| ڈیموکریٹ یا ریپبلکن صدر.مسلمانوں کے لئے وبال جان |
|
|
|
نومبر
میں امریکہ کے صدارتی الیکشن منعقد ہورہے ہیں.بش کے جنگی جنون اور دنیا
میں امن
کے خرمن کو جلا کر راکھ کرنے عراق و افغانستان میں لاکھوں
مسلمانوں کو موت کی وادیوں میں پہچانے اور ہزاروں امریکیوں کو جنگی ایندھن
بنانے کے جرائم میں مغرب کے صحافتی پنڈت ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی
پیش گوئیاں کررہے ہیں.یوں وائٹ ہاوس کے عتاب تلے داد و فریاد کرنے والی
مسلم برادری اس خوش فہمی کا شکار ہے؛کہ بش اینڈ کمپنی کی صدارتی الیکشن
میں ہار مسلم خطوں میں جاری ظالمانہ جنگوں کو روکنے میں ممدون ثابت
ہوگی.مسلم ممالک میں آجکل یہ موضوعات زیر بحث ہیں کہ کیا ڈیمو کریٹس کی
جیت مسلمانوں کے لئے بہاروں کا پیغام لائے گی.؟ کیا امریکہ اسرائیل کی شہہ
پر ایران کے خلاف فوجی معرکہ ارائی سے باز رہے گا؟ افغانستان اور عراسق کا
کیا مستقبل ہوگا.؟ کیا امریکہ کا نیا صدر پینٹاگون میں بیٹھے جنگی تاجروں
کے جنون جنگ کو پایہ زنجیر کرنے میں کامیاب ہونگے.؟مسلم دانشوروں اور مغرب
کے تجزیہ نگار ان سوالات پر بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں. لیکن سچ
تو یہ ہے کہ امریکہ کی صدارتی دوڑ میں فتح کا ہما ڈیموکریٹس کے سر باندھا
جائے.یا پھر انتخابی میڈان مارنے کا اعزاز بش اینڈ کمپنی کے دیوانے کو
حاصل ہو.دونوں صورتوں میں امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی متوقع
نہیں.کیونکہ امریکی پالیسیوں کا writter وائٹ ہاوس میں فروکش صدر نہیں
ہوتا بلکہ وہاں کے طاقتور ممبران سینٹ اور کانگرس ہوتے ہیں.جو دنیا کی
بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرتے رہتے
ہیں.امریکی صدر تو شاہ کے نورتنوں کی طرح ان پالیسیوں پر عمل درامد کرنے
کا پابند ہوتا ہے.سرمایہ داروں کے مختلف حلقے اپنا اپنا کھیل کھیلتے رہتے
ہیں.کبھی تیل کے سوداگر ممبران سے اپنی حق میں پالیسیاں مرتب کروانے میں
کامیاب ہوجاتے ہیں اور کبھی اسلحے کے تاجر اپنا زور دکھا جاتے ہیں.بش کے
خونی ادوار میں امریکہ کی پالیسیوں پرجنگی انڈسٹری کے کھربوں پتی تاجر
چھائے رہے.امریکہ کے صدارتی امیدواروں نے یہودیوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے
لئے ایران افغانستان پاکستان اور عرب ملکوں کے خلاف زور دار بیانات کی
بھرمار کی.سینیٹر باراک اوہامہ نے2 جون 2008 کوAIPAC اسرائیل امریکہ پبلک
افیرز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہودیوں کی ہمدردیاں سمیٹنے اور
اسرائیل سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں یہودیوں کے سچے
اور کھرے دوست کی حثیت سے سیدھی باتیں کرنے ایا ہوں.اگر میں امریکہ کا صدر
بن گیا تو اسرائیل کی مضبوطی کے لئے دن رات ایک کردونگا.میں اسرائیلی
پالیسیوں کی کامیابی کے لئے پوری دنیا کا دورہ کرونگا. میں عرب ممالک اور
دیگر مسلمان ریاستوں پر زور دونگا کہ وہ نہ صرف اسرائیل کو دل سے تسلیم
کریں بلکہ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم کریں.میں اسرائیل کی
سیکیورٹی کے معاملے پر کسی قسم کی کمٹمنٹ قبول نہیں کرونگا.باراک نے بیانگ
دہل کہا کہ وہ اسرائیل کے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے.اقوام
متحدہ بھی اسرائیل نواز پالیسیوں کی سپورٹ کریگی.یروشلم اسرائیل کا کیپٹل
ہوگا جسے تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا.باراک نے یہودیت پرستی سے دلی الفت
کا ثبوت دیتے ہوئے کہا.اسرائیل کے لئے ایران سے بڑھ کر کوئی خطرہ
نہیں.وہ(باراک) ایران کے مکو ٹھپنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے. باراک
نے پاکستان کے خلاف ٹرٹراہٹ کرتے ہوئے کہا.کہ ہمیں افغانستان میں اپنے
مقاصد کے حصول ک تک جنگ لڑنی ہوگی.ہمیں اپنے اتحادی ایٹمی قوت پاکستان کی
بھی پرواہ نہیں کرنی چاہیی.کیونکہ وہ دہشت گردانہ سوچ سے لیس ہے.یوں یہ
سچائی الم نشرح ہوچکی ہے کہ امریکی صدارتی امیدواروں میں سے فتح جسکا بھی
مقدر ٹھرے. مسلم علاقوں میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں.امریکہ کی نئی سرکار
بھی انتہاپسندی کے نام پر مسلمنانوں.جہادیوں اور سراٹھا کر چلنے والے
سرفروشوں کے خلاف بارود کی یلغار جاری رکھے گا.گویا قید خانے چھلکتے رہیں
گے.خون بہتا رہے گا.منقتل سجتے رہیں گے.توپوں کی گھن گرج جاری رہے
گی.اسمانوں سے آگ برسائی جاتی رہے گی.امریکہ کے شہرہ آفاق کالم نویس
جوناتھن پاور نے اپنے ایک کالم (عسکری صنعت کاری کے جنون کو ختم کیا جائے)
میں لکھا ہے.کہ امریکہ کے نئے صدر کو سب سے مشکل مرحلہ وہ درپیش ہوگا.جسے
سابق امریکی صدر آئزن ہاور نے عسکری صنعت کاری کا جنون کہا تھا.وہ لکھتے
ہیں کہ امریکہ نے بش کے دور میں اپنے عسکری حجم کو اتنا بڑھا لیا ہے کہ
ساری دنیا ملکر بھی امریکہ کی فوجی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتی.امریکہ نے
راکٹوں سے لیکر ٹینکوں اور جہازوں سے لیکر بندوقوں تک اور ہوائی بیڑوں سے
لیکر بحری بیڑوں تک سالہا سال کی محنت شاقہ سے اتنی حیرت ناک ترقی کرلی
ہے.کہ جنگی انڈسٹری کے مالکان اب اپنی صنعت کی کامیابی کے لئے امریکی صدور
کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتے.کسی بھی صدر کو موم کی ناک بنانے کے لئے
انکے پاس کئی طریقے موجود ہیں.اگر کسی صدر نے انکے کاروبار میں مزاحمت
پیدا کرنے یا تخفیف کرنے کی حماقت کی تو وہ کانگرس اور سینٹ کے ممبران کی
انگیخت پر امریکی جنگی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے لاکھوں کاریگروں کو
سڑکوں پر لے ائیں گے.یاد رہے.کہ امریکہ میں کانگرس کے ہر ممبر کے حلقہ میں
جنگی صنعتوں کا جال بچھا ہوا ہے.یوں نیا صدر بھی تخفیف اسلحہ کی کسی
کاروائی کو اگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا.جوناتھن پاور آگے چل
کرلکھتے ہیں کہ پریس کا ایک بدنام زمانہ دھڑا یہ رائے رکھتا ہے.کہ مضبوط
امریکہ کے لئے پائیدار جنگی صنعت ضروری ہے.علاوہ ازیں عسکری کاروبار کرنے
والے ادارے ماہرین تعلیم پر تحقیق کی غرض ساے اربوں روپے سالانہ خرچ کرتے
ہیں.یوں پریس اور تعلیمی و تحقیقی ادارے بھی عسکری تاجروں کی پشت پر
ہیں.یوں سوچا جائے تو امریکہ کی جنگی صنعت کی ترقی کا راز دنیا بھر میں
دنگوں.جنگوں.فتنوں کے برپا ہونے میں پنہاں ہے.یوں جب تک امریکہ کے جنگی
تاجر پالیسی سازوں پر اثرانداز ہوتے رہیں گے.اس وقت تک دنیا میں امن و
امان کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا.امریکہ کے ایم آئی ٹی شعبے کے سربراہ
ہاروے سپولسکی جو پولیٹکل سائنس کے بھی ماہر ہیں کہتے ہیں.کہ امریکیوں کو
قوانین قدرت کی رو سے کوئی رکاوٹ نہیں کہ وہ سات سمندر پار جاکر جنگیں
لڑیں.حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے پاس دوسری قوموں کے علاوہ دوسری بلاوں کے
ساتھ جنگیں لڑنے کے زیادہ مواقع ہیں.یعنی امریکہ دنیا کی سپر پاور کی حثیت
سے غربت .امراض.بیماریوں کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہے.امریکہ ایران عراق اور
افغانستان میں جمہوریت نہیں لاسکتا.ہم جوناتھن پاور کے اس نکتے سے اتفاق
کرتے ہو ئے یہ لکھنا چاہیں گے.کہ امریکہ کو ایران و افغانستان میں کبھی
عسکری فتح نہیں مل سکتی.تاریخ کو کھنگالا جائے تو یہ سچائی عیاں ہوتی ہے
کہ امریکہ کو جنوبی ایشیا میں کبھی فتح نہیں مل سکی. اور نہ ہی اسکا
افغانستان کو تادیر اپنے جارحانہ کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوگا.افغانستان پر
فوجی چڑھائی کرکے اسے اپنے کنٹرول میں رکھنا امریکہ اور یورپ کی شہنشاہانہ
زہنیت کی عکاس ہے.جس کے خلاف افغان عوام کی کامیاب مذاحمت جاری و ساری
ہے.افغانستان میں ایک مشترکہ مزاحمتی قوت ابھری ہے جس نے نیٹو کو فیصلہ کن
جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے.امریکہ نے جب نائن الیون کے بعد افغانستان
کے خلاف جارہیت کا ارتکاب کیا تھا تو روس نے امریکہ کی حمایت کی تھی.لیکن
امریکیوں نے یوکرائن و جارجیا میں امریکہ نواز انقلاب برپا کرکے روس کے
لیی سخت مشکلات پیدا کردیں.جس پر اس وقت کے روسی صدر ولادی میر پوٹن نے
سخت خفگی کا اظہار کیا تھا.اور بعد ازاں روس نے افغانستان میں اسلحے کی
سمگلنگ شروع کرادی.جس کے نتیجے میں یوکرائن کے راستے جدید ترین اسلحہ
شمالی اتحاد کے لیڈروں کو ملنے لگ گیا جہاں سے یہ سازوسامان طالبان تک
پہنچتا رہا.علاوہ ازیں امریکہ نے اسی کی دہائی میں عراق؛چچنیا
ترکی.چین.شام اور سنٹرل ریاستوں کے جن مجاہدین کو روس کے خلاف میدان جنگ
میں اتارا تھا وہ سارے دوبارہ یکسو ہوکر امریکی افواج کے خلاف پنجہ زن
ہیں.جس سے مزاحمتی تحریک کو بڑی جہت ملی ہے.کہا جاتا ہے کہ یہ حکمت عملی
روس نے مرتب کی ہے جس نے اسی کی دہائی والی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایسا
بندوبست کیا ہے.اس کے علاوہ خطے کے وہ ممالک جو افغان اور بھارتی حکومت کے
گٹھ جوڑ سے دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں وہ بھی اپنی سلامتی کو یقینی
بنانے کے لئے طالبان مزاحمتی تحریک کو انگیخت دینے میں جت گئے ہیں.امریکی
اخبار نیویارک ٹائمز نے افغانستان کی موجودہ مزاحمتی تحریک کو (نئے طالبان
کا ظہور) کا نام دیا ہے.دراصل یہی وہ تحریک مزاحمت ہے.جس نے اسی کی دہائی
میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھیرا تھا.زندگی کی آخری سانسوں تک لڑنا
ایرانیوں اور افغانیوں کا شیوہ ہے.جس کی واضح مثالیں ایران عراق جنگ اور
افغان روس جنگ ہیں.ایرانی قوم متحد ہوکر اسرائیل اور امریکیوں کے کس بل
نکالنے کے لئے تیار ہے.ایران کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں کہا ہے؛کہ ہمیں
امید نہیں کہ اسرائیل تہران کی نیوکلیائی قوت پر براہ راست حملہ کردے
گا.اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کی جرات کی تو ہم نے دشمن فوجیوں کے
لئے 320000 قبروں کا بندوبست کر رکھا ہے.ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے
کی باز گشت اور افغانستان میں طالبان کی نیٹو افواج کے خلاف باکمال تحریک
مزاحمت مسلم ریاستوں کے لئے ایک گولڈن چانس ہے.کہ وہ باہم متحد و متفق
ہوکر امریکہ اور یہود و نصاری کو روند ڈالیں.یہ ہماری آذدی و خود مختیاری
کے لئے لازم ہے کہ مسلم حکمران اپنے اختلاف بالائے طاق رکھ کر جہاد کا علم
بلند کریں.مسلم حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہیی.کہ ہم کب تک عالمی قوتوں کی
چاکری کرکے خدائی احکامات کا جنازہ نکالتے رہیںگے. .امریکہ کے صدارتی
الیکشن میں فتح ڈیموکریٹ کا مقدر بنے یا پھر بش کے پیروکار جیت کا ڈنکا
بجائیں.مسلم علاقوں میں امریکی پالیسیوں میں نہ تو کوئی تبدیلی ممکن
ہے.اور نہ ہی یہاں روا رکھے جانے والے جنگی مظالم کا خاتمہ ممکن ہوگا.
.دونوں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں.بچھو چاہے.مندر میں جنم
لے یا پھر چرچ میں .اسکی سرشت میں صرف کاٹنا ہی ہے.امریکہ بھی ایک بچھو
ہے.جو مسلمانوں کو کاٹنے کے لئے ہر وقت بیقرار رہتا ہے.شاہ عبدالطتف
بھٹائی نے کہا تھا.سانپ دیکھنے میں تو سندر ہوتے ہیں لیکن انکے اندر زہر
بھرا ہوا ہوتا ہے.
کے خرمن کو جلا کر راکھ کرنے عراق و افغانستان میں لاکھوں
مسلمانوں کو موت کی وادیوں میں پہچانے اور ہزاروں امریکیوں کو جنگی ایندھن
بنانے کے جرائم میں مغرب کے صحافتی پنڈت ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی
پیش گوئیاں کررہے ہیں.یوں وائٹ ہاوس کے عتاب تلے داد و فریاد کرنے والی
مسلم برادری اس خوش فہمی کا شکار ہے؛کہ بش اینڈ کمپنی کی صدارتی الیکشن
میں ہار مسلم خطوں میں جاری ظالمانہ جنگوں کو روکنے میں ممدون ثابت
ہوگی.مسلم ممالک میں آجکل یہ موضوعات زیر بحث ہیں کہ کیا ڈیمو کریٹس کی
جیت مسلمانوں کے لئے بہاروں کا پیغام لائے گی.؟ کیا امریکہ اسرائیل کی شہہ
پر ایران کے خلاف فوجی معرکہ ارائی سے باز رہے گا؟ افغانستان اور عراسق کا
کیا مستقبل ہوگا.؟ کیا امریکہ کا نیا صدر پینٹاگون میں بیٹھے جنگی تاجروں
کے جنون جنگ کو پایہ زنجیر کرنے میں کامیاب ہونگے.؟مسلم دانشوروں اور مغرب
کے تجزیہ نگار ان سوالات پر بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں. لیکن سچ
تو یہ ہے کہ امریکہ کی صدارتی دوڑ میں فتح کا ہما ڈیموکریٹس کے سر باندھا
جائے.یا پھر انتخابی میڈان مارنے کا اعزاز بش اینڈ کمپنی کے دیوانے کو
حاصل ہو.دونوں صورتوں میں امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی متوقع
نہیں.کیونکہ امریکی پالیسیوں کا writter وائٹ ہاوس میں فروکش صدر نہیں
ہوتا بلکہ وہاں کے طاقتور ممبران سینٹ اور کانگرس ہوتے ہیں.جو دنیا کی
بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرتے رہتے
ہیں.امریکی صدر تو شاہ کے نورتنوں کی طرح ان پالیسیوں پر عمل درامد کرنے
کا پابند ہوتا ہے.سرمایہ داروں کے مختلف حلقے اپنا اپنا کھیل کھیلتے رہتے
ہیں.کبھی تیل کے سوداگر ممبران سے اپنی حق میں پالیسیاں مرتب کروانے میں
کامیاب ہوجاتے ہیں اور کبھی اسلحے کے تاجر اپنا زور دکھا جاتے ہیں.بش کے
خونی ادوار میں امریکہ کی پالیسیوں پرجنگی انڈسٹری کے کھربوں پتی تاجر
چھائے رہے.امریکہ کے صدارتی امیدواروں نے یہودیوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے
لئے ایران افغانستان پاکستان اور عرب ملکوں کے خلاف زور دار بیانات کی
بھرمار کی.سینیٹر باراک اوہامہ نے2 جون 2008 کوAIPAC اسرائیل امریکہ پبلک
افیرز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہودیوں کی ہمدردیاں سمیٹنے اور
اسرائیل سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں یہودیوں کے سچے
اور کھرے دوست کی حثیت سے سیدھی باتیں کرنے ایا ہوں.اگر میں امریکہ کا صدر
بن گیا تو اسرائیل کی مضبوطی کے لئے دن رات ایک کردونگا.میں اسرائیلی
پالیسیوں کی کامیابی کے لئے پوری دنیا کا دورہ کرونگا. میں عرب ممالک اور
دیگر مسلمان ریاستوں پر زور دونگا کہ وہ نہ صرف اسرائیل کو دل سے تسلیم
کریں بلکہ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم کریں.میں اسرائیل کی
سیکیورٹی کے معاملے پر کسی قسم کی کمٹمنٹ قبول نہیں کرونگا.باراک نے بیانگ
دہل کہا کہ وہ اسرائیل کے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے.اقوام
متحدہ بھی اسرائیل نواز پالیسیوں کی سپورٹ کریگی.یروشلم اسرائیل کا کیپٹل
ہوگا جسے تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا.باراک نے یہودیت پرستی سے دلی الفت
کا ثبوت دیتے ہوئے کہا.اسرائیل کے لئے ایران سے بڑھ کر کوئی خطرہ
نہیں.وہ(باراک) ایران کے مکو ٹھپنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے. باراک
نے پاکستان کے خلاف ٹرٹراہٹ کرتے ہوئے کہا.کہ ہمیں افغانستان میں اپنے
مقاصد کے حصول ک تک جنگ لڑنی ہوگی.ہمیں اپنے اتحادی ایٹمی قوت پاکستان کی
بھی پرواہ نہیں کرنی چاہیی.کیونکہ وہ دہشت گردانہ سوچ سے لیس ہے.یوں یہ
سچائی الم نشرح ہوچکی ہے کہ امریکی صدارتی امیدواروں میں سے فتح جسکا بھی
مقدر ٹھرے. مسلم علاقوں میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں.امریکہ کی نئی سرکار
بھی انتہاپسندی کے نام پر مسلمنانوں.جہادیوں اور سراٹھا کر چلنے والے
سرفروشوں کے خلاف بارود کی یلغار جاری رکھے گا.گویا قید خانے چھلکتے رہیں
گے.خون بہتا رہے گا.منقتل سجتے رہیں گے.توپوں کی گھن گرج جاری رہے
گی.اسمانوں سے آگ برسائی جاتی رہے گی.امریکہ کے شہرہ آفاق کالم نویس
جوناتھن پاور نے اپنے ایک کالم (عسکری صنعت کاری کے جنون کو ختم کیا جائے)
میں لکھا ہے.کہ امریکہ کے نئے صدر کو سب سے مشکل مرحلہ وہ درپیش ہوگا.جسے
سابق امریکی صدر آئزن ہاور نے عسکری صنعت کاری کا جنون کہا تھا.وہ لکھتے
ہیں کہ امریکہ نے بش کے دور میں اپنے عسکری حجم کو اتنا بڑھا لیا ہے کہ
ساری دنیا ملکر بھی امریکہ کی فوجی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتی.امریکہ نے
راکٹوں سے لیکر ٹینکوں اور جہازوں سے لیکر بندوقوں تک اور ہوائی بیڑوں سے
لیکر بحری بیڑوں تک سالہا سال کی محنت شاقہ سے اتنی حیرت ناک ترقی کرلی
ہے.کہ جنگی انڈسٹری کے مالکان اب اپنی صنعت کی کامیابی کے لئے امریکی صدور
کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتے.کسی بھی صدر کو موم کی ناک بنانے کے لئے
انکے پاس کئی طریقے موجود ہیں.اگر کسی صدر نے انکے کاروبار میں مزاحمت
پیدا کرنے یا تخفیف کرنے کی حماقت کی تو وہ کانگرس اور سینٹ کے ممبران کی
انگیخت پر امریکی جنگی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے لاکھوں کاریگروں کو
سڑکوں پر لے ائیں گے.یاد رہے.کہ امریکہ میں کانگرس کے ہر ممبر کے حلقہ میں
جنگی صنعتوں کا جال بچھا ہوا ہے.یوں نیا صدر بھی تخفیف اسلحہ کی کسی
کاروائی کو اگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا.جوناتھن پاور آگے چل
کرلکھتے ہیں کہ پریس کا ایک بدنام زمانہ دھڑا یہ رائے رکھتا ہے.کہ مضبوط
امریکہ کے لئے پائیدار جنگی صنعت ضروری ہے.علاوہ ازیں عسکری کاروبار کرنے
والے ادارے ماہرین تعلیم پر تحقیق کی غرض ساے اربوں روپے سالانہ خرچ کرتے
ہیں.یوں پریس اور تعلیمی و تحقیقی ادارے بھی عسکری تاجروں کی پشت پر
ہیں.یوں سوچا جائے تو امریکہ کی جنگی صنعت کی ترقی کا راز دنیا بھر میں
دنگوں.جنگوں.فتنوں کے برپا ہونے میں پنہاں ہے.یوں جب تک امریکہ کے جنگی
تاجر پالیسی سازوں پر اثرانداز ہوتے رہیں گے.اس وقت تک دنیا میں امن و
امان کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا.امریکہ کے ایم آئی ٹی شعبے کے سربراہ
ہاروے سپولسکی جو پولیٹکل سائنس کے بھی ماہر ہیں کہتے ہیں.کہ امریکیوں کو
قوانین قدرت کی رو سے کوئی رکاوٹ نہیں کہ وہ سات سمندر پار جاکر جنگیں
لڑیں.حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے پاس دوسری قوموں کے علاوہ دوسری بلاوں کے
ساتھ جنگیں لڑنے کے زیادہ مواقع ہیں.یعنی امریکہ دنیا کی سپر پاور کی حثیت
سے غربت .امراض.بیماریوں کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہے.امریکہ ایران عراق اور
افغانستان میں جمہوریت نہیں لاسکتا.ہم جوناتھن پاور کے اس نکتے سے اتفاق
کرتے ہو ئے یہ لکھنا چاہیں گے.کہ امریکہ کو ایران و افغانستان میں کبھی
عسکری فتح نہیں مل سکتی.تاریخ کو کھنگالا جائے تو یہ سچائی عیاں ہوتی ہے
کہ امریکہ کو جنوبی ایشیا میں کبھی فتح نہیں مل سکی. اور نہ ہی اسکا
افغانستان کو تادیر اپنے جارحانہ کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوگا.افغانستان پر
فوجی چڑھائی کرکے اسے اپنے کنٹرول میں رکھنا امریکہ اور یورپ کی شہنشاہانہ
زہنیت کی عکاس ہے.جس کے خلاف افغان عوام کی کامیاب مذاحمت جاری و ساری
ہے.افغانستان میں ایک مشترکہ مزاحمتی قوت ابھری ہے جس نے نیٹو کو فیصلہ کن
جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے.امریکہ نے جب نائن الیون کے بعد افغانستان
کے خلاف جارہیت کا ارتکاب کیا تھا تو روس نے امریکہ کی حمایت کی تھی.لیکن
امریکیوں نے یوکرائن و جارجیا میں امریکہ نواز انقلاب برپا کرکے روس کے
لیی سخت مشکلات پیدا کردیں.جس پر اس وقت کے روسی صدر ولادی میر پوٹن نے
سخت خفگی کا اظہار کیا تھا.اور بعد ازاں روس نے افغانستان میں اسلحے کی
سمگلنگ شروع کرادی.جس کے نتیجے میں یوکرائن کے راستے جدید ترین اسلحہ
شمالی اتحاد کے لیڈروں کو ملنے لگ گیا جہاں سے یہ سازوسامان طالبان تک
پہنچتا رہا.علاوہ ازیں امریکہ نے اسی کی دہائی میں عراق؛چچنیا
ترکی.چین.شام اور سنٹرل ریاستوں کے جن مجاہدین کو روس کے خلاف میدان جنگ
میں اتارا تھا وہ سارے دوبارہ یکسو ہوکر امریکی افواج کے خلاف پنجہ زن
ہیں.جس سے مزاحمتی تحریک کو بڑی جہت ملی ہے.کہا جاتا ہے کہ یہ حکمت عملی
روس نے مرتب کی ہے جس نے اسی کی دہائی والی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایسا
بندوبست کیا ہے.اس کے علاوہ خطے کے وہ ممالک جو افغان اور بھارتی حکومت کے
گٹھ جوڑ سے دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں وہ بھی اپنی سلامتی کو یقینی
بنانے کے لئے طالبان مزاحمتی تحریک کو انگیخت دینے میں جت گئے ہیں.امریکی
اخبار نیویارک ٹائمز نے افغانستان کی موجودہ مزاحمتی تحریک کو (نئے طالبان
کا ظہور) کا نام دیا ہے.دراصل یہی وہ تحریک مزاحمت ہے.جس نے اسی کی دہائی
میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھیرا تھا.زندگی کی آخری سانسوں تک لڑنا
ایرانیوں اور افغانیوں کا شیوہ ہے.جس کی واضح مثالیں ایران عراق جنگ اور
افغان روس جنگ ہیں.ایرانی قوم متحد ہوکر اسرائیل اور امریکیوں کے کس بل
نکالنے کے لئے تیار ہے.ایران کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں کہا ہے؛کہ ہمیں
امید نہیں کہ اسرائیل تہران کی نیوکلیائی قوت پر براہ راست حملہ کردے
گا.اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کی جرات کی تو ہم نے دشمن فوجیوں کے
لئے 320000 قبروں کا بندوبست کر رکھا ہے.ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے
کی باز گشت اور افغانستان میں طالبان کی نیٹو افواج کے خلاف باکمال تحریک
مزاحمت مسلم ریاستوں کے لئے ایک گولڈن چانس ہے.کہ وہ باہم متحد و متفق
ہوکر امریکہ اور یہود و نصاری کو روند ڈالیں.یہ ہماری آذدی و خود مختیاری
کے لئے لازم ہے کہ مسلم حکمران اپنے اختلاف بالائے طاق رکھ کر جہاد کا علم
بلند کریں.مسلم حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہیی.کہ ہم کب تک عالمی قوتوں کی
چاکری کرکے خدائی احکامات کا جنازہ نکالتے رہیںگے. .امریکہ کے صدارتی
الیکشن میں فتح ڈیموکریٹ کا مقدر بنے یا پھر بش کے پیروکار جیت کا ڈنکا
بجائیں.مسلم علاقوں میں امریکی پالیسیوں میں نہ تو کوئی تبدیلی ممکن
ہے.اور نہ ہی یہاں روا رکھے جانے والے جنگی مظالم کا خاتمہ ممکن ہوگا.
.دونوں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں.بچھو چاہے.مندر میں جنم
لے یا پھر چرچ میں .اسکی سرشت میں صرف کاٹنا ہی ہے.امریکہ بھی ایک بچھو
ہے.جو مسلمانوں کو کاٹنے کے لئے ہر وقت بیقرار رہتا ہے.شاہ عبدالطتف
بھٹائی نے کہا تھا.سانپ دیکھنے میں تو سندر ہوتے ہیں لیکن انکے اندر زہر
بھرا ہوا ہوتا ہے.
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 862