| حمایت کی بدلے ’’پاک صدارت‘‘ کی دعویداری |
|
|
|
پاکستان میں مخلوط حکومت جس کیا قیادت پی پی پی کررہی ہے۔ اب پاکستا ن کے
صدارتی عہدے کو مشرف میاں کی طرف سے خدا حافظ کہنے کے بعد یک طرفہ اعلانات
نے اس منصب کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ جس سے جمہوری روایات اچانک متزلزل سی
ہوگئی ہے۔ اس باوقار عہدے کیلئے مشاورت کا عمل شروع کیاجاتا ۔ اس پہلے ہی
اپنی پسند کے امیدوار کے اعلانات جمہوریت کیلئے خطرہ ہے۔مشرف میاں نے اس
شرط پر مفاہمت کی ہے۔ آئندہ صدارتی امیدوار پی پی پی کے خیمے میں سے ہی
ہو۔۔؟
نیشنل اسمبلی میں مخلوط حکومت کی قیادت پی پی پی کررہی ہے۔ اگر اتحادی جماعتیں اپنی حمایت سے دستبردارہوجائیں ۔ تو پی پی پی ایک منٹ بھی بر سراقتدار نہیں رہ سکتی ہے۔اس لئے اس کی صدارتی عہدہ پر دعویداری سے پاکستان کی سیاست میں عدم استحکام آئے گا۔ جو ہندوپاک میں باہمی امن ا ور دونوں ملکوںکے عوام کیلئے نقصان کا سبب بنے گا۔ اور یہ پی پی پی کو بھی کافی نقصان پہچائے گا۔ اس لئے کہ اس پاس مطلوبہ نشیشتین نہیں ہیں۔ جب اس کے پاس یہ تعدا د نہیں ہے۔ تو صدارتی عہدے کیلئے اس کو اپنے حلیفوں کو دعوت دینی چاہیئے۔
اقتدار سے دستبرداری مسٹر پرویز مشرف صاحب نے ملک کے اتحاد اور اس سے وفاداری کو بنیاد بناکر اپنا استعفیٰ وقوم کے سامنے رکھ کر جمہوری حکمرانوں کو ایک چیلنج دیا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی حریص ہیں۔ اور وہ ہی پاکستان کے بہتر تھے ۔ اسی لئے وہ پاکستان میں اپنی ایک حمایت یافتہ جماعت تیار کرکے گئے ہیں۔ جو آگے چل کر پی پی پی اور نواز لیگ کا متبادل بن سکتی ہے۔ اس لئے اس عہدے کے حصول کے لئے جلد بازی کا مظاہرہ فائدے کے بجائے نقصان زیادہ پہنچا سکتا ہے۔
بہتر تو یہ تھا کہ جس صدر سے مشرف میاں نے صدارت کا عہدہ چھینا تھا۔ وہ ہی اس کے جائز حق دار ہوتے۔ یا پھر اس عہدے کیلئے مناسب شخصیت ہیں۔ جناب ڈاکٹر قدیر خان۔جو پاکستان کی عوام کیلئے زیادہ پسندیدہ شخصیت ہیں۔ ملک کے تئیں اور جمہوریت کے تئیں وفادار جماعتیںاقتدار کی خاطر کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں۔ جس سے جمہوریت پر آنچ آئے۔ خادم نے اردو کی قلمی تحریر سے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی خاموش کوشیش کی ہے۔ جو اب مجموعی اتحاد کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچی ۔
مشرف میاں کی اقتدارسے دستبرداری ہی ان کیلئے اصل سزا ہے۔ ان کی نم آنکھیں خودی کی سزا کا اعتراف کررہی ہیں۔ اور کرتی رہیں گی کہ ایک بادشاہ جوکہ اب پیادہ میں تبدیل ہوگیاہے۔ اور یہ سزا انہوں نے ازخود ہی متعین کرلی ہے۔ اگر ان کو مذید سزا دی گئی تو وہ زیرہ سے ہیرو بن جائیں گے۔ اور اس پر سرکار ی خزانہ بھی بے کار ضائع ہوگا۔ آگے اس طرح کے ضابطہ بنائیں جائیں۔ کہ جس سے کوئی بغاوت کی جسارت نہ کرسکے۔ اگر ان کے خلا ف کاروائی کی گئی۔ تو وہ پھرپی پی پی کا متبادل بن کر ابھریں گے۔ جو شخص مجبور ہوکر از خود ہی اقتدار کو چھوڑ کر جارہا ہو۔ اس کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ورنہ پھر خطرہ ہی خطرہ ہے۔مشرف میاں نے نواز شریف اور مرحومہ بے نظیر صاحبہ سے زور آزمائی کی ۔ اس سے ان کی مقبولیت میں مذید اضافہ ہوا ۔ انجام کار اقتدار ان کی جماعتوں کو حاصل ہوا۔
فی الوقت شریک جماعتیں حمایت کے بدلے صدارتی عہدے کی دعویدار ی میں حق بہ جانب ہیں۔ اختلافات کی پید اوار کم کرنے کیلئے ضروری ہے ۔ یہ عہدہ نواز لیگ کے حصّہ میں آنا چاہیے۔ اس وجہ سے عہدے کا حصول موضوع بحث نہیں ہونا چاہیے۔اب متحدہ طور پر یہ کوشیش کی جانی چاہئے۔ کہ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے تخلیقی کیسٹوں سے جو تخلیقی دنیا امریکہ کو دھمکیاں دینے کیلئے تیار کی گئی ہے۔ اس کا خاتمہ کیسے ہو ۔ پاکستان میں جاہل و ان بڑھ لوگوں کو جہاد کے تعلق سے چند آیات رٹا کر ایک ہزار رحمت کی آیات سے ان کودور رکھا جاتا ہے۔ اس شرارت کے پش پست کون ہیں۔ جو مذہب رحمت کو مذہب زحمت میں تبدیل کر اس کو دھشت گرد مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ کے قتل کو تخلیقی القاعدہ سے جوڑنے والے لوگ کون تھے۔ پھر ان تخلیقی کیسٹوں سے پیدا مکھوٹوں سے اس کی تردید کردی گئی۔ تصدیق و تردید کا یہ عمل کافی دنوں تک فضا ء میں سر گوشیاں کرتا رہا۔ مذہب اسلام کے فروغ کی پوری دنیا میں رکاوٹ کھڑی کرنے کیلئے اسلام دشمن القاعدہ و طالبان کی حرکتیں امریکہ ، برطانیہ اور یورپین ممالک میں اس کے پھیلائو میں اس طرح زبردشت رکاوٹیں کھڑی کررہی ہیں۔ اب القاعدہ و طالبان کی عربی زبان سے ہٹ کر انگریزی زبان میں دھمکیاں مذہب اسلام کو مذید تباہ و برباد کرنے کیلئے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہیں۔ مذہب اسلام کو بدنام کرنے کے مغربی ممالک کے اس کھیل و پروپیگنڈے کو ناکارہ بنانے کیلئے پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کو موثر قدم اٹھانا چاہیئے۔ جو اب ان کیلئے ضروری بھی ہے۔
بہرحال اگر مذہبی ہاتھوں میں بندوق کی نمائش کی جائے گی۔ تو یہ مذہب اسلام کیلئے خطرہ ثابت ہوگی۔ حالانکہ پوری دنیا میں آباد مذہبی مسلمانوں کے ہاتھوں میں کہیں بھی بندوق نہیں دیکھی گئی۔ یہ صرف تخلیقی کیسٹوں میں اسلام کو اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے دیکھائی جاتی ہیں۔اور امریکہ اس کو عنوان بناکر دیگر ملکوں کو ساتھ میں لیکر افغانستان و پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں خالی میدان میں کچّے مکانوں پر حملہ کرکے اس طرح اپنی سیاست امریکہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے کرتا ہے۔ اور اس طرح ان کے ووٹ بٹور تا ہے۔اور امریکہ کی اس مہم میں جنرل مشرف میاں بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔لال مسجد پر حملہ ان کے سیاسی مقاصد کے حصول کا حصّہ تھا۔ افسوس تو اس بات کا ہے۔ کہ پاکستان کا صدارتی عہدہ اس کام کیلئے استعمال ہوا ہے۔ دھشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے نام پر مذہب اسلام و مسلمانوں کوبدنام کیا گیا ۔
بہرحال پاکستان کا صدارتی عہدہ پھر جنرل مشرف کی طرح استعمال نہ ہو۔ اسی کوشیش کرنی چاہیئے۔ صدارتی عہدہ ایسے شخص کے پاس ہونا چاہیئے۔ جو مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کا حصّہ نہ بنے ۔اس لئے اس عہدے کو پی پی پی اپنے حلیفوں کے حوالہ کردے۔ کہ وہ ہی اس کا انتخاب کریں۔ ان کی جماعت صرف ان کے امیدوارکی کرے گی اور اپنا امیدوار کسی بھی صورت میں میدان میں نہیں لائے گی۔
نیز حمایت کے بدلے صدارتی عہدے پر دعویداری پی پی پی کے حلیفوں کا اولین حق ہے۔ جو اس سے ملنا چاہیئے۔ ۔ ساجھے داری میں پائیداری ہونی چاہیئے۔ پی پی پی کے پاس بڑا عہدہ وزیرآعظم کا ہے۔جبکہ دوسر ا بڑا عہدہ نواز لیگ کے پاس ہونا چاہیئے۔ مخلوط حکومتوں میں تمام فیصلہ افہام و تفہیم سے ہوتے ہیں۔یک طرفہ اعلانات خود غرضی اور مفاد پرستی کی علامت ہے۔ جس سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔اتحادی جماعتوں کے سربراہ بھی اس عہدے کے موضوع بنائیں جائیں۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۱۰، ایس ایل ہائوس ، آصف علی روڈ نئی دہلی۔۲
نیشنل اسمبلی میں مخلوط حکومت کی قیادت پی پی پی کررہی ہے۔ اگر اتحادی جماعتیں اپنی حمایت سے دستبردارہوجائیں ۔ تو پی پی پی ایک منٹ بھی بر سراقتدار نہیں رہ سکتی ہے۔اس لئے اس کی صدارتی عہدہ پر دعویداری سے پاکستان کی سیاست میں عدم استحکام آئے گا۔ جو ہندوپاک میں باہمی امن ا ور دونوں ملکوںکے عوام کیلئے نقصان کا سبب بنے گا۔ اور یہ پی پی پی کو بھی کافی نقصان پہچائے گا۔ اس لئے کہ اس پاس مطلوبہ نشیشتین نہیں ہیں۔ جب اس کے پاس یہ تعدا د نہیں ہے۔ تو صدارتی عہدے کیلئے اس کو اپنے حلیفوں کو دعوت دینی چاہیئے۔
اقتدار سے دستبرداری مسٹر پرویز مشرف صاحب نے ملک کے اتحاد اور اس سے وفاداری کو بنیاد بناکر اپنا استعفیٰ وقوم کے سامنے رکھ کر جمہوری حکمرانوں کو ایک چیلنج دیا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی حریص ہیں۔ اور وہ ہی پاکستان کے بہتر تھے ۔ اسی لئے وہ پاکستان میں اپنی ایک حمایت یافتہ جماعت تیار کرکے گئے ہیں۔ جو آگے چل کر پی پی پی اور نواز لیگ کا متبادل بن سکتی ہے۔ اس لئے اس عہدے کے حصول کے لئے جلد بازی کا مظاہرہ فائدے کے بجائے نقصان زیادہ پہنچا سکتا ہے۔
بہتر تو یہ تھا کہ جس صدر سے مشرف میاں نے صدارت کا عہدہ چھینا تھا۔ وہ ہی اس کے جائز حق دار ہوتے۔ یا پھر اس عہدے کیلئے مناسب شخصیت ہیں۔ جناب ڈاکٹر قدیر خان۔جو پاکستان کی عوام کیلئے زیادہ پسندیدہ شخصیت ہیں۔ ملک کے تئیں اور جمہوریت کے تئیں وفادار جماعتیںاقتدار کی خاطر کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں۔ جس سے جمہوریت پر آنچ آئے۔ خادم نے اردو کی قلمی تحریر سے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی خاموش کوشیش کی ہے۔ جو اب مجموعی اتحاد کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچی ۔
مشرف میاں کی اقتدارسے دستبرداری ہی ان کیلئے اصل سزا ہے۔ ان کی نم آنکھیں خودی کی سزا کا اعتراف کررہی ہیں۔ اور کرتی رہیں گی کہ ایک بادشاہ جوکہ اب پیادہ میں تبدیل ہوگیاہے۔ اور یہ سزا انہوں نے ازخود ہی متعین کرلی ہے۔ اگر ان کو مذید سزا دی گئی تو وہ زیرہ سے ہیرو بن جائیں گے۔ اور اس پر سرکار ی خزانہ بھی بے کار ضائع ہوگا۔ آگے اس طرح کے ضابطہ بنائیں جائیں۔ کہ جس سے کوئی بغاوت کی جسارت نہ کرسکے۔ اگر ان کے خلا ف کاروائی کی گئی۔ تو وہ پھرپی پی پی کا متبادل بن کر ابھریں گے۔ جو شخص مجبور ہوکر از خود ہی اقتدار کو چھوڑ کر جارہا ہو۔ اس کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ورنہ پھر خطرہ ہی خطرہ ہے۔مشرف میاں نے نواز شریف اور مرحومہ بے نظیر صاحبہ سے زور آزمائی کی ۔ اس سے ان کی مقبولیت میں مذید اضافہ ہوا ۔ انجام کار اقتدار ان کی جماعتوں کو حاصل ہوا۔
فی الوقت شریک جماعتیں حمایت کے بدلے صدارتی عہدے کی دعویدار ی میں حق بہ جانب ہیں۔ اختلافات کی پید اوار کم کرنے کیلئے ضروری ہے ۔ یہ عہدہ نواز لیگ کے حصّہ میں آنا چاہیے۔ اس وجہ سے عہدے کا حصول موضوع بحث نہیں ہونا چاہیے۔اب متحدہ طور پر یہ کوشیش کی جانی چاہئے۔ کہ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے تخلیقی کیسٹوں سے جو تخلیقی دنیا امریکہ کو دھمکیاں دینے کیلئے تیار کی گئی ہے۔ اس کا خاتمہ کیسے ہو ۔ پاکستان میں جاہل و ان بڑھ لوگوں کو جہاد کے تعلق سے چند آیات رٹا کر ایک ہزار رحمت کی آیات سے ان کودور رکھا جاتا ہے۔ اس شرارت کے پش پست کون ہیں۔ جو مذہب رحمت کو مذہب زحمت میں تبدیل کر اس کو دھشت گرد مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر صاحبہ کے قتل کو تخلیقی القاعدہ سے جوڑنے والے لوگ کون تھے۔ پھر ان تخلیقی کیسٹوں سے پیدا مکھوٹوں سے اس کی تردید کردی گئی۔ تصدیق و تردید کا یہ عمل کافی دنوں تک فضا ء میں سر گوشیاں کرتا رہا۔ مذہب اسلام کے فروغ کی پوری دنیا میں رکاوٹ کھڑی کرنے کیلئے اسلام دشمن القاعدہ و طالبان کی حرکتیں امریکہ ، برطانیہ اور یورپین ممالک میں اس کے پھیلائو میں اس طرح زبردشت رکاوٹیں کھڑی کررہی ہیں۔ اب القاعدہ و طالبان کی عربی زبان سے ہٹ کر انگریزی زبان میں دھمکیاں مذہب اسلام کو مذید تباہ و برباد کرنے کیلئے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہیں۔ مذہب اسلام کو بدنام کرنے کے مغربی ممالک کے اس کھیل و پروپیگنڈے کو ناکارہ بنانے کیلئے پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کو موثر قدم اٹھانا چاہیئے۔ جو اب ان کیلئے ضروری بھی ہے۔
بہرحال اگر مذہبی ہاتھوں میں بندوق کی نمائش کی جائے گی۔ تو یہ مذہب اسلام کیلئے خطرہ ثابت ہوگی۔ حالانکہ پوری دنیا میں آباد مذہبی مسلمانوں کے ہاتھوں میں کہیں بھی بندوق نہیں دیکھی گئی۔ یہ صرف تخلیقی کیسٹوں میں اسلام کو اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے دیکھائی جاتی ہیں۔اور امریکہ اس کو عنوان بناکر دیگر ملکوں کو ساتھ میں لیکر افغانستان و پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں خالی میدان میں کچّے مکانوں پر حملہ کرکے اس طرح اپنی سیاست امریکہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے کرتا ہے۔ اور اس طرح ان کے ووٹ بٹور تا ہے۔اور امریکہ کی اس مہم میں جنرل مشرف میاں بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔لال مسجد پر حملہ ان کے سیاسی مقاصد کے حصول کا حصّہ تھا۔ افسوس تو اس بات کا ہے۔ کہ پاکستان کا صدارتی عہدہ اس کام کیلئے استعمال ہوا ہے۔ دھشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے نام پر مذہب اسلام و مسلمانوں کوبدنام کیا گیا ۔
بہرحال پاکستان کا صدارتی عہدہ پھر جنرل مشرف کی طرح استعمال نہ ہو۔ اسی کوشیش کرنی چاہیئے۔ صدارتی عہدہ ایسے شخص کے پاس ہونا چاہیئے۔ جو مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کا حصّہ نہ بنے ۔اس لئے اس عہدے کو پی پی پی اپنے حلیفوں کے حوالہ کردے۔ کہ وہ ہی اس کا انتخاب کریں۔ ان کی جماعت صرف ان کے امیدوارکی کرے گی اور اپنا امیدوار کسی بھی صورت میں میدان میں نہیں لائے گی۔
نیز حمایت کے بدلے صدارتی عہدے پر دعویداری پی پی پی کے حلیفوں کا اولین حق ہے۔ جو اس سے ملنا چاہیئے۔ ۔ ساجھے داری میں پائیداری ہونی چاہیئے۔ پی پی پی کے پاس بڑا عہدہ وزیرآعظم کا ہے۔جبکہ دوسر ا بڑا عہدہ نواز لیگ کے پاس ہونا چاہیئے۔ مخلوط حکومتوں میں تمام فیصلہ افہام و تفہیم سے ہوتے ہیں۔یک طرفہ اعلانات خود غرضی اور مفاد پرستی کی علامت ہے۔ جس سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔اتحادی جماعتوں کے سربراہ بھی اس عہدے کے موضوع بنائیں جائیں۔
ایاز محمود ۔۔۔۔۔۱۰، ایس ایل ہائوس ، آصف علی روڈ نئی دہلی۔۲
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 162