Nov
22
2008
Today

Do you like new look of ATTOCK news website?
Attock
9°C
مشرف جنگی مجرم یا محب وطن PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
ہورس کا قول ہے.کہ حالات انسان کو جنم نہیں دیتے بلکہ آدمی حالات کو جنم دیتا ہے.جناب صدر صاحب پاکستان میں باد مخالف کا زور ٹوٹتا نظر نہیں اتا.بلکہ قرائن سے یہ سچائی زندہ جاوید حقیقت بن کر سیاسی افق پر جھلملا رہی ہے.کہ آپ عالم میں اپنے اپکو مضبوط اعصاب و اہنی عزائم کا مرد قلندر ثابت کرنے کے لئے چاہے رنگا رنگ بیانات کے میزائل چلاتے اور ایوان صدر میں کچھ عرصہ اور فروکش رہنے کے لئے تجاویز کا جنگل اگاتے رہیں.آپ اپنے اقتدار کی نیا کو بیچ منجھدھار سے نکالنے کے لئے شعبدہ بازیوں کے جتنے مظاہر دھکائیں.آپ مخلوط اتحاد سے مقابلہ کرنے کی جتنی ہاہاکار مچاتے رہیں.چاہے آپ فطرت یزداں کے حضور امداد و استعانت کی دعائیں کرتے رہیں یا میڈیا کے زریعے نت نئی جگالی کرکے عوام کی ہمدردی سمیٹنے کی فنکاری کریں یا ہدایت کاری.لیکن موجودہ حالات میں اپکے لئے سچ کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں.اور سچ یہ ہے.کہ آپکے چہرے سے شکست خوردگی حقائق کے ساتھ برس رہی ہے.آپ کے اعصاب ٹوٹ چکے ہیں.آپ کے چل چلاو کا وقت انتہائی قریب ہے.اور یاد رکھیں.کہ وہ دن قرب ہے جب آپکے جابرانہ و امرانہ اقتدار کی کشتی ہمیشہ کے لئے ڈوبنے والی ہے.اور اپکے وحشت انگیز دور اقتدار کا سورج بھی غروب ہونے والا ہے.کیونکہ موجودہ حالات و واقعات کو جنم دینے کی زمہ داری بھی آپکی ہے. ویسے قوت کے بل بوتے پر اقتدار کے سنگھاسن پر مسلط ہونے والے بادشاہ جتنی رام کہانیاں الاپتے رہیں.لیکن سچ تو یہ ہے کہ ایسے پرنس شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر اپنے عکس سے گھبراتے ہیں.شائد مورخین نے آپکے متعلق کہا تھا کہ حالات انسان کو جنم نہیں دیتے بلکہ انسان اچھے یا برے حالات کو جنم دینے کا زمہ دار ہے.ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیاں آپکے خلاف عدم اعتماد کی قراردادیں بھاری اکثریت سے پاس کرچکی ہیں.انہی اسمبلیوں نے اپکے صدارتی الیکشن میں اپکو جتوانے میں روز روشن کردار ادا کیا تھا.قومی اسمبلی اپکی گوشمالی کے لئے یک جان ہوچکی ہے.ہوسکتا ہے کہ آپ کے قریبی ساتھیوں طارق عزیز اور ق سے تعلق رکھنے والے لیلائے اقتدار کے مجنوں آپ کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیں یاآپکے قصر ابیض کا راوی اپکو یہ بے پرکی سنائے کہ قوم ابھی بھی اپکی محبتوں کے گن گارہی ہے.اور اپ ایسی بودی دلیلوں اور تاویلوں کو سچ مان کر مقابلے کے سر تال بجاتے رہیں.بہترہوگا.کہ آپ اپنے کسی ممدوح یا مرید کو زمینی حقائق کا پتہ چلانے کی زمہ داری سونپ دیں تو وہ اپکو یہی بشارت دے گا.کہ خیبر سے کراچی تک اور میانوالی سے لیکر وادی سوات تک ہر شخص ایک ہی نظرئیی کا پرچارک دکھائی دیتا ہے.کہ گو مشرف گو.اپ یہ تو بتائیی.کہ آپ کا اس دنیا میں ظہور دیگر انسانوں کی طرح ہوا یا پھر اپکا تعلق کبیرالمخلوقات کی نسل سے ہے یا کسی خلائی مخلوق وبالائی طبقے سے ہے.کہ آپ سچ کی بجائے کذب بیانیوں اور حقیقت کی بجائے خوش فہمی اور کج روی کے رسیا بن گئے ہیں.محسوس نہ کریں تو خاکسار کو یہ کہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی.کہ آپ سٹھیا گئے ہیں.یا پھر اتاولے پن نامی بیماری نے اپکو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے.کہ آپ صوبائی اسمبلیوں سے لیکر عوامی صفوں اور اقتدار کی راہداریوں سے لیکر افواج پاکستان کے اشیانوں تک نفرت کی نشانی بن چکے ہیں.اگر رب تعالی نے اپکو بصیرت سے نوازا ہوتا تو اپ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بیانگ دہل ایوان صدر کو خالی کرکے کسی روشن خیال ملک کی ازاد فضاوں میں سانسیں لے رہے ہوتے.چرچل نے جرنیلوں کے متعلق کہا تھا.کہ جنگ جیسے معاملات جرنیلوں کے سپرد نہیں کئے جاسکتے.اور نہ ہی انہیں سوئیلن معاملات کی گمبھیرتا کی سلجن کی زمہ داری دی جاسکتی ہے.کیونکہ افراتفری اور سیاسی انتشار سے مسلح حالات کو سلجھانے کے لئے جس فراست و اگہی کی ضرورت درکار ہوتی ہے.جرنیل ان زریں اوصاف سے تہی داماں ہوتے ہیں.عنقریب مواخذے کی صلیب پر چڑھ کر قصہ پارینہ بن جانے والے عزیزی صدر صاحب اور اپ کے گنے چنے ہواریوں کو تاریخ کا سبق یاد رکھنا چاہیی.کہ امریت کا سورج ہر دور کے بارہ اکتوبر کو طلوع سے بڑے جاہ وجلال سے ہوتا ہے.لیکن حقیقت تو یہ ہے.کہ فرعونیت چاہے دور موسی والی ہو یا پھر اس کا تعلق چنگیزی نسل سے ہو.امر چاہے.نمرود کا بھائی ہو یا جنرل ضیاالحق کا بگ باس.ڈکٹیٹرشپ کا سورج ہمیشہ تاریکیوں کی گھاٹیوں میں ایسا غروب ہوتا ہے.کہ پھر روز جزا سے پہلے کبھی طلوع ہونے کی سکت نہیں رکھتا.جناب والا آپ کو شائد یہ زعم ہو کہ پاک فوج اپکے تخت کو تہہ خاک بننے سے بچالے گی.تو جناب ایسا سوچنا دن میں تارے دیکھنے کے مترادف ہے.چیف آف ارمی سٹاف نے اپکی اس خوش فہمی کے غبارے سے چودہ اگست کو جشن ازادی کے پرمسرت موقع پر ہی ہوا نکال دی جب انہوں نے ایوان صدر کی بجائے کنونشن سنٹر میں حکومتی تقریب میں شرکت کرکے جمہور نوازی کی مقدس مثال قائم کردی.اگر پاک فوج پرویز کیانی ایسے آئین پرور چیف کو مشعل راہ بنا کر اپنی پیشہ وارانہ حدود و قیود تک محدود رہی تو وہ وقت دور نہیں جب اس مملکت خداد میں فوجی ڈکٹیٹرپ کی سیاہ رات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے گا.لیکن ایک سچ تو یہ بھی ہے.کہ پاکستان کو منزل جمہور سے ہم کنار کرنے کے لئے اپکا بروقت مستعفی ہونا بھی لازم ہے.کیونکہ حکومت جو توانایاں آپ جناب کو راندہ درگاہ کرنے کے لئے صرف کر رہی ہے وہی اس ریاست کے لاکھوں مسکینوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بناسکتے ہیں.کہاجاتا ہے کہ اپ قومی مجرم ہیں.کیونکہ اپ نے اپنے عدیم النظیر دور میں ملکی تباہی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا.جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین کے اس بیان میں کتنی صداقت ہے.اس سے تو ہم ایسے کم فہم قلمکار اگاہ نہیں.لیکن ایک سچ تو یہ بھی ہے کہ اگر اپکے دور اقتدار کا حقائق پسندانہ جائزہ لیا جائے.تو بعض اوقات اپکے مخالفین کے استدلال میں سچائی کے عناصر روز روشن کی طرح عیاں نظر اتے ہیں.آپ شیشے کے محلات میں بیٹھ کر ٹامک ٹوئیاں مارنے منتخب حکومت کے خلاف سازشیں کرنے اور ریاست کی معاشی ترقی و سلامتی کے لئے بھانت بھانت کی درفطنیاں چھوڑنے کی بجائے قوم کو مندرجہ زیل سوالات کے جوابات دیں.اور اپنی کوتاہیوں کی معافی طلب کریں تو یہ قوم اس معاملے میں بڑی اعلی ظرف ثابت ہوئی ہے.ہوسکتا ہے.کہ یہی قوم اپکو واپسی کی محفوظ راہ ( جسکا امکان بہت کم اور ناممکن ہے) مہیا کردے.آپ کی گوشمالی نوشتہ دیوار بن چکی ہے.لیکن آپ اسی ہٹ دھرمی.اور خود پسندی اور رعونت کا مظاہرہ کررہے ہیں جو اپکے خوش رنگ چہرے سے بارہ اکتوبر کے انہونے انقلاب کے وقت اپکے جسم کے ہر حصے سے ساون بھادو کی طرح برستی تھی.لیکن یاد کیجئے کہ ہٹ دھرمی ضد انا پسندی خود سری اور سرکشی اپسرائیں نہیں بلکہ بلائیں ہیں جو صرف تختے کی سیر کرواتی ہیں.1۔آپ نے بارہ اکتوبر99 میں عوام ککککے ووٹوں سے الیکٹ ہونے والی حکومت کو ملیا میٹ کردیا.عوام کی انکھوں میں ہائی جائیکنگ کیس کی من گھڑت داستان امریت کی دھول جھونکی گئی.وزیراعظم کو آئین پاکستان نے عسکری سردار کی برطرفی کا حق دیا ہے.لیکن آپ کے چند ساتھیوں نے اقتدار کو گھر کی لونڈی بنانے کے لئے جمہوریت پر شب خون مارا۔.کیا اپکا اقدام ماورائے ائین نہ تھا؟کیا ٓاپ ائین کی شق نمبر چھ کے تحت آئین کی حرمت اور جمہوریت کی کبریائی کا کریا کرم کرنے کے جرم میں سزا کے مستحق نہیں؟آپ نے عوام کے دو محبوب لیڈروں پر جلاوطنی کی تلوار لٹکائی.ہاکستان کے لاکھوں سیاسی ورکروں کو اس عمل سے زہنی ازیت پہنچائی.اس پر طرہ یہ کہ پی پی کی ملکہ عالم کو خود کش حملے کی بھینٹ اپکے دور میں چڑھایا گیا.کیا بی بی کے قتل کی زمہ داری حضرت عمر کے قول کی روشنی میں کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی مرگیا تو اسکی زمہ داری مجھ پر عائد ہوگی.آپ پر عائد نہیں ہوتی.؟کیاایجنسیوں نے بی بی شہادت کیس کے تمام ثبوت قتل کے فوری بعد ضائع نہ کردئیی تھے؟اگر اپ کی انکھ میں جرم کا کوئی چھتیر نہیں اٹکا تو پھر ثبوت کیوں مٹائے گئے؟کیا اس سوال کا جواب دینا پسند فرمائیں گے کہ آپ نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے ق لیگ کا بت نہیں تراشا.مختلف سیاسی جماعتوں کے بے ضمیر لوٹوں کو قومی خزانے کی من سلوی سے ق لیگ کا ہمرکاب بنایا گیا.اور ایجنسیوں نے اپکی وفاداری کا حلف اٹھانے والے سیاسی رانجھوں کو ضلعی و تحصیلی حکومتوں کی نظامتوں کا تاج پہنایا.قومی مجرموں کو حکومتی اقتدار کی طنابیں پکڑ وادی گئیں.کیا اپکے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ہماری سیاسی جسد میں کرپشن کا مذید زہر سرائیت کرگیا.اس جرم عظیم کی زمہ داری کس کے کھاتے میں ڈالی جائے؟آپ کی من پسند اور لشکری کابینہ نے ذخیرہ اندوزی ہڈ حرامی سے آٹے و چینی سیکنڈل کے نام پر غریبوں کی رگوں سے صرف دو چار دنوں میں اربوں کا خون نچوڑ لیا.چینی مافیا کو قانونی پکڑ سے دور رکھا گیا.کیا اس لوٹ مار کی زمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی؟آپ نے اس سیاہ نصیب قوم کو سات نکاتی ایجنڈے کا جھانسہ دیا.جس میں کرپٹ لیڈروں اور سیاسی رہبروں کا کڑا احتساب شامل تھا.آپکا احتساب بیورو مخالفین کے لئے وبال جان بن گیا.اربوں کھربوں کے لٹیرے ق لیگ کے مشرفی جنت میں پاک صاف بنا کر داخل کئے گئے.احتساب بیورو کو صرف پی پی اور ن کے حق پرست رجال کاروں کو پھانسنے کا کلہاڑا بنا دیا گیا.عوام کو سرمست بنادینے والا سات نکاتی ایجنڈا اپنی تخلیق کے ایک سال بعد مرگیا.عوام کو دھوکہ دینے کے اس گھناوئنے جرم میں اپکا احتساب ضروری ہے کہ نہیں؟کیااپ نے افغانستان میں اسلامی حکومت کے خاتمے کے لئے امریکہ کو پاکستانی اڈے اور دیگر فوجی سہولیات بہم نہیں پہنچائیں؟کیا امریکیوں کی انکھ کا تارا بننے کے لئے اپ نے فاٹا میں پاک فوج کو مجاہدین کی سرکوبی پر مجبور نہ کیا.کیا آپ نے قبائلی علاقوں میں خون مسلم کے دریا نہیں بہائے.؟اپ نے امریکہ سے یارانہ نبھایا اور اسکے عوض امریکی شیطانوں نے لاکھوں ماوں کے جگر گوشے شہید کرڈالے.ہزاروں قبائلیوں اور بے خانماں و بے سائباں مجاہدین کے خون ناحق سے اپکا دامن الودہ نہ ہے؟کیا آپکو جنگی مجرم کہنا بے جا ہوگا؟آپ نے اپنی کتاب لائن اف فائر میں تسلیم کیا ہے کہ اپکے شہسواروں نے القائدہ کے شبے میں ہزاروں مجاہدوں کے سینے پر انتہاپسندی کا تمغہ سجا کر ایف بی ائی کو ڈالروں کے عوض فروخت کیا.اپکی دیدہ دلیری کے کیا کہنے.اب یہ دلیری اپکو عدلیہ کے کٹہروں میں لے جانے کا سبب بن سکتی ہے.کیا آپ نے خدائی فرامین سے روگردانی نہیں کی.رب کریم کا فرمان ہے.کہ یہود و نصاری سے دوستیاں مت رکھو.ظالموں اور جابروں سے تعلقات مت بناو.اپ نے بش کو آقاوملجی بنا رکھا ہے. اپ نے ڈٹ کر قبائلیوں کے خلاف امریکی سورماوں کی مدد کی.کیا ایسا کرکے اپ نے رب سائیں کے دین محمدی سے انحراف نہیں کیا.؟کیا خود کش حملوں کی رونق افزائی اپکی دہشت گردانہ پالیسیوں کا شاخسانہ نہ ہے؟ کہا جاتا ہے کہ حکومتی اختیارات کے وحشیانہ استعمال کی کوکھ سے ہمیشہ تشدد جنم لیتا ہے.پاکستان اسلامی ملک ہے.اسلام ہمارا دین اور اسوہ حسنہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے.قران پاک ہمارے لئے نجات کا خدائی زریعہ ہے.کیا اپکا کوئی عمل دین اسلام اسوہ حسنہ اور قران فرقان سے لگا کھا تا ہے.؟کیا آپ نے کشمیر کے معاملے پر یوٹرن لیکر اکسٹھ سالہ مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال دیا.اگر اپ نے روشن خیالی کا ڈھول پیٹ کر کشمیری مجاہدوں کا نفس ناطقہ بند ہی کرنا تھا تو پھر کارگل ایسی جانباز جنگ لڑنے کا کیا فائدہ؟ کارگل کی چوٹیوں پر بھارتی افواج کا ترنولہ بننے والے مجاہدین اور فوجی جوانوں کی موت کا زمہ کس کے کھاتے میں ڈالا جائے گا؟آپ قوم کو مکے دکھانے اور بڑی طاقتوں کے سامنے سربسجود ہونے کے شوقین ہیں.کسی بھی قوم کے لئے خود مختیاری اور ازادی سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں ہوتی.لیکن آپ نے وائٹ ہاوس کو کعبہ قبلہ سمجھ کر دھرتی قائد کی سرفروشی کا جنازہ نکال دیا. آپ نے قومی ہیرو ڈاکٹر قدیر خان کی پورے عالم میں جگ ہنسائی کروائی.اور ایٹمی ہیرو کو پابند سلاسل بنا دیا.ہیروکشی کی سزا ہونی چاہیی کہ نہیں؟ آپ کی امریکن نوازی کا ایک مشرقانہ نمونہ یہ ہے کہ سینکڑوں پاکستانی گوانتاناموبے میں گل سڑ رہے ہیں.آپ کی ایک بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو پانچ سال قبل دنیا کی اقائی کا دم بھرنے والے امریکیوں نے پاکستان سے اغوا کرلیالیکن اپنے چوں چراں ہی نہ کی.اس ظلم عظیم پر اپکی سزا کیا ہونی چاہیی.اپکے آدم خور دور سلطنت میں کرپشن غربت لوٹ مار لاقانونیت.خود کش حملے سیاسی افراط مذہبی تفاوت اور خونی جنگ و جدال عروج پر تھا.آپ نے ریاستی عدلیہ کو ٹکڑے ٹکڑے بنادیا.جناب والہ ان سوالات کے جوابات بھی تاریخ نے وقت سے پہلے الم نشرح کردئیی.آپ دنیاوی قوانین کو جل دیکر بچ سکتے ہیں.لیکن قدرت کو اپ پہلے ہی کئی بار دھوکہ دے چکے.لیکن اس کارزار میں ہر وقت بھونپو نہیں بجتا.جناب آپ قومی مجرم ہیں.جسکا احتساب بھی لازم ہے.اور ایوان صدر سے بیدخلی بھی ضروری.جناب آپ جلد از جلد مستعفی ہوں اور شوکت عزیز کے ہاں چلے جائیی.ورنہ قیامت سے پہلے ہی اپکو ایک اور قیامت کا سامنا کرنا ہے.کیونکہ جبران کا قول ہے.ظالموں کی رسی دراز تو ہوسکتی ہے.پائیدار نہیں.صدر صاحب جلدی کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی رسی اپکے گلے کا پھندہ نہ بن جائے؟



19-08-2008 19:09 Rauf Amir
This entry was posted on 19-08-2008 19:09. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 192    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >