Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below
Syndicate
۔اہل مغرب کی نئی کروٹ اور پاکستان
عا لمی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو پا کستان کی
سلامتی اور بقا سوا لیہ نشان کو چھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔حالیہ ہفتے
میں اہل مغرب کی طرف سے دو اہم پیش رفت ہوئی ہیں ایک یہ کہ امریکہ نے
اچانک ایران کے ساتھ مزاکرات میں بیٹھنے کا نہ صر ف فیصلہ کر لیا ہے ۔بلکہ
ہفتہ کو جنیوا میں ہونے والے چھ مملکتی مزاکرات میں امریکہ کے نمائندے کی
موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ایران کے ساتھ تفصیلات بھی طے کی جاچکی ہیں
۔ اور امریکہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے آئندہ ماہ
تہران میں سفارتی سیکشن کھولنے کی تیاریاں بھی کررہاہے ۔حالاں کہ چند روز
قبل اسرائیل کی طرف سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے لیے باقاعدہ
مشقیں کی گئیں۔ اور امریکہ کی طرف سے بھی ایران پر حملے کی خبریں عالمی
میڈیا پر تواتر سے آرہی تھیں جس کے جواب میں ایران نے ببھی تیل کی سپلائی
روکنے کے لیے ہر مز کی ناکہ بندی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی دھمیکیاں
دیں ۔امریکہ کی جانب سے پہلے دباؤ اور پھر اچانک یو ٹرن سے دو چیزیں
سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ امریکہ چھ ملکی مزاکرات کے موقع پر اپنی مرضی
کے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔اسی لیے مزید دباؤبڑھاتے ہوئے امریکہ کی
طرف سے ایک اور بیان بھی آج اخبار کی زینت بنا ہے۔ کہ ایران نے مراعاتی
پیکج قبول نہ کیا تو اس پرپابندیاں مزید سخت کردی جائیں گی ۔اور آئندہ
مزاکرات کا سلسلہ بند کر دیا جائے گا ۔جب کہ دوسرا فوری مقصد پاکستان کو
یہ باور کروانا بھی ہوسکتا ہے، کہ اس کی ترجیح ایران نہیں اب پاکستان ہے
۔اور اس بات کا برملا اطہار امریکی حکومتی عہدیدار اور صدارتی امیدوار
بارک اویاما سمیت امریکی میڈیا تسلسل سے کر رہاہے ۔دوسر ی عالمی پیش رفت
فرانس میں مشرق وسطی اور یورپین یونین کے 27 ممالک سمیت بحیرہ روم کے
دونوں