Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
9°C
عالم ارواح سے قائد اعظم بن پاکستان PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
میں عالم بالا سے قوم پاکستان کو عید ازادی کے دلفریب موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں. یہ اورlogo rauf amirات ہے .کہ نہ وہ ملک رہا. اور نہ ہی تمھارے اندر اچھے پاکستانیوں اور مسلمانوں ایسے اوصاف رہے. لیکن تم میری اولاد ہو.گو کہ تم مجھے فراموش کرچکے.میرے افکار کے شیش محل کو کرچی کرچی کربیٹھے.لیکن محبتوں کے رشتے کبھی ختم نہیں ہوا کرتے.میرا دل آج بھی اس یقین سے مالا مال ہے.کہ اگر تم قیام پاکستان کے حقیقی منشور کو زہن نشین کرلو.تو تم دوبارہ ایک نئے اور پائیدار پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں.کیونکہ تاریخ بتاتی ہے.کہ قومیں بنتی ہیں.بگڑتی ہیں.اور پھر کھڑی بھی ہوجاتی ہیں.اگر لیڈر شپ دلیر پاک نیت. اور دیانت دار میسر اجائے. میں یہاں تمھارے لئے دعا ہی کرسکتا ہوں.کہ اللہ میرے دیس اور باسیوں کو سدا سلامت اور قائم رکھے.میں تمھیں بھی نصیحت کرتا ہوں کہ چودہ اگست کو مسخروں کی اچھل کود.اربوں روپے کی فظول خرچی.اور پرچم پاکستان کے نام پر کرپشن کو عیدازادی اور جشن ازادی کا نام دینے کی بجائے رب العالمین کے سامنے گڑ گڑا کر دعائیں مانگو.اپنا احتساب کرو.دعا پر اعتماد ہی نیکی ہے.جب ہم تنہائی میں دعا مانگیں تو ہم اس یقین کا اعلان کررہے ہوتے ہیں.کہ ہمارا اللہ تعالی تنہائی میں ہمارے ساتھ ہے.ہمارے پاس ہے.اور وہپ خاموشی کی زبان بھی سنتا ہے.دعا میں خلوص انکھوں کو پرنم بنادیتا ہے.یہی انسو دعا کی منظوری کی دلیل ہیں.دعا مومن کا سب سے بڑا وسیلہ ہے.دعا ناممکنات کو ممکن بنا دیتی ہے.دعا زمانے بدل دیتی ہے.دعا گردش روزگار کو روک سکتی ہے.دعا انے والی بلاوں کو ٹال سکتی ہے.دعا میں بڑی قوت ہے.جب تک سینے میں ایمان ہے.دعا پر یقین ہیجسکا دعا پر یقین نہیں اسکا ایمان نہیں.اللہ سے دعا کرو.کہ غربت.مایوسیوں.محرومیوں.لاقانونیت.کرپشن .مذہبی نفرتوں.سیاسی حقارتوں.اور خودکش حملوں کی جہنم کا منظر پیش کرنے والے اس ملک کو ان خوابوں کی تعبیر کی جنت میں بدل ڈالے.جو ہم نے چودہ اگست 1947 کو اپنی انکھوں میں سجائے تھے .لیکن یاد رکھو صرف خالی اور کھوکھلی دعائیں مانگنے سے بھی حالات بھی نہیں بدلا کرتے.حقیقی آزادی کی برکات سے لطف اندوز ہونے کے لئے خون جگر کا استعمال بھی ضروری ہے.حقیقی جمہوریت کے احیا.اور اسلامی روایات سے مزین نظام حکمرانی کے لئے تمھیں ایک دفعہ پھر آج سے ساٹھ سال پہلے والی تاریخ دہرانی ہوگی.جب ہم نے متحد و متفق ہوکر سامراجیوں اور ہندو بنیوں کے گٹھ جوڑ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کو افرنگیوں کی استبدادیت سے نجات دلا ئی تھی. اربوں کی وہ رقم تم جو عیدازادی کے نام پر لٹادیتے ہو.وہ تعلیم پر خرچ کرو.کیونکہ تعلیم ہماری قومیں عالم بالا سے قوم پاکستان کو عید ازادی کے دلفریب موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں. یہ اور بات ہے .کہ نہ وہ ملک رہا. اور نہ ہی تمھارے اندر اچھے پاکستانیوں اور مسلمانوں ایسے اوصاف رہے. لیکن تم میری اولاد ہو.گو کہ تم مجھے فراموش کرچکے.میرے افکار کے شیش محل کو کرچی کرچی کربیٹھے.لیکن محبتوں کے رشتے کبھی ختم نہیں ہوا کرتے.میرا دل آج بھی اس یقین سے مالا مال ہے.کہ اگر تم قیام پاکستان کے حقیقی منشور کو زہن نشین کرلو.تو تم دوبارہ ایک نئے اور پائیدار پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں.کیونکہ تاریخ بتاتی ہے.کہ قومیں بنتی ہیں.بگڑتی ہیں.اور پھر کھڑی بھی ہوجاتی ہیں.اگر لیڈر شپ دلیر پاک نیت. اور دیانت دار میسر اجائے. میں یہاں تمھارے لئے دعا ہی کرسکتا ہوں.کہ اللہ میرے دیس اور باسیوں کو سدا سلامت اور قائم رکھے.میں تمھیں بھی نصیحت کرتا ہوں کہ چودہ اگست کو مسخروں کی اچھل کود.اربوں روپے کی فظول خرچی.اور پرچم پاکستان کے نام پر کرپشن کو عیدازادی اور جشن ازادی کا نام دینے کی بجائے رب العالمین کے سامنے گڑ گڑا کر دعائیں مانگو.اپنا احتساب کرو.دعا پر اعتماد ہی نیکی ہے.جب ہم تنہائی میں دعا مانگیں تو ہم اس یقین کا اعلان کررہے ہوتے ہیں.کہ ہمارا اللہ تعالی تنہائی میں ہمارے ساتھ ہے.ہمارے پاس ہے.اور وہپ خاموشی کی زبان بھی سنتا ہے.دعا میں خلوص انکھوں کو پرنم بنادیتا ہے.یہی انسو دعا کی منظوری کی دلیل ہیں.دعا مومن کا سب سے بڑا وسیلہ ہے.دعا ناممکنات کو ممکن بنا دیتی ہے.دعا زمانے بدل دیتی ہے.دعا گردش روزگار کو روک سکتی ہے.دعا انے والی بلاوں کو ٹال سکتی ہے.دعا میں بڑی قوت ہے.جب تک سینے میں ایمان ہے.دعا پر یقین ہیجسکا دعا پر یقین نہیں اسکا ایمان نہیں.اللہ سے دعا کرو.کہ غربت.مایوسیوں.محرومیوں.لاقانونیت.کرپشن .مذہبی نفرتوں.سیاسی حقارتوں.اور خودکش حملوں کی جہنم کا منظر پیش کرنے والے اس ملک کو ان خوابوں کی تعبیر کی جنت میں بدل ڈالے.جو ہم نے چودہ اگست 1947 کو اپنی انکھوں میں سجائے تھے .لیکن یاد رکھو صرف خالی اور کھوکھلی دعائیں مانگنے سے بھی حالات بھی نہیں بدلا کرتے.حقیقی آزادی کی برکات سے لطف اندوز ہونے کے لئے خون جگر کا استعمال بھی ضروری ہے.حقیقی جمہوریت کے احیا.اور اسلامی روایات سے مزین نظام حکمرانی کے لئے تمھیں ایک دفعہ پھر آج سے ساٹھ سال پہلے والی تاریخ دہرانی ہوگی.جب ہم نے متحد و متفق ہوکر سامراجیوں اور ہندو بنیوں کے گٹھ جوڑ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کو افرنگیوں کی استبدادیت سے نجات دلا ئی تھی. اربوں کی وہ رقم تم جو عیدازادی کے نام پر لٹادیتے ہو.وہ تعلیم پر خرچ کرو.کیونکہ تعلیم ہماری قوم کے لئے عزت و موت کا مسئلہ ہے. پہلے میں اپکو اپنا حال بتانا چاہتا ہوں.کہ تم ہر سال جس چودہ اگست کو جس بابا کی تصویریں اٹھا کر ازادی کے نعرے لگاتے ہو.جسے بابائے قوم کا ایوارڈ دیتے ہو.وہ انتہائی کرب کی حالت میں ہے.رب العالمین نے اپنی بے شمار عنایات سے نواز رکھا ہے.لیکن مجھے میرے دیس کی موجودہ حالت.لوگوں کی بے حسی.حکمرانوں کی ڈکٹیٹرشپ.سیاسی جماعتوں کی افراتفری پر کبھی سکون میسر نہیں ایا.تمھاری موجودہ حالت زار پر میری روح ہر وقت تڑپتی رہتی ہے.کبھی کبھار تو میں یہ سوچ کر کھکھلا اٹھتا ہوں.کہ چلو اچھا ہوا.رب سائیں نے مجھے قیام پاکستان کے فوری بعد اٹھا لیا.ورنہ تخت نشین میرا حشر ویسا ہی کرتے.جیسا کہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان کا کیا ہے.اور تم سکون سے گھروں میں پڑے رہتے.کہ چلو..مرنے دو ہم نے اپنا کام نکلوا لیا ہے.میں نے ابتدا میں ٓاپکے لئے قوم کا لفظ استعمال کیا ہے.لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے شرم اتی ہے اور میں سوچتا ہوں..کہ کیا نفسا نفسی.مادہ پر ستی.بے حسی.چھناجھپٹی کو اپنا شعار بنانے والے انسانوں کو قوم کا نام دیا جاسکتا ہے.مجھے افسوس کے ساتھ کہناپڑ رہا ہے..کہ نہ ہی تو تم قوم ہو..اور نہ ہی تم اذاد ہو.میں نے اپنی زندگی میں اس جملے کو کئی بار دہرایا تھا..کہ قومیں اس وقت بنتی ہیں.جب لوگ مساوات.اخوت.الفت و یگانگت کا دامن تھامیں.لیکن تم یہ سب کچھ چھوڑ چکے ہو..میں تسلیم کرتا ہوں.کہ استحصالی ٹولے نے تمھارے حقوق سلب کر رکھے ہیں.حکمرانوں نے تمھیں خونی مصائب و مسائل کے گرداب میں پابند سلاسل بنادیا ہے.جاگیر داروں.جرنیلوں اور بیوروکریٹوں نے ایکا کرکے قومی وسائل کو اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر ہتھیا رکھا ہے عالم بالا میں جب مجھے غربت.و ناانصافی سے دلبرداشتہ ہوکر خود کشیوں کی آری سے اپنا گلا کاٹنے والے ملنے کے لئے اتے ہیں..اور تمھاری وبال جان بنی ہوئی زندگیوں کے اور تازہ ترین سیاسی وحکومتی معاملات کی تازہ ترین صورتحال بتاتے ہیں.تومیں دھاڑیں مار کر رونے لگتا ہوں .کہ علامہ اقبال نے جس خواب کو بنیاد بناکر برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لئے علحیدہ مملکت کا مشورہ دیا.اور جس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے ہم نے مسلم لیگ کے جھنڈے تلے یکسو ہوکر لے کے رہیں گے پاکستان اور بن کے رہے گا.کے نعرے لگا یا کرتے تم وہ خواب بکھیر چکے ہو . تم نے ازادی کے نعروں کی حرمت کے لبا س کو تار تار کرڈالا.میں نے چودہ اگست چالیس کو تحریک مقاصد کے لئے مسلمانوں کو پکارا تو وہ بنگال سے بمبی تک اور ڈھاکہ سے میانوالی تک کے مسلمان علامہ کے خواب کو عملی شکل دینے کے لئے نہ صرف سربکف ہوگئے. بلکہ پورا ہند منٹو پارک میں امڈ ایا.اس روز مسلمانوں میں عجیب مستی و سرشاری کا جذبہ چھایا ہوا تھا.یہ وہ جذبہ تھا.جسے الفاظ میں لکھا نہیں جاسکتا.زبان سے بولا نہیں جاسکتا.اور ترازو میں تولا نہیں جاسکتا.اسی جذبے نے سامراج کو لرزہ براندام بنادیا.اور پھر پورے عالم نے دیکھا.کہ صرف سات سال بعد دنیا کے نقشے پر اس عالم کی سب سے بڑی اسلامی نظریاتی مملکت ابھری. .جس پاکستان میں تم رہتے ہو.اس کی بنیادوں میں بیس لاکھ مسلمانوں کا خون شامل ہے.تمھارے اباو اجداد نے اگ و خون کے دریا پار کرنے کے بعد علامہ کے خواب کو پاکستان کے خواب کو یقینی بنایا.لیکن میرے دل میں ہول اٹھتا ہے.کہ تم اور تمھارے حکمرانوں اور سیاسی رہبروں نے اپنی لغزشوں حماقتوں اور مکر کرنیوں سے تحریک پاکستان کے ہمرکابوں کی لازوال و باکمال قربانیوں پر حرف تنسیخ پھیر ڈالا.اگر تمھیں احسان فراموشی کی بلند و بالا مسند پر فروکش کردیا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ تم تحریک قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کو زندہ درگور کرچکے ہو.تمھاری ناعاقبت اندشیوںکی اس سے بڑی انتہا اور کیا ہوسکتی ہے.کہ تم نے نئی نسلوں کو تحریک ازادی پاکستان اور تحریک مقاصدسے روشناسس نہیں کروایا.کاریگر کی نیت جب تک ٹھیک ہوتی ہے.اس وقت تک مشینیں بھی صیح کام کرتی ہیں. زرہ دیکھو اور سوچو کہ نوجوان نسل کا زہنی انحطاط اور کریکٹر زوال کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے.کیا سارا دن ہندووں کی تہذیب و ثقافت کی دھن میں نازاں و رقصاں.بھارتی و مغربی فلموں کے رسیا.اور ڈاکٹر قدیر علامہ اقبال کی بجائے امیتا بھچن.و شاہ رخ کو اپنا ہیرو سمجھنے والی روشن خیال نسل کو پاکستانی کہنا درست ہوگا..؟ میں نے نے ایک مرتبہ ایک جملہ کہا تھا.کہ اگر کوئی چیز اچھی ہے.تو وہ عین اسلام ہے.اگر کوئی چیز اچھی نہیں ہوسکتی.تو وہ اسلام نہیں ہوسکتی. ہے.کیا سارا دن ہندووں کی تہذیب و ثقافت کی دھن میں نازاں و رقصاں.بھارتی و مغربی فلموں کے رسیا.اور ڈاکٹر قدیر علامہ اقبال کی بجائے امیتا بھچن.و شاہ رخ کو اپنا ہیرو سمجھنے والی روشن خیال نسل کو پاکستانی کہنا درست ہوگا..میں نے ایک مرتبہ ایک جملہ کہا تھا.کہ اگر کوئی چیز اچھی ہے.تو وہ عین اسلام ہے.اگر کوئی چیز اچھی نہیں ہوسکتی.تو وہ اسلام نہیں ہوسکتی.کیونکہ اسلام کا مطلب ہی عین اسلام ہے.میں نے ایک مرتبہ دعوی کیا تھا.کہ مجھے اپنی نوجوان نسل پر پورا اعتماد ہے.لیکن میرا یہ دعوی غلط نکلا.کیونکہ ہمارے جوان تو مغربی ثقافت کو اپنا کر اندھیروں کے سفیر بن چکے ہیں.خدا را.اس دیس کی نئی نسل کو تباہی کے قبرستان سے واپس لانے کے لئے تمھیں دین محمدی کا استعمال کرنا ہوگا.جس روز نوجوانوں کو قران فرقان کےtheme سے اگاہ کردیا گیا.اس روز یہی جوان سورج پر کمند ڈالنے کی صلاحیت پالیں گے.میں نوجوانوں کو اچھی طرح یہ بات سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ خدمت ہمت اوربرداشت کے سچے جذبات کا مظاہرہ کریں.