پانچ ہزار افغانی امریکی بمباری میں قتل اب مذیداور۔۔۔؟
افغانستان کے پہاڑی و قبائیلی علاقوں اور دیگر اس کے حصّوں میں امریکہ کی
بمباری میں مسلسل لاکھوںافغانی اس کے حملوں کا شکار ہوکر ہلاک ہورہے ہیں۔
قریب پانچ ہزار افغانی باشندوں کو حالیہ سالون میں امریکی بمباری میں قتل
کرایا جاچکا ہے۔ افغانستان میں مسٹر جارج بش کے ایلچی صدر مسٹر حامد
کرزائی صاحب جن کو ایک بنکر میں بند کرکے رکھا گیاہے جس کی تصدیق مسٹر
بارک اوبامہ نے کی ہے۔وہ کوئی بھی کام اپنی مرضی سے نہیں کرتے ہیں۔ ان ہی
سے امریکی ہوائی حملوں کے اجازت نامہ پر دستخط لئے جاتے ہیں۔اور وہ
افغانستان کے عوام کے قتل کے پروانہ پر دستخط سے منظوری دیتے ہیں۔اور وہ
ابھی بھی وہا ں افغان عوام کو قتل کرانے کی حرکتوں سے باز نہیں آرہے۔وہاں
جو امریکی حملوں سے قتل کرائے جارہیں ۔ وہ دھشت گرد نہیںبلکہ امریکہ اور
کرزائی کے مخالفین ہیں۔ اب باقی مخالفین کا سفایا کرنے و کرانے کیلئے
ہندوستان کی اجازت چاہتے ہیں۔انہوں نے اپنے مخالفین سے سیاسی مقابلہ کرنے
کے بجائے ان کو القاعدہ و طالبان کا دھشت گرد بنا کر ان کو امریکہ کے
ہوائی حملوں سے ان کا قتل کیا جارہا ہے۔ لقاعدہ و طالبان ایک تخلیقی تحریک
ہے جو تخلیقی کیسٹوں سے امریکہ کی بش پارٹی کو سیاسی فائید ہ کے خاطر
امریکہ کے خلاف مصنوعی دھمکیاں دینے کیلئے تیار کی گئی ہے۔یہ تخلیقی تحریک
مسٹربارک اوبامہ کو دھمکیاں دے کر اس طرح ان کی سیاسی مدد نہیں کرتی
ہے۔جیسی کہ وہ مسٹر بش پارٹی کی کرتی ہے۔۔۔؟ فی الوقت حامد کرزائی
ہندوستانی لیڈروں سے بامصافحہ ملاقات کرکے وہ یہ بتا نا چاہتے ہیں ۔ کہ
ہندوستان کے سفارت خانہ پر حملہ پاکستان کی جمہوری حکومت نے کرایا تھا۔ جس
سے ہندوپاک دوستی میں دراڑ پڑ جائے۔جس سے ہندوستان بھی مذکورہ حکومت کو
دھشت گردوں کا ساتھی قرارد ے ۔اور ان سے اس کی سرزنش کرائے ۔ مذید مشرف
میاں سے ان کی جمہوری حکومت کو برخاست کرانے کا راستہ حکومت ہند اور
کرزائی ملکر ہموار کریں۔یہ پروگرام لیکر وہ یہاں کی قیادت سے بات کرنے
کیلئے بے چین و بے قرار ہیں۔ جبکہ یہ حملہ وہاں موجود امریکی فوج کی شرارت
معلوم پڑتا ہے ۔۔۔؟ جب افغانستان پرامریکہ کا پورا کنٹرول ہے۔تب وہاں
پاکستان نے کیسے حملہ کردیا۔بات صاف ہے۔ کہ پاکستان کی جمہوری حکومت
قبائیلی و پہاڑی علاقوں میں امریکہ و کرزائی کے سیاسی مخالفین پر امریکی
بمباری سے حملہ کرکے ان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔جس سے مسٹر جارج
بش اور مسٹر حامد کرزائی ۔پاکستان کے وزیر آعظم سید یوسف رضا گیلانی صاحب
اورپاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف سے حد درجہ ناراض ہیں۔اگر ان
کی جانب سے مذکورہ علاقوں پر امریکہ کے ناجائز ہوائی حملوں کی اجازت مل
جائے۔تو افغانستان میں ہندوستان کے سفارت خانہ پر حملہ کی زمہ داری تخلیقی
القاعدہ و طالبان کی تخلیقی کیسٹوں سے قبول کرادی جائے گی۔حکومت پاکستان و
نواز شریف کا اصرار ہے۔کہ بے قصور مخالفین کا قتل عام کسی بھی مسئلہ کا حل
نہیں۔ان سے گفت و شنید کی جانی چاہیئے۔امریکہ کا صدارتی الیکشن جیت نے
کیلئے حملوں کا استعمال تکلیف دہ ہے۔مبارک باد دینی پڑے گی۔مسٹر یوسف رضا
گیلانی کو کہ انہوںنے مسٹر جارج بش سے کہلوادیا ہے۔ کہ پاکستان کے قبائیلی
علاقوں میں امن پسند لوگ رہتے ہیں۔اس لئے جب مسٹر جارج بش صاحب یہ اعتراف
کررہے ہوں تو پھر وہا ں حملوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔۔؟کیونکہ حملے تو ان کی
سیاسی ضروت ہے۔اور وہ امن پسندوں پر ان کو شرارت پسند بناکر ان پر حملے
کرناچاہتے ہیں۔اس میں ان کا اپنا سیاسی مفاد ہے۔جس حصول کیلئے حامد کرزائی
کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ ان میں اپنا دماغ تو ہے نہیں۔ وہ امریکہ
اشارے پرسارا کام کرتے ہیں۔ اگر نہیں کریں گے۔ تو صدام حسین کی ان کو بھی
پھانسی کے پھندے میں جھولنا پٹرے گا۔ یا وہ جنرل ضیاء الحق کی طرح ہوائی
حادثہ میں قتل کردئے جائیں گے۔کیوںکہ وہ قیدی نما افغاانستان کے صدر
ہیں۔اس لئے امریکی اشاروں پر رقص کرنے علاوہ ان کے پاس کوئی اور کام نہیں۔
اور ان کی طرف سے افغانستانی عوام کو قتل کرانے کا سلسلہ مذید جاری رہے
گا۔ اور افغانستان کے پہاڑی علاقوں پر بسنے والوں پرامن شہریوں کو دھشت
گرد بناکر ان پر حملہ کے اجازت نامہ پر وہ قبل از وقت دستخط کرچکے ہیں۔ان
کی امریکی چاہت ہے۔کہ پاکستان کی جمہوری حکومت بھی ان کی تقلید کرے۔ وہ
بھی پاکستان کے قبائیلی علاقوں پرہوائی حملوں کے اجازت نامہ پر ان کی طرح
دستخط کردے۔ بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ ان کو افغان عوام پر حملہ کیلئے
ہندوستان کی طرف سے ہری جھنڈی ملتی ہے۔کہ نہیں اور امریکہ کے ہوائی حملے
پر ان کے ہمنوا بنتے ہیں کہ نہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ مسٹر حامد کرزائی
اپنے ہی ملک کے عوام پر حملہ کرانے کیلئے اِدھر اُدھر دوڑتے پھر رہے ہیں۔
بہرکیف پاکستان کے یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے عوام کو امریکہ کے سیاسی
ہوائی حملوںسے اپنے طور پر بچالیا ہے۔ یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ جس پر وہ
مبارک باد کے مستحق ہیں۔چونکہ امن وسلامتی ہندوپاک کے مفاد کا حصّہ ہے۔اس
لئے ذاتی طور پر ان کو ہندوستان کے دورہ کی دعوت دی جاسکتی ہے۔لیکن مسڑ
حامد کرزائی کا کیا کیا جائے۔جو اپنے عوام کو امریکی بمباری میں قتل کرانے
پر تلے ہیں۔ان کو اپنے ہی عوام پر ذرا برابر بھی رحم نہیں آرہا۔اور وہ ان
حملوں کے ذریعہ سے مسٹر بارک اوبامہ کے خلاف کام کیوں کررہے ہیں۔۔۔؟ آخر
وہ مسٹر بش اور ان کی جماعت کے اتنے وفادار کیوں ہیں۔ کہ اپنے لوگوں کی
بھی پروا نہیں کررہے؟ اب ان کا بھی محاسبہ ضروری ہے۔۔؟ ایاز محمود ۔۔۔ ایس ایل ہائوس آصف علی روڈ، نئی دہلی
This entry was posted on 12-08-2008 18:10. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 495
Views: 495