با بو جی! میںنہ کہتا تھا کہ مواخذہ نہیں ہو گا ۔صدرکے پاس ایک آخری
آپشن استعفےٰ کا تھا۔ جو انھوں نے استعمال کر لیا ۔لیکن بابو جی! اب کیا
ہوگا ۔کیا مہنگائی واپس اٹھارہ فروری کی پوزیشن پر آجائے گی ؟۔تیل کی
قیمتیں کم ہوجائیں گی؟ ۔ حالانکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم
ہوکر112ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے ۔ڈالر پھر سے ساٹھ روپے کا ہوجائے گا ؟اسٹاک
ایکسچینج گروتھ پھر سے نفسیاتی حدوں کو پار کرسکے گی ۔؟ خزانے میں سو لہ
ارب ڈالر ذرمبادلہ کبھی ہو گا ؟۔اور سب سے بڑھ کر بابوجی!کیا ججز بحال ہوں
گے ؟۔یہ ہیں وہ سوالات جو کولیشن گورنمنٹ کو صدر کے ا ستعفےٰ کے بعد ابھی
دینے ہیں ۔۔۔۔ٹھیک ہے بھولے !تمہارے خدشات بجا ہیں ۔ذرا اتحادیوں کو خوشی
کے شادیانے بجانے اور جشن جمہوریت سے فارغ تو ہولینے دے ۔تمہارے سوالوں کے
جواب بھی مل جائیں گے ۔بابو جی !خدا میرے منہ میں خاک ڈالے ۔لیکن مجھے ڈر
لگ رہا ہے ۔با بوجی !اگر ججز بحال نہ ہوئے تو ؟۔ جب کہ بقول چودھری نثار
مسلم لیگ ن اپوزیشن میں بیٹھے گی ۔اور پاکستانی قوم اپوزیشن اور حکومت کی
محازآرا یوں کے جلوے نوے کی دحائی میں دیکھ چکی ہے ۔اسی دس سالہ دنگل کا
نتیجہ تھا ۔کہ فوج کو ہمیشہ کی طرح 1999ء میں بھی مداخلت کرنی پڑی۔تو اس
بھولی قوم سمیت اپوزشن نے مٹھائیاں تقسیم کی تھیں ۔ بلکہ نوے کی پوری
دھائی میں یہی کچھ ہوتا رہا ۔آج فوجی آمریت کے خاتمے پر بھی مٹھائیاں
تقسیم کی جارہی ہیں ۔جشن منائے جارہے ہیں ۔لیکن جشن کے نشے میں مسرور یہ
قوم جب ہوش میں آئے گی ۔تو اس وقت تک پانی مزید سر سے گزر چکا ہوگا
۔کیونکہ اس قوم کی خوشی اور غمی کے درمیان بہت کم فاصلہ ہے ۔کہ یہ قوم
ساٹھ سالوں سے اس قدر مغموم ہو چکی ہے ۔ کہ اسے غم بھی خوشی لگنے لگتاہے
۔یہ ہنستے کب ہیں روتے کب ہیں ۔ان کو خود بھی معلوم نہیں ۔اس مواخذے کے
شوروغوغا میں امریکی اس کے اتحادی اور افغانی فوج نے قبائلی علاقوں
میںمتعدد بار دل کھول کر بمباری کی۔ جس کے نتیجے میں اب تک دودرجن افراد
جاں بحق ہوچکے ہیں ۔لیکن ہماری حکومت اپوزیشن اور میڈیا کو جمہوریت کی
مکمل بحالی کی خوشی میں فرصت ہی نہیں تھی۔ احتجاج نہیں کرسکتے تھے، اگر
ڈالروں کے رک جانے کی وجہ سے، تو مذمت ہی ریکارڈ کرادیتے ۔لیکن با بو جی!
میں نے کہا تھا نا کہ یہ مشرف سے بھی دو ہاتھ آگے جائیں گے ۔کیونکہ انھیں
تو مشرف کے دس ارب ڈالر سے زیادہ پندرہ ارب ڈالرں کی چمک دکھائی گئی ہے
۔ایسے ہی تو امریکیوں نے پاکستانی قوم کو اتنی بڑی گا لی نہیں دی تھی ۔کہ
ان کو ہڈی دو اور شکاری کتے کی طرح جس کا مرضی ہے شکار کروا لو ۔ ڈاکٹر
عافیہ کی عصمت کو ڈالروں کے عوض فروخت کرنے والے یہی حکمران تو ہیں ۔یہ
گالی بھی تو ان ہی حکمرانوں کی مرہون منت ہے ۔جن کے آنے پر بھی اور جانے
پر بھی ہم مٹھائیاں بانٹتے ہیں ۔با بو جی ! چہرے نہیں نظام کو بدلنے کی
ضرورت ہے ۔لیکن سب سے بڑا سوال بھی اس قوم کو آج یہی درپیش ہے ۔کہ نظام
کیسے بدلے گا ؟۔ایک آس امید پیدا ہوئی تھی ۔عدلیہ کی تحریک سے لیکن دس
لاکھ کے مجمع کو اسلام آباد سے بغیر دھرنے کے واپس لٹا کرعوام کی امیدوں
کا خون کرنے والے ان حکمرانوں نے یہ ثابت کر دیا ۔کہ ہم جب چائیں اس قوم
کو بندر کی طرح ڈگ ڈگی پر نچاسکتے ہیں ۔اور جب چائیں یہ ناچ بند کروا کر
ان ہی کے ہاتھوں مٹھائیاں تقسیم کروا سکتے ہیں ۔ اس کا حال بھی ان
حکمرانوں نے مل کر ایسا کر دیا ہے ۔کہ قوم اور وکلاء مایوس ہوچکے ہیں ۔ایک
امید میاں نواز شریف کے اس انتخابی نعرے پر ضرور قائم ہے ۔جس کی بنیاد پر
میاں صاحب ؔآج تک سیاست کی عروج پرہیں ۔لیکن کیا زرداری صاحب ان کو کبھی
ہیرو بننے دیں گے؟ ۔ اس لیے با بوجی ! مجھے نہیں لگتا ججز نواز شریف کی
مرضی کے مطابق بحال ہوں ۔بلکہ زرداری صاحب آئینی پیکجزپر ہی زور دیں گے
۔اور یہی وہ نکتہ ہے ۔جس پر دونوں اتحا دیوں کی رائیں جدا ہونے کا خدشہ ہے
۔ حالاں کہ مری ڈیکلریشن پر پہلے بھی دونوں متفق ہوئے تھے ۔اور اب صدر کے
مواخذے کا اعلان کرتے ہوئے بھی انھوں نے مری ڈیکلریشن کے مطابق ججز بحال
کرنے کا عندیہ دیا تھا ۔ بھولے !تو مایوس نہ ہو۔۔۔۔ صدر نے ا ستعفٰی دے
دیا ہے ۔جس کے ساتھ ہی حکمران اتحاد کا اجلاس اس مسلئے کو حل کرنے کے لیے
بیٹھ گیا ہے۔ اور شنید ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں کو ئی فیصلہ سامنے
آجائے گا ۔جس کے اشارے مل رہے ہیں ۔ بابو جی! خدا کرے قوم کو کوئی مثبت
خبر مل جائے ۔کیونکہ اب قوم ایک بار پھر اپنے پاپی پیٹ کی فکر چھوڑ کر ججز
بحالی پر اپنی نظرے فوکس کیے ہوئے ہیں ۔اور خدا کرے ایسا ہوجائے ۔لیکن
کیااس کے بعد قوم کے مسائل حل ہوجائیں گے۔۔۔۔؟کیونکہ پھر کوئی بہانہ
نہیںچلے گا ۔
This entry was posted on 19-08-2008 19:02. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 171
Views: 171