Nov
22
2008
Today

Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?
Attock
9°C
حج پالیسی ۔ حاجیوں کے مسائل اور ٹور ز آپریٹرز PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
logo mumtaz ahmad bhattiحج دین اسلام کا اہم رکن ہے جس کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں ۔ پاکستان سے بھی لوگوں کی کثیر تعداد ، حج کی ادائیگی کے لئے روانہ ہوتی ہیں وزارت مذہبی امورنے حج پالیسی2008 کا اعلان کردیا ہے۔ اس بار حج پالیسی کے اعلان میں تاخیر ہو چکی ہے ۔ گزشتہ سال 15جولائی کو حج پالیسی جاری کی گئی تھی اس سال حج دس دن پہلے آرہا ہے اس حوالے سے وزارت حج ڈیڑھ مہینہ لیٹ ہے ۔ سید حامد سعید کاظمی نے حج پالیسی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال ایک لاکھ 64ہزار647پاکستانی حج کی سعادت حاصل کریں گے۔ 85ہزار ریگولر حج سکیم کے تحت اور 79ہزار 647ٹورز آپریٹرز کے ذریعے حج کے لئے جائیں گے۔ سات اگست سے 18اگست تک درخواستیں وصول کی جائیں گی جو متعدد بنکوں کی برانچوں پر دستیاب ہو نگی جو بلا معاوضہ دی جائیں گی۔ اس مرتبہ کراچی اور کوئٹہ سے کل خرچہ ایک لاکھ پچاسی ہزار جبکہ اسلام آباد سمیت دوسرے شہروں سے دولاکھ ہونگے ۔ جہاز کا کرایہ کراچی ، کوئٹہ سے70ہزار، دوسرے شہروں سے 85ہزار ٹرمینل ٹیکس فی حاجی پانچ سو پاکستان میں اور اور پچاس سعودی ریال ، سعودی عرب میں ، رہائشی کرایہ ، 3200ریال مکہ اور 400ریال مدینہ ، یہ 66ہزار پاکستانی بنتے ہیں ۔ دوسرے اخراجات جن میں خدام -خیموں کا کرایہ ٹرانسپورٹ 1188اریال جو پاکستانی 21978بنتے ہیں ۔ ضروری اخراجات کے لئے حاجیوں کو 1300سعودی ریال جو 23997پاکستانی بنتے ہیں دئے جائیں گے اور ویکسین کے لئے ایک ہزار فی حاجی وصول کئے جائیں گے ۔ حج درخواستیں سادہ بنائی گئی ہیںجو صرف شناختی کارڈردیکھا کر حاصل کی سکتی ہیں ۔ جن لوگوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں حج کیا ہوا ہے ان کو حج کی اجازت نہیں ہو گی تین صورتوں میںاجازت ہوگی۔ ۔محرم بن کر، گروپ لیڈر بن کر یا حج بدل کے لئے جن افراد کا گزشتہ دو سالوں میں نام نہیں آسکا ان کوبغیر قرعہ بھیجا جائے گاگزشتہ برسوں میں ضروری اخراجات کے لئے حاجیوں کو رقم ٹریولز چیکس کی صور ت میں دی جاتی تھی جس سے حاجی گھنٹوں لائنوں میں لگے رہتے تھے پہلے ڈالرز ملتے تھے ۔ بعد میں سعودی ریال اس طرح کٹوتی زیادہ ہوتی تھی اس بار سعودی ریال دیئے جائیں گے ۔
ممبران پارلیمنٹ کو پہلے فی ممبر پانچ حاجیوں کا کوٹہ ملتا تھا جس کو بڑھا کر 10کردیا گیاہے ۔ سپیکر ، گورنرز ، وزراء اعلیٰ اور آزادکشمیر کے صدر اور وزیراعظم کو 50، 50حاجیوں کا کوٹہ ملے گا۔ 500سیٹیں لیبر سپانسر حج کے لئے مختص کی گئی ہیں ۔ 500سیٹیں بیرون ممالک رہنے والے افراد کے لئے اور ایک 150سیٹیں غریب ضرروت مند افراد کے لئے رکھی گئی ہیں ۔ سعودی حکومت نے 2007میں کام کرنے والے ٹورز آپریٹرز کو اجازت دی ہے ۔ 594کو لسٹ میں سے591کو اجازت دی ہے ۔ ہر حاجی کو 32کلو سامان اور سات کلودستی سامان کی اجازت ہو گی۔ اس سال بہتر فیصلہ یہ ہے کہ آب زم زم حاجیوں کو پاکستان میں ہی دیا جائے پی آئی اے کی طرف سے کیونکہ ہر سال جب حاجی جاتے ہیں ۔ تو واپسی پر جہاز خالی آتے ہیں تو یہ فیصلہ کیا گیاہے کہ خالی جہاز لانے سے بہتر ہے کہ واپسی پر جہاز میں آب زم زم لایا جائے جو 10لیٹر فی حاجی پاکستان میں دیاجائے گاجس سے حاجیوں کو زم زم نہیں لانا پڑے گا۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی حج پالیسی کا اعلان کردیا گیاہے ۔ مگر حج کے دوران ٹورز آپریٹر ز کے خلاف بہت سی شکایات ہو ئیں اکثر ٹورز آپریٹرز نے حاجیوں کو خانہ کعبہ کے چند گز کے فاصلے پر رہائش دینے کا وعدہ کیا مگر کئی کئی کلومیٹر دور رہائش ملی بہترین رہائش کا وعدہ کیا مگر ایک کمرے میں کئی گئی حاجیوں کو رہنا پڑا بعض جگہوں پر حاجیوں کو فرش پر سونا پڑاہے ۔ بعض ٹورزآپریٹرز تو حاجیوں کو سعودی عرب چھوڑ کر غائب ہو گئے ۔ ان کی شکایات پر ٹورز آپریٹرز نے حاجیوں کو دھمکیاں دیں اور کہا جائو جو کرنا ہے کر لو ہمارا کچھ نہیں ہوگا۔ اورہوا بھی کچھ نہیں۔ دوسال گزرنے کے بعد آج تک کسی کو کچھ پتہ نہیں کن کن ٹورز آپریٹرز کے خلاف درخواستیں دی گئی تھی اورانکوائری ہوئی بھی یا نہیں بلکہ جن کے خلاف شکایات تھیں ان کے ناموں کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی وزارت مذہبی امور کے اس عمل سے اس کی شفافیت مشکوک ہو چکی ہے ۔ کہ جن ٹورز آپریٹرز کے خلاف شکایت ہیں۔جن کے خلاف شکایات کے انبار ہیں جن کے خلاف واپس آنے والے حاجیوں نے پریس کانفرنسیں کی تھیں ان کے خلاف ایکشن نہیں ہوا بلکہ اندرکمروں میں بیٹھا کر خفیہ میٹنگنرکی جاتی ہیں ۔ جبکہ اچھا کام کرنے والے ٹورز آپریٹرز کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ اس طرح تو اس مرتبہ حجاج کرام مزید مشکلات کا شکار ہونگے ۔ سعودی عرب میں موجود حج ڈائریکٹر ز کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں مگر نہ وزارت ِمذہبی امور کے کسی اہلکار کو سزا ملی نہ کسی ٹورز آپریٹرز کو سعودی عرب میں موجود حج ڈائریکٹرز کو بھی کسی انکوائری کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو وزارت ِ مذہبی امور کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ بہت سارے ٹورز آپریٹرز حکومت کے قائم کردہ معیار پر پورا نہیں اترتے وہ بھی کام کر رہے ہیں اور امید ہے اس سال بھی کریں گے ۔ گزشتہ سال ناقص انتظامات کی وجہ سے پاکستان اور سعودی عرب ائیر پورٹس پر حاجی کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے رہے احتجاج کیا ۔ وزارت ِ مذہبی امور صرف دعوے نہ کرے بلکہ عملی طورپر حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامات کرے ۔ گزشتہ دوسالوں کے دوران حاجیوں کو وعدے کے مطابق سہولیات نہ دینے والے ٹورز آپریٹرز کے نام سامنے لائیں جائیں کتنے ٹورز آپریٹرز کے خلاف کاروائی ہوئی کتنے بے قصور نکلے کتنے ٹورز آپریٹرز کے خلاف جھوٹی شکایات کی گئیں ۔ حکومت کے قائم کردہ میعار پر پورانہ اترنے والے ٹورزآپریٹر ز کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے ورنہ اس سال حاجیوں کو گزشتہ سالوں سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔



12-08-2008 17:21 Mumtaz Ahmed Bhatti
This entry was posted on 12-08-2008 17:21. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 967    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >