Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
9°C
تیل کی مصنوعات میں اضافے سے ڈیلر ارب پتی بن گئے PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 

 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وقفے وقفے کے ساتھ کمی بیشی سے حکومت کو مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوئے بلکہ تیل کمپنیوں کے افسران اور تیل کے ڈیلر ارب پتی ہوگئے جبکہ تیل کے ملازمین اور عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق

جب حکومت عالمی مارکیٹ کے مطابق تیل کے نرخ بڑھانے پر غور شروع کرتی ہے یا نئے نرخ کی سمری تیار کرتی ہے تو تیل کمپنیوں کے افسران کو قبل ازوقت علم ہوجاتا ہے۔ یہ افسران فوری طور پر اپنے مخصوص ڈیلروں کے ساتھ رابطے میں آکر سٹاک کا بڑا حصہ ان کے نام الاٹ کردیتے ہیں اور اپنا حصہ ایڈوانس میں وصول کرلیتے ہیں۔ الاٹ شدہ سٹاک ڈپوؤں اور پٹرول پمپوں کے درمیان ہزاروں ٹینکروں میں سڑکوں پر حکومت کے فیصلے کا منتظر رہتا ہے جن سے پٹرول پمپوں پر تیل کی عارضی قلت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ وزارت پٹرولیم میں تیل کے نرخ بڑھانے کی سمری تیار کی جاتی ہے یا پروگرام بنایا جاتا ہے تو تیل کمپنیوں کے افسران کو فوری طور پر آگاہ کردیا جاتا ہے جو فوری طور پر اپنے ایجنٹ ڈیلروں سے رابطے میں آکر پرانے ریٹ پر سودے کرکے اپنا کمیشن ایڈوانس وصول کرکے سپلائی ڈپوؤں پر جو چک پیرانہ ڈپو، شیخوپورہ میں ماچھی کوٹ ڈپو اور اٹک آئل کو آرڈر دے دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں ڈیلر کو پٹرول، ڈیزل یا کیرورین آئل وگیرہ اتنا اتنا دیا جائے۔ جس کے بعد سینکڑوں ٹینکر حرکت میں آکر اپنا اپنا حصہ بھر کر سڑکوں پر آجاتے ہیں کمیشن کی رقم جو کروڑوں میں ہوتی ہے اپنے اپنے مقام پر فوری طور پر پہنچ جاتی ہے اور حکومت کے خزانے کو ایک جھٹکے میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوجاتا ہے اور عوام علیحدہ لٹ جاتے ہیں یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے جس کے دوران کھربوں روپے ادھر سے ادھر ہوگئے جو عوام کی جیبوں اور حکومت کے کزانے سے نکل کر افسران اور ڈیلروں کی جیبوں میں چلے گئے۔ حکومت کے پاس فول پروف سسٹم نہ ہونے اور کمزور گرفت کے باعث فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے اور بدنامی مفت میں ملتی ہے جس کا خمیازہ عوام کو زبردست مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ عوامی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور عوام کے ساتھ دھوکا کرنے والوں کو سزا دی جائے اور حکومت ایسے اقدامات سوچ سمجھ کر اٹھائے جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ زندگی اجیرن بنانے کا باعث بنتے ہیں۔




13-08-2008 17:07 Attock News
This entry was posted on 13-08-2008 17:07. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 21 time. You can leave a comment.
Views: 1851    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >