Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
21°C
عافیہ کی میل اور ہمارا استدلال PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
عافیہ تم پاکستان کی بیٹی ہو.مسلم امہ کی شان اور پہچان ہو.تمھاری رہائی کے لئے قائم کی جانیوالے کمیٹی اور اہل پاکستان نامی میل ایڈریس کے زریعے خاکسار کو پیغام موصول ہوا.جس کے متن میں شامل تھا.غلاموں کو عید آزادی مبارک..میری پیاری بہن مجھے تمھارے الفاظ سے کوئی تکلیف و درد نہیں ہوا.کیونکہ ہم واقعی غلام ہیں.جس ملک کے بادشاہ اور پردھان منتری بھی آذادی سے حکومت کرنے کے قابل نہ ہوں تو بھلا وہاں کے باسی کس طرح ازاد ہو سکتے ہیں.اور شائد تمھیں یہ معلوم نہیں.کہ جو غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں.وہ انتہائی ڈرپوک اور بزدل ہوتے ہیں.جو اپنی حمیت اور حرمت کا سرعام جنازہ نکالتے ہیں. ایسے کم بخت ایک طرف غیر ملکی طاقتوں کی قدم بوسی فرماتے ہیں تو دوسری طرف اپنے مسلمان ہونے کے دعوے زور شور سے کرتے ہیں.ایک طرف پاکستان نام کا لفظ استعمال کرنے سے قبل اسلامی جمہوریہ کا ڈنکا ضرور بجاتے ہیں.لیکن دوسری طرف شیطانوں کی جنگوں میں اپنی بہو بیٹیوں کو غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں فروخت کرکے خدائی فرامین کے لباس کو تار تار کرکے شرک کرتے ہیں .اور پھر ایسی بد فطرتی پر گردنیں اکڑاتے پھرتے ہیں. .کیا یہ ہماری بدقسمتی نہیں.کہ ہم جن کو اپنا خلیفہ وقت چنتے ہیں.وہ ایک فون کال پر یہود و نصاری کے قدموں میںخزاں رسیدہ پتوں کی طرح ڈھیر ہوجاتا ہے .دشمنان دین اور حاسدین پاکستان کی جنبش ابرو پر اپنی فوجوں کو اپنے ہم وطنوں و اسلامی بھائیوں پر اپنی فوجیں چھوڑنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے..تاکہ نپولین بوناپارٹ کے اس قول کی ترجمانی ہوتی رہے.بوناپارٹ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے پر چھوڑ دو.تاکہ یہ بھوکے شیروں کی طرح ایک دوسرے کو بھنبھوڑیں اور ایک دوسرے کو فنا کرڈالیں.عافیہ خدا تعالی تم پر رحمتوں کی یلغار.کرامات کی بھرمار اور اپنی نوازشات کی برسات کرے.خلیل جبران کا قول ہے کہ تم ظالموں اور ستم گروں کی مدد نہ کرو ورنہ روز جزا خدا کی عدالت متں تمھاری باز پرس ہوگی. بے نظیر بھٹو نے اپنی گرانقدر خدمات اور قوم کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے کے عوض پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے قلوب میں ہمیشہ کے لئے بسیرا کر لیا ہے.تم بھی اس بے حس اور لاغر قوم کے دلوں کی مہارانی بن چکی ہو. یاد رکھو..تمھیں اغیار کے سپرد کرنے اور اسلامی تعلیمات کی بجائے روشن خیالی کی پرورش کرنے والے عنقریب ذلت کے ٹوکرے اٹھانے والے ہیں.انکی واپسی کی راہیں مسدود ہوچکیں.ظلم کی شب سیاہ جلد ہی ختم ہونے والی ہے.یہود و نصاری اور عالمی جلادوں کی رکھیل کا کردار نبھانے والے جلد ہی احتساب کا نشانہ بننے والے ہیں.پورا عالم انکی دنیاوی زلالت کے سین بھی دیکھے گا.اور بروز قیامت بھی انکے چہروں پر تاریکی ناچ رہی ہوگی.آئے دختر پاکستان.مسلم امہ تمھاری جانبازی اور سرفروشی پر تو ناز کر سکتی ہے ..لیکن تم ہم پر فخر کرنے کی زحمت مت کرنا.کیونکہ جو غلام ہوتے ہیں.انکے ہاتھوں میں بے حسی کی ہتھکڑیاں اور پیروں میں بے حمیتی کی بیڑیاں ہوتی ہیں. وہ کبھی تمھاری طرح ہیرو بننے کے قابل نہیں رہتے.اگر ہم ازاد ہوتے یا ہم معراج انسانیت کی بلند قامت چوٹیوں پر فروزاں ہوتے. اگر ہماری رگوں میں دین محمدی کی عقیدت خون بنکر دوڑتی.اور ہم اپنے کردار و گفتار سے بھی مسلمانوں کے اوصاف سے مشابہت رکھتے . تو ہماری زبان سے آج سامراجیوں کے خلاف شعلے ابل رہے ہوتے. اور سولہ کروڑ کا اژدھام سڑکوں پر تمھاری رہائی کے لئے اودھم مچائے ہوئے ہوتا.لیکن یہاں تو اطراف و جوانب میں نفسا نفسی.لوٹ مار اور حیوانیت کا میلہ جما ہوا ہے.قانون کے محافظ ہی سامراجیوں کی دلالی میں جتے ہوئے ہیں. پانچ سال تین ماہ کا طویل عرصہ ہوگیا.لیکن کسی نے تمھارے اوپر مسلط کی جانیوالی سامراجیت کے خلاف کوئی توانا اواز نہ اٹھائی.عورتوں کے حقوق کے لئے میڈیا میں شائیں شائیں کرنے والی فتنہ سامان این جی اوز نے تمھارا زکر کرنا مناسب سمجھا.اور نہ ہی طالبان کی خون الود قبائیں.اور قران کریم ہاتھوں میں تھام کر ووٹ ایٹھنے والی ایم ایم اے کو خوف خدا لا حق ہوا.جب تمھیں کراچی سے اغوا کیا گیا تو اس وقت نام نہاد جمہوری حکومت قائم تھی.ظلم تو یہ ہے کہ ق لیگ کے ترجمان نے دنیاوی رکھ رکھاو کے لئے امریکیوں کے سامنے کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی اس دور کی اپوزیشن نے سامراج کو کھری کھری سنائیں.عنقریب تختہ مشق بننے والے صدر صاحب جو اپنی قوم کو مکے دکھاتے اور سینہ پھلاتے.اپنے بگ باس قاتل اعظم بش کو کہہ سکتے تھے.کہ میری ایک بیٹی گوانتاناموبے میں بند ہے.اسے رہا کردو.لیکن میں معافی چاہتا ہوں کہ وہ ایسا کرنے کے قابل نہ تھے.کیونکہ وہ بھی تو غلام ہے.وائٹ ہاوس کا.مجھے ایک بے بس بے حمیت پاکستانی کی حثیت سے تمھاری رجال کاری پر ناز ہے.کیونکہ تم نے دنیا کی اکیلی سپرپاور کو ناکوں چنے چبوادئیی.وہ تم سے خائف اور خوف زدہ تھے.تو تمھیں ڈالروں کے عوض خریدا. امریکہ کے پاس جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے کہ وہ دنیا کو کئی بار بھسم کرسکتے ہیں.مسلم دنیا کے ستاون اسلامی ملکوں کی جی ڈی پر امریکہ اکیلا بھاری ہے.لیکن دنیا کا واحد خود ساختہ دیوتا اور اسکے جوہری ہتھیار موت برسانے والے ہزاروں طیارے.میزائل سب کچھ تمھاری بہادری کے سامنے تہہ خاک ہوگئے.جب تمھیں عدالت میں پیش کیا جارہا تھا.تو تمھاری حالت پر مجھ ایسے پتھر دل کو رونا یاد اگیا.لیکن چونکہ میں غلام ہوں بے حس ہوں بے حمیت ہوں کہ میں ترمھارے لئے نہ تو لب کشائی کرسکتا ہوں.نہ ہی سڑک پر ماتم کرنے کا ملکہ رکھتا ہوں اور نہ ہی میں اپنے ارد گرد پائے جانیوالے انسان نما جانوروں کو تمھاری روداد سنا کر کسی جلوس یا جلسے کا انتظام کرسکتا ہوں.میری عزیز من عافیہ ابھی تمھیں کئی اور ظلم سہنے ہیں.ہوسکتا ہے کہ دور حاظرہ کا فرعون تمھیں جسمانی طور پر ہی ختم کردے.کیونکہ غلاموں کی بستی میں جو لوگ ازادیوں کے گیت گاتے ہیں.وہ تمھاری طرح ہر دور کے امروں کی انکھوں میں کٹھکتے ہیں.اور پھر صلیب کی شان و شوکت بھی ایسے حریت پسندوں کے خون سے سجتی ہے.لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ تاریخ کے سنہری ابواب میں صرف موسی کا نام قلمبند ہوتا ہے.جبکہ فرعون ہمیشہ زلت و خواری اور گمنامی کے تاریک طاقوں میں بند ہوجاتے ہیں.تاریخ نے انکی قسمت میں صرف اور صرف لعنت و ملامت ہی لکھی ہے.جبکہ ہر دور کا حریت پسند چاہے وہ منڈیلہ ہو یا پھر بھٹو وہ جی گویراہو یا صلاح الدین ایوبی وہ تاقیامت تاریخ اور عوام کے دلوں میں زندہ و تابندہ رہتے ہیں.اپنے اپکو دنیا کی مہذب ترین قوم سمجھنے والے امریکیوں کی چار فٹ کالی ہیبت ناک کوٹھڑی کی تنہائیوں میں کبھی یہ خیال بھولے سے اپنے من میں نہ لاناکہ مسلم ملکوں جو دراصل جنگل ہیں سے کوئی سرپھرا تمھاری دستگیری کے لئے اگے بڑھے گا. میری بہن کوئی نہیں آئے گا.کیونکہ یہاں کی مٹی بانجھ ہوچکی ہے.اب یہاں نہ تو کوئی حجاج بن یوسف ہے؛جس نے سندھ کی ایک بیٹی کے خط پر محمد بن قاسم کو راجہ داہر کا سر قلم کرنے کا حکم دے ڈالا تھا.اور اب نہ تو ہماری مائیں صلاح الدین ایوبی ایسے لازوال جرنیل پیدا کرتی ہیں.جس نے ایک نان مسلم عورت کی دہائی پر سپینی فوجوں کو اپنے گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روند ڈالا تھا.لیکن یہ بھی مت سمجھنا کہ ہم تمھیںفراموش کردیں گے.ہم غلام سہی لیکن ہمارے قلوب میں احسا س زیاں کی وہ رمق باقی ہے.جو ہمیں مسلم نشاۃ ثانیہ کی یاد دلاتی ہے.تمھاری داستان الم نے ہمارے پتھر نما ضمیروں میں ارتعاش پیدا کردیا ہے.ہوسکتا ہے.اس ارتعاش سے کسی روز حریت کی کوئی چنگاری بھڑک اٹھے.اور ایسا اتش فشاں بن جائے جو یہود و نصاری کے ہر کاروں اور بادشاہوں کے فرعونی محلات کو بھسم کرڈالے. پاکستان نامی جنگل کے سولہ کروڑ غلاموں کی طرف سے صرف نیک خواہشات کا سندیسہ.خدا تمھیں اپنے حفظ وامان میں رکھے.اتنا کہنے کے علاوہ ہم کچھ نہیں کرسکتے.کیونکہ ہمیں تسلیم ہے.کہ ہم غلام ہیں.اور غلام خواہ صدر ہو.یا وزیر افسر ہو یا مزدور کبھی بھی اواز حق اٹھانے کی جرات نہیں کرتا.عافیہ تم ہیرو ہو اور تا قیامت ہیرو ہی رہو گی.کیا تم جانتی ہو.ہیروز ہیروز ہی ہوتے ہیں.انکی شخصیت کے گرد تقدس کا ایک نورانی سا ہالا ہمہ وقت موجود رہتا ہے.وہ جو بھی ہوں جیسے بھی ہوں لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں.انکے خوابوں میں لو دیتے ہیں.انکے فکر و احساس میں گلاب کے پھولوں کی طرح مہکتے ہیں.ان سے محبت قوموں کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتی ہے.بلاشبہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں.اور انکی زندگی لغزشوں سے پاک نہیں ہوتی. جو کارنامہ انہیں ہیروز کے منصب پر فائز کرتا ہے.وہ انہیں فرشتہ نہیں بنادیتا.ہیروز کی کوہ قامت شخصیات کے مقابلے میں چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں بے معنہ ہوکر رہ جاتی ہیں.زندہ قومیں اپنے ہیروز کو مشعل راہ بناتی ہیں.لیکن عافیہ بی بی تمھے معلوم ہے.کہ ہم قوم پاکستان ہیروکش قوم ہیں.اگر ہم ہیروز سے عقیدت و الفت رکھنے والے ہوتے.تو بانی پاکستان قائد اعظم کراچی کی سڑکوں پر سسک سسک کر نہ مرجاتا.قائد ملت راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنوں کی بربریت کی بھینٹ نہ چڑھتا.اگر ہم ازاد ہوتے.تو پاکستان کے ماتھے پر ایٹمی قوت کا تاج سجانے والا بھٹو کبھی پھانسی کے تختے پر بلک بلک کر نہ مرتا. بے نظیر بھٹو انتہاپسندوں کی بہیمت کا نشانہ نہ بنتی.اور ایٹمی قوت کا خالق آج تمھاری طرح قید و بند میں نہ گل سڑ رہا ہوتا.لیکن حالات کچھ بھی ہوں.مجھے تسلیم ہے.کہ ہم غلام ہیں.اور غلاموں کو ازادی کی مبارکبادیں نہیں بھیجی جاتیں.email''''''raufamir.kotaddu[L: 64]gmail.com fone no'''03336002902



19-08-2008 19:10 Rauf Amir
This entry was posted on 19-08-2008 19:10. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 181    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >