Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
9°C
جناب یہ مواخذہ ۔۔۔؟ مشرف کا نہیںہے۔۔۔! PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
پاکستان بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسٹر پرویز مشرف صاحب کے مواخذے کا اعلان۔جس کی توقع اتنخاب میں مشرف صاحب کی حمایت یافتہ جماعت کے شکست کے بعد سے کی جارہی تھی ۔ آخر کار وہ اعلان ہوہی گیا۔جناب یہ مواخذہ مشرف کا نہیں۔۔۔۔ بلکہ دھشت گردی کا مواخذہ ہے۔ اور حق و باطل کی لڑائی ہے۔جس میں مشرف میاں کی شکست یقینی ہے۔ان کی شکست کا مطلب دھشت گردی کی شکست ۔ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کیلئے بنائی تخلیقی تحریک القاعدہ و طالبان کی شکست ہے ۔ مشرف کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد یہ خطہ اب امن کی جانب پیش رفت کرے گا۔ جہاں ہندوستان ،پاکستان، ایران اور افغانستان میں ایک پائیدار دیر پا امن قائم ہونے کی یہاں سے ایک تحریک اٹھے گی۔ اور وہ اس خطہ سے بیرونی فوج کو نیکا لنے کا سبب بھی بنے گی۔
امریکہ میں ۱۱ ستمبر کو تجارتی مرکز پر جو حملہ ہوا تھا۔ وہ حملہ امریکہ پر حملہ نہیں تھا۔ بلکہ مذہب اسلام پر حملہ تھا۔مذہب اسلام کے امریکہ ، برطانیہ و یورپین ممالک میں بڑھتی ہوئی تبلیغ سے بوکھلائے امریکہ کے صدرمسٹر جارج بش نے وہاں تحقیق کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کی پھیلاوٹ کو روکنے کیلئے القاعدہ کو جنم دیا اور طالبان کے مکھوٹے تیار کئے۔ یہ اسلامی دھشت گردی کے عنوان سے کھیلا گیاکھیل مذہب عیسائیت کے دفاع کیلئے تھا۔ جنرل مشرف صاحب نے مذہب اسلام کا تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مذہب عیسائیت کے ماننے والوں کا ساتھ دیکر ملت اسلامیہ کے ہر فرد کی کمر پر خنجرمارا ۔ جس سے مذہب اسلام بدنام ہوا اور مذکورہ ملکوں میں اس کی تبلیغ از خود رُک بھی گئی۔اور اس پر روک بھی لگادی گئی۔
تخلیقی دھشت گردی کا یہ کھیل نواز لیگ کے پاکستان کے چنائو میں شمولیت کی وجہ سے بگڑ گیا۔ اگر پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں نواز شریف صاحب قومی چنائو کا بائیکاٹ کردیتے تو دنیا میں بش و مشرف کی القاعدہ وطالبان کے عنوان سے دھشت گردی جاری رہتی دنیا میںکسی کا بھی قتل کرادو اور پھر الزام لگادو القاعدہ و طالبان پر بعد میں اس کی تخلیقی کیسٹوں سے تصدیق کرادو۔ دھشت گردی کا اتنا خوبصورت کھیل عالم انسانیت کو دھوکہ دینے کا بہترین کھیل ہے ۔اس کھیل سے دوسرے ملکوں کو خاص کر مسلمان ملکوں اسلامی حلیہ مکھوٹوں کے نام سے کچلنا اور ان کو تباہ کرنا مقصود ہے۔
فی الوقت پاکستان میں مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے والوں کا مواخذہ ہے۔یہ مواخذہ جنرل مشرف صاحب کا نہیں ہے۔ بلکہ دھشت گردی کا ہے۔ اس مواخذہ سے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ مشرف میاں کی اقتدار سے بے دخلی کے ساتھ ساتھ دنیا سے تخلیقی دھشت گردی کے خاتمہ کا ایک نیا آغاز ہوگا۔اور پاکستان میں پاس کردہ قرارد اد کے ذریعہ سے الجزیرہ چینل سمیت دینا کے تما م چینل تخلیقی کیسٹوں کی اشاعت پر ان کو پابندی کے زمرے میں لایا جائے گا۔اگر وہ اس کی اشاعت کرکے القاعدہ و طالبان یا نامنہاد جہادیوں کے کسی بھی کیسٹ کی تشہیر کرتے ہیں۔ تو اس کو مذہب اسلام کے خلاف ایک سازش مانا جائیگا۔ اب خوشگوار بات یہ ہے۔ کہ پاکستان کی فوج بھی مذہب اسلام کا ساتھ دے رہی ہے۔اور مذہب اسلا م کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے والوں کو بے نقاب کرکے ان سے اپنا پیچھا چھُٹا رہی ہے۔
مشر ف میاں گنہگار نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ بلکہ وہ خطا کار اور آلہ کار ہیں۔ مشرف میاں کے مواخذہ کرنے سے گنہگاروں تک رسائی آسان ہے۔کہ انہوں نے منتخب مسٹر نواز شریف کی حکومت کو پاکستان سے،وہاں کے آئین سے اور وہاں کے عوام سے بغاوت کرکے کس کے کہنے پر کس لئے اور کیوں برطرف کیا تھا۔ مذید ہندوپاک کے خطہ میں بد امنی پیدا کرنے کیلئے انہوں نے کارگل جنگ کا کیوں سہارا لیاتھا۔ انہوں نے مذہب اسلام کو دھشت گر د بنانے والوں کا ساتھ کیوں دیا۔ القاعدہ و طالبان ۔ مسٹرجارج بش کو سیاسی فائیدے کیلئے کیوں دھمکیاں دیتے ہیں۔ اب جبکہ مسٹر بارک اوبامہ تخلیقی القاعدہ و طالبان کو ختم کرنے کا کام و اعلان کرتے ہیں۔ تو ان کے خلاف اس تخلیقی تحریک کی کوئی دھمکی منظر عام پر نہیں آتی۔۔ کیوں۔۔۔؟ اس سے پتہ چلتا ہے۔ کہ یہ تخلیقی تحریک القاعدہ و طالبان ۔ اس کے ذریعہ سے امریکہ کی بر سراقتدار جماعت کو ایک پائیدار حکمت عملی ہے۔ جس کو اب پاکستان کے نئے قائد آعظم میاں محمدنواز شریف صاحب اور پاکستان کے وزیر آعظم میاں سید یوسف رضا گیلانی صاحب نے پہچان لیا ہے۔ اب پاکستان کی جمہوری حکومت تخلیقی دھشت گردی کی تشہرکا از سر نو جائزہ لے کر اس کا صحیح ڈھنگ سے خاتمہ کرے گی۔ اسی لئے اس نے پاکستان کے قبائیلی علاقوں پر دھشت گردی پھیلانے سے پُر امریکی حملوں کی اجازت نہیں دی ہے۔
بہرحال پاکستان کی جمہوری حکومت اب پاکستان میں ’’دھشت گردی کا مواخذہ‘‘ کرکے عراق کے مرحوم صدد صدّام حسین صاحب کے قاتلوں میں شریک لوگوں کو اقتدار سے بے دخل کرکے انصاف کے تقاضوں کو پور ا کرے گی۔ افغانستان میں امریکی و ناٹوافواج کی موجودگی تخلیقی القاعدہ و طالبان کے خاتمہ کیلئے نہیں۔بلکہ اس کے تحفظ کیلئے ہے۔ بلکہ وہ اپنے سیاسی حریف جماعت کو شکست دینے کیلئے رکھی گئی ہے۔اگر امریکی فوج افغانستان سے چلی جائے۔ تخلیقی تحریک از خود دم توڑ دے گی۔ کیونکہ ان کے نام سے وہاں موجود امریکی فوج پر حملے سیاسی مفاد کا حصّہ ہیں۔ جب امریکی و ناٹو فوج وہاں نہیں رہے گی۔ تو امریکہ پر بلاوجہ حملہ کا امکان بھی ختم ہوجائیگا۔امریکہ کی موجودہ برسراقتدار قیادت نے دیگر ملکوں میں اپنے سیاسی مفاد حاصل کرنے کیلئے اپنی فوج پر حملہ کرنے کیلئے رکھی ہے۔ اور امریکی فوج کا بش کی جماعت کے ذریعہ سیاسی استعمال و سیاسی استحصال ہورہا ہے۔ جو کہ تکلیف دہ ہے۔اور افسوس ناک اور شرمناک بھی ہے۔
بہرکیف پاکستان کی جمہوری سیاسی جماعتیں مشرف میاں کے مواخذے کے ذریعہ سے انہوںے اس طرح دھشت گردی کے خاتمہ کی شروعات کردی ہے۔ اور دھشت گردی کے تازہ خاتمہ کی یہ کوشیش اب ضرور کامیاب ہوگی ۔ کیونکہ شکاری اب خود اپنے بنائے جال از خود ہی پھنس کے رہ گیاہے۔لہذا ۔اب ہم بھی آپ جناب سے اجازت لیتے ہیں۔۔۔۔



12-08-2008 16:44 Ayaz Mehmood
This entry was posted on 12-08-2008 16:44. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 786    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >