| کیسا جشن اور کیسی عید ازادی |
|
|
|
پاکستانی قوم ہر سال چودہ اگست کوپورے جوش و جذبے سے عید اذادی مناتی ہے.حکومتی ادارے.غیر سرکاری تنظمیں اربوں روپے کے اصراف سے گھروں بازاروں اور گلی کوچوں میں سبز ہلالی پرچم لہرا کر عید اذادی کا جشن مناتے ہیں.بڑے شہروں میں سڑکوں کو جھنڈیوںتحریک پاکستان کے قائدین کی دلکش تصاویر اور قد آور پورٹریٹس سے دلہن بنادیا جاتا ہے.سرکاری دفاتر میں پرچم پاکستان لہرا کر تحریک پاکستان کے مقاصد کے ساتھ تجدید عہد کیا جاتا ہے.ہوٹلوں اور میٹنگ ہالز میں سیمینارز ارگنائز کئے جاتے ہیںفو.جی جوان پریڈوں میں بابائے قوم کی تصویروں کو سلامیاں پیش کرتے ہیں توپوں کی گھن گرج سے اپنے زندہ ہونے کاڈھول پیٹاجاتا ہے.. چودہ اگست کوصدر سے لیکر وزرائے اعظموں تک اور صوبوں کے ولی عہدوں سے لیکر کوتوالوں اور بیوروکریٹوں تک سارے قائد کی محبت میں ہلکان نظر اتے ہیں.میڈیا میں صاحبان اقتدار کے لمبے لمبے خوش فہم بیانات چھپتے ہیں.وزرا اور دانشور کانفرنسوں میں پھیپھڑوںکا پورا زور لگا کر تحریک پاکستان کے بانیان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں.مجموعی طور پر پورے ملک میں دوچار ارب روپے عید ازادی کے جشن کا ایندھن بنادئیی جاتے ہیں .لطف کی بات تو یہ ہے کہکوئی سرکاری ادارہ عید ازادی کے نام پر جتنا فنڈ پھونک دئے.اس طلسماتی رقم کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا. نوجوان عید سعید کے موقع پر بہت متحرک ہوتے ہیں.ٹی وی پروگرامز میں ناچ گانے منعقد ہوتے ہیں.مشاعرے جوبن کے اسمان پر چم ستاروں کی مانندچمک رہے ہوتے ہیں.رات کو جشن چراغاں کی محفلیں سجتی ہیں.جن میں اخلاق سے عاری.اسلامی و مشرقی روایات کے برعکس مناظر دکھاے جاتے ہیں. بابائے قو نے فرمایا تھا.کہ پاکستان میں شراب پر پابندی ہوگی. خاکسار دعوے سے کہتا ہے.کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ شراب چودہ اگست کو سیل ہوتی ہے.ملک کے گلی کوچوں میں قائم طوائف خانوں میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے.بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں سو گنا بڑ ھا دی جاتی ہیں. کہا جاتا ہے.کہ زندہ و باوقار قومیں اپنے قومی دنوں کو پوری ان بان شان سے مناتی ہیں.لیکن سچ تو یہ ہے.کہ عید ازادی کے دوسرے روز پورے ملک کا منظر ہی بدل جاتا ہے. پندرہ اگست کو نہ تو کسی کو قائد اعظم کی یاد ستاتی ہے .اور نہ ہی کسی کو ایک روز پہلے کی جانیوالے تقاریر کا متن یاد اتا ہے.خاکسار عید ازادی منانے والے ہر شخص سے وہ چاہے.صدر مملکت ہو یا جرنیل وہ سرکاری افسر ہو. سیاسی طرم خان.دانشور ہو یا صحافی ایک سوال پوچھنے کی جسارت کررہا ہے.کہ کیا اس ملک میں عید ازادی منانا جائز ہے.جس ریاست کی اٹھاونے فیصد ابادی کو دوفیصد کے اقلیتی ٹولے نے پچھلے ساٹھ سالوں سے غلام بنا رکھا ہو.جہاں سرحدوں کی حفاظت پر مامور جرنیل اقتدار پرستی و جاہ پرستی کی ہوس گیری میں آئین کو روند دیں. جہاں فوجی امر بودے لزامات کی آڑ میں جمہوری حکومتوں پر شب خون مار کر میکاولے کے پرنس بن جاتے ہیں. جہاں سال کے364 دنوں میں سرکاری دفاتر میں بانی پاکستان کی تصویر کے عین نیچے اربوں روپے کی رشوت وصول کی جاتی ہو.جہاں بانی پاکستان کے منشور.تحریک پاکستان کے افکار کی بوقلمونیوں اور ملک کی تخلیق کا فن پارہ بنانے والی جماعت مسلم لیگ کی حرمت کا لوٹ مار.اقتدار پرستی.کرپشن اور ناانصافی کے بازار میں روزانہ جنازہ پڑھا یاجاتا ہو..جس دھرتی پر اطراف و جوانب میں کمزوروں پر ظلم کی یلغار .جبر کی بھر مار اور حکومتی چیرہ دستیوں کی برسات کی جاتی ہو..جہاں انصاف بکتا ہو.مقہور سکتا ہو.انصاف کا طالب عدلیہ کی دہلیزوں پر تڑپ تڑپ کر مرتا ہو.جہاں سرمایہ داروں جاگیرداروں بیوروکریٹوں اور جرنیلوں پر مشتعمل اقلیتی گروپ انواع اقسام کے کھانے اور جام شیریں نوش فرماتا ہو.اور انکے کتے ہوائی جہازوں کی سیر فرماتے ہوں. اور مخمل کے بستروں پر یہی کتے آرام کرتے ہوں.اور دوسری طرف لاکھوں کروڑوں بچے روزانہ چائلڈ لیبر کے شکنجے میں کسے جاتے ہوں.معصوم بچے گند کے ڈھیروں سے پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے روٹی کا نوالہ تلاش کرتے ہوں...جس زمین پر مساجد کے امام فرقہ واریت کا درس دیکر دوسرے مسلمان بھائیوں پر کفر کے الزامات کی من و سلوی کریں.جہاں سولہ کروڑ کی ابادی میں سے نوکروڑ پاکستانی افلاس کی گولی.بھوک کا کیپسول اور مفلوک الحالی کا ٹانک روز بروز کھانے پینے کے بعد لاغر ڈھانچوں کا روپ ڈھال چکے ہوں. یہ کیسا سماج ہے.جہاں دوکروڑ سے زائد کم عمر بچوں کے پاس زیور تعلیم سے ہم اہنگ ہونے کے لئے ایک پیسہ نہیں.جبکہ دوسری طرف وڈیروں اور ارباب بزجمہر کے بچے مہنگے ترین سکولوں اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاص کرتے ہوں.جہاں اکیسویں صدی میں بھی ہزاروں تعلیمی ادارے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔.جہاں شرح خواندگی صرف تیس فیصد ہو.جہاں جمہوریت کا نقارہ بجا نے والی سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹرشپ اور خاندانی وراثت کا غلبہ ہو.جہاںوڈیرے اور جاگیردار ہی الیکشن لڑ سکتے ہوں.غریب ادمی کے لئے الیکشن لڑنے کا تصور ہی محال ہے. جہاں قانون سکتا ہو.اور قانون کی اتھارٹی صرف جس کی لاٹھی اسکی بھینس والے مقولے سے مشابہت رکھتی ہو.جہاں ایک جانب حکومتی گماشتے اور اقتدار کی راہداریوں پر قابض سلاطین اور سربرائے سلطنت بادشاہوں کی سیکیورٹی اور تزک و احتشام کے لئے بارہ بارہ گھنٹے سڑکیں بند کرکے ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں کو زہنی کوفت کا نشانہ بنایا جاتا ہو.جبکہ دوسری جانب ایمبولینس کو راہ نہ مل سکے.اور اس میں پڑا ہوا بدبخت مریض اپنے حاکموں کے وی ائی پی پروٹوکول کی بھینٹ چڑھ کر جان جان آفریں کے سپرد کردے.جس ریاست کے ہسپتالوں میں عوام کی مسیحائی کا دعوع کرنے والے ڈاکٹرز مریضوں کو بار برداری کا کام کرنے والے گدہوں بیلوں اور ڈنگروں جیسے سلوک سے نوازتے ہوں.ناداروں کا خون نچوڑتے ہوں. جہاں سیاست تجارت بن جائے.لاچار و بے بس ووٹرز کے کاندھوں پر سوار ہوکر اسمبلیوں میں جلوہ گر ہونے والے ممبران پارلیمنٹ اور سینٹ پل پل میں بندر کی طرح چھلانگیں لگاتے پھریں.اور وزارتوں و شاہی نعمت خواناں کے لالچ میں ایمان و ضمیر فروشی کرنے کو قومی مفادات کا نام دیں.جس حرماں نصیب ملک کی عدلیہ فوجی حکمرانوں کے امریت زدہ فیصلوں کو ایل ایف او اور پی سی او کا لباس پہنا کر قانونی جواز دینے کی عادی بن جائے. جہاں ہر ڈکٹیٹر کی خوشنودی کے لئے نظریہ ضرورت کا تیر بحدف نسخہ استعمال کیا جائے. جہاں انصاف کی پاسداری قانون کی سربلندی اور جمہوریت کی کارفرمائی قصہ پارینہ بن جائے.عدل کی گھمبیرتا کا المیہ ملاحظہ کریں.کہ ایک امر نے ریاست کی بلند و بالا عدالت کے سرخیل کو اپنے دفتر میں محض اس وجہ سے محبوس کردیا کہ وہ لاٹ کی جنبش ابرو پر سرنگوں ہو.اور مراعات کے عوض مستعفی ہو. مگر چیف ڈٹ گیا.جھکا نہیں.اکڑ گیا مگر بکا نہیں. چوہدری کی ثابت قدمی پرحاکم وقت اور اسکے حواری سیخ پا ہوگئے.اور انہوں نے اپنی بے عزتی کا بدلہ چکانے اور چیف کی حق پروری پر اسے راندہ درگاہ بنانے کے لئے پورے ملک کا عدالتی نظام تباہ کرڈالا.اور ریاست کے سب سے بڑے منصف اور قاضی القضاہ کو ڈنڈے کے زور پر معزول کرڈالا.پورا ملک اس کی بحالی کا نعرہ لگاتا ہے.وہ خود دربدر ہوکر سڑکوں پر انصاف کے حصول کے لئے خاک چھان رہا ہے.لیکن تخت نشینوں کو کوئی پرواہ نہیں.انکے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی.جہاں کے بادشاہ عوام کی اہوں سے بچنے کی بجائے انکے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے ہوں. جس ریاست کی فوج کو امریکیوں کی خواہش پر اپنے ہم وطنوں پر چڑھا کر خون کی ہولیاں بہانے اور اپنوں کے خلاف صف آرا ہونے پر مجبور کردیا جائے.جس کے کتھارس کے طور پر قبائلی بھی سربکف ہوچکے.طرفین نے ایک دوسرے کے ہزاروں فوجیوں و انتہاپسندوں کی زندگیوں کا چراغ گل کردیا ہو.جس ملک کا قانون ساز ادارہ قانون سازی کی بجائے سوکنوں کی لڑائی کے مناظر دکھاتا ہو.اور جس پارلیمنٹ کو مچھلی بازار کا ایوارڈ دیا جاتا ہو. پارلیمنٹ کے ممبران اپنی متعلقہ سیاسی جماعت کے مدح سرا بن جائیں.انکی نکیل جماعتوں کے قائدین کے ہاتھ میں ہو.جو پانچ لاکھ افراد کی نمائندگی کرتا ہے.لیکن پارٹی چیف اسے پتلیوں کی طرح ادھر ادھر گھماتے ہوں.وہ باضمیر ہونے کے باوجود پارٹیوں کے غلام بن جاتے ہیں.لیکن ایسی سنہری و قابل دید خدمت کے عوض شاہی خلعت فاخرہ سے نوازے جاتے ہوں. جہاں قدم قدم پر فحاشی کے اڈے کھلے عام کاروبا کرتے ہوں. اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگاکہ معماران قوم کو دشمن ملکوں کی تہذیب و ثقافت سے اراستہ و پیراستہ کرنے کے لئے گلی گلی قریہ قریہ بھارتی فلمیں دھوم دھڑکے سے دکھائی جاتی ہوں. جس ملک میں عورت ایسی مقدس ہستی کو سرعام گینگ ریپ کے جہنم میں ڈالا جاتا ہو.جہاں لاقانونیت کا بول بالا ہو.جہاں خود کش بمباروں کا راج ہو.بے روزگاری کے لشکر دندنا رہے ہوں.ہر طرف پسماندگی و جہالت کی اتھاہ تاریکیاں شب ظلمت بن کر چھائی ہوئی ہوں.علما نفرتوں اور حقارتوں کا درس دے رہے ہوں.اور یہی عالم فاضل خدا بن کر جنت کی ٹکٹیں بھی بانٹ رہے ہوں.جہاں کی خود مختیاری کا یہ عالم ہو.کہ امریکی ایجنسیوں کے ایجنٹ انتہاپسندی کا نام لیکر چاروں صوبوں سے لوگوں کو پکڑ کر گوانتاناموبے بھیج رہے ہوں. حد تو یہ ہے .کہ عوام کی جان و مال کی نگہبانی کے ذمہ داران اور سیکیورٹی فورسز نے آئی بی سے چھ سو ڈالر فی کس لیکر ہم وطنوں کو خود گرفتار کروایا. جہاں قومی مفادات پر زاتی ترجیحات کو فوقیت حاصل ہو.جس ملک کی خارجہ پالیسی یہود و نصاری کے فوائد کو مدنظر رکھ کر تشکیل دی جاتی ہو.جہاں راتوں رات سیاسی جماعتوں کا بت کھڑا کردیا جاتا ہو.قومی اثاثوں کو کوڑیوں کے بھاو بیچ دیا جاتا ہو.مگر عوام کی زبانوں پر چپ کے پہرے لگ جائیں.جس ملک میں قدم قدم پر لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہو.جہاں وڈیروں نے ریاست کے اندر ریاستیں بنا رکھی ہوں.اور خود زاتی عدالتیں بھی قائم کررکھی ہوں.ان عدالتوں میں وکیل بھی گودہ.چیف جسٹس بھی گودہ اور فیصلہ سنانے والا بھی گودہ.جو گودے کے حکم کی اتباع نہ کرے اسے علاقہ بدر یا حوالہ پولیس کردیا جاتا ہو.جس ملک میں ایک ڈکٹیٹر نے اسلام کے نام پر گیارہ سال حکومت کی.اس نے وحشت کا ثبوت دیکر کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے جمہوری و منتخب وزیراعظم کو عدالتی قتل کا شکار بنا کر قوم کو دنیاوی ترقی کی دوڑ میں سو سال پیچھے کردیا. دوسرے نے ادھا ملک بادہ و جام میں گھول کر قوم کو نہ بھولنے والا سقوط ڈھاکہ نام کا زخم دیا.جس سے تاقیامت دکھوں اور اہوں کا خون رستا رہے گا.تیرے عسکری میاں مشرف نے طیارہ ہائی جیکنگ نام کا ڈرامہ لکھا.اور پھر اس کی سربراہی میں تمام اداکاروں نے حقیقی اداکاری کرکے جمہوری حکومت کا گلا گھونٹ ڈالا.جس زمین پر قومی ہیروز کو پایہ زنجیر کرکے قید کی وحشت ناک تنہائیوں کے سپرد کردیا جائے.اور قوم چوڑیاں پہن کر گھروں میں روتی رہتی ہو.جس ملک کا سربراہ ایٹمی قوت کے ہتھیار سے تو لیس ہو.مگر یہود و نصاری کے سامنے مٹی کا مادھو بن کر غیرت و حمیت کو ریت کی طرح جھاڑ دے. جہاں کوئی بھوک سے مررہا ہو تو کوئی ریاستی استحصال کی چاند ماری سے جاں بلب ہو.کوئی دو وقت کی روٹی کے لئے صدائیں دے رہا ہو تو کوئی انصاف کی دہائی دے رہا ہو.کوئی محرومیوں کی وادیوں میں اوندھا پڑا ہو تو کوئی وڈیرے کی ظلمت سے بچانے کی اہ و بکا کررہا ہو. جہاں انصاف معدوم ہوجائے.رہبر رہزن بن جائیں.دولت والے معاشرے کی پہچان جبکہ غریب غربا اچھوت.جہاں پورا دیس مسائل و مصائب کے انبار تلے دھاڑ رہا ہو.ملکی سلامتی خطرے سے دوچار ہوجائے.لیکن شاہی محلات کے راوی چین کی بانسری بجاتے ہوں.جس دیس میں امن کی بجائے طوائف الملوکی.جمہوریت کی بجائے ازمنہ قدیم والی بادشاہت قائم ہو.دو فیصد تو موجیں اڑائے لیکن اٹھانوے فیصد دھتکار دیں جائیں.جہاں ہر طرف جورو جفا کی اندھیاں چل رہی ہوں.جہاں قوم کے بچوں کو جہالت کے ٹوپ پہنائے جاتے ہوں.لوگ خود کشیوں کو مسائل کا حل سمجھیں.کیا سیاسی افراط و انتشار.مذہبی گروہ بندی.نسلی و فروعی مسائل.اقرباپروری.لوٹ مار.نفرت و حقارت سے لبریز معاشروں میں عید ازادی نام کا نقارہ بجایا سکتا ہے.؟کیا ایسے معاشروں میں جشن ازادی کے نام پر اربوں کو خرچ کرنا درست ہے؟کیا افکار قائد کی بے حرمتی کرنے والے حکمرانوں کو قائد کے نام کی تقاریر کرنے کا حق حاصل ہے.؟ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا قارئین اور عید ازادی کے مبلغین کو تلاش کرنے چاہیں. بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہبڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے ہم سب پر مملکت کے ملازم اور خادم ہیں.بابا نے اپنی زندگی میں ایک نصیحت اموز فقرہ یوں کہاں تھا. کسی بھی شخص کے پاس کیا جواز ہے کہ وہ عوام الناس کے لئے اعلی معیار پر مبنی جمہوریت و مساوات اور ازادی سے گھبرائے. ایک اور موقعہ پر قائد یوں گویا ہوئے.کہ میرے پاس جو پیسہ ہے.وہ مسلمانوں کی امانت ہے.عید ازادی کے مبلغین اور چودہ اگست کو اربوں کی سلامی وصول کرنے والے ارباب بست و کشاد سے یہ پوچھا جانا ضروری ہے.کہ کیا ہم افکار قائد کو حرز جان بناتے ہیں.؟کیا ہمارے حکمران چاہے وہ فوجی تھے یا سیاسی وہ معذور تھے.یا شباب و کباب کے دلدادہ.وہ مرد مومن تھے یا روشن خیال خاقان اعظم نے پچھلے ساٹھ سالوں میں اس سیاہ شب مملکت کے کم نصیب لوگوں کو مساوات رواداری و انصاف سے لبریز نظام حکومت کی فیض گستریوں سے نوازا ہے.کیا کلمہ طیبہ اور اسلامی جمہوریت کو منشور بنا کر حاصل کردہ ملک میں ارباب بست کشاد نے حقیقی جمہوریت کی بنیادیں کیوں کھوکھلی کردیں.؟ہمارے ہاں کتنے فیصد مسلم لیگی ایسے ہیں.جن کے دامن پر امریت کو سیاسی ایندھن مہیا کرنے کی الودگی موجود نہیں.؟ کتنے فیصد سیاسی لیڈر اپنی دولت عوام کی فلاح کے لئے استعمال کرتے ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے.تو پھر کونسی جشن ازادی اور کیسی عید ازادی.صاحبو چودہ اگست حکمرانوں سے لیکر سیاسی راجکماروں تک اور عوام سے لیکر فوجی بابووں تک کئے عید ازادی نہیں.بلکہ اپنے اپنے احتساب کی پیشی کا دن ہے.ز
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 807