| نیلسن منڈیلہ..ایک مشعل راہ شخصیت |
|
|
|
ٹیگورکا
قول ہے.کہ روشنی جہاں سے ملے حاصل کرلو یہ نہ دیکھو کہ مشعل بردار کون ہے
جون کے مہینے میں. دنیا کے کونے کونے میں جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور
عظیم حریت پسند رہنما نیلسن منڈیلہ کی نناویں برسی دھوم دھام سے منائی
گئی.برسی کی تقریبات صرف افریقہ تک محدوود نہ تھیں بلکہ دنیا کے ہر اس
کونے اور ملک میں اسکی خدمات پر داد تحسین کے پھول برسائے گئے.جہاں آزادی
و حریت کی اعلی اقدار کوق چاہنے والے موجود ہیں.آزادی اور حریت کے اس
بلند ہمت لیڈر کا نام اتے ہی لوگ احترام سے سر نیچے کرلیتے ہیں.کیونکہ اس
مرد قلندر نے افرنگیوں کی غلامی میں جکڑی ہوئی اپنی دکھیاری قوم کو آزادی
دلوانے کے لئے طویل صبر ازما.کٹھن اور ناقابل لغزش جدوجہد کی.جسکا دورانیہ
دو چار یا دس سال نہیں بلکہ 28 سال ہے.وہ نسل پرست انگریزوں کی اٹھائیس
سالہ جبروت و سطوت کے سامنے ڈٹ گئے.قید و بند کی مصیبتوں کو خندہ پیشانی
سے برداشت کیا نیلسن کے حصے میں انے والی.قید و بند بھی عجیب اور نرالی
تھی.نیلسن منڈیلہ کو کیپ ٹاون سے دور ایک ایسے ڈراونے علاقے میں پابند
سلاسل رکھا گیا جہاں سیاہ فام قیدیوں سے چونے کے پہاڑوں میں چٹانیں کٹوانے
کی مشقت لی جاتی تھی.منڈیلہ کو بھی اس جہنم سے گزارا جاتا تھا.حالانکہ وہ
کوئی عام قیدی نہ تھا.بلکہ وہ شہرہ آفاق سیاست دان اور ملک کی اہم ترین
سیاسی جماعت افریقن نیشنل کانگرس پارٹی کا سرخیل تھا.جو قوم پرست گوروں کی
غلامی کی بیڑیوں میں جکڑی ہوئی سیاہ فام قوم کی اذادی کے لئے برسرپیکار
تھی..ویسے بھی سامراجیوں کی جیل میں قیدیوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں
ہوتے.قیدیوں کی سوچ تک پہرے بٹھادئیی جاتے ہیں.انہیں بولنے.احتجاج کرنے
اور حقوق مانگنے کی اجازت نہیں ہوتی. شکسپئیر کا قول ہے کہ مشکلات کو دور
کرنے خواہشات کو دبانے اور مصائب کو برداشت کرنے سے انسان کا کریکٹر مضبوط
اور پائیدار بن جاتا ہے.اور ایسے لوگ اپنی جہد مسلسل سے اپنی زندگی کا
ماٹو بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں. نسل پرست گورے جلادوں نے بھی
نیلسن سے مسلسل اٹھائیس سال تک چونے کے پتھر کٹوائے.لیکن سچ تو یہ ہے کہ
افرنگیوں کے جبر و الام سے بھر پور تمام ہتھیار منڈیلہ پر کند ہوگئے.اور
پھر پورے عالم نے یہ منظر بھی دیکھا.کہ یہی مرد آہن ایک روز اپنی قوم کا
بابائے آزادی بنا.منڈیلہ کی استقامت کے سامنے سامراجیت پاش پاش ہوگئی.اور
افریقہ کے غلام اور اچھوت سمجھے جانے والے سیاہ فام اپنے ملک کے مالک بن
گئے.نیلسن منڈیلہ کی کتابlong walk for freedom کو پڑھ کر پتھر دل ادمی
بھی خون کے آنسو روتا ہے.وہ عین شباب میں نسل پرستوں کے ہتھے چڑھے.اور
پیرانہ سالی میں دوبارہ آزاد فضاوں میں ہوا خوری کے قابل ہوئے.وہ1962 میں
پانجولاں قیدی بنائے گئے تو انکی عمر کا ہندسہ صرف41 سال تھا.عالمی دباو
پر نسل پرست جلادوں نے نوے کی دہائی میں انہیں چھوڑا تو اس وقت وہ ستر سال
سے کچھ کم تھے.پاکستان میں اعلی نسل کے سیاسی قیدیوں اور روسا ٹائپ مجرموں
کے لئے جیلوں میں محلات والا ماحول مہیا کیا جاتا ہے.ایرکنڈیشن کمرے.خدام
اور ہر قسم کی دنیاوی عیاشیاں ہمارے ہاں کوئی مسئلہ نہیں.ہمارے ہاں تو خیر
سے جیلوں میں امیرزادوں کی خوشی کے لئے جام و شراب اور مجروں تک کی
سہولیات مل سکتی ہیں.لیکن کیپ ٹاون میں ایسا نہ تھا.بلکہ منڈیلہ کی گردن
میںٹھائیس سال قید بامشقت کا شکنجہ کسا گیا.تاکہ وہ اعصابی طور پر ٹوٹ
پھوٹ جائے.اور اپنی ڈگر سے ہٹ جائے.منڈیلہ کی عظمت کو اس وقت افسانوی شہرت
نصیب ہوئی.جب وہ صبر ازما جدوجہد کے بعد جنوبی افریقہ کے حاکم بن گئے.وہ
چاہتے تو گورے نسل پرستوں سے انتقام چکا سکتے تھے.لیکن انہوں نے مخالفین
کو معاف کرکے وسیع القلبی کا قابل دید کارنامہ سرانجام دیا.منڈیلہ نے
اوللعزمی اور ابرمندانہ قیادت سے اپنے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر رواں
کردیا.سیاہ فاموں نے اج تک گورے نسل پرست فرعونوں کو سینے سے لگا یا ہوا
ہے.سیاسی استحکام کی بدولت ہی افریقن کمیونٹی اوج ثریا کی جانب محو پرواز
ہے .منڈیلہ کی چھٹی حس نے جان لیا تھا؛کہ اگر اس نے انتقام لینے کی غرض سے
ایک کنکر بھی اٹھا لیا تو اسکے ملک کی پوری دیوار گر جائے گی.بلکہ ملک کے
ایک کونے سے دوسرے کونے تک فرقہ واریت کی اگ سب کو بھسم کردے گی.اگر اس
قسم کے ہنگامے پھوٹتے تو یہ اگ دوسرے براعظموں تک پھیل جاتی.یوں اس مرد
درویش نے صرف اپنے ملک کو امن نہیں دیا.بلکہ اس کے صبر و تحمل اور قوت
برداشت نے پورے افریقن براعظم کو دنگوںو جنگوں اور حقارتوں سے
بچالیا.جنوبی افریقہ کے پڑوس میں زمبابوے نام کا ملک ہے.جو معدنی وسائل کی
گراں دولت سے مالا مال ہے.لیکن صدر رابرٹ موگابے کی نسل پرست تفریق اور
دیگر اقوام سے نفرت کے کارن زمبابووے میں پچھلی کئی دہائیوں سے برقہ
وارانہ فساد کے شعلے سلگ رہے ہیں جبکہ وہاں کی اکثریت بھوکوں مررہی ہے.کہا
جاتا ہے.کہ لیڈر شپ قوم بناتی ہے.اور کبھی یہ کہا جاتا ہے.کہ قومیں لیڈر
پیدا کرتی ہیں.لیکن تھوڑا ماضی کے صحراوں کی سیر کی جائے تو یہ سچائی
سامنے اتی ہے.کہ لیڈر ہی قوموں کی ترقی کے زمہ دار ہوتے ہیں.دور سامراجیت
میں جب ہندوستان کے مسلمان افرنگیوں کی ظلمت اور ہندووں کی ریاکاریوں سے
نبزد ازما تھے.اگر اس وقت ہمیں قائد ایسا بابصیرت و نڈر لیڈر قوم کی رہبری
نہ کرتا تو پاکستان نام کا ملک کبھی بھی عالمی نقشے پر نمودار نہ
ہوتا.لیکن ہماری بدبختی و سیاہ نصیبی کا اندازہ لگائیی.کہ ابھی قوم نے
قائد کی تابندہ و درخشندہ قیادت سے کوئی ثمر بھی حاصل کیا تھا.کہ وہ اپنی
بغل میں چھپے کھوٹے سکوں کی محلاتی سازشوں کے کارن دلبرداشتہ ہوئے اور
ہمیں ہمیشہ کے لئے یتیم بنا کر عالم بالا کو کوچ کرگئے.لیاقت علی خان کی
صورت میں ہمارے پاس ایک گرانقدر اثاثہ موجود تھا.جو قو کی کایا کلپ کرنے
کا ملکہ رکھتے تھے.لیکن اقتدار پرست ٹرائیکا جاگیرداروں.بیوروکریٹوں اور
جرنیلوں نے انہیں بھی تڑپا تڑپا کر قتل کروایا.قائد ملت کی موت دراصل
ہماری ان تباہیوں اور بربادیوں کا آغاز تھا.جنکے ڈریکولائی پنجوں نے ہمیں
اج بھی جکڑ رکھا ہے.پاکستان کے سابق صحافی انعام عزیز راولپنڈی سازش کیس
کو اپنی خود نوشت(یادوں) میں بے نقاب کرتے ہیں.لیکن ظلم تو یہ ہے کہ ملک
پر قابض پالیسی ساز اور ارباب بزرجمہر ان پردوں کے پیچھے چھپے چہروں کو نہ
تو بے نقاب کرتے ہیں اور نہ ہی ماضی کی لغزشوں سے سبق حاصل کرتے ہیں.انعام
عزیز کی تحقیق کے مطابق قائد ملت کو مقتل گاہ کی سیر کروانے والہ ٹولہ چار
قصابوں پر مشتعمل تھا .غلام محمد جو معزور اور لاچار تھے.لیکن بیوروکریسی
کے عیار و مکار کیپٹن تھے .یہی معذور قائد ملت کی رحلت کے بعد خواجہ ناظم
الدین کی جگہ گورنر جنرل بن گئے تھے.دوسرے مستانے نواب مشتاق گورمانی
تھے.جن کا پنجاب میں طوطی بولتا تھا.تیسرے چوہدری محمد علی تھے.جو بوگرہ
کی جگہ وزارت عظمی کے سنگھاسن پر بٹھائے گئے.چوتھے پاکستان میں آمریت کے
بانی میجر سکندر مرزا تھے.جنہوں نے اپنے کھاتے نہ صرف میں کئی غیر آئینی
اقدامات درج کروائے بلکہ نوزائیدہ ملک میں جمہوریت کی لنکا ڈھانے میں
بدترین کردار ادا کیا.غلام محمد نے اس مملکت خداداد میں اسمبلیوں کو چیرنے
پھاڑنے کا اعزاز حاصل کیا.جبکہ سکندر مرزا نے سب کو مات دے ڈالی.انہوں نے
پہلے آئین کے حصے بخرے کیی.ایوب خان کو وردی میں وزیر دفاع بنایا.مسلم
لیگ کی شیرازہ بندی کرکے بے ضمیروں کو کنونشنل لیگ کے ڈرائنگ روم میں یکسو
کیا.اور پھر ریاست میں مارشلا کی ایسی پرشکوہ بنیاد رکھی.کہ بعد میں فوجی
جرنیلوں نے ملکہ جمہور کا اتنا بلاتکار کیا؛کہ وہ ابھی تک اپنے جلوے
دکھانے میں ناکام ہے.لیاقت علی خان کے بعد قائد عوام نے بڑی حد تک سقوط
ڈھاکہ کا دلخراش دکھ سینے سے لگائے بکھرے ہوئے پاکستانی لوگوں کو پھر سے
قوم کے روپ میں ڈھال دیا.قوم بھٹو کی نگرانی میں شاہراہ جمہور پر اپنا سفر
جاری رکھے ہوئے تھی.کہ1977میں ایک اور فوجی ڈکٹیٹر نے جمہوریت کی بساط
لپیٹ کر ہمارے اوپر ایک دفعہ پھر شب دیجور مسلط کردی.بھٹو کے بعد اس قوم
کو کوئی منڈیلہ نہ مل سکا.کوئی ایسا طبیب حازق نہ ملا.جو دکھیاری اور یتیم
ب نی ہوئی قوم کے زخموں پر سکون کے پھاہے رکھتا.سکندر مرزا کے بعد جو طالع
ازما پاکستانی سیاست کی بساط پر کھیلنے ائے.وہ نہ بصیرت کے معاملے میں
گورے اور مادرزاد اندھے تھے بلکہ سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ سب لٹیرے تھے.ہر
ایک نے اپنے حواریوں سمیت اس ملک کے وسائل کو جی بھر کر لوٹا.ہر ایک نے
ملک کے زوال پر ایسی مہر ثبت کی.جس نے ملت کے جسم پر لگے ہوئے زخموں کو
ناسور بنادیا.پے درپے مسلط کی جانیوالی فوجی حکومتوں نے ملک کا حلیہ ہی
بگاڑ دیا.گو کہ اس وقت ملک میں ایک جمہوری حکومت قائم ہے.لیکن اسے ورثے
میں ایسے ہوشربا مسائل نصیب ہوئے ہیں.جو مستقبل قریب میں حل ہوتے نظر نہیں
اتے.پاکستان میں انصاف معدوم ہوچکا ہے.جس سماج کا چیف جسٹس اپنی حقوق کی
جنگ لڑنے کے لئے سڑکوں پر رل رہا ہو.بھلا وہاں عام ادمی کا کتنا استحصال
ہوتا ہوگا.اس کا اندازہ کرنا محال ہے.مہنگائی.غربت.بے روزگاری کا عفریت
روز بروز لوگوں خود کشیوں کے سمندر میں غرقاب کررہا ہے.جاگیردار ٹولہ اور
ایسٹیبلشمنبٹ کے گرو و ہرکارے قومی وسائل کو جی بھر کر لوٹ رہے
ہیں.لاقانونیت انتہاووں کو چھو رہی ہے. سیاسی افراتفری و انتشار نے ملک کی
سلامتی و یکجہتی کے سامنے سوالیہ نشان لگا دیا ہے .جمہوریت کی
پاسداری.قانون کی اتھارٹی اور آئین کی کبریائی قصہ پارینہ بن چکی
ہیں.قائد اعظم کی لیگ کا نام و نشان مٹ چکا ہے. افکار قائد دم توڑ
چکے.سیاست تجارت اور بددیانتی کی راہ اختیار کرچکی ہے.لوگوں کو مایوسیوں
اور محرومیوں نے لپیٹ رکھا ہے. فوجی حاکمیت.سویلین نظام حکمرانی.مرد مومن
والا اسلامی نظام ڈکٹیٹرشپ اور روشن خیالی نام کے تجربات ناکام
ہوگئے.ہیں.ان حالات میں پوری قوم نیلسن منڈیلہ کی راہ تک رہی ہے.کہ کوئی
ایسی لیڈرشپ منظر عام پر ائے.جو ملک کی اٹھانوے فیصد آبادی کو استحصالی و
سامراجی طبقے کی غلامی سے حقیقی ازادی دلاوائے.اور ہمارے ملک میں بھی وہی
جمہوریت رائج ہو.جسکا اظہار نیلسن منڈیلہ نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں
کیا ہے کہ ( کہ جمہوریت بادشاہت کا خاتمہ نہیں.بلکہ عوام کو بادشاہ بنانا
ہے) پی پی پاکستان کی معروف و عوامی جماعت ہے.پی پی کی اپر قیادت اور
گیلانی سرکار کو بھٹوز اور نیلسن منڈیلہ کی جدوجہد اور افکار سے رہنمائی
حاصل کرنی چاہیی.شائد ٹیگور نے ہمارے لئے ہی کہا ہو.کہ روشنی جہاں سے بھی
ملے سمیٹ لو یہ مت دیکھو کہ مشعل بردار کون ہے.
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 725