Nov
22
2008
Today

Maj. Tahir Sadiq is ....
Attock
9°C
مواخذہ نہ کرو PDF Print E-mail
User Rating: / 1
PoorBest 
 
musharaf tired تم لکھ لو اس مواخذے سے حکمران اتحاد کو کچھ ہاتھ نہیں آنے والا سوائے شرمندگی کے ۔ یہ مواخذہ ایک ڈرامہ ہے تاکہ عوام کی توجہ اس کے اصل مسائل سے ہٹائی جاسکے اور بس ۔ یہ اس میں ہرگز کامیاب نہ ہوسکیں گے ۔اگر کامیاب ہو بھی گئے تو بعد میں عوام میں یہ لوگ عوام کے مواخذے سے نہ بچ پائیں گے ۔ کیونکہ ابھی تک یہ اپنی ہر نا اہلی کا زمہ دار ایوان صدر کو ٹھہراتے رہے ۔ مواخذے کی کامیابی کے بعد ان کے پاس یہ عذر بھی نہ رہے گا ۔ تب دیکھنا عوام کے حقیقی مسائل کے ہجوم سے یہ کیسے بھاگے گیں ۔ کیونکہ اس حکومت کے اقتدار کا ستون غیر اہم ایشوز کی کچی زمین پر کھڑا ہوا ہے ۔ عوام کا حقیقی مسئلہ غربت ہے ۔ مہنگائی ہے ۔ روٹی ہے ۔ جنرل مشرف کی وردی اور معزول ججز کی بحالی نہیں ۔
پروفیسر صاحب بولتے رہے ۔ یہاں تک کہ ان کی سانس پھول گئی ۔ دورا ن بحث ان کی پیشانی پر تیش کے بل اور رخساروں پر تفکر کی لکیریں دیکھ کر اور ان کی جذباتی تقریر سن کر مجھے شک ہونے لگا کہ یہ مواخذہ جنرل مشرف کا نہیں بلکہ پروفیسر صاحب کا ہے ۔
پروفیسر صاحب کے اس عارضی توقف کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے میں گویا ہوا ۔
صدر جنرل مشرف نے خود کو آخری ہچکیاں لیتی ہوئی اسمبلیوں سے اگلے پانچ سالوں کے لیے منتخب کروایا تھا اورجب یہ معاملے عدالت میں گیا تو انہوں نے عدلیہ توڑ ڈالی ججوں کو گرفتار کیا اپھرایک پی سی او سند یافتہ عدالت سے اپنے باوردی انتخاب کو ویلیڈیٹ کروالیا ۔ اگر پارلیمنٹ یہ سمجھتی ہے کے ایسے متنازع صدر کو تبدیل کردیا جائے اوراُنکا مواخدہ کیا جائے تو کیا حرج ہے ۔ صدر صاحب جب رفیق تارڑ کے استعفی دیے بغیر خود صدر بن سکتے ہیں ۔ آئینی طور پر ریٹائیر کرنے کے باوجود ۸ سال وردی زیب تن کر سکتے ہیں ۔ ایمرجنسی پلس جیسی عجوبہ سازی کرسکتے ہیں۔ ججوں کو گرفتار کر سکتے ہیں ۔ عدلیہ تبدیل کرسکتے ہیں ۔ آئین ترمیم کرسکتے ہیں۔ جب وہ یہ تمام غیر آئینی کام کرسکتے ہیں۔ تو پھر پارلیمینٹ جو کہ عوام کی منتخب کردہ ہے وہ اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صدر کوتبدیل کیوں نہیں کرسکتی ۔
اس لیے کہ ملک کے حالات تصادم کے متحمل نہیں ۔ پروفیسر صاحب کی آواز بلند ہوئی ۔ یہ وقت عوام کو روٹی دینے کا ہے ۔ نیا صدر دینے کا نہیں ۔ عوام خودکشی کر رہے ہیں ۔ مہنگائی کا سورج سوا نیزے پر آکر منہ چڑا رہا ہے اور غریب عوام اس سے جل کر راکھ ہورہے ہیں۔
اور ان لوگوں نے یہ نیا ڈرامہ شروع کردیا ۔
تم دیکھنااس ڈرامے کا نجام اچھا نہیں ۔ اس ڈرامے کے کلائیمیکس سے یہ لوگ واقف نہیں ۔
آپکے خیال میں اس ڈرامے کا کیا کلائیمیکس ہوگا ۔ میں نے پوچھا ۔
نئے الیکشن ۔ پروفیسر صاحب اعتماد سے بولے ۔
کیا صدر 58 ٹو بی لگا دینگے ۔میں نے سوال کیا ۔
ہاں ۔ ضرور لگائیں گے ۔پروفیسر صاحب نے جواب دیا
مگر حالات تو اسکی اجازت نہیں دیتے اور اب فوج اور امریکا بھی ان کی پشت پر نہیں ۔ ’’میری پیشانی پر حیرت کے بل پڑ گئے‘‘ ۔
جنرل صاحب کمانڈر ہیں ۔ اور کمانڈر بس اپنا دفاع کرتا ہے ۔اور وہ اپنا دفاع ضرور کریں گے ۔ چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو ۔
اگر فوج نے مداخلت کرتے ہوئے جنرل صاحب کو 58 ٹو بی استعمال کرنے سے روک دیا ۔ پھر ۔۔؟ میں نے پوچھا ۔
پھر جنرل صاحب استعفی دے دینگے ۔ پروفیسر صاحب کے لہجے میں مایوسی در آئی ۔ لیکن یہ حکومت زیادہ دیر تک چل نہ سکے گی ۔
صدر کے جانے کے بعد اس حکمران اتحاد کو چلنے سے کون روک سکتا ہے ۔ میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
ججز ۔ پروفیسر صاحب بولے ۔ یہ افتخار چوہدری کو بحال نہ کریں گے او ر انکے ساتھ جسٹس جاوید اقبال جسٹس رمدے خواجہ شریف اور مزید کچھ ججز کو ۔مواخذے کے فیصلے کی رات پیپلز پارٹی نے سندھ ہائیکورٹ کے آٹھ ججز کی بحالی کا نوٹیفکیش جاری کرکے اپنی پالیسی واضح کردی ہے ۔ اب چاہے انہوں نے حلف نہ اُٹھا یا ہو ۔ انکی اپوا ینٹمنٹ ہوچکی ۔ اب یہ اُلٹے لٹک جائیں تب بھی جسٹس صبیح الدین آئینی طور پر واپس نہیں آسکتے یہ دیگر ججز بھی ایسے ہی بحال کریں گے۔
صدر مشرف سے چھٹکارے کے بعد اسی مقام پر اس حکمران اتحاد کی کمان ٹوٹے گی ۔اور پھر نوازشریف ووکلا تحریک میں جا پہہنچے گے ۔
جبکہ دوسری طرف مہنگائی غربت سے ستائی عوام اور چور بازاری و زخیرہ اندوزی کا عروج ۔ قبائیلی علاقوں میں قتل غارت اور بڑھتا ہو ا طالبان کا اثرو نفوظ ۔ بے امنی ۔ بے چارگی ۔ بے زاری اور آخر کار لوٹ مار اور انارکی ۔
یہ تمام عناصر اس حکومت کو لے ڈوبے گے اور پھر اسکے بعد کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا ۔ اور اسکے بعد جس شخص کی حکومت تم پر ہوگی وہ تمہیں ایک چارہ خور گدھے سے زیادہ وقعت نہ دیگا ۔ اُس وقت تم اسی جنرل مشرف کو یاد کروگے ۔ جسکے لیے گلا پھاڑ کر گو گو چلا رہے ہو ۔
پروفیسر صاحب مستقبل کی ہولناک منظر کشی کرنے کے بعد بلاآخر خاموش ہوگئے ۔
تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل مشرف کے اقتدار میں ہی پاکستان کا استحکام ہے ۔ میں نے پوچھا ۔
ہاں ۔ بالکل ۔ میں یہی سمجھتا ہوں اور کل آپ بھی یہی سمجھیں گے ۔ پرورفیسر صاحب یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے اور رخصتی کلمات ادا کیے بغیر چلے گئے ۔
پروفیسر صاحب جنرل مشرف کو تین نومبر کے بعد اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا اعلان کرنے والی وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے ایک سابق پروفیسر ہیں اور میرے پڑوسی ہیں اسلیے کسی بھی گرم سیاسی صورتحال پر بحث کرنے کے لیے وہ اکثر رضاکارانہ طور پر میرے گھر وارد ہوجاتے تھے ۔ ۱۲ اکتوبر ہو یا ۱۲ مئی ۔ تین نومبر ہو یا ۷ اگست ۔ آئین ٹوٹے اسمبلی ٹوٹے یا سپریم کورٹ ۔ پروفیسر صاحب کی تما م ہمدردیوں کا وزن ہمیشہ جنرل صاحب کے پلڑے میںرہا ۔ آج بھی وہ اپنی سابقہ روش پر تھے ۔ جب وہ اپنی دل کی بھڑاس نکال چکے ااور آصف زرداری جو صرف دو دن پہلے تک اپنی مفاہمانہ پالیسوں کے باعث اُن کے فیورٹ سیاستدان تھے اُنہیں جی بھر کے کوس چکے تو رخصت ہوگئے ۔
پروفیسر صاحب کی یہ گفتگو میرے لیے حیران کن نہ تھی ۔کیونکہ پروفیسر صاحب دانشوروں ، تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو عوام کے حقیقی مسائل یعنی بجلی کے بحران ۔ مہنگائی ۔ غربت پر ساڑھے چار ماہ سے دل گرفتہ رہنے لگا ہے ۔ اس سے قبل
جب جنرل مشرف کی حکومت کے تختے کے پائے مضبوط تھے تب بھوک ۔ غربت ۔ مہنگائی کے ہاتھوں روزانہ قتل ہونے والی عوام کے دکھ اس قابل نہ تھے کہ پروفیسر صاحب کے قبیلے کے لوگ اس پر وا ویلا کرتے بلکہ اس وقت تو پروفیسر صاحب کے نزدیک عوام دودھ اور شہد کی نہروں سے غسل کرتی تھی ۔
جب سے حکمران جماعتوں نے صدر جنرل مشرف کے مواخذے کا اعلان کیا ہے پروفیسر صاحب اور ان کے قبلیے کے سیاستدان عوام کے مسائل پر ملول ہونے لگے ہیں ۔
آپ کوئی سا بھی ٹی چینل دیکھیں کوئی سا بھی اخبار پڑھ لیں آپکو پروفیسرے صاحب کے خیالات سے ملتے جلتے سیاستدانوں کے بیانات نمایاں نظر آئیں گے ۔
ان سیاستدانوں کا معاملہ بڑا عجیب ہے ۔ عوام کے مسائل کے درد کا دورہ انہیں جب ہی پڑتا ہے جب صدر جنرل مشرف مسائل میں گھرجاتے ہیں۔ آپ ان ساستدانوں کے بیانات کا ریکارڈ نکال لیں ۔ماضی میں جب بھی جنرل مشرف کی وردی پر حرف الزام آیا تو انہوں نے کہا عوام کے مسئلہ وردی نہیں ۔ خوشحالی ہے
جب عدلیہ کا مسئلہ آیا تو انہوں نے فرمایا ۔ عوام کا مسئلہ ججز نہیں ۔ روٹی ، آٹا اور بجلی ہے ۔
آج جبکہ صدر مشرف کے مواخذے کی تیاری ہوچکی تو سیاستدانوں کا یہ قبیلہ وہی اپنے پرانے منطق کے ڈھول پیٹ رہا ہے کہ عوام کے مسئلہ صدرکا مواخدہ نہیں ۔ مہنگائی اور غربت کا خاتمہ ہے ۔
ساستدانوں اور پروفیسر صاحب جیسے تجزیہ نگاروں کا یہ گروہ صدر جنرل مشرف کو نو سالوں سے ملک کا مسیحہ اور نجات دہند باور کراتے رہا ہے
۔ اس لیے ان کا ردعمل باعث تعجب نہیں ۔
لیکن اب یہ زمہ داری سیاست دانوں پر آگئی ہے کہ وہ عہدوں اور اقتدار کی گندی سیاست کے محور سے نکل کر ملک کے تباہ حال پلرز کی تعمیر کریں ۔ اپنے ۷ اگست کے علامیہ پر مکمل طور پر عمل کریں اور جنرل مشرف کے کامیاب مواخذے کے بعد عدلیہ کے مسئلے کو کسی مائینس تھیوری سے بچاتے ہوئے حل کردیں ۔ تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہواور یہ قضیہ دائمی طور پر حل ہوجائے اور حکمران جماعتوں کے تحاد ٹوٹنے کاخدشہ ختم ہوجائے ۔ اسکے بعد یہ فوری طور پر عوام کو خون چوستی مہنگائی اور غربت کی جونکوں سے نجات دلانے کی کوئی سبیل پیدا کردیں ۔
لیکن خد ا نہ خواستہ اگر پروفیسر صاحب کی پیشن گوئی کے مطابق یہ حکمران اتحاد عدلیہ کے مسئلے پر آکر ٹوٹ جاتا ہے توپھر مجھے پروفیسر صاحب کی ہولناک منظر کشی حقیقت کا روپ دھارتی نظر آرہی ہے ۔ اسلیے میری یہ شدید خواہش کے یہ اتحاد قائم رہے اور اپنی آئینی مدت پوری کرے اور عوام کے تمام تکلیفوں کے تدارک کرے ۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ پھر پروفیسر صاحب کوئی نیا نجات دہندہ ڈھونڈ کر میرے کمرے میں تشریف لائیںاور مسکرا کریہ کہیں ۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا ۔مواخذہ نہ کرو ۔



12-08-2008 15:47 Zeeshan Haider
This entry was posted on 12-08-2008 15:47. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 912    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >