Nov
22
2008
Today

Who is Better Politician...
Attock
9°C
.ایجنسیوں کی کتربیونیت کا خاتمہ ضروری کیوں..؟ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
بابائے قوم حضرت قائداعظم نے فرمایا تھا.کہ آپ سیاست میں دیانتدارانہ لائحہ عمل بناکر حالاتlogo rauf amir کو اپنے رخ میں موڑ سکتے ہو.بابانے یہ بھی کہا تھا.کہ اگر کاریگر کی نیت ٹھیک ہو تو مشینیں بھی درست کام کرتی ہیں.پاکستان میں چند روز قبل پاکستان کی ایک خفیہ ایجنسی کے بارے میں ملکی اورغیر ملکی میڈیا میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی گئیں.غیر ملکی چینلز پر پاکستان صے حسد رکھنے والے تجزیہ نگاروں نے ایجنسی کے افعال پر تنقید کے نشتر برسائے.عالمی مبصرین اور صلیبی میڈیا نے ہماری اس خفیہ ایجنسی پر کھل کر دشنام طرازیاں کی کیں.پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم امریکہ یاتری کے لئے لندن کی جانب اڑے تو ٹی وی چینلز پر ایک حیرت انگیز خبر شائع ہوئی جس نے جمہور پسند لوگوں کے لئے خورشید تازہ کا سامان پیدا کیا.کہ ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی ائی ایس ائی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا ہے. ایٹیبلشمنٹ کی صفوں میں اس خبر نے کھلبلی مچادی.خفیہ ہاتھ حرکت میں ائے.اور چند گھنٹوں کے بعد اس اہم ترین خبر کی جگہ وزارت داخلہ کی جھنجلائی ہوئی ریلیز نے لے لی.کہ ائی ایس ائی بدستور وزتراعظم کے کاتحت کام کرتی رہے گی.حالانکہ پہلی خبر کے مصنفوں نے عوام کو یہ خوشخبری بھی سنائی تھی.کہ ائی ایس ائی کو وزارت داخلہ سے جوڑنے کے تاریخ ساز فیصلے میں صدر کی اشیراباد اور ارمی چیف کی منظوری بھی شامل ہے.لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پاٹ والا برامد ہوا.اور ملکی سیاست سے ائی ایس ائی کا کردار ختم کروانے والے لرزاں ترساں رہے.اور جیت قوت والوں کی ہوئی.کیونکہ جن ملکوں میں قانون کی بجائے قوت کو قانون کا درجہ حاصل ہو.جہاں قانون جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے مقولے سے مشابہت رکھتی ہو.وہاں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے.حکمران جماعت کی اس معاملے پر بڑی جگ ہنسائی ہوئی ہے.کیونکہ دوسری خبر نے یہ سچائی بھی الم نشرح کردی ہے.کہ حکومت اختیارات کے ہتھیاروں سےFULLY LOADED نہیں ہے.اب سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے.کہ ایک منتخب حکومت نے اتنا بڑا فیصلہ کرہی لیا تو اس پر ڈٹ کیوں نہ گئی.؟اگر امریکہ یا کسی بیرونی دباو پر یہ فیصلہ بدلہ گیا تو پی پی اور ن لیگ کے اشتراک سے بننے والی مخلوط حکومت کا ہیوی مینڈیٹ نے اپنے فن و کمالات کیوں نہ دکھائے.؟ ان سوالات کے جوابات جو بھی ہوں اور جیسے بھی ہوں.لیکن حکومتی پیادوں کی سبکی.بے بصیرتی اور اہم ترین فیصلوں میں منصوبہ بندیوں کے فقدان کی کارفرمائی پوری قوم کے سامنے عیاں ہوچکی ہے.خفیہ ادارے ملکی سلامتی.قوموں کی اندرونی یکجہتی کے لئے لازم و ملزوم تصور کئے جاتے ہیں.دور حاظرہ میں جوں جوں نسان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے.اسی طرح خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی کا گراف بھی اسمانوں سے باتیں کرہا ہے.انہی خفیہ ایجنسیوں کی بدولت بڑے ممالک دوسروں کو جنگوں میں شکست سے دوچار کرتے ہیں. ائی ایس ائی اور ہماری دوسری ایجنسیاں کا مطمع نظر بھی قومی سیکیورٹی کو ناقابل تسخیر بنانا اور دشمن ملکوں کی فوجی سیاسی و انتظامی تیاریوں منصوبہ بندیوں کے متعلق تفتیش و تحقیق اکٹھا کرنا اور اندرون ملک گڑبڑ کرنے والے عناصر پر کڑی رکھنا اور فساد برپا کرنے سے قبل ہی ملک دشمن عناصر کی فتنہ گریوں کو کنٹرول رکھنا ہے.لیکن ظلم تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی و خاکی حکمرانوں نے اپنے ذاتی و حکومتی و سیاسی فوائد کے لئے خفیہ ایجنسیوں کو مکروہ ہتھکنڈوں کی دلدل میں اتار کر انہیں انکے فرائض سے دست کش کروادیا.جس کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا.کہ ایجنسیوں کے کل پرزے اتنی متکبر اور میکاولے کے پرنس بن گئے.کہ انہوں نے ریاست کے سیاسی و حکومتی معاملات میں بڑی اتھل پتھل مچادی.ایجنسیوں نے ریاست کے اندر سٹیٹ کی پوزیشن گھڑلی.ایجنسیوں کے سامنے قانون گھر کی لونڈی بن گیا.جسکا مسلمہ ثبوت یہ ہے کہ معزول چیف جسٹس چوہدری افتخار حسین نے جب سویوموٹو ایکشن کے ٹحت امریکہ کی موجودہ جنگ برائے دہشت گردی اور نائن الیوں کے فوری بعد ملک بھر سے گرفتار کئے جانیوالے گمشدہ افراد کی بازیابی کا نوٹس لیا.تو سپریم کورٹ ایسی مقدس و اعلی ترین عدالت کی بار بار دہائیوں کے باوجود ایجنسیوں کے گرگے ٹس سے مس نہ ہوئے.اور ایجنسیاں مختلف عذر و بہانے تراش کر عدلیہ کو بیووقوف بناتی رہیں.ان افراد کو طالبان اور القاعدہ سے تعلق کی بنا پر ائی ایس ائی اور امریکن ائی بی نے جرم ثابت کئے بغیر ہی اغوا کرلیا تھا.جن میں اکثریت گوانتاناموبے منتقل کردی گئی.یا پھر انہیں امریکی فوجوں کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا.اس تابناک مشن کا اعتراف جنرل مشرف اپنی کتاب دی لائین آف فائر میں کرچکے ہیں.پاکستان بھر سے دوسو سے ذائد مجبور و امریت رسیدہ لوگ اج تک بھی لاپتہ ہیں.خیر یہ ایک جملہ معترضہ تھا.اصل موضوع کی طرف اتے ہیں.ایجنسیوں کی بادشاہت کا سیاسی کھیل 1988 میں اس وقت کھل کر سامنے ایا جب پی پی کے طوفانی ریلے کو روکنے کے لئے سابق چیف اف ارمی سٹاف اسلم بیگ نے ائی ایس ائی کو چودہ کروڑ روپے دئیی.جس کے عوض اپوزیشن جماعتوں کو ائی جے ائی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا گیا.لیکن پی پی نے میدان مار لیا.لیکن ایجنسیوں نے اپنی ہزیمت کا بلدلہ یوں چکایا.کہ ملک کو عدم استحکام کی وادیوں میں درگور کرکے دوسالوں بعد ہی بے نظیر سرکار کی گوشمالی کرادی گئی.ہمارے ہاں ایجنسیاں اتنی بے نکیل ؛بااختیار اور قانون سے مبرا ہیں کہ کئی سیاستدان ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں.نامور دانشور بھی ایجنسیوں کی نوکری کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں.سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ.لیگوں کی افزائش.معزز ممبران کی لوٹاگیری و بے ضمیری.نئی جماعتوں کی پیدائش ایجنسیوں کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے.یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے.کہ پاکستان میں جب تک میدان سیاست سے ایجنسیوں کی ریفری شپ کو ختم نہیں کردیا جاتا.اس وقت تک اس سیاہ نصیب دھرتی پر ڈکٹیٹرشپ کی شب دیجور چھائی رہے گی.سیاسی جماعتیں اکھاڑ پچھاڑ کا نشانہ بنتی رہیں گی.انتخابات میں پری پول دھاندلیاں بھی ہوتی رہیں گی.ائی ایس ائی پاکستان کی اہم ترین ایجنسی ہے.جسکا طوطی پوری دنیا میں بولتا ہے.ائی ایس ائی کے کھاتے میں جہاں سیاست میں دخل اندازی کے بھیانک الزام میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں.تو وہاں پوری قوم کو اسکی کاوشوں و مساعی جلیہ پر ناز بھی ہے.کیونکہ افغانستان میں روس کی بھپری ہوئی سپرپاور کا شیرازہ بکھیرنے میں لیڈنگ رول کا ایوارڈ ائی ایس ائی کو حاصل ہے.یوں تو قوم پاکستان کو ائی ایس ائی کے متعلق ستر کی دہائی تک کوئیاتہ پتہ نہ تھا.بھٹو نے8 فروری1975 کو ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت پر ملک دشمن الزامات عائد کرکے پابندی لگادی.اس پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی گئی.پاکستان میں اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حمود الرحمن تھے.جنکی عدل پروری.دیانت داری.شرافت اور صاف گوئی کا اعتراف دشمن بھی بیانگ دہل کرتے تھے.سپر یم کورٹ کے فل رکنی بنچ نے جس میں جسٹس انوار الحق.جسٹس یعقوب علی خان .جسٹس گل محمد اور جسٹس افضل چیمہ شامل تھے.نے اس کیس کی کاروائی مکمل کی.بھٹو گورنمنٹ کی طرف سے جنرل جیلانی نے عدالتی کاروائی کی نمائندگی کی.4اپریل1975 کو جنرل جیلانی نے ائی ایس ائی کے سربراہ کی شکل میں کالعدم جماعتوں کی ملک دشمن کاروائیوں کے ثبوت عدلیہ کے ججز کو دکھائے.وڈیوٹیپسز کے زریعے پابندی کی صلیب پر لٹکائی جانے والی جماعتوں کے لندن و دیار غیر سے حاصل کردہ غیر قانونی رقم کی جادوگریاں بھی اجاگر کی گئیں.عدلیہ کی اس شفاف ترین کاروائی میں حکومتی فیصلے کی توثیق کی گئی.یعنی عدلیہ نے ائی ایس ائی کے مشن اور بھٹو سرکار کی کاروائی کو درست قرار دیا گیا.سپریم کورٹ کی اس کھلی کاروائی کے زریعے لوگوں کو ائی ایس ائی کے نام و کام سے اشنائی ہوئی.ائی ایس ائی دراصل پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی RAW(REASERCH AND ANLYSES WING کا توڑ ہے.را کا مقابلہ کرنے کے لئے ائی ایس ائی کی داغ بیل ڈالی گئی.را کی تشکیل ساتھ کی دہائی میں کی گئی.1965 کی جنگ میں بھارت کے چیف اف ارمی سٹاف جنرل چوہدری نے شکست کی زمہ داری بھارت کے خفیہ اداروں پر ڈال دی.1968 میں بھارتی داخلہ کمیٹی کے چیرمین پی وی راو نے را کی بنیاد ڈالی.Rn cow را کے پہلے سربراہ تھے.کہا جاتا ہے.کہ مشرقی پاکستان کی علحیدگی میں جہاں ہمارے فوجی دیوتاووں کا روز روشن و سیاہ ترین کردار ہے.وہاں بنگلہ دیش کی اذادی میں را نے اہم ترین کردار ادا کیا.بھارتی ایجنسیRAW اور پاکستان کی ائی ایس ائی کے درمیان خون اشام میچ روزانہ ہی کھیلے جاتے ہیں.پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ہاں ہونیوالی دہشت گردی کا ملبہ را اور ائی ایس ائی کے دامن پر پھینکتے ہیں.ہمارے ہاں آجکل ائی ایس ائی کے بارے میں بہت لکھا اور کہا جارہا ہے.اس کے حق اور مخاصمت میں طوفان چل رہے ہیں.لیکن ایک سچ تو یہ ہے کہ مملکت کا کوئی ادارہ چاہے.وہ ایجنسی ہو.عدالت ہو.یا عسکری شعبہ کسی کو مملکت کے اندر دوسری سٹیٹ قائم کرنے اورمن مانیاں کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیی.ائی ایس ائی پر دشنام طرازیاں کرنے والے پاکستانیوں کو پہلے اس کے اغراض و مقاصد کامیابیوں اور ناکامیابیوں کے بارے سوچ بچار کرلینی چاہیی.لیکن دوسری جانب ائی ایس ائی کی سیاست اور حکومت میں مداخلت کا CHAPTEr بند کردینا چاہیی.پی پی کی حکومت اگر نیک مقصد کے لئے خفیہ ایجنسیوں کے کردار کو محدود کرنا چاہتی ہے تو پھر اسے اپنی حلیف جماعتوں سے صلاح و مشورے کے بعد تمام امور کو پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر لے جائے.پی پی کو پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں کے ہمراہ بھاری اکثریت حاصل ہے.خفیہ ایجنسیوں کے کردار اور انکے سیکرٹ فنڈز کا جائزہ لیا جائے.اگر حکومت صدق دل سے ایسا چاہتی ہے.تو پھر اسے اپنے فیصلوں پرڈٹ جانا چاہیی.قائد اعظم کے افکار ہمارے لئے اج بھی خضرراہ ہیں.حکومت کو چاہیی کہ وہ قائد کے مندرجہ بالا اقوال کی روشنی میں سچ و حقائق کا علم تھام کرحالات کا دھارا اپنے حق میں موڑ کر ایجنسیوں سمیت ہر ادارے کو تابع قانون بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے.ائی ایس ائی اگر وزیراعظم کے زیرانتظام اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینے کا ملکہ رکھتی ہے.تو پھر اس کی باگ ڈور وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا کیا فائدہ.مشیر داخلہ کو یاد رکھنا چاہیی.کہ اگر کاریگر کی نیت درست ہو تو مشینیں ہمیشہ ٹھیک ہی رہتی ہیں.



12-08-2008 17:34 Rauf Amir
This entry was posted on 12-08-2008 17:34. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 761    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >