Nov
22
2008
Today

Your Favorite GSM Service ?
Attock
9°C
ڈاکٹر عافیہ کی کہانی PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 
logo younas majazیہ مارچ کی 31سال2003کا روشن دن ہے ۔کراچی شہر کی پر رونق شاہراہ پرہر طرف ٹریفک رواں دواں ہے ۔اسی تریفک کے اژدھام میں جب ایک پیلے رنگ کی ٹیکسی گلشن اقبال میں واقع سفاری پارک کے سامنے والے پٹرول پمنپ کے قریب پہنچتی ہے ۔تو اس میں سوار ایک اعلیٰ امر یکن تعلیم یافتہ خاتون کو اس کے تین کم سن بچوں سمیت ایک غیر ملکی ایجنسی کے اہلکار اغوا کر لیتے ہیں ۔لیکن کسی کو کان وکان خبر نہیں ہوتی ۔دوسرے دن ایک آدھ اخبار میں بھی خبر چھپتی ہے ۔تب بھی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی ۔انسانی حقوق کی تنظیمیں ۔این جی اوز ، ہر جمعہ کی نماز کے بعد کسی نہ کسی واقعہ کو ایشو بنا کر جلسے اور جلوس نکال کر اپنا فرض ادا کرنے والے مذہبی حلقے اور بال کی کھال ادھیڑنے والا میڈیا سبھی خاموش رہے ۔ اسی خاموشی میں پانچ سال چار ماہ گزر گئے ۔اس خاتون پر کیا گزری ۔اسے کہاں رکھا گیا ۔اس کے معصوم بچے کہاں ہیں کسی کو کچھ خبر نہیں ۔والدین عزیزواقارب سبھی تلاش بسیار کے بعد تھک ہار کر یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ اس دنیامیں نہیں رہی ۔جب کہ ڈالروں کا کاروبار کرنے والوں نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔کہ چلومدہ غائب ہوگیا ،پر ہمارے دام تو کھرے ہوگئے ۔پھر اچانک ایک خبر نے سب کو چونکا دیا ۔حکمرانوں کے ماتھے پر بھی پسینے ٹپکنے لگے ۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا فرض منصبی عود کر آیا ۔میڈیا بھی خبر کی کھوج میں سرگرداں ہے ۔مذہبی حلقے بھی اب آہستہ آہستہ وارم اپ کی پوزیشن پکڑیں گے ۔بس ایک شور اٹھے گا ۔ہر ایک اپنے نمبر اور اپنی اپنی گیم کے ساتھ ڈفلی بجائے گا ۔سیاست چمکائے گا ۔کچھ روز چائے پانی چلے گا ۔اور پھر حسب سابق سب کچھ معمول پر آجائے گا ۔کسی اور واقعہ کے رونما ہونے کے انتظار میں۔پھر خاموشی چھاجائے گی ۔ذلت اور رسوائی کے یہ چرکے سہتے سہتے ہم اس قدر عادی ہوگئے ہیں ۔ کہ جیسے ایک ملک کا بادشاہ اپنی رعایا کی بے حسی سے عاجز آگیا ۔کہ کساد بازاری اور تمام تر سختیوں کے باوجود کو ئی بھی تو دربار میں فریاد نہیں کر رہا ۔تو وزیر باتدبیر کو بلایا ۔اور اس کا حل پوچھا ۔وزیر نے بڑی سوچ بچار کے بعد کہا بادشاہ سلامت آئندہ جو بھی شہر میں داخل ہو اس پر ٹیکس لگادو ۔ٹیکس لگ گیا ۔لیکن عوام ٹس سے مس نہ ہوئے ۔کو ئی شکایت نہیں آئی ۔بادشاہ نے پھر وزیر بلایا ۔اور کہا اب کیا کیا جائے ۔تجویز آئی آئندہ جو بھی شہر میں داخل ہو ٹیکس کے ساتھ ساتھ اسے دو دو جوتے بھی مارے جائیں ۔حکم جاری ہوگیا ۔جوتے اور ٹیکس ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بھی کئی روز گزر گئے ۔کو ئی فریادی نہیں آیا ۔بادشاہ کچھ زیادہ پریشان ہوگیا ۔بالکونی میں بیٹھا رعایا کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔کہ زنجیر عدل بجنا شروع ہوگئی بادشاہ کا چہرہ کھل اٹھا ۔چلو یہ تدبیرکارگر ثابت ہوئی ۔حکم ہوا ۔فریادی کو احترام کے ساتھ دربار میںلایا جائے ۔ بوڑھا فریادی حاضر ہوا بادشاہ نے انکساری کے ساتھ حاضری کی وجہ پوچھی۔فریادی انتہائی عاجزی اور منت سما جت کے ساتھ گویا ہوا ۔حضور ایک عرض کروں اگر جان کی امان پاؤں تو ۔۔کیوں نہیں بابا جی میں آپ کی فریادسننے ی کے لیے بے تاب بیٹھا ہوں۔حضور ڈیوٹی پر جانے میں دیرہوجاتی ہے ۔جہاں حضور کی اور اتنی مہربانیاں ہیں ایک اور کر دیجئے ۔بولیے بابا جی ! بے دھڑک بولیے ۔حضور جوتے مارنے والوںمیں اضافہ کرلیجیے ۔بادشاہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔اور وزیر سے کہا اس قوم کو اب تباہی سے کوئی نہیں بچاسکتا ۔ ۔۔۔نہ میں ۔نہ آپ۔۔۔صاحبو بات ہو رہی تھی۔اس دھان پان سی لڑکی کی جس نے امریکہ میںتعلیم حاصل کی اور پھر وہی سکونت اختیار کر لی ۔لیکن شہریت اپنی مٹی ہی کی قائم رکھی ۔شاہد ملک سے یہی محبت اس کا جرم بن گئی ۔اس کمزور لڑکی سے خوف زدہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردارامریکیوں نے جس بے دردی سے مارا اور اس کی عزت کو بگرام ائیر بیئس پر امریکی کتوں سے تارتا ر کروایا۔انسانیت شرم کے مارے منہ چھپارہی ہے ۔مہذب امریکیوں کے سر بھی اگر ہیں تو شرم سے جھک گئے ہوں گے ۔ مذہبی ٹھیکدار وں میں بھی وہ خون کی گرمی نظر نہیں آتی ۔جنھیں اپنی مرضی کا اسلام نافذکرنے سے ہی فرصت نہیں ۔خبر کچھ یوں ہے کہ پانچ سال قبل لا پتہ ہونے والی ڈاکٹر عافیہ کو بگرام ائیر بئیس سے ایف آئی اے کی حراست میں نیویارک پہنچا دیا گیا ہے ۔ان پرامریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے ۔ جہاں نیویارک پولیس کے آفیسر ریمنڈ کیلی نے اسے عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا ۔کہ ڈاکٹر عافیہ جو امریکی حکام کو دہشت گردی کے الزام میں مطلوب تھیں ۔ایک ماہ قبل غزنی صوبہ کے گورنر کی رہائش گاہ کے احاطہ سے افغان پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئیں ۔جن کا کہنا ہے کہ ان سے شیشے کی بو تلوں اور مرتبانوں میںچھپے کاغذات ملے ہیں جن پر بم بنانے کے طریقے درج تھے ۔اس بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ ایک کمرے میں بند تھیں ۔جب ان سے ایف آئی اے کی ٹیم تفتیش کے لیے پہنچی تو اس نے ایک فوجی سے رائفل چھین کر ان پر پردے کے پیچھے سے دو فائر کیے جو کسی کو نشانہ نہ بنا سکے ۔اس ٹیم میں شامل ایک فوجی کی جوابی فائرنگ اور اس کے بعد چھینا چھبٹی میں وہ شدید زخمی ہوگئیں ۔جب کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کے مطابق عافیہ کو پاکستان سے گرفتار کیا گیا ۔ اور وہ بگرام ائیربئیس پر قید تھیں ۔ اور اس وقت کے امریکی اٹارنی جرنل ایشکرافٹ اور ایف آئی اے کے کے ڈائریکٹر رابرٹ مولرنے ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کے ان ارکان میں شامل کیا تھا جو انھیں دہشت گردی میں مطلوب تھے ۔جب کہ ڈاکٹر عافیہ کی بہن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے ۔کہ ان کی بہن کی جان کو سخت خطرہ انھیں فورا پاکستان لایاجائے۔ادھر عدالت نے ڈاکٹر عافیہ پر فرد جرم عائدکرکے 19اگست کو درخواست ضمانت کی سماعت مقرر کی ہے ۔ذرائع کے مطابق پولیس جب عافیہ کو منگل کے روز عدالت میں لائی ۔تو وہ اپنے وکیل اور وفاقی ایجنٹوں کے سہارے چل رہی تھی ۔ایسے نظر آرہا تھا ۔کہ ایک ہڈیوں کی گٹھڑی بنی عورت،لاغر اور کمزور،اس کے دونوں وکیل اس کو سہارا دے کر کرسی پر بٹھانے لگے ۔سرپرسرخ رنگ کاسکارف باحجاب،نیلے رنگ کی قمیض اورلمبے سکرٹ میں ملبوس عافیہ صدیقی کو کرسی پر بیٹھنے میں کچھ منٹ لگ گئے۔ان کے وکیل نے کہا ۔ان کی موء کل پاکستانی قونصلر سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہیں۔جب عدالت کی کاروئی شروع ہوتی ہے ۔تو جج نے کہا عافیہ صدیقی کھڑی ہوجائیں۔جس پر ان کی وکیل الزبتھ فنک کے عدالت کو بتایا ۔عافیہ کھڑی نہیں ہوسکتیں ۔وہ زخمی ہیں انھیں گولی کازخم ہے۔ڈاکٹر عافیہ کی دوسری وکیل ایللن وٹفیلڈشارپ بھی موجود تھیں ۔مترجم مہیا ہونے کے باوجود عافیہ جج کے سوالات کے جوابات انگریزی زبان میں دیتی رئیں ۔جج نے سوال کیا کیا تم جانتی ہوکہ حکومت امریکہ نے ایک کرمنل کمپلینٹ میں تم پرکیا الزام لگایا ہے ۔نحیف آواز میں ’یس‘ ۔تو جج نے ایف آئی اے کی طرف سے داخل کرائے گئے فوجداری مقدمات کی تفصیلات سناتے ہوئے کہا ۔چودہ جولائی کو افغان پولیس کے ہاتھوں گرفتار اور تھانے میں تین اگست کو ایم فور رائفل اٹھا کر فوجیوں پر حملے اور زخمی ہوکر گرفتار ہونے تک کے الزام ہیں ۔جو انھیں چار اگست کو نیویارک لائے۔عافیہ کی وکیل الزبتھ نے عدالت سے سوال کیا کہ ایک نوے پونڈ کی نازک سی لڑکی ایم فور رائفل امریکی فوجی کے بوٹوں کے بیچ سے اٹھا کر ان پر فائر کرسکتی ہے ۔یہ بڑی مضحکہ خیز تہمت ہے ۔یہ سب کچھ سنی سنائی پر مبنی ہے ۔اور ان ہی باتوں کو بنیاد بنا کر مدعا عیلہ کے خلاف نیویارک میں بیٹھ کر کیس بنایا گیا ۔پانچ ہزارمیل پرے جو افغانستان میں ہے ،نیویارک میں بیٹھ کر اس ایجنٹ نے اسے کیسے دیکھا ۔وکیل نے کہا کہ انھوں نے منگل کے روز پہلی بار عافیہ کو دیکھا اور عافیہ اتنے برسوں بعد پہلی بار کسی غیر حکومتی آدمی سے مل رہی ہے۔اور یہ سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔بہر حال وکیل الزبتھ نے کہا کہ بتایاجاتاہے کہ خالد شیخ محمد نے اپنی تفتیش کے دوران عافیہ کا نام لیا تھا ۔جب کہ اس سے قبل بائیوٹیرزم اور حیاتیاتی دہشت گردی میں اس کا کوئی تعلق نہیں رہا۔عدالت نے عافیہ کا علاج کرانے اور اس کے خلاف گوائیاں پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عافیہ کی کمر میں گولی کا زخم ہے جس سے اسے بہت تکلیف ہے ۔عافیہ کے وکلا نے پرہجوم پریس کانفرنس میں بتایا کہ عافیہ نے تمام الزامات مسترد کردیے ہیں ۔اور انھیں اپنی موء کل سے ملنے نہیں دیا جاتا ۔اور کوٹھری میں بنے کھانا دینے کے سوراخ سے بات کرنے کی اجازت دی گئی ہے جب کہ اس وقت بھی رخنے ڈالے جاتے ہیں ۔حالانکہ یہ اس کا بنیادی حق ہے ۔جب کہ حکومت پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ سے عافیہ کو رہا کرنے اور رابطے کی خواہش کی ہے ۔معلوم ہواہے کہ امریکہ نے اس کی اجازت دے دی ہے ۔



12-08-2008 16:21 Younas Majaz
This entry was posted on 12-08-2008 16:21. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 780    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >