| پاک جذ بہ |
|
|
|
پاکستان اور افغانستان میں امریکن ری پبلیکن پارٹی کی قیادت یہاں ہوائی
حملوں سے سلسلہ وار دھشت گردی پھیلارہی ہے۔ پاکستان کی جمہوری حکومت کو
ہوائی حملوں کے ذریعہ دھمکی دی جاتی ہے۔ کہ وہ اس کو من مانی کرے کی اجازت
دے اورمشرف میاں کی طرح ان کے اشارے پر رقص کرنے۔ اور مذہب اسلام کو دھشت
گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے اس ساتھ دے۔ القاعدہ و طالبان کے نام سے
مسلمانوں کو بدنام کرنے میں ان کی مدد کرے ۔ امریکہ ،برطانیہ و یورپین
ممالک میں مذہب اسلام کی بڑھتی مقبولیت اور عیسائیوں کے اس میں دخول کے مد
نظر ان کو اسلام میں داخلہ سے روکنے کیلئے تخلیقی کیسٹوں تخلیقی چہرے
بنائے گئے۔جس کو بنیاد بناکر مسلمانوں پر تخریب کا الزام لگا یا جاسکے۔اور
پھر مذہب اسلام کو مذکورہ ملکوں میں پابندی کے زمرے میں لایا جاسکے۔اسی
لئے دانستہ امریکہ پر القاعدہ و طالبان کا بھوت مصلحت کے طور پر سوار ہے۔
وہ پاک و افغان میں ہوائی حملوں سے دھشت گردی پھیلاکر غریب انسانیت کا قتل
کررہا ہے۔
پاکستان و افغان میں ہوائی حملوں کی دھشت گردی سے بے قصور لوگ مارے جارہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی اس کے حملوں کی دھشت گردی جاری ہے۔ جو رکنے کا نام نہیں لے رہی ۔ پاکستان کے وزیر آعظم کو امریکہ آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔جب وہ دورہ کرتے ہیں۔ تو حملوں کی دھشت گردی سے ان کو دھمکی دی جاتی ہے۔لیکن اس اقدام پر پاکستان کی پارلیمنٹ خاموش تماشائی ہے۔پاکستان کے اعلیٰ لو گ مارے جارہے ہیں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر امریکی حملوں کی دھشت گردی کوجائز ٹہراتے ہیں۔پاکستان کے قبائیلی و افغانستان کے پہاڑی علاقوں پر ان حملہ کا جواز صرف سیاسی فوائد کا حصول ہے۔ کہ تخلیقی القاعدہ و طالبان کو تخلیقی کیسٹوں سے ان کو امریکہ پر حملہ آور دیکھانا۔۔ان کو کچلنے کے نام پر غریبوں پر حقیقی حملہ کرکے نقصان پہنچانا ۔۔یہ دھشت گردوں پر حملہ نہیں بلکہ یہ ان کے نام پر سیاست کاری ہے۔
فی الوقت پاکستان کے جتنے فوجی اور اس کے غریب عوام و ان کے اساسے جو امریکی حملوں کی دھشت گردی کاشکار ہوکر تباہ ہوئے ہیں۔ان کی طرف سے بیس کروڑ ڈالرایک فوجی کیلئے غیر فوجی کیلئے دس کروڑ رڈالر کامعاوضہ کیا جائے۔یا پھر ہر پاکستانی فوجی کے بدلے امریکی فوجی۔ شہری کے بدلے شہری طلب کرکے ان کو سر عام پھانسی دی جائے۔جس سے حملوں کی دھشت گردی کا خاتمہ ہوسکے۔
بہرحال پاکستان و افغانستان یا کہیں بھی امریکی حملوں کی دھشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔ اگر وہ حملوں دھشت گردی کہیں بھی پھیلائے ۔ توانسانی ہلاکت پر اس سے مذکورہ جرمانہ عاید کیا جائے۔پاکستان کے مرحوم صدر جنرل ضیاء الحق نے اسی تحریک کی ابتد اء کی تھی۔۔۔؟ مگر وہ ہوائی حملے دھماکہ میں دنیا سے ہی رخصت ہوگئے یا کردئے گئے۔ اس پر بھی پاکستانی حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلیں۔اس سے قبل کسی بھی طرح کی دھشت گردی کا شکار ہوکر وہ دنیا سے ہی الودعیٰ کہدیں گے۔ لہذا۔ اب ضروری ہے۔ کہ جتنے پاکستانی فوجی امریکی ہوائی حملوں کی دھشت گردی سے ہلاک کئے جائیں ان کے بدلے وتنے ہی امریکی فوجیوں کو مسٹر جارج بش سے طلب کرکے ان کو پھانسی دی جائے۔ یہی انصاف کا تقاضہ ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اس طرح کی تجویز لائے ۔ اس کو منظوری دے۔ اور جنرل مشرف سے اس پر دستخط کراکر فوری طور پر اس قرارداد کو امریکہ بھیجے اگر وہ امریکہ فوجی نہیں دے سکتے تومطلوبہ رقم طلب کرے۔ اور یہ کام جارج بش کی موجودگی میں ہونا چاہیئے۔اس لئے کہ یہ ہلاکتیں ان کے سیاسی فائدے کی خاطر ہوئی ہیں۔اس کے لئے پاکستان کو اپنا خصوصی ایلچی امریکہ بھیجنا چاہیئے۔ مطالبہ کی تکمیل تک پاک و افغان علاقوں میں امریکی حملوں کی دھشت گردی پھیلانے پر مکمل پاپندی جمہوری حکومت کولگادینی چاہیئے۔پاک کا یہ ہی جذبہ ہونا چاہیئے۔ پہلے بدلہ پھر کوئی اور امریکی ہوائی حملہ ۔؟ ہندوپاک اور اس خطہ کو امریکی حملوں کی دھشت گردی سے پاک بنانے کیلئے کے ان علاقوں پر حملے کرنے سے روکا جانا چاہیئے۔
ان ایک نیا موڑ آیا جس کے مدنظر تخلیقی القاعدہ و طالبان کی تخلیقی کیسٹوں سے خبریں تراشی جارہی ہیں۔ کہ القاعدائی و طالبانی لیدڑوں کو امریکی حملوں میں مارتے ہوئے دیکھایا جارہا ہے۔۔ اس طرح کی تحریک سے امریکی عوام کو خوش کیا جارہا ہے۔تاکہ صدارتی الیکشن کے موقعہ پر ان کے ووٹ بٹورے جاسکیں۔اب تو امریکی دعویٰ بار بار اجاگر ہوتے رہیںگے ۔جن میں امریکی عوام کو خوش کرنے کیلئے القاعدائی و طالبانی لیدڑوں کی ہلاکتوں کی کیسٹیں سلسلہ وار آتی رہیں گی۔یعنی حملوں میں جو غریب عوام کا قتل کیا جارہا ہے۔ اس کی بنیاد پر۔۔۔۔تخلیقی کیسٹیں بنتی ہیں اور سچائی یہ ہوتی ہے ان میں القاعدائی لیدڑ مارے جارہے ہیں۔ان میں کس کی ہلاکت واضع ہونی ہے۔ کس کو زخمی رکھنا ہے۔ اور پھر کس کو دوبارہ تخلیقی موت کی بعد تخلیقی زندگی مل جاتی ہے۔ اور ان میں امریکی دعویٰ جھوٹے ہونے کا اعلان بھی ہوتا ہے۔یہ سیاست کاری بڑی عجیب و غریب ہے۔الیکشن کے آخری ایام میں مسٹر جان میکن کو نشانہ بناتے ہوئے دھمکیاں آئیں گی۔لیکن مسٹر بارک اوبامہ دھمکیوں میں نظر انداز کردیا جائے گا۔جبکہ اب جان میکن و بش سے زیادہ بارک اوبامہ القاعدہ کے دشمن بن گئے ہیں۔اس لئے دھمکیاں بھی ان کیلئے آنی چاہیں ۔ اب دیکھنا ہے کہ دھمکیاں کس کے حصہ میں آتی ہیں۔
بہرکیف حکومت پاکستان کو اپنے اعلانیہ میں ہوائی حملوں کی دھشت گردی میں جا ں بحق ہونے والے لوگوں کیلئے معاوضہ طلب کرنے کا ایک نیا آغاز کرنا چاہئے۔جس سے ہوائی حملوں کی دھشت گردی مذید بے قابو نہ ہوسکے۔ہلاک ہونے والوں کے وارثین آخر کچھ تو راحت کی سانس لیں سکیں۔یہ کام پاکستان کی جمہوری حکومت بہت آسانی سے کرسکتی۔ یہ کام مسٹر جارج بش کی موجودگی میں لیا جاسکتا ہے۔کیونکہ جو بھی ہوائی حملے ہوئے ہیں وہ ان ہی کی نگرانی میں ہوئے ہیں۔جب امریکن ری پبلیکن پارٹی اپنے سیاسی کے فائدے کیلئے کام کرہی ہے۔ تو پاک حکومت کو اپنے عوام کے فائدے کیلئے کام کرنا ضروری بن جاتا ہے۔اور اس کا یہ کام اس خطہ کے مفاد میں بھی ہے ۔ جس سے امن وا مان کی راہیں کھلنے کیلئے ہموار ہوں گی۔
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔نئی دہلی،
پاکستان و افغان میں ہوائی حملوں کی دھشت گردی سے بے قصور لوگ مارے جارہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی اس کے حملوں کی دھشت گردی جاری ہے۔ جو رکنے کا نام نہیں لے رہی ۔ پاکستان کے وزیر آعظم کو امریکہ آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔جب وہ دورہ کرتے ہیں۔ تو حملوں کی دھشت گردی سے ان کو دھمکی دی جاتی ہے۔لیکن اس اقدام پر پاکستان کی پارلیمنٹ خاموش تماشائی ہے۔پاکستان کے اعلیٰ لو گ مارے جارہے ہیں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر امریکی حملوں کی دھشت گردی کوجائز ٹہراتے ہیں۔پاکستان کے قبائیلی و افغانستان کے پہاڑی علاقوں پر ان حملہ کا جواز صرف سیاسی فوائد کا حصول ہے۔ کہ تخلیقی القاعدہ و طالبان کو تخلیقی کیسٹوں سے ان کو امریکہ پر حملہ آور دیکھانا۔۔ان کو کچلنے کے نام پر غریبوں پر حقیقی حملہ کرکے نقصان پہنچانا ۔۔یہ دھشت گردوں پر حملہ نہیں بلکہ یہ ان کے نام پر سیاست کاری ہے۔
فی الوقت پاکستان کے جتنے فوجی اور اس کے غریب عوام و ان کے اساسے جو امریکی حملوں کی دھشت گردی کاشکار ہوکر تباہ ہوئے ہیں۔ان کی طرف سے بیس کروڑ ڈالرایک فوجی کیلئے غیر فوجی کیلئے دس کروڑ رڈالر کامعاوضہ کیا جائے۔یا پھر ہر پاکستانی فوجی کے بدلے امریکی فوجی۔ شہری کے بدلے شہری طلب کرکے ان کو سر عام پھانسی دی جائے۔جس سے حملوں کی دھشت گردی کا خاتمہ ہوسکے۔
بہرحال پاکستان و افغانستان یا کہیں بھی امریکی حملوں کی دھشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔ اگر وہ حملوں دھشت گردی کہیں بھی پھیلائے ۔ توانسانی ہلاکت پر اس سے مذکورہ جرمانہ عاید کیا جائے۔پاکستان کے مرحوم صدر جنرل ضیاء الحق نے اسی تحریک کی ابتد اء کی تھی۔۔۔؟ مگر وہ ہوائی حملے دھماکہ میں دنیا سے ہی رخصت ہوگئے یا کردئے گئے۔ اس پر بھی پاکستانی حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلیں۔اس سے قبل کسی بھی طرح کی دھشت گردی کا شکار ہوکر وہ دنیا سے ہی الودعیٰ کہدیں گے۔ لہذا۔ اب ضروری ہے۔ کہ جتنے پاکستانی فوجی امریکی ہوائی حملوں کی دھشت گردی سے ہلاک کئے جائیں ان کے بدلے وتنے ہی امریکی فوجیوں کو مسٹر جارج بش سے طلب کرکے ان کو پھانسی دی جائے۔ یہی انصاف کا تقاضہ ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اس طرح کی تجویز لائے ۔ اس کو منظوری دے۔ اور جنرل مشرف سے اس پر دستخط کراکر فوری طور پر اس قرارداد کو امریکہ بھیجے اگر وہ امریکہ فوجی نہیں دے سکتے تومطلوبہ رقم طلب کرے۔ اور یہ کام جارج بش کی موجودگی میں ہونا چاہیئے۔اس لئے کہ یہ ہلاکتیں ان کے سیاسی فائدے کی خاطر ہوئی ہیں۔اس کے لئے پاکستان کو اپنا خصوصی ایلچی امریکہ بھیجنا چاہیئے۔ مطالبہ کی تکمیل تک پاک و افغان علاقوں میں امریکی حملوں کی دھشت گردی پھیلانے پر مکمل پاپندی جمہوری حکومت کولگادینی چاہیئے۔پاک کا یہ ہی جذبہ ہونا چاہیئے۔ پہلے بدلہ پھر کوئی اور امریکی ہوائی حملہ ۔؟ ہندوپاک اور اس خطہ کو امریکی حملوں کی دھشت گردی سے پاک بنانے کیلئے کے ان علاقوں پر حملے کرنے سے روکا جانا چاہیئے۔
ان ایک نیا موڑ آیا جس کے مدنظر تخلیقی القاعدہ و طالبان کی تخلیقی کیسٹوں سے خبریں تراشی جارہی ہیں۔ کہ القاعدائی و طالبانی لیدڑوں کو امریکی حملوں میں مارتے ہوئے دیکھایا جارہا ہے۔۔ اس طرح کی تحریک سے امریکی عوام کو خوش کیا جارہا ہے۔تاکہ صدارتی الیکشن کے موقعہ پر ان کے ووٹ بٹورے جاسکیں۔اب تو امریکی دعویٰ بار بار اجاگر ہوتے رہیںگے ۔جن میں امریکی عوام کو خوش کرنے کیلئے القاعدائی و طالبانی لیدڑوں کی ہلاکتوں کی کیسٹیں سلسلہ وار آتی رہیں گی۔یعنی حملوں میں جو غریب عوام کا قتل کیا جارہا ہے۔ اس کی بنیاد پر۔۔۔۔تخلیقی کیسٹیں بنتی ہیں اور سچائی یہ ہوتی ہے ان میں القاعدائی لیدڑ مارے جارہے ہیں۔ان میں کس کی ہلاکت واضع ہونی ہے۔ کس کو زخمی رکھنا ہے۔ اور پھر کس کو دوبارہ تخلیقی موت کی بعد تخلیقی زندگی مل جاتی ہے۔ اور ان میں امریکی دعویٰ جھوٹے ہونے کا اعلان بھی ہوتا ہے۔یہ سیاست کاری بڑی عجیب و غریب ہے۔الیکشن کے آخری ایام میں مسٹر جان میکن کو نشانہ بناتے ہوئے دھمکیاں آئیں گی۔لیکن مسٹر بارک اوبامہ دھمکیوں میں نظر انداز کردیا جائے گا۔جبکہ اب جان میکن و بش سے زیادہ بارک اوبامہ القاعدہ کے دشمن بن گئے ہیں۔اس لئے دھمکیاں بھی ان کیلئے آنی چاہیں ۔ اب دیکھنا ہے کہ دھمکیاں کس کے حصہ میں آتی ہیں۔
بہرکیف حکومت پاکستان کو اپنے اعلانیہ میں ہوائی حملوں کی دھشت گردی میں جا ں بحق ہونے والے لوگوں کیلئے معاوضہ طلب کرنے کا ایک نیا آغاز کرنا چاہئے۔جس سے ہوائی حملوں کی دھشت گردی مذید بے قابو نہ ہوسکے۔ہلاک ہونے والوں کے وارثین آخر کچھ تو راحت کی سانس لیں سکیں۔یہ کام پاکستان کی جمہوری حکومت بہت آسانی سے کرسکتی۔ یہ کام مسٹر جارج بش کی موجودگی میں لیا جاسکتا ہے۔کیونکہ جو بھی ہوائی حملے ہوئے ہیں وہ ان ہی کی نگرانی میں ہوئے ہیں۔جب امریکن ری پبلیکن پارٹی اپنے سیاسی کے فائدے کیلئے کام کرہی ہے۔ تو پاک حکومت کو اپنے عوام کے فائدے کیلئے کام کرنا ضروری بن جاتا ہے۔اور اس کا یہ کام اس خطہ کے مفاد میں بھی ہے ۔ جس سے امن وا مان کی راہیں کھلنے کیلئے ہموار ہوں گی۔
ایاز محمود۔۔۔۔۔۔نئی دہلی،
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1019