ویسے بھی ہماری نجات اسوہ حسنہ کی پیروی میں ہے.ہم نے ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کی بنیاد رکھی تھی.جہاں اسلامی جمہوریت کا ڈنکا بجے.جہاں عوام کو عزت کے ساتھ جینے کا حق ملے.جہاں ہر انسان کو اسکے جمہوری حقوق مل سکیں.جہاں افرنگیوں کی باقیات کی جاگیروں کو پاکستانی قوم کے درمیان منصفانہ تقسیم کردیا جائے.ہم نے ایک ایسے مہذب و باقار ملک کی تصویر کھنچی تھی.جہاں ظلم کا نام و نشان باقی نہ رہے.جہاں قوم کے ہربچے کو زیور تعلیم سے ہم آہنگ کیا جائے.جہاں کی فوج ملک کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہو.لیکن مجھے دکھ کے ساتھ یہ کہناپڑرہا ہے.کہ ہماری افواج نے سیاست دانوں کی ملی بھگت سے اقتدار پرستی کی ہوس کو سینے سے لگا رکھا ہے.جنہوں نے میدان جنگ میں کفار کو لوہے کے چنے چبوانے تھے.وہ سرکاری عہدوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں.فوجیوں نے ہمارے ہاں جمہوریت کے تارو پود کو بکھیر کر رکھا دیا ہے.میں نے1948 کو سٹاف کالج کوئٹہ میں فوجیوں کو تنبیہہ کردی تھی.کہ وہ سیاست سے دور رہیں.جبکہ سیاست دان ہی ملکی امور نپٹائیں گے.لیکن جرنیلوں نے اس ملک پر چار بار ڈکٹیٹرشپ مسلط کردی.جس کا نتیجہ یہ نکلا.کہ جمہوریت کا پودا تناور و توانا بننے سے پہلے ہی کملا گیا. پورے سماج میں کرپشن پھیل گئی.زخیرہ اندوزی اور لوٹ مار کے بادل چھا گئے.نو کروڑ سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے بھی نیچے چلے گئے.چہار سو ناانصافیوں کا دور دورہ ہے.میں یہ جان کر افسردہ ہوتا ہوں کہ پاکستان کا چیف جسٹس اپنے مقدمے کے منصفانہ حل کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے.میں ملک کی مفلس و نادار کمیونٹی سے اپیل کرتا ہوں.کہ اگر اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں.تو وہ گھروں میں بند ہوکر عورتوں کی طرح مگر مچھ کے ٹسوے مت بہاو.بے حسی کی چادر اوڑھنا چھوڑ دو.اور یک جان بن جاو.یہ تمھارا پاکستان ہے.تمھاری پاس ایسی طاقت ہے.تمھاری اواز میں ایسا سحر ہے.کہ جب تم نئے پہاکستان کی تعمیر کا نعرہ لگاو گے.تو تمھاری اواز میں اتنی قوت شامل ہوجائے گی.کہ وہ ایسے طوفان کا روپ دھار لے گی.جو قومی وسائل اور اقتدار کے شاہی محلات پر سانپ بن کر مسلط ڈکٹیٹروں.بیوروکریٹوں اور جاگیرداروں کو بھسم کردے گی.اور پھر وہ پاکستان طلوع ہوگا.جس کی روشنی ظلم.فسق و فجور.ناانصافی.غربت.بے روزگاری.امریت.جہالت مذہبی تفاوت.نفسا نفسی.تنگ نظری کی تاریکیوں کا سینہ چیر دے گی.



12-08-2008 16:39 Rauf Amir
This entry was posted on 12-08-2008 16:39. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 703    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >