Nov
22
2008
Today

Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?
Attock
9°C
اندرونی اور بیرونی خلفشار PDF Print E-mail
User Rating: / 1
PoorBest 
 
پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو جس طرح ''جلتی ہوئی ٹھنڈیlogo abdul rahman آگ '' میں جھونکا جا رہا ہے اسکا اندازہ پاکستان کی بھولی عوام کو نہ سہی لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں کو ضرور ہوچکاہے۔ملک جن مسائل سے دوچار ہے اور مزید جن گھمبیر مسائل میں گرفتار ہوتا جارہا ہے،اس تمام کئے دھرے میں اندرونی اور بیرونی قوّتیں کارفرما ہیں۔یہ طاقتیںپاکستان پر ایک ایسی جنگ مسّلط کروا رہی ہیں جسکا انجام نہایت بھیانک اور ''سرد ہولناکی'' کے علاوہ کچھ نہیں!یہ ''سرد ہولناکی'' کیا ہے؟ہماری غریب عوام جو بھوک ، ننگ اور افلاس کی طرف تیزی سے گامزن ہے'میں چند لوگ ایسے ہوں گے جو ملکی سیاست اور اندرونی وبیرونی خلفشاریوں پر نظر رکھے ہوئے ہوںگے جبکہ باقی ماندہ طبقہ تو علی ا لصبح کام پر نکلتے ہیں اور رات ڈھلے جب گھر لوٹتے ہیں تو ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ سوچ سکیں ،کسی بحث مباحثہ میں حصّہ لے سکیں یا پھر تجزیہ کرسکیں۔عوام کی توجہ تقسیم کرنے کی خاطر ملک پر بے شمار ایشوز تھوپ دئیے گئے ہیں۔ہماری غریب عوام کی توجہ ان ایشوز کی طرف ایسی مبذول ہوئی ہے کہ وہ اپنے دیرینہ مسائل( جو انکو ''سیاسی ورثہ'' میں ملتے چلے آرہے ہیں)کی طرف سے دھیان ہٹ گیا ہے۔پاکستان جو 1947ئسے ہی نازک موڑ پر چل رہا ہے،اب خانہ جنگی کی طرف رخ کر رہا ہے۔یہ اندرونی و بیرونی طاقتیں ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کی جو کیفیات پیدا کر رہی ہیں اس سے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے نہیں بلکہ صرف پاکستان کا محنت کش اورغریب طبقہ ہی نبردآزما ہوگا۔کیونکہ یہ سرد ہولناکی ملک کو دیمک کی طرح ' چٹم ' کر رہی ہے۔

18فروری کے انتخابات کے بعدنئی حکومت نے جو 100دن کا پیکج دیا اس کے پورا ہونے کے بعد بے شما رلکھا اور کہا جا چکا ہے،صرف یہی اکک حقیقت ہے کہ ان 100دنوں میں حکمرانوں نے عوام کے گرد مہنگائی کے پھندے کو مزید تنگ کیا ہے اور غربت کے مکمل 'خاتمے' کا وعدہ پورا کرنے کی طرف پیش رفت کرہے ہیں۔یہ حکومت نہ 60معزول ججز کوبحال کروا سکی ہے اور نہ صدر کا مواخذہ کر سکی ہے،یہ حکومت نہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرواسکی ہے اور نہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی ختم کروا سکی ہے،زرداری حکومت نہ ان بے گناہوں کو بازیاب کروا سکی ہے اور نہ ہی مہنگائی کا اژدھا قابو کرسکی ہے۔یہ تمام اس موجودہ حکومت کے وعدے بے مثل تھے۔حکمران صرف اور صرف ہجوم میں دعوے ہی کر سکتے ہیں اور کچھ نہیں!جبکہ ہماری بھولی عوام ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان آزمائے ہوئے لوگوںہی میں سے کوئی آئے گا اور الہ دین کے چراغ سے ان کے دکھوں کا مداوا کرے گالیکن ہمارے سیاستدان ''یہ کریں گے 'وہ کریں گے'' کے راگ آلاپ رہے ہیںمگر میرے بزرگ اور ریٹائر سیاستدانوںیہ وقت بلند و بانگ دعووں کا نہیں بلکہ عملی کام کرنے کا ہے۔

میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کروں گا کہ نیٹو فورسز پاک افغان سرحد پر جو خون کی نایاب ہولی کھیلنے میںمصروفِ عمل ہے' اس میں کسی اور کا نہیں بلکہ صرف پاکستان کا ایسا نقصان ہے کہ ہماری عوام چاہتے ہوئے بھی اس جنگ سے بیس تیس سال تک نہیں نکل سکتے۔اس حقیقت کا ادراک عوام کو نہ سہی مگر سیاستدانوں ،حکمرانوں،بیوروکریٹس اور اربابِ اختیارکو ضرور ہے۔مگر یہ لوگ پھر بھی امریکیوں اور اسکے اتحادیوںکو مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ''لگے رہو منّا بھائی''۔

میں قارئین کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کچھ عرصے میں اس سرد ہولناکی سے نکل کر خانہ جنگی کی طرف گامزن ہیں۔اگر اس بیماری کا علاج نہ کیا گیاتو یہ مرض ناسور بن کر وطن ِعزیز کی رگ و پہ میں سرایت کر جائے گا۔اس لئے ابھی بھی جاگنے کا وقت ہے ،جاگ جاؤ!ورنہ آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

پاکستان اس وقت جن گھمبیر مسائل سے دوچار ہے'ان میںبڑھتی ہوئی مہنگائی ،صحت کی سہولتوں کا فقدان ، پٹرولیم مصنوعات میں روز بروز اضافہ ، بے روز گاری ، لوڈ شیڈنگ ، بجلی' پانی اور گیس کی عدم فراہمی ، صنعتوں اور کارخانوں کی ہڑتالیں وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ پاکستانی فوج 'کا افغان بارڈر اور شمالی و قبائلی علاقہ جات میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن سرِفہرست ہیں۔جبکہ دوسری طرف اندرونی و بیرونی خلفشاریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی فوج نے بھی ہلکا پھلکا ''مشقی محاذ'' کھول لیا ہے،اسکے علاوہ بھارت نے پاکستانی معیشت کو مزید نقصان پہنچانے اور دگرگوں حالات پیدا کرنے کے لئے پاکستانی پانیوں پر56نئے ڈیم بنانے کا ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے ۔تھوڑا سا مزید آگے بڑھیں تو پاکستان کے دو اہم صوبے سرحد اور بلوچستان مسلسل حالتِ جنگ میں مبتلا ہیں۔

افواجِ پاکستان' جن کو عوام اپنے سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی،جن کی بلائیں لیناغریب لوگ اپنا نصب العین سمجھتے تھے۔آج ان ہی کے ذریعے امریکی امداد کو ''دہشت گردی کے خلاف جنگ'' کے نام پر استعمال کیا جارہا ہے اور اپنے ہی لوگوں کو مروایا جا رہا ہے۔پاکستان کے نام نہاد سیاستدانوں اور آمریت پسند حکمرانوںنے یہ تمام کام امریکہ اور اسکے حواریوں کو خوش کرنے کے لئے کر تو دئیے ہیں لیکن ان تمام معاملات کا موازنہ کریں تو کیا یہ سب کچھ صوبائیت پرستی کی جنگ نہیں بنتی جا رہی؟عوام میں صبر و برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔جب عوام کی بنیادی ضروریات ہی پوری نہیں ہوں گی تو وہ لازماً لوٹ کھسوٹ کا راستہ اپنائیں گے'اسطرح کرپشن بڑھے گی اور جرائم میں اضافہ ہوگا۔

پاکستانی عوام جو کبھی غےّور ، وفا شعار اور محنتی کہلاتی تھی 'آج ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔1947ئسے 1971ئتک اور 1971ئ سے تاحال پاکستان نازک موڑ پر ہی سفر کر رہا ہے۔امریکہ وغیرہ پاکستان اور پاکستانی حکمرانوں کو ڈالروں کے' لشکارے 'دکھا کر اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہا ہے اور ان ہی کے ذریعے ہمارے غریب طبقے پر خانہ جنگی مسلّط کروا رہا ہے ۔پاکستان کو افغانستان بنانے کی حتٰی الامکان کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری طرف ہمارے سیاستدان ،حکمران اور اربابِ اختیار اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں'کوئی لانگ مارچ کی بات کرتا ہے تو کوئی احتجاج اور دھرنوں کی۔ عوامی مسائل کو حل کرنے،با مقصد اور عملی کام کی طرف انکی توّجہ مستقل ناپید ہے۔ اسکے برعکس تیسری طرف عوام بنیادی ضروریات اور دو وقت کی روٹی پورا کرنے کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔اس مثّلث(Triangle) میں صرف اور صرف عوام کا ستیاناس ہو رہا ہے۔

پاکستان میں یہ اندرونی و بیرونی سازشی عناصر جنکے عمل اور سوچ دراصل ایک ہی ہے'ایک بار پھر پاکستان کو 1971ئ کے موڑ پر لا کھڑا کررہی ہیں جبکہ ہمارے حکمران خود سے کوئی Stepلینے کی بجائے غیروں کی طرف ہاتھ اور نگاہ پھیلائے بیٹھے ہیں۔اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہونے کے باوجود کشکول پکڑنا ہماری حکمرانوں کی عادت و فطرت بن چکی ہے 'لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں رچ بس چکی ہے۔

آج ہم سب کو سوچنا چاہئیے کہ آخر کب یہ اندرونی اور بیرونی خلفشاریاں ختم ہوں گی؟اور ہم کب تک غیروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے رہیں گے؟ علامہ اقبال نے اس روز کے لئے تو وہ خواب نہیں دیکھا تھا!



12-08-2008 16:52 Abdul Rehman Khan
This entry was posted on 12-08-2008 16:52. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 695    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >