جب سے حکومتی اتحاد کی طرف سے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کا اعلان ہو ا تب
سے تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز پر گفتگو کا موضوع مواخذہ ہی رہا اور اس
ضمن میں ہر کوئی اپنی اپنی رائے کا اظہار کر تارہا اور حالات کا تجزیہ
کرتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش میں رہا کہ بس اگر کہیں خرابی ہے تو فقط
اتنی کہ پرویز مشرف اقتدار میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی اقتدار کے
ایوانوں پر نصف سے زائد عرصہ بوٹ والوں کا راج ہے اور آج تک بھی سوٹ بوٹ
میںلپٹا ہوا وردی والا شخص ہی سول حکومت کے سروں پر سوار تھا۔ اس میں بھی
کوئی شک و شبہ والی بات نہیں کہ یہ وردی والے ہی تھے جن کے دورِ حکومت میں
دریاؤں کا سودا ہوا ، ملک ٹوٹا، سیاہ چین ہاتھ سے گیا، سانحہ کارگل ہوا،
لال مسجد کا المیہ رونما ہوا، لوگوں کو مذہب کے نام پر ہلاک کیا گیا، اِن
کی جائیدادیں لوٹی گئیں، اِن کے گھر بار جلائے گئے اور یہ سلسلہ پھیلتے
پھیلتے سارے شمالی علاقوں میں پھیل گیا جہاں اس کو کنٹرول کرنے کے لئے
ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر ، ٹینک اور توپیں استعمال ہو رہی ہیں مگر امن نام
کی کوئی چیز ہاتھ میں ہی نہیںآ رہی ، اسکول ، کالجز اور قومی ادارے اور
عمارات تباہ و برباد کی جا رہی ہیں، اپنے ہی گھروں کو آگ لگا کر بھسم کیا
جا رہا ہے اور سب کچھ اپنی جھوٹی انا اور اپنے ہی تراشیدہ جھوٹا خداؤں کو
سچا ثابت کرنے کے لئے کیا جا رہاہے جس کے لئے اسلام جیسے مقدس نام کا
استعمال کیا جا رہا ہے ، مارنے والے بھی خود کو آقائے دوجہاں ؐسے منسوب
کر رہے ہیں اور مرنے والے بھی آقائے دوجہاں ؐ پر دورد بھیجنے والے ہیں
مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس قسم کے حالات کی نوبت کن لوگوں کی
وجہ سے آئی اور وہ کون لوگ تھے جو ہر سول حکومت کے برسراقتدار آنے کے
فوری بعد ہی اس کی تبدیلی یا اس کو گرانے کے درپے ہو جاتے رہے جس کے لئے
کبھی اسلام کا نام استعمال کیا گیا تو کبھی جمہوریت کی دوہائی دی گئی اور
اس کے لئے وردی والوں کو خط لکھ لکھ کر دعوت نامے بجھوائے جاتے رہے کہ
آؤ اور ہمارے سروں پر سوار ہو جاؤ اور ہم پر حکومت کرو ۔ وردی والوں کو
بلانے میں کبھی کوئی سیاستدان پیش پیش تھا تو کبھی کوئی ،کبھی کاروانِ
جمہوریت کے نام سے حکومت کے خلاف محاذ آرائی تو کبھی لانگ مارچ ،کبھی
ٹرین مارچ تو کبھی ملین مارچ تو کبھی اسلام کے نام پر افراتفری کی کوشش
غرض ان موقع پرستوں کی ہر آن یہی کوشش رہی کہ کس طرح ملک کے لوگ سکھ چین
اور امن میں نہ رہ سکیں، غیر جمہوری قوتیں اگر اپنے بد ارادوں سے کنارہ کش
رہیں تو اس وقت تک ہی رہیں جب تک کہ یہ خود اقتدار میں سانجھے دار نہیں
تھیں اور جونہی یہ سانجھے داری ختم ہوئی فوراً ہی ان کے پیٹ میں مروڑ
اٹھنے لگ گئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف سازشوں کے جال پھیلانا شروع کر
دیے اور شور مچانا شروع کر دیااور معصوم لوگوں کو یہ باور کرانے میں لگ
گئے کہ جمہوریت اور اسلام دونوں خطرے میں ہیں۔ چار وں صوبوں میں
اسمبلیوں میں پرویز مشرف کے خلاف قرار دادیں منطور ہو چکی ہیں اور اس پر
عدم اعتماد کا اظہار کیا جا چکا ہے اور اب اخلاقی طور پر بھی ضروری ہو
جاتا تھا کہ پرویز مشرف مستعفی ہو جاتے جبکہ اتحادی جماعتیں صدر کے مواخذہ
کے مسودہ تیار کرچکی تھیں کہ اسی دوران مورخہ18اگست2008ء تقریباً ایک بجے
قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا،
مشرف نے اپنے آخری خطاب میں اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات سے انکار
کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب تک جو کچھ کیا وہ قوم اور ملک کی بھلائی کی
خاطر کیا۔ ہو سکتا ہے کہ پرویز مشرف کی ذاتی طور پر نیت صاف ہو، وہ
ملک اور قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہوں مگر افسوس کہ گذشتہ نو سالوں میں
ان کی اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے جوکارکردگی دکھائی گئی وہ کوئی زیادہ
خوش کن نہ تھی ، پہلے لوگ سیاسی طور پر تو جھوٹ بولتے ہیں تھے اب اور
زیادہ بولنے لگ گئے ہیں اور جھوٹ بولنا کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی، قوم
کے مال کو مال غنیمت سمجھ کر اپنے لئے اکٹھا کرنا کوئی عیب نہیں سمجھا گیا
بلکہ اس میں اور بھی زیادتی ہو ئی اور ساٹھ کی دہائی میں جو دس بارہ امیر
خاندان ملک و قوم کے وسائل پر قابض تھے ان کی تعداد میں حیرت انگیز طور پر
اضافہ ہوا اور اب یہ تعداد ہزاروں میں چلی گئی ہے بلکہ لوگوں کے مال و
اسباب پر قبضہ کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد ہوتے رہے جس کی مثال وہ کئی ایک
مالیاتی اسکینڈل ہیں جو گاہے بگاہے ہمارے سامنے آتے رہے ہیں۔ اب جب
کہ مشرف اقتدار سے الگ ہو گئے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب ملک کے
حالات درست ہو جائیں گے؟ یا ملک کے عوام کی کایا پلٹ جائے گی، ان کی قسمت
جاگ اٹھے گی؟ میرا ان سب کو جواب ہے کہ ہر گز نہیں، یہ لوگ اگر کل پریشان
اور لاچار تھے تو اب بھی رہیں گے، ان کی کایا کبھی بھی نہ پلٹ سکے گی
کیونکہ ایک مشرف چلا گیا، اس جیسے بیسیوں مشرف ابھی ملک میں باقی ہیں جو
اس ملک کے وسائل کو لوٹ رہے ہیں، لوٹ مار کے لئے ان لوگوں نے مختلف گینگ
بنا رکھے ہیں جن میں کہیں جنرلوں سے رشتہ داریاں ہیں تو کہیں ججوں سے
سانجھے داری ہے، کوئی سرمایہ دار کسی کا چاچا ماما ہے تو کوئی کسی، کوئی
بھائی ایک پارٹی میں ہے تو کوئی دوسری پارٹی میں، بلکہ یہ دیکھنے میں آ
یا ہے کہ ایک ہی گھر میں دو دو پارٹیوں کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں ، ایک
دروازے پر پیپلز پارٹی کے بڑوں کی تصاویر اور جھنڈے ہیں تو دوسرے دروازے
پر مسلم لیگ کے یعنی ظاہراً ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف ظاہر کیا جا رہا ہے
جبکہ اندر خانے کھاتے سانجھے ہیں، مفادات سانجھے ہیں اور پیسہ اور جائیداد
بنانے کی منزل ایک ہی ہے۔ جن لوگوں کی منزل فقط مفادات کا حصول ہی ہو
بھلا وہ کسی کا احتساب کیا کر سکیں گے، آج مشرف کے خلاف طرح طرح کی
آوازیں بلند ہو رہی ہیں ، کیا وہ لوگ یہ بات بھول چکے ہیں کہ ہمارے آقا
و مولا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی پاک،بابرکت
اور برتر انسان روئے زمین پر کوئی گا؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہم سب تو آپ ﷺ
کے پاؤں کی دھول کے برابر بھی نہ ہونگے، آپؐ کا اسوہ تو یہ ہے کہ جب آپ
ؐمکہ فتح کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہوتے ہیں تو خدائے قدوس کی شکر گذاری میں
آپؐ کا سر مبارک اونٹ کے کلاوہ کو چھو رہا ہوتا ہے اور جب لوگوں سے مخاطب
ہوتے ہیں تو وہ سارے دکھ درد اور تکالیف بھول کر فرماتے ہیں کہ "جاؤ میں
نے تمھیں معاف کیا اور تم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی" بلکہ ان لوگوں کو بھی
امان مل جاتی ہے جو بلالؓ کے جھنڈے تلے آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی
معافی ہو جاتی ہے جو ابو سفیان کے گھر میں ہوتے ہیں اور وہ بھی معافی کے
قابل سمجھے جاتے ہیںجو اپنے گھر کے دروازے بند کر لیتے ہیں اور یہاں ایک
ہم ہیں کہ انتقام میں اندھے ہو کر طرح طرح کے بیان داغ رہے ہیں اور مطالبے
کر رہے ہیں، میرا خیال ہے اب وہ وقت آ جانا چاہیے اور اس ملک سے اب یہ
ریت ختم ہو جانی چاہیے کہ کسی جانے والے کی تحقیر کی جائے یا اس سے اپنی
ذات کو سامنے رکھ کر کوئی انتقام یا بدلہ لیا جائے، معاف اور درگذر کر
دینے ہی میں بڑائی ہے اور اسی کو بڑا سمجھا جاتا ہے جو معاف کر دینے میں
پہل کرتا ہے، آصف علی زرداری یا میاں نواز شریف کے ساتھ اگر زیادتی بھی
ہوئی ہے تو ملک و قوم کے مفاد میں ہی سہی مشرف کو معاف کر دینا چاہیے،
اللہ ہم سب کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
This entry was posted on 19-08-2008 19:05. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 164
Views: 164