| اگر ملک کو ٹوٹنے سے بچانا ہے تو |
|
|
|
مورخہ 30جولائی کو پاک فورسز کے سوات آپریشن راہ ِ حق کے دوسرے مرحلے میں
ہونے والی کاروائیوں کے نتیجے میں جہاں بہت سے افراد مارے گئے وہاں تحصیل
مٹہ میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں میں طالبان
کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ایک اہم رہنما مولوی حسین علی عرف طور ملا ،
عبد الرحمن اور ابن عقیل سمیت 10دوسرے کمانڈر بھی مارے گئے جبکہ پاکستانی
فورسز کا ایک کیپٹن، ایک جے سی او کے علاوہ تین جوان بھی جان بحق ہوئے۔
طالبان نے اس دوران مالم جبہ میں ٹوراز کارپوریشن کے اس ہوٹل کے باقی
ماندہ حصے کو بھی بارود سے اڑا دیا جسے گذشتہ ماہ سو سے زائد طالبان نے
تباہ کر دیا تھامزید یہ کہ گاڑہ کو رونیال سے ملانے والا پل بھی بم دھماکے
سے اڑا دیااور اس کے بعد تو ایک تسلسل یہ خبریں آتی رہیں کہ بہت ساری
سرکاری تنصیبات کے علاوہ بہت سارے اسکول جن میں لڑکیوں کے اسکول سرِ فہرست
تھے تباہ و برباد کر دیئے گئے۔یہ تو تھی اس سانحہ کی مختصر روئیداد جو گذشتہ دن (30جولا ئی) کوسوات میں وقوع پذیر ہوا ، ان علاقہ جات میں اسطرح کی صورتحال یوں ہی پیدا نہیں ہوگئی بلکہ اس کے پیچھے سازش کی صورت میں سالوں کی محنت اور کوشش نظر آتی ہے،طالبانی گروہ ایک مخصوص مسلک سے وابستہ ہے جو قیامِ پاکستان کا انتہائی مخالف تھا جس کو ماضی میں حکومتی سطح پر (خاص طور پر ضیاء الحق کے دور میں) بھرپور سرپرستی ملتی رہی اور پورے ملک کو اس کے زیرِ اثر لانے کی سعی لاحاصل ہوتی رہی یہ کوشش اس رنگ میں تو کامیاب نہ ہوسکی ہاں البتہ طالبان نما افراد کی سرگرمیاں پورے ملک میں کسی نہ کسی رنگ میں پورے عروج پر ضرور دکھائی دینے لگی ہیں جن میں جگہ جگہ مختلف تنظیمی ناموںکے ساتھ ان افراد کے اجتماعات سے لیکر بزورِ طاقت اپنی بات منوانے کے لئے دھمکیاں دینا بھی شامل ہے اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں اپنے ہی ہم وطنوں کی جانوں سے کھیلنا بھی معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ان لوگوں کی آئے دن کی کاروائیوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جا تی ہے کہ ان کو نہ تو پہلے پاکستان کی سا لمیت سے کوئی سروکار تھا اور نہ ہی اب اس کے قوانین کی ان کے ہاں کوئی قدرو منزلت ہے ۔
سوات میں ان لوگوں کے خلاف حکومتی فورسز کی ہونے والی کاروائیوں کے ضمن جب بہت سارے طالبان مارے گئے تو طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ "سرحد حکومت نے سوات میں دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے، وہ سوات آپریشن کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جائے، باچا خان کے پیروکارخون کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ سرحد حکومت نے سوات امن معاہدہ کے نام پر تحریک طالبان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، سوات امن معاہد ہ کی اب کوئی حیثیت نہیں، احتیاط سے کام نہ لیا تو تحریک طالبان پورے ملک میں انتشار پھیلانے سے گریز نہیں کریگی۔ سوات کو ہم تحریک طالبان کیخلاف کاروائی تصور کر تے ہیں، سوات میں فوجی آپریشن کا بدلہ ذمہ دار حکومتی ہلکاروں سے لیا جائیگا جس سے ملک کے حالا ت خراب ہو جائیں گے۔ مقامی طالبان نے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی اور وزراء سے مستعفی ہونیکا مطالبہ کیا ہے اور مستعفی نہ ہونے کی صورت میںانکے خلاف کاروائی کی دھمکی دی ہے۔"۔ مولوی عمر کے بیان کے بعد یہ بات بھی پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کسی اور ہاتھ نہیں تھا بلکہ یہ انہی لوگوں کی باہمی کشمکش کا شاخسانہ تھا جو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے معصوموں کواپنا آلہ کار بناتے ہوئے ان سے دھماکے کرواتے رہے ہیں کیونک ہر ہونے والے دھماکے کے بعد جو بھی شواہد ملے ان سے ایک ہی قدر مشترک چیز سامنے آ ئی وہ یہ کہ دھماکے کرنے والے بالی عمر کے لڑکے ہی تھے۔
گذشتہ کئی مہینوں سے سوات، مالاکنڈ ، دیر ، خیر ایجنسی اور دیگر شمالی علاقوں میںجاری یورش کے بعد ہر ذی شعور یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اب کیا ہو گا؟ اس سوال کا اگرپوری دیانتداری سے جائزہ لیا جائے تو اس کا ایک ہی جواب بنتاہے کہ اس سوچ اور قبیل کے لوگ چاہے طالبان ہوں یا طالبان نما کوئی اور یا وہ جو خود کوکسی گدی کا نشین(وارث)، شیخ الالسلام، خلیفہ، پیرکامل، عالم ، ملاں یا نتھو پتھو سمجھتا ہے کے بارے میں یقین کرلیں کہ وہ انہی بد روحوں میں سے ہے جن کی بابت میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت میں میری امت کے علماء روئے زمین پر وقت کی بد ترین مخلوق ہونگے اور ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان بد روحوں نے منافقت کے کیسے کیسے لبادے اوڑھ رکھے ہیں اور مذہب کو تجارت بنا کے رکھ دیا ہے اور اس تجارت کی آر میں بھائی کو بھائی سے لڑا نے کے علاوہ ایک دوسرے کے خون کا پیاسا کر دیا۔
ہمارا ملک جو شروع دن سے ہی کبھی فوجی بوٹوں تلے آگیا تو کبھی سیاسی لٹیروں کی ہوس کا نشانہ بنا تو کبھی مذہبی جنونیوں کے ہتھے چڑھ گیا، ہر لمحہ اس کی سا لمیت خطرے میںہی گھری رہی اوراسی کشمکش میں دو ٹکڑے ہوگیا اور اب اس کی سا لمیت مذہبی جنونیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ ملک پہلے اپنوں کی خودغرضیوںاور سیاسی محرومی کی بنا پر دولخت ہوا تھا اور اب اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو اس کا کارن ہمارے یہی مذہبی جنونی ہونگے ا۔ اگرملک کی سا لمیت عزیز ہے اور اس کو ٹوٹنے سے بچانا ہے تو پھر ان جنونیوں کا راستہ پوری قوت اور طاقت سے روکنا ہوگا وگرنہ پھر اس ملک کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ اسلام اسلام کی رٹ لگانے والے لوگوں کو مسلسل گمراہ کر رہے اور نعرے لگا رہے ہیں کہ وہ ملک میں نظام شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ انہیں خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ناممکنات میں سے ہے کیونکہ جب کسی خطے اور ملک میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے ہوں تو پھر وہاں کسی ایک مذہب کے مذہبی قوانین نافذ ہو ہی نہیں سکتے بلکہ اس صورت میں ایسے قوانین پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو سب کو قابلِ قبول ہوں ، ہمارے بعض نادان دوست ایران اور سعودی عرب کی مثال دیتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہاں غالب اکثریت ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کی ہے نہ کہ ہماری طرح جو بے شمار مذاہب کی سرزمین ہے۔
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 916