| ملک کھنڈر بن جائے گا تب ہوش آے گی |
|
|
|
گزشتہ
پانچ چھ سال سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو جس طرح 'دہشت گردی ک
ی جنگ کے
نام پر آگ میں جھونکا جا رہا ہے اسکا اندازہ اب پاکستان کے عوام ،
سیاستدانوں اور حکمرانوں کو ضرور ہوچکاہے۔ملک جن مسائل سے دوچار ہے ان میں
کمی آنے کے بجائے اضافہ ہو تا جا رہا ہے جو جنگ کبھی ملک کے شمالی علاقوں
تک محدود تھی وہ شہروں کی طرف پھیلنا شروع ہو گئی ہے اس کو پھیلا نے میں
اندرونی اور بیرونی قوّتیں کارفرما ہیں۔ ان طاقتوں کو صر ف اپنے مفادات
عزیز ہیں اور ان مفادات کی خاطر ان طاقتوں نے پاکستان پر ایک ایسی جنگ
مسّلط کروا دی ہے جسکا انجام نہایت بھیانک اور تباہی و بربادی کے علاوہ
کچھ نہیںیہ" 'تباہی وبربادی "کیا ہے؟اس کا اندازہ لگانے کے لئے کسی ارسطو
کے ذہن اور عقل کی ضرورت نہیں۔۔پاکستان کے قائم ہونے کے ساتھ ہی سے ہم یہ
سنتے آرہے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے وہ نازک دور تو ہم کسی نہ
کسی طرح بھگتا ہی لیا مگر ملک اب خانہ جنگی کی طرف بڑ ھ رہا ہے اس سے
نکلنے کی کوئی صورت اس لئے نظر نہیں آرہی کہ جو اندرونی و بیرونی طاقتیں
ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کی کیفیات پیدا کر رہی ہیں ان کا اس"
کاروبار " میں فائدہ ہی فائدہ ہے لیکن ملک کے لوگوں اور سیاستدانون کو بھی
ان خطرات کا ادراک نہیں ہو پا رہا اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے کیونکہ جو
لوگ نہ ہی اپنے دین سے اور نہ ہی انسانیت سے وفادار ہیں انہیں ہم اپنا
۔"نجات دھندہ "سمجھ کر ان کی حمائیت کر رہے ہیں ہم انہی کالموں میں متعدد
بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ انتہاہ پسندی ایک وائرس کی طرح معاشرے
کی رگوں میں پھیلتی جا رہی ہے اس پر قابو پانا آج کا سب سے بڑا مسلہ ہے
،انتہاہ پسندوں کی سرگرمیاں اب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہیں اور یہ بات
بھی اب ثابت ہو گئی ہے کہ انتہا پسند نہ ہی ملک کے اور نہ ہی ملت کے خیر
خواہ ہیں ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں بھی بدنام ہو رہے
ہیں اور ملکی سطح پر بھی نقصان اٹھا رہے ہیں ،یہ لوگ بچیوں کے سکولوں کو
آگ لگا رہے ہیں ،بچوں کو پولیو کے قطرے تک نہیں پلانے دیتے ،پھر بھی اگر
معاشرے کے کچھ طبقات میں ان کے لئے ہمدردیاں موجود ہیں تو پھر اس معا شرے
کا اللہ ہی حافظ ہے ،کراچی اور مطفر گڑھ تک ان کی سرگرمیاںبڑھ چکی ہیں ۔
صوبہ سرحد کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کرنے کے بعد یہ لوگ پنجاب اور سندھ میں داخل ہو چکے ہیں اخبارات کی خبروں کے مطابق یہ لوگ وہاں بھی بچیوں کے سکولوں کو بند کرانے کے لئے دھمکی آمیز خط لکھ رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے مظفر گڑھ کے لوگ تشویش کا شکار ہو رہے ہیں گو کہ ابھی ان لوگوں نے وہاں کوئی واردت نہیں کی مگر خوف پھیلانے میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں ،ایم کے ایم کے قائدالطاف حسین نے بر وقت ان خطرات کو محسوس کرتے ہوے کراچی کے لوگوں کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے اور حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی سر گرمیوں کو روکے ،دیکھا جائے تو حکومت نے اب تک جتنے بھی مزاکرات ان گروہوں سے کئے ہیں کچھ دیر کی خاموشی کے بعد یہ لوگ پھر اپنی کاروائیاں شروع کر دیتے ہیں ،اور حکومت کو مجبورا ان کے خلاف کاروائی کرنی پڑتی ہے ،ان کاروائیوں کے دوران سینکروں فوجی جوان اور کئی پولیس والے جاں بحق ہو چکے ہیں ،حکومت جب بھی ان کے خلاف کوئی سخت کاروائی کا ارادہ کرتی ہے تو ہماری سیاسی و مذہبی جماتیں صرف حکومت مخالفت کی بنا پر حکومت پر دباوء بڑھانا شروع کر دیتی ہیں جس سے ان شر پسند گروہوں کے حوصلے مزید بڑھ جاتے ہیں اور یہ لوگ پاکستانی شہریوں کے خلاف اور زیادہ شدت سے کاروائیاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
ملک سے محبت رکھنے والے فمیدہ طبقوں میں ملکی صورت حال کے حوالے سے کافی تشویش پا ئی جا رہی ہے اور وہ بار بار مقتدر قوتوں کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حالات پر قابو پانے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں کیوںکہ اس وقت اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ انتہاہ پسندوں کی بڑھتی ہوئی کاروائیاں ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا پاکستان کے خلاف ہوتی جا رہی ہے اور اتحادی فوجوں کی جانب سے بھی حملہ کرنے کی دھمکیوں میں اضافہ ہو تا جارہا ہے بلکہ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر آکر کاروائی کرنے کے کئے بہانے تلاش کر رہی ہیں ۔اوروہ بہانہ انتہا پسند اپنی کاروائیوں کے ذریعے فراہم کر رہے ہیں ،اگر ابھی تک پاکستان کے اندر کوئی بڑی کاروائی نہیں کی گئی تو اس کی وجہ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرے گی بلکہ وہ خود انتہا پسندوں کے خلاف موثر کاروائی کرے گی ، اور حکومت کو اس ضمن میں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں ۔
لیکن ان لوگوں کو بھی اس ملک کے بیس کروڑ نہتے عوام کی حالت پر رحم فرمانا چاہیی جو بات بات پر امریکہ سے ٹکرا جانے کی باتیں کرتے ہیں اور ایک مومن دس کافروں پر بھاری ہونے کا فریب قوم کو دے رہے ہیں جبکہ اس ملک کے "مومنوں "کی حالت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے ہی بھائی بندوں کے گلے کاٹ اور املاک کو لوٹ رہے ہیں ان مومنوں کے فہم کا یہ عالم ہے کہ یہ لوگ بچیوں کاتعلیم حاصل کرنااور بیماریوں سے بچنے کے لئے پولیو کے قطرے پلانے کو کفر سمجھتے ہیں ،کیا جب یہ ملک کھنڈر بن جائے گا تب ہوش آئے گی۔۔ ؟
ی جنگ کے
نام پر آگ میں جھونکا جا رہا ہے اسکا اندازہ اب پاکستان کے عوام ،
سیاستدانوں اور حکمرانوں کو ضرور ہوچکاہے۔ملک جن مسائل سے دوچار ہے ان میں
کمی آنے کے بجائے اضافہ ہو تا جا رہا ہے جو جنگ کبھی ملک کے شمالی علاقوں
تک محدود تھی وہ شہروں کی طرف پھیلنا شروع ہو گئی ہے اس کو پھیلا نے میں
اندرونی اور بیرونی قوّتیں کارفرما ہیں۔ ان طاقتوں کو صر ف اپنے مفادات
عزیز ہیں اور ان مفادات کی خاطر ان طاقتوں نے پاکستان پر ایک ایسی جنگ
مسّلط کروا دی ہے جسکا انجام نہایت بھیانک اور تباہی و بربادی کے علاوہ
کچھ نہیںیہ" 'تباہی وبربادی "کیا ہے؟اس کا اندازہ لگانے کے لئے کسی ارسطو
کے ذہن اور عقل کی ضرورت نہیں۔۔پاکستان کے قائم ہونے کے ساتھ ہی سے ہم یہ
سنتے آرہے ہیں کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے وہ نازک دور تو ہم کسی نہ
کسی طرح بھگتا ہی لیا مگر ملک اب خانہ جنگی کی طرف بڑ ھ رہا ہے اس سے
نکلنے کی کوئی صورت اس لئے نظر نہیں آرہی کہ جو اندرونی و بیرونی طاقتیں
ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کی کیفیات پیدا کر رہی ہیں ان کا اس"
کاروبار " میں فائدہ ہی فائدہ ہے لیکن ملک کے لوگوں اور سیاستدانون کو بھی
ان خطرات کا ادراک نہیں ہو پا رہا اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے کیونکہ جو
لوگ نہ ہی اپنے دین سے اور نہ ہی انسانیت سے وفادار ہیں انہیں ہم اپنا
۔"نجات دھندہ "سمجھ کر ان کی حمائیت کر رہے ہیں ہم انہی کالموں میں متعدد
بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ انتہاہ پسندی ایک وائرس کی طرح معاشرے
کی رگوں میں پھیلتی جا رہی ہے اس پر قابو پانا آج کا سب سے بڑا مسلہ ہے
،انتہاہ پسندوں کی سرگرمیاں اب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہیں اور یہ بات
بھی اب ثابت ہو گئی ہے کہ انتہا پسند نہ ہی ملک کے اور نہ ہی ملت کے خیر
خواہ ہیں ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں بھی بدنام ہو رہے
ہیں اور ملکی سطح پر بھی نقصان اٹھا رہے ہیں ،یہ لوگ بچیوں کے سکولوں کو
آگ لگا رہے ہیں ،بچوں کو پولیو کے قطرے تک نہیں پلانے دیتے ،پھر بھی اگر
معاشرے کے کچھ طبقات میں ان کے لئے ہمدردیاں موجود ہیں تو پھر اس معا شرے
کا اللہ ہی حافظ ہے ،کراچی اور مطفر گڑھ تک ان کی سرگرمیاںبڑھ چکی ہیں ۔صوبہ سرحد کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کرنے کے بعد یہ لوگ پنجاب اور سندھ میں داخل ہو چکے ہیں اخبارات کی خبروں کے مطابق یہ لوگ وہاں بھی بچیوں کے سکولوں کو بند کرانے کے لئے دھمکی آمیز خط لکھ رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے مظفر گڑھ کے لوگ تشویش کا شکار ہو رہے ہیں گو کہ ابھی ان لوگوں نے وہاں کوئی واردت نہیں کی مگر خوف پھیلانے میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں ،ایم کے ایم کے قائدالطاف حسین نے بر وقت ان خطرات کو محسوس کرتے ہوے کراچی کے لوگوں کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے اور حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی سر گرمیوں کو روکے ،دیکھا جائے تو حکومت نے اب تک جتنے بھی مزاکرات ان گروہوں سے کئے ہیں کچھ دیر کی خاموشی کے بعد یہ لوگ پھر اپنی کاروائیاں شروع کر دیتے ہیں ،اور حکومت کو مجبورا ان کے خلاف کاروائی کرنی پڑتی ہے ،ان کاروائیوں کے دوران سینکروں فوجی جوان اور کئی پولیس والے جاں بحق ہو چکے ہیں ،حکومت جب بھی ان کے خلاف کوئی سخت کاروائی کا ارادہ کرتی ہے تو ہماری سیاسی و مذہبی جماتیں صرف حکومت مخالفت کی بنا پر حکومت پر دباوء بڑھانا شروع کر دیتی ہیں جس سے ان شر پسند گروہوں کے حوصلے مزید بڑھ جاتے ہیں اور یہ لوگ پاکستانی شہریوں کے خلاف اور زیادہ شدت سے کاروائیاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
ملک سے محبت رکھنے والے فمیدہ طبقوں میں ملکی صورت حال کے حوالے سے کافی تشویش پا ئی جا رہی ہے اور وہ بار بار مقتدر قوتوں کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حالات پر قابو پانے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں کیوںکہ اس وقت اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ انتہاہ پسندوں کی بڑھتی ہوئی کاروائیاں ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا پاکستان کے خلاف ہوتی جا رہی ہے اور اتحادی فوجوں کی جانب سے بھی حملہ کرنے کی دھمکیوں میں اضافہ ہو تا جارہا ہے بلکہ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر آکر کاروائی کرنے کے کئے بہانے تلاش کر رہی ہیں ۔اوروہ بہانہ انتہا پسند اپنی کاروائیوں کے ذریعے فراہم کر رہے ہیں ،اگر ابھی تک پاکستان کے اندر کوئی بڑی کاروائی نہیں کی گئی تو اس کی وجہ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرے گی بلکہ وہ خود انتہا پسندوں کے خلاف موثر کاروائی کرے گی ، اور حکومت کو اس ضمن میں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں ۔
لیکن ان لوگوں کو بھی اس ملک کے بیس کروڑ نہتے عوام کی حالت پر رحم فرمانا چاہیی جو بات بات پر امریکہ سے ٹکرا جانے کی باتیں کرتے ہیں اور ایک مومن دس کافروں پر بھاری ہونے کا فریب قوم کو دے رہے ہیں جبکہ اس ملک کے "مومنوں "کی حالت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے ہی بھائی بندوں کے گلے کاٹ اور املاک کو لوٹ رہے ہیں ان مومنوں کے فہم کا یہ عالم ہے کہ یہ لوگ بچیوں کاتعلیم حاصل کرنااور بیماریوں سے بچنے کے لئے پولیو کے قطرے پلانے کو کفر سمجھتے ہیں ،کیا جب یہ ملک کھنڈر بن جائے گا تب ہوش آئے گی۔۔ ؟
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 493