| ۔ہمیں بس ایک خدا کے حضور جھکنا ہے |
|
|
|
جو ں جوں وقت گزر رہا ہے پاکستان کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے
۔امریکہ ،بھارت اور
افغانستان کی کرزئی حکومت پر مشتمل ٹرائیکا اپنے اپنے
پتے کھیل رہی ہے ۔ایک طرف کرزئی بھارتی فوج افغانستان میں داخل کر رہے ہیں
۔اور بھارتی سفارت خانے اور احمد آباد کے بم دھماکوں کا الزام پاکستانی
خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر لگاکربھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی
کاماحول پیداکر رہے ہیں ۔جس میں بھارت کی منشابھی شامل ہے ۔دوسری جانب
امریکی سی آئی اے افغانستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر
طالبان کے روپ میں دہشت گردی کی کارو ائیاںکرنے میں مصروف ہے ۔تاکہ امن
مزکرات ناکام بنا نے کے ساتھ ساتھ پاکستانی قبائلی علاقوں میں کھلم کھلا
امریکی حملوں کا جواز پیدا ہوسکے ۔اور گزشتہ ادوار میں ہونے والے تمام امن
معائدوں کو ناکام کرنے میں ان ایجنسیوں کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں
۔ایک امریکہ اخبار نے لکھا ہے ۔کہ پاکستان میں سی آئی اے کے دو سو ایجنٹ
تعینات ہیں ۔یہ ایجنٹ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کو فنڈز اور انٹیلی جنس
معلومات فراہم کرتے ہیں ۔اور یہ امریکی ایجنسی کا عراق کے بعد دوسرا بڑا
آپریشن ہے ۔یہ سلسلہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد شروع کیا گیا
۔پاکستان میں سی آئی اے کے مشن کاٹاسک القاعدہ کے دوسرے یا تیسرے درجے کے
رہنماؤں کاپتہ لگاناہے۔لاس انیجلس ٹائمز نے یہ بھی لکھا ہے ۔کہ سی آئی
اے کے علاوہ بھی امریکی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار پاکستان میں متعین ہیں ان
سب کا مشترکہ دفتر اسلام آباد میں ہے جہاں پر ڈیٹا اکٹھا کرکے امریکہ
بھیجوایا جاتا ہے ۔حال ہی میں امریکہ ریاست ورجینیاں میں دی فارم کے نام
سے پہچانے جانے والے سی آئی اے کے تربیتی مرکز میں ادارے کے سیئنرحکام کا
اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں سٹیشن چیف نے مزید ایجنٹ بھیجوانے کی
درخواست پر پچاس اور اہلکار پاکستان تعینات کیے گئے ۔آئی ایس آئی کے
ساتھ معلومات کے تبادلہ کو ہی بنیاد بنا کر امریکہ نے آئی ایس آئی کے
خلاف الزامات کا طوفان اٹھا رکھا ہے ۔جس کی باز گشت وزیر اعظم پاکستان سید
یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ کے دوران بھی شدت سے سنائی دیتی رہی ۔اور
اسی بازگشت کے شوروغوغا میں یوسف رضا گیلانی اور ان کے وفد کو نہ صرف
حزیمت اٹھانی پڑی بلکہ سوائے دس سال پر محیط پندرہ ارب ڈالر کے لالی پاپ
اور عسکریت پسندوں کے خلاف ڈو مورکی تھپکی کے کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ الٹا
قبائلی علا قوں پر حملوں کے لیے امریکہ کے عزائم اور پختہ ہو گئے ہیں
۔راقم نے ان ہی کالموں میں وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل درخواست کی
تھی ۔کہ دورہ سے قبل پارلیمنٹ کا اجلاس بلاکر اعتماد میں لینے کے ساتھ
ساتھ تمام اسٹیک ہولڈر کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنا کر ہوم ورک مکمل کرکے
وزیراعظم کو امریکہ جانا چائیے ۔لیکن ایسا نہ تب کیا گیا اور نہ واپسی پر
اتنی حزیمت اٹھانے کے باوجود بھی ابھی تک پارلیمنٹ کو مزکورہ دورے کی
تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔جس کا اہتمام وزیر اعظم کے سارک کانفرنس
میں شرکت کے بعد واپسی پر ضروری ہے ۔کیونکہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں
۔کہ ملک کے اندر یکجہہتی کا ماحول پیدا ہو ۔اور اس سلسلہ میںاپوزیشن سمیت
دیگر سیاسی گروپوں کو بھی سیاسی سکور میں اضافہ کے بجائے ملکی سلامتی کو
درپیش خطرات کا ادراک کرنا ہو گا ۔لیکن اس سلسلہ میں حکومت کو اپنی انا
اور کلغی نیچی ہونے کے خیال سے ماورا ہوکرپہل کرنی ہوگی ۔اور حکومتی وزراء
کو امریکہ زبان بولنے کے بجائے اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے سبیل نکالنی ہوگی
۔اور جس امریکی امداد پر حکومتی کار پرداز پھولے نہیں سمارہے ۔اس پر
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے ۔کہ امداد میں اضافے کا تاثر محض پاکستانی
حکمرانوں کی خام خیالی ہے ۔ا گر غور کیا جائے تو آئندہ پانچ برسوں میں
امریکہ پاکستان کو جو امداد دینا چاہتا ہے وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ
بنتی ہے ۔جب کہ امریکہ اسرائیل کو اس سے کہیں زیادہ ڈھائی اور مصر کو ڈیڑھ
ارب ڈالر سالانہ فراہم کررہا ہے ۔موجودہ حالات میں پاکستان کی اہمیت کیا
مصر جیسی ہے۔امریکہ کو یہ دوغلہ پن ترک کرنا ہوگا ۔ادھر امریکہ نے اپنی جو
دفاہی پالیسی جاری کی ہے۔ اس سے امریکہ کے مستقبل کے عزائم کا ندازہ لگانا
مشکل نہیں ۔جس میں انھوں نے کہا ہے ۔کہ القاعدہ اور جنگجوؤں کے خلاف جنگ
کئی عشروں تک جاری رہے گی۔جب کہ فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ روائتی کے بجائے
غیر روائتی جنگ لڑنے میں مہارت حاصل کرے ۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے
مطابق دفاہی پالیسی جاری کرتے ہوئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے۔کہ
عراق اورافغانستان میں جاری اس جنگ کو مرکزی محاز کی حثیت حاصل ہوگی ۔اور
دنیامیں جہاں بھی انتہا پسندوں اور جارح پارٹیوں نے پناہ گائیں بنا رکھی
ہیں اور حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہی ہیں ۔وہاں پر ان ممالک کہ افواج کہ
مضبوطی اور غیر بندوبستی علاقے ختم کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل
کر کام کیا جائے گا ۔اور دفاعی حکمت عملی کے مطابق تباہ کن ہتھیاروں کا
پھیلاؤبڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔اس لیے اگر ضروری ہوا تو امریکہ اپنے
دشمنوں کی جارحیت کو روکنے کے لیے پیشگی حملے کرے گا۔اس کے علاوہ ہمیں ان
تباہ کن ہتھیاروں اور خصوسا٘ نیو کلئیر ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے
فوری ایکشن کے لیے تیار رہنا ہوگا۔جہاںپر ایک ریاست اپنے ان اثاثوں پر
کنٹرول کھو رہی ہوگی ۔اور اس سے پہلے کہ صورت حال گھمبیر ہوجائے اور یہ
تباہ کن ہتھیار ہم پر برس پڑیں ۔تو ہمیں ان تباہ کن ہتھیاروں کو چلنے سے
قبل ملک کے اندر یاباہر ان پر حملہ کر دینا چائیے ۔ ان آخری چند جملوں
میں رابرٹ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے وہ سب کچھ کہہ دیا ہے جو ہمارے حکمران
سننا نہیں چاہتے اور ہنوز دلی دور است کے مصادق ڈالروں کی چمک میں آنکھیں
چند یائے ہوئے ہیں ۔لیکن عوام کو ایک بار پھر جاگنا ہوگا ۔اس پاکستان کو
بچانے کے لیے جس کے قیام میں ان کے آباؤ اجداد کا خون بہا ہے ۔ورنہ
حکمرانوں کے جاگیرداد اور سرمایہ دار باب دادا گھوڑوں کی مالشوں کے عوض اس
وقت بھیء چین کی بانسری بجا رہے تھے اب بھی ہر ایک کے لیے ان ہی آقاؤں
کی نئی نسل ان غلاموں کو پناہ گائیں دے ہی دے گی ۔لیکن خدا نا خواستہ یہ
ملک نہ رہا یا عالمی غنڈوں نے اس کی بندر بانٹ کر دی تو یہ غریب عوام
افغانستان اور عراق کے عوام کی طرح جس کرب سے گزرے گی اس کا تصور بھی محال
ہے ۔اس لیے تخت یا تختہ ہی نظر میں رکھنا ہوگا ۔ کیو نکہ گیدڑ کی سو سالہ
زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی جیسا ماٹو ہمارے آباؤاجداد کا ہے ۔لیکن
اس سے قبل ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے ۔ہم اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی
کرتے ہوئے معزرت خوا ہ نا رویہ تبدیل کریں ۔اور امریکی خوف سے باہر نکلیں
جو خود سب کچھ خوف کے زیرِ اثر کر رہا ہے ۔اپنے اس شعر کے ساتھ اجازت
۔۔۔۔(ہمیں بس ایک خدا کے حضور جھکنا ہے ۔۔۔۔ہمیں کسی سے نہیں ہیں ضرورتیں
رکھنی )۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو نس مجاز ۔۔۔رائے عامہ روڈ ۔۔۔الحمید پلازہ۔۔۔ہری پور
فون نمبر 03018126146
افغانستان کی کرزئی حکومت پر مشتمل ٹرائیکا اپنے اپنے
پتے کھیل رہی ہے ۔ایک طرف کرزئی بھارتی فوج افغانستان میں داخل کر رہے ہیں
۔اور بھارتی سفارت خانے اور احمد آباد کے بم دھماکوں کا الزام پاکستانی
خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر لگاکربھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی
کاماحول پیداکر رہے ہیں ۔جس میں بھارت کی منشابھی شامل ہے ۔دوسری جانب
امریکی سی آئی اے افغانستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر
طالبان کے روپ میں دہشت گردی کی کارو ائیاںکرنے میں مصروف ہے ۔تاکہ امن
مزکرات ناکام بنا نے کے ساتھ ساتھ پاکستانی قبائلی علاقوں میں کھلم کھلا
امریکی حملوں کا جواز پیدا ہوسکے ۔اور گزشتہ ادوار میں ہونے والے تمام امن
معائدوں کو ناکام کرنے میں ان ایجنسیوں کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں
۔ایک امریکہ اخبار نے لکھا ہے ۔کہ پاکستان میں سی آئی اے کے دو سو ایجنٹ
تعینات ہیں ۔یہ ایجنٹ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کو فنڈز اور انٹیلی جنس
معلومات فراہم کرتے ہیں ۔اور یہ امریکی ایجنسی کا عراق کے بعد دوسرا بڑا
آپریشن ہے ۔یہ سلسلہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد شروع کیا گیا
۔پاکستان میں سی آئی اے کے مشن کاٹاسک القاعدہ کے دوسرے یا تیسرے درجے کے
رہنماؤں کاپتہ لگاناہے۔لاس انیجلس ٹائمز نے یہ بھی لکھا ہے ۔کہ سی آئی
اے کے علاوہ بھی امریکی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار پاکستان میں متعین ہیں ان
سب کا مشترکہ دفتر اسلام آباد میں ہے جہاں پر ڈیٹا اکٹھا کرکے امریکہ
بھیجوایا جاتا ہے ۔حال ہی میں امریکہ ریاست ورجینیاں میں دی فارم کے نام
سے پہچانے جانے والے سی آئی اے کے تربیتی مرکز میں ادارے کے سیئنرحکام کا
اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں سٹیشن چیف نے مزید ایجنٹ بھیجوانے کی
درخواست پر پچاس اور اہلکار پاکستان تعینات کیے گئے ۔آئی ایس آئی کے
ساتھ معلومات کے تبادلہ کو ہی بنیاد بنا کر امریکہ نے آئی ایس آئی کے
خلاف الزامات کا طوفان اٹھا رکھا ہے ۔جس کی باز گشت وزیر اعظم پاکستان سید
یوسف رضا گیلانی کے دورہ امریکہ کے دوران بھی شدت سے سنائی دیتی رہی ۔اور
اسی بازگشت کے شوروغوغا میں یوسف رضا گیلانی اور ان کے وفد کو نہ صرف
حزیمت اٹھانی پڑی بلکہ سوائے دس سال پر محیط پندرہ ارب ڈالر کے لالی پاپ
اور عسکریت پسندوں کے خلاف ڈو مورکی تھپکی کے کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ الٹا
قبائلی علا قوں پر حملوں کے لیے امریکہ کے عزائم اور پختہ ہو گئے ہیں
۔راقم نے ان ہی کالموں میں وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل درخواست کی
تھی ۔کہ دورہ سے قبل پارلیمنٹ کا اجلاس بلاکر اعتماد میں لینے کے ساتھ
ساتھ تمام اسٹیک ہولڈر کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنا کر ہوم ورک مکمل کرکے
وزیراعظم کو امریکہ جانا چائیے ۔لیکن ایسا نہ تب کیا گیا اور نہ واپسی پر
اتنی حزیمت اٹھانے کے باوجود بھی ابھی تک پارلیمنٹ کو مزکورہ دورے کی
تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔جس کا اہتمام وزیر اعظم کے سارک کانفرنس
میں شرکت کے بعد واپسی پر ضروری ہے ۔کیونکہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں
۔کہ ملک کے اندر یکجہہتی کا ماحول پیدا ہو ۔اور اس سلسلہ میںاپوزیشن سمیت
دیگر سیاسی گروپوں کو بھی سیاسی سکور میں اضافہ کے بجائے ملکی سلامتی کو
درپیش خطرات کا ادراک کرنا ہو گا ۔لیکن اس سلسلہ میں حکومت کو اپنی انا
اور کلغی نیچی ہونے کے خیال سے ماورا ہوکرپہل کرنی ہوگی ۔اور حکومتی وزراء
کو امریکہ زبان بولنے کے بجائے اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے سبیل نکالنی ہوگی
۔اور جس امریکی امداد پر حکومتی کار پرداز پھولے نہیں سمارہے ۔اس پر
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے ۔کہ امداد میں اضافے کا تاثر محض پاکستانی
حکمرانوں کی خام خیالی ہے ۔ا گر غور کیا جائے تو آئندہ پانچ برسوں میں
امریکہ پاکستان کو جو امداد دینا چاہتا ہے وہ صرف ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ
بنتی ہے ۔جب کہ امریکہ اسرائیل کو اس سے کہیں زیادہ ڈھائی اور مصر کو ڈیڑھ
ارب ڈالر سالانہ فراہم کررہا ہے ۔موجودہ حالات میں پاکستان کی اہمیت کیا
مصر جیسی ہے۔امریکہ کو یہ دوغلہ پن ترک کرنا ہوگا ۔ادھر امریکہ نے اپنی جو
دفاہی پالیسی جاری کی ہے۔ اس سے امریکہ کے مستقبل کے عزائم کا ندازہ لگانا
مشکل نہیں ۔جس میں انھوں نے کہا ہے ۔کہ القاعدہ اور جنگجوؤں کے خلاف جنگ
کئی عشروں تک جاری رہے گی۔جب کہ فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ روائتی کے بجائے
غیر روائتی جنگ لڑنے میں مہارت حاصل کرے ۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے
مطابق دفاہی پالیسی جاری کرتے ہوئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے۔کہ
عراق اورافغانستان میں جاری اس جنگ کو مرکزی محاز کی حثیت حاصل ہوگی ۔اور
دنیامیں جہاں بھی انتہا پسندوں اور جارح پارٹیوں نے پناہ گائیں بنا رکھی
ہیں اور حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہی ہیں ۔وہاں پر ان ممالک کہ افواج کہ
مضبوطی اور غیر بندوبستی علاقے ختم کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل
کر کام کیا جائے گا ۔اور دفاعی حکمت عملی کے مطابق تباہ کن ہتھیاروں کا
پھیلاؤبڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔اس لیے اگر ضروری ہوا تو امریکہ اپنے
دشمنوں کی جارحیت کو روکنے کے لیے پیشگی حملے کرے گا۔اس کے علاوہ ہمیں ان
تباہ کن ہتھیاروں اور خصوسا٘ نیو کلئیر ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے
فوری ایکشن کے لیے تیار رہنا ہوگا۔جہاںپر ایک ریاست اپنے ان اثاثوں پر
کنٹرول کھو رہی ہوگی ۔اور اس سے پہلے کہ صورت حال گھمبیر ہوجائے اور یہ
تباہ کن ہتھیار ہم پر برس پڑیں ۔تو ہمیں ان تباہ کن ہتھیاروں کو چلنے سے
قبل ملک کے اندر یاباہر ان پر حملہ کر دینا چائیے ۔ ان آخری چند جملوں
میں رابرٹ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے وہ سب کچھ کہہ دیا ہے جو ہمارے حکمران
سننا نہیں چاہتے اور ہنوز دلی دور است کے مصادق ڈالروں کی چمک میں آنکھیں
چند یائے ہوئے ہیں ۔لیکن عوام کو ایک بار پھر جاگنا ہوگا ۔اس پاکستان کو
بچانے کے لیے جس کے قیام میں ان کے آباؤ اجداد کا خون بہا ہے ۔ورنہ
حکمرانوں کے جاگیرداد اور سرمایہ دار باب دادا گھوڑوں کی مالشوں کے عوض اس
وقت بھیء چین کی بانسری بجا رہے تھے اب بھی ہر ایک کے لیے ان ہی آقاؤں
کی نئی نسل ان غلاموں کو پناہ گائیں دے ہی دے گی ۔لیکن خدا نا خواستہ یہ
ملک نہ رہا یا عالمی غنڈوں نے اس کی بندر بانٹ کر دی تو یہ غریب عوام
افغانستان اور عراق کے عوام کی طرح جس کرب سے گزرے گی اس کا تصور بھی محال
ہے ۔اس لیے تخت یا تختہ ہی نظر میں رکھنا ہوگا ۔ کیو نکہ گیدڑ کی سو سالہ
زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی جیسا ماٹو ہمارے آباؤاجداد کا ہے ۔لیکن
اس سے قبل ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے ۔ہم اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی
کرتے ہوئے معزرت خوا ہ نا رویہ تبدیل کریں ۔اور امریکی خوف سے باہر نکلیں
جو خود سب کچھ خوف کے زیرِ اثر کر رہا ہے ۔اپنے اس شعر کے ساتھ اجازت
۔۔۔۔(ہمیں بس ایک خدا کے حضور جھکنا ہے ۔۔۔۔ہمیں کسی سے نہیں ہیں ضرورتیں
رکھنی )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو نس مجاز ۔۔۔رائے عامہ روڈ ۔۔۔الحمید پلازہ۔۔۔ہری پور
فون نمبر 03018126146
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 717