Nov
22
2008
Today

Who is Better Politician...
Attock
9°C
موخذہ ہوگا ؟۔یا۔ججز بحال ہوںگے ؟۔۔خدا خیر کرے PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
حکومتی اتحاد کی طرف سے صدر پرویز مشرف کے مواخذہ کے اعلان سے ملکی اور بین logo_younas_majaz.jpgالاقوامی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے ۔ا س سلسلہ میں مختلف سوالات وجوابات اورتبصرے میڈیا کی زینت بن رہے ہیں ۔کچھ سوالات وجوابات میرے ہمزاد’’بھولے ‘‘نے بھی مجھ سے پوچھے ہیں ۔مثلا٘وہ کہتا ہے ۔بابوجی!یہ چار ماہ بعد زردار ی صاحب کو اچانک مواخذے کی کیا سوجی ۔لگتاہے میاں نوازشریف نے انھیں باند ھ کر مروانے کی کوشش کی ہے ۔کیونکہ وہ پہلے دن سے ہی سیاست کی عروج پر ہیں ۔اور وہ اقتدار کی بازی اس شرط پر کھیل رہے ہیں ۔کہ جیتوں تو تجھے پاؤں۔۔ہاروں تو پیا تیری ۔شروع دن سے وہ جن دو باتوں پر اڑے ہوئے ہیں ۔ان میں ججز کی بحالی اور صدر مشر ف کا مواخذہ شامل ہیں ۔ججز کی بحالی پر تو گزشتہ چار ماہ سے آصف زرداری ان کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل ،کھیل رہے ہیں ۔لیکن میاں صاحب ان کے ہاتھ نہیں آرہے تھے ۔ پہلے مواخذے پر یقیناوہ اس لیے راضی ہوگئے ۔کہ چلومشرف صاحب سے لگے ہاتھوں حساب پہلے چکالیں۔ججز بعد میں بحال ہوں جائیں گے ۔لیکن بابو جی! آصف زرداری کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلے ۔اگر مشر ف صاحب حکومت کی ناکامی کا ڈھنڈورا کراچی اور بلوچستان میں نہ جا کر پیٹتے ۔جس سے یہ تاثر لیا گیا کہ کہیں مشرف صاحب لوہا گرم دیکھ کر58 ٹو ۔بی کا کلہاڑا نہ چلادیں ۔تو وہ یہ پتہ کبھی نہ کھیلتے ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جہاں مشرف کے دم قدم سے دونوں پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے ۔وہاں وہ اپنی حکومت کی ناکامیوں کا ذمہ دارمشرف کوٹھہراکر نہ صرف اس بھولی قوم کو بے وقوف بنا رہے تھے ۔بلکہ میاں صاحب کو بھی اسی بہانے رام کیے ہوئے تھے ۔کہ مشرف ججز کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔۔۔مگر بھولے !اب تو نہ صرف مشرف کے خلاف چارج شیٹ تیا ر کر لی گئی ہے۔ بلکہ حکمران اتحاد مشترکہ پارلیمان میں 350 ارکان کی حمایت کا دعویٰ بھی کر رہا ہے ۔لیکن با بو جی! مواخذہ ہو گا نہ جج بحال ہوں گے ۔کیونکہ یہاں بھی زرداری صاحب اپنے پتے بڑی ہوشیاری سے کھیل رہے ہیں ۔اسی لیے تو انھوں نے فورا٘مواخذہ کرنے کے بجائے ۔مشرف صاحب کو لمبا وقت دے دیا ہے ۔تا کہ وہ قوتیں بیچ میں آکر اپنا کام کر لیں۔ جنھوں نے انھیں این آر او کے ذریعے پھانسی کے پھندے سے بچانے اور میاں صاحب کی سعودی عرب سے باعزت واپس لانے میں اہم کردار اداکیا تھا ۔اور آپ دیکھ نہیں رہے ۔امریکہ،یورپی یونین ،دوبئی ۔ترکی،اور سعودی عرب متحرک ہوگئے ہیں ۔ اور وہ دونوں قائدین کو وہ وقت یاد دلارہے ہیں جب وہ بھی کاسہ گدائی لیے مفاہمت کہ بھیک مانگ رہے تھے ،اور مشرف نے اعلیٰ ظرفی (با امرے مجبوری )کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی مفاد میں ۔نہ صرف جلا وطن قائدین کو واپس آنے دیا۔ بلکہ زرداری صاحب تو این آر او کے صابن سے غسل کرکے پاک صاف بھی ہو چکے ہیں ۔حالانکہ کرپشن سے لتھڑی پوشاک انھیں میاں صاحب کے دور میں اس لیے پہنائی گئی تھی۔ کہ وہ بی بی صاحبہ کے پہلے دور میں مسٹر ٹن پرسنٹ، اور دوسرے دور میں سرے محل کی ملکیت کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے تھے ۔علاوہ ازیں مشرف صاحب نے صاف شفاف الیکشن کرواکر پرامن طریقے سے اقتداراپنے مخالفین کے حوالے کردیا ۔اور اگرپھربھی مشرف صاحب کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑگیا ۔تو وہ 58ٹو۔بی کا استعمال کبھی نہیں کریں گے ۔۔لیکن کیوں بھولے!۔ حالاں کہ مواخذے کی طرح ان کا بھی یہ آئینی اختیار ہے ۔کہ وہ اس حکومت کوچلتا کریں ۔جوچار مہینے میں سٹاک ایکسجینج کوپندرہ ہزار پوائنٹ سے دس ہزار تک ٓلے آ ئی ۔ ڈالر ساٹھ سے پچھتر روپے کا ہوگیا ۔زرِمباد لہ سولہ ارب ڈالر سے آٹھ ارب رہ گیا ۔سبسڈی واپس لے لی گئی ۔ نہیں بابو جی!اس سب کچھ کے باوجودبھی، وہ ایسا کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔کیونکہ میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ مشرف صاحب کو روشن خیالی کی سزا مل رہی ہے ۔جس کی دھن میں سرشار ہوکروہ حدود آرڈینس کوختم کرنے کے مرتکب ہوئے ۔اورآج تک اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہیں ۔اگر وہ پہلی غلطی پر ہی سجدہ سہوا کر لیتے تو آج یہ نوبت نہ آتی ۔یہ اسی غضب کا نتیجہ ہے کہ چیف جسٹس کی معزولی ،وانا،اور لال مسجدجیسے آپریشن اورآج تک کے کردہ ناکردہ سارے گناہ ،ان کے نامہ اعمال میں لکھ دیئے گئے ۔جن کیوجہ سے عوام میں وہ نفرت کا سمبل بن چکے ہیں ۔ اور عوام ان کے اس فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔جس کی وجہ سے شائد فوج اس بار سیاست میں مداخلت کی متحمل نہ ہوسکے ۔جس کا اظہار انھوں نے کور کمانڈر کی میٹنگ میں بھی کر دیا ہے ۔لیکن ان کے پاس کچھ آپشن باقی ہیں ۔ایک یہ کہ وہ پیپلز پارٹی کے انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، مولاناصاحب کورام کرکے موخذہ کی تحریک کو ناکام بنا دیں ۔جس کاآغازسندھ سے مخدوم جمیل الزمان کووزیراعلیٰ کا کارڈدکھاکر کردیاگیاہے۔جبکہ فاٹا کے ارکان نے بھی موقع غنیمت جانتے ہوئے ۔فاٹا میں آپریشن بند کرنے کی حکومت کوشرط رکھ دی ہے ۔جسے حکومت امریکہ کی ناراضگی کی وجہ سے ماننے سے قاصر ہے ۔اب حکومت پھنس گئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اجلاس تو بلوا لیا ہے ۔لیکن! نہ جائے رفتند نہ پائے رفتندکے مصادق اب اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تاکہ مشرف کو اسمبلی تحلیل کرنے کا موقع نہ مل سکے ۔جب کہ زرداری صاحب کی طرف سے صدر پر کرپشن کے الزام لگانے کے بعد ایک نیا پنڈورا بکس کھل گیا ہے ۔جوابا٘ صدر نے بھی کہا ہے۔ کہ حکومت احساس ایجنسیوں اور اہم ادروں پر اپنے آدمی لانے اور کشمیر پالیسی پر مروجہ اصولوں سے ہٹ کراقدامات کروانا چاہتی تھی ۔اور چند دنوں میں بعض واقعا ت ایسے رونما ہونے والے ہیں ،جن سے یہ تصدیق ہوجائے گی ۔میرے انکار پر خلاف ہوگئے ۔یوں احساس اداروں کو چھتے میں ہاتھ ڈالنے سے بہت کچھ الٹ پلٹ ہوجائے گا ۔اور اس موقف کے بعد صدر کی پوزیشن بھی مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔صدر کے پاس ایک راستہ عدالت کا بھی ہے ۔کیونکہ الزامات کی جب بات آئے گی تو یہ سوال اٹھے گا ۔کہ حکومت نے کون سی اپنی پالیسی دی ہے ۔فاٹا میں آپریشن سے لے کر معاشی پالیسیوں تک سب کچھ تو ویسا ہی چل رہا ہے ۔ جو کچھ مشرف دور میں تھا ۔بلکہ اس سے بھی دو ہاتھ آگے ۔کیا وہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں آپریشن جاری نہیں رکھے ہوئے ۔کیا انھوں نے ڈاکٹر قدیر کو رہا کر دیا ہے ؟۔اسطرح صدر کے پاس عدالت کا آپشن مضبوط ہوجائے گا ۔لیکن اگر کچھ بھی نہ ہوسکا ۔ تو بقول شاعر ۔۔۔(گر کچھ نہ بن سکا تو ڈبو دیں گے سفینہ اپنا ۔۔۔ساحل کی قسم منت طوفاں نہ کریں گے ۔) یعنی استعفیٰ کا آخری آ ؔپشن بھی ان کے پاس ہے ۔اور مزکورہ بالا قوتیں انھیں محفوظ راستہ بھی دلا دیں گی ۔جیسے میاں صاحب جیل سے سعودیہ اور زرداری صاحب جیل سے لندن چلے گئے تھے ۔کلٹن کا مواخذہ تو آزاد عدلیہ نے کیا تھا ۔یہاں نظریہ ضرورت اور ملکی مفاد کے نام پر سارا ملک لوٹ کر، ایک حصہ گنوا کر بھی ہمارے قائدین اور حکمران پارسا رہے ۔اللہ تعالیٰ اس ملک کو آزاد عدلیہ دلا دے ۔تو ہی کچھ بات بن سکتی ہے ۔جسے یہ حکمران اتنی آسانی سے کبھی نہیں آنے دیں گے ۔اور ملکی حالات اب ایسے ہوچکے ہیں ۔کہ اندرونی اور بیرانی خطرات ہماری دہلیز پر دستک دے رہے ہیں ۔اور ہم پھر اقتدار کی بندربانٹ کی راہ پر چل نکلے ہیں ۔خدا خیر کرے ۔اور اگر ان سب کے باوجود حکومت خوش قسمتی سے مواخذہ میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ تو پھر زرداری صاحب اگلا پتہ کھیلتے ہوئے بڑی پارٹی ہونے کے نام پر صدر اپنا لائیں گے۔ وہ خود بھی ہوسکتے ہیں۔ یو ں حکومت پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد ایگزیکٹو آڈر کے بجائے اپنے لائے ہوئے آئینی پیکج کے ذریعے ججز کی بحالی پراگر اڑے رہے۔ تو پھر میاں صاحب کی کیا پوزیشن ہو گی ؟۔اور یہ اتحاد کہا ں کھڑا ہو گا ؟کیا بے نظیر بھٹو مرحوم کا وہ پہلا دور واپس نہیں آجائے گا ؟۔جب پنجاب میں میاں صاحب کی حکومت تھی ۔کیا یہ ملک سیاست دانوں کی محازآرائی کے لیے بنایا گیا تھا؟ ۔کیا ہم مزید کسی محاز آرائی کے متحمل ہوسکتے ہیں ؟اس لیے جج پہلے بحال ہوجاتے تو شائد ۔۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو نس مجاز ۔۔۔رائے عامہ روڈ ۔۔۔ہری پور ۔۔۔فون نمبر 03018126146



13-08-2008 12:16 Younas Majaz
This entry was posted on 13-08-2008 12:16. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 2 time. You can leave a comment.
Views: 854    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >