہو گئی ہے اور امن دن بدن مرتا جا رہا ہے۔ایسا اس لئے بھی ہوا ہے کہ دو بنیادی اکائیاں جو رواداری ،درگزر،برداشت،بھائی چارے ور دوسروں کی خیر کو جنم دیتی ہیں ہم نے ان سے منہ موڑلیا۔پاکستان اور ہندوستان میں تو ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے ان دو اکائیوں یعنی ’’سیاسی عمل ‘‘ اور ’’کلچر‘‘کی بنیاد مذہب کو بنا دیا گیا ہے،اور یہی دو اکائیاں ہیںجو معاشروں کو باہم مربوط رکھتی ہیں اورٹوٹنے اور بکھرنے نہیں دیتیں،وہ اس لئے کہ ’’سیاسی عمل‘‘’’اجتماعیت ‘‘ پیدا کرتا ہے اور’’ اشتراک عمل‘‘ کی فضاء پیدا کرتا ہے۔ جس کی ایک مثال پاکستان کے قیام سے دی جا سکتی ہے۔جو کہ ایک سیاسی عمل اور ووٹ کی طاقت سے معرض وجود میں آیا۔اگر پنجاب اسمبلی پاکستان میں شامل نہ ہوتی تو ممکن ہے کہ پاکستان معرض وجود میں ہی نہ آتا اور پنجاب اسمبلی کی پاکستان میں شمولیت کو تین مسیحی ووٹوں نے(جن میں سے سپیکر پنجاب اسمبلی کا نتیجہ خیز ووٹ بھی شامل تھا جو کہ مسیحی تھا) نے یقینی بنایا۔پھر بہت سے سکھ،ہندو بھی پاکستان میں ہی رہے کیونکہ ان کے سیاسی اور اجتماعی مفادات کی بہتر صورت انہیں مسلم لیگ کے منشور میں ہی نظر آتی تھی۔انہیں غیر مسلم پاکستانیوں نے علاقائی اور قومی افق پر گراں قدر خدمات اور کارہائے نمایاں سر انجام دئے۔ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کو تو پاکستان کے غیر مسلم شہریوں نے غیر مشروط طور پر سپورٹ کیا۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا ختم کروانے کے لئے جن پانچ جیالوں نے خود سوزی کی ان میں سے چار جیالے مسیحی تھے۔جو صرف اور صرف ایک بات ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی عمل مذہب کی دیواریں گرا کر اجتماعیت اور اشتراک عمل پیدا کرتا ہے۔
دوسری اہم بات جو میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جہاں سیاسی عمل اجتماعیت پیدا کرتا ہے وہاں کلچر معاشرے کو باندھ کر رکھتا ہے،وہ اس لئے کہ کلچر کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہوتا۔جیسے شاعری،موسیقی،رقص،مصوری،زبان۔ان سب کا کوئی مذہب نہیں۔وہی راگ بھیرویں ہے جس میں قرآن پاک کی قراء ت بھی کی جاتی ہے اور بھجن بھی گائے جاتے ہیں ۔راگ وہی رہتا ہے ۔ گیدھا،لڈی،بھنگڑا جیسے رقص پنجاب میں بسنے والے سکھ،ہندو،مسیحی اور مسلمان بھی کرتے ہیں ۔رقص کسی مسلمان،ہندو،سکھ یا مسیحی کے کرنے سے کوئی مذہب نہیں اپنا لیتا۔ہیر ،مرزا کی وار،سیف الملوک،یا پھر بابا فرید اور دیگر صوفی شعراء کے کلام کو تمام پنجابی وہ چاہے مشرقی پنجاب (انڈین) یا پھر مغربی پنجاب(پاکستانی)سے ہوں،پڑھتے اور گاتے ہیں اور اپنی روح کی بالیدگی کاکام لیتے ہیں۔اسی طرح دوسرے صوبوں میں بسنے والے مختلف عقائد اور مزاہہب کے ماننے والے بھی اس صوبے کی ثقافت اور زبان کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔بات یہ ہے کہ اگرزبان اور زندگی میںرنگ بھرنے والے عمل اگر ایک ہوں تو تعلق مضبوط ہوتا ہے۔اور اس کا مظاہرہ ہم نے غیر منقسم ہندوستان میںدیکھا۔جب ایک ہی پنجاب تھا اور اس میںبسنے والے سکھ،مسلم ،ہندو اور مسیحی باہم شیروشکر ہو کر رہتے تھے۔مگر تقسیم ہند کے بعد ’’کمپارٹائزیشن‘‘ کا جو عمل پاکستان میںشروع ہوا اس نے معاشرتی اکائی کو بکھیر دیا۔پھر ہم نے 1985 میں ’’جداگانہ انتخابات ‘‘کا ڈول ڈال کر سیاست کی بنیاد مذہب کو بنا دیا۔ہم نے کلچر کی بنیاد بھی مذہب بنا لیا،جس سے معاشرتی اکائی بکھرتی گئی اور ’’امن‘‘ نا پید ہوتا گیا ۔طبقوں میں تصادم اور ٹکراؤ کی فضاء اتنی گہری ہو گئی کہ آج ہم امن کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کی عکاسی میں نے اس پنجابی نظم میں کرنے کی کوشش کی ہے
نظم
ونڈاں پاون والے ونڈاں پاؤندے نیں
ونڈاں پاؤندے تھکدے نئیں
قوماں ،نسلاں
ونڈاں دے کوہلو چ پا کے
گیڑدے رہندے
نت نویکلیاں ونڈاں کڈھ دے
خوشیاں دی ونڈ
غمیاں دی ونڈ
خواباں تے سدھراں دی ونڈ
وکھرو وکھرے مستقبل تے کل دی ونڈ
تہذیباں تے کلچر دی ونڈ
ماہئے،بولی ٹپے دی ونڈ
گدھے،جھمر،لڈی دی ونڈ
اکو گھر دے پتراں دی ونڈ
نانک دی ونڈ
بلھے تے باہو دی ونڈ
ایہہ تیری ایہہ میری دی ونڈ
دھرتی دی ونڈ
ماں دی ونڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیر اس ونڈ نوں مکھ بنا کے جنگاںکردے
لہو ونگاندے
اکو ماںدے ٹوٹے کر کے
اپنی اپنی ماں بچاندے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر ونڈاں پاون والے شاید بھل گئے نیں
پتر بھانویں ونڈے جاون
وکھ ہو جاون
ماں ہمیشہ ماں رہندی اے
پتراں دے لئے
چھاں رہندی اے
اس نظم میں جہاں جابر اور حکمران طبقوں اور استعماری قوتوں کی چال بازیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہیں اپنے جامع ورثے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو ہمیں جغرافیائی تقسیم کے باوجود اکٹھے کر سکتا ہے،یہ اس اعمل کی ایک حقیر سی کوشش ہے ،لیکن اپنے ’’جامع ورثے‘‘ کی طرف لوگوں کا رجوع کروانے اور انہیں اس سے جڑت پیدا کروانے کی کوششیں تب ہی ثمر بار ہو سکتی ہیں جب نوجوان آگے بڑھیں اور اس بات کا ادراک کریںکہ انہوں نے ’’جامع ورثے‘‘کی اہمیت اور روٹس کو اجاگر کرتے ہوئے مختلف عقائد اور رنگ و نسل کے لوگوں کو اکٹھے کرنا ہے۔کیونکہ ہمارا ’’آج‘‘ اور آنے والا’’کل‘‘ان نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔اور اس کی ایک عملی جھلک گزشتہ سال اگست کے مہینے میں دیکھنے میں آئی۔جب ’’زی چینل‘‘نے اپنے ایک پروگرام ’’سا،رے،گا،ما،پا‘‘ کے موسیقی کے ایک عالمی مقابلے کے پروگرام میں پاکستان اور ہندوستان کے یوم آزادی ایک ساتھ منائے۔دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ’’ پاکستان کے دشمن نمبر ایک ‘‘ بھارت کی سر زمین پر پاکستانی شرکاء نے پاکستانی ملی نغمے گائے،اور پورے ہندوستان نے یہ ملی نغمہ سنا۔
اے وطن پیارے وطن پاک وطن پاک وطن
اے میرے پیارے وطن
انڈین حاضرین پاکستانی جھنڈے لہرا رہے تھے۔اور یہ سب کلچرل عمل کے ذریعے ممکن ہو پایا۔مگر جو بات ہم بیان کرنا چاہتے ہیں،وہ اس پروگرام کے بعد نشر ہونے والا پروگرام تھا۔ہوا یہ کہ اس پروگرام میں حصہ لینے والے تینوں لڑکوں امانت،مسرت اور جنید کو اس ہفتے سب سے کم ووٹ پڑے ۔پروگرام کا فارمیت یہ تھا کہ تین ایسے گائیکوں کو جن کو سب سے کم ووٹ ملتے تھے،خطرے کے علاقے میںبھیج دیا جاتا تھا اور ان تینوں میں سے سب سے کم ووٹ لینے والا مقابلے سے باہر ہو جاتا تھا۔یہ بات پروگرام کے ججوں کے لئے خاصی حیران کن تھی۔پتہ چلا کہ کسی چینل اور اخبار نے یہ خبر اڑا دی ہے کہ پاکستانی لڑکوں نے انڈین قومی نغمے گانے سے انکار کر دیا اور اس بات کو لے کر پاکستانی لڑکوں کی کردار کشی کی گئی نتیجۃً پاکستانی لڑکے ’’ڈینجر زون‘‘ میںآ گئے،س بات اور حقیقت کے کھلتے ہی جو رقعت انگیز مناظر دیکھنے کو ملے وہ قابل دیدنی تھے۔ مقابلے میںشریک تمام لڑکے اور لڑکیاں زاروقطار رو رہے تھے۔کوئی نہیں چاہتا تھا کہ ان تینوں میں سے کوئی مقابلے سے باہر ہو،یہی حال حاضرین کا تھا۔ سب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ یہ پاکستان اور انڈین دوستی کو خراب کرنے کی سازش ہے۔لہذا مقابلے میں حصہ لینے اور حاضرین میں شامل نوجوانوں کے اصرار پر پروگرام کے منتطمین کو فارمیٹ بدلنا پڑا اور اس ہفتے کسی کو بھی مقابلے سے باہر نہ کیا گیا۔یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ مسرت اور جنید کے مقابلے سے باہر ہونے پرانکے مینٹل اور ساتھی بھی خاصے جذباتی ہوئے۔ایک دو ماہ کی رفاقت میں ان نوجوانوں نے موسیقی کے ذریعے جو رشتے بنائے وہ اٹوٹ ہو گئے۔سرحدیں مٹ گئیں اور دکھ اور خوشیاں سانجھی ہو گئیں۔دوستی،دوسروں کی خیر خواہی اور بھائی چارے کی بنیاد پڑ گئی۔جو کہ امن کی طرف پہلا قدم تھا۔
ایسے ہی رشتوں کی بنیاد ڈالنے والا دوسرا اہم میدان کھیل کا میدان ہے جس میںنوجوان کھیلاڑیوں نے ہر دور میں سرحدوں کی دیواریں گرا کر دوستی کے لازوال رشتے بنائے۔محبتیں بانٹیں۔لہذا ایک بات تو طے ہے کہ اگر ہمیں معاشروں اور ریاستوں کے مابین تصادم اور تناؤ کو ختم کرنا ہے تو ہمیں کھیل اور ثقافت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہو گا۔دوئم اس عمل کے لئے نوجوانوں کو سامنے آنا ہو گا۔کیونکہ پرانی پیڑھی تو اسی فلسفے پر عمل پیرا ہے جو قیام پاکستان کے وقت’’ مہاجر بیوروکریسی‘‘ نے دیا تھااور دو نعرے ایجاد کئے تھے۔
[L:4 R:232]پاکستان کا دشمن نمبر ایک انڈیا
[L:4 R:232]پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک کشمیر
ان دو نعروں نے صرف اور صرف تصادم اور نفرت کو ہی جنم دیا۔دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو ملیا میٹ کرنے کے خواب دیکھتے رہے،اور ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے جنگی اخراجات بڑھاتے رہے۔لہذا علاقے میں غربت،افلاس اور پسماندگی نے گھر کر لیا۔اب بھی نوائے وقت گروپ کے مالک مجید نظامی کشمیر کے مسئلے پر ایٹمی جنگ کروانا چاہتے ہیں۔یہی حل انڈین انتہا پسندوں شیو سینا کا ہے ۔لہذا پرانی پیڑھی تو ’’طرزکہن‘‘ پر اڑی ہوئی ہے،اور مذہبی منافرت کو بنیاد بنا کر جی رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل آگے بڑھے اور اپنے ’’جامع ورثے ‘‘ کو ہتھیار بنا کردوستی اور بھائی چارے کے نئے رشتوں کی بنیاد ڈالے۔یہاں ایک بات کی وضاحت بڑی ضروری ہے کہ’’ جامع ورثے‘‘ سے مراد ’’ثقافتی ورثہ‘‘ ہے نہ کہ تہذیبی یا تاریخی ورثہ۔یہ وضاحت اس لئے بھی ضروری ہے کہ بسا اوقات ان تاریخی اور تہذیبی ورثوں کو بھی ’’جامع ورثہ‘‘ سمجھ لیا جاتا ہے۔جو کہ اپنی منزل سے بھٹکنے والی بات ہے۔وہ اس لئے کہ بابری مسجد یا بادشاہی مسجد سے کسی انتہا پسند ہندو کو کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی انہوں نے تو بابری مسجد گرا دی تھی۔اسی طرح پاکستان میں بسنے والے انتہا پسند مسلمانوں کو ’’جین مندرلاہور‘‘ سے کوئی واسطہ نہ تھا اگر یہ جامع ورثہ ہوتا تو لوگ اسے گراتے نہیں۔اس لئے ہمارا ماننا ہے کہ’’ جامع ورثے‘‘سے مراد وہ ثقافتی ورثہ ہے جو انڈیا،پاکستان،نیپال اور بنگلہ دیش میں ایک دوسرے کو ثقافتی بندھنوں میںباندھتا ہے۔یہ تاریخی عمارتیں بے شک کوئی رشتے اسطوار نہیں کرتیں مگر شاعری، موسیقی ،رقص اور زبان رشتے بناتے ہیں۔لوگوں کو قریب لاتے ہیں انسانوں میں گداز اور ملائمیت پیدا کرتے ہیں۔مکالمے کو رواج دیتے ہیںاور ’’مشترکات‘‘ پیدا کرتے ہیں جو تصادم اور ٹکراؤ کا خاتمہ کرتے ہیں۔لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنے ’’ثقافتی اثاثوں‘‘ کو اب عام کریںاور ان کو استعمال میں لا کر نئے رشتوں کی بنیاد رکھیںاور یہ کام صرف اور صرف نوجوان نسل ہی کر سکتی ہے۔





19-08-2008 19:13 Haroon Adeem
This entry was posted on 19-08-2008 19:13. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 195    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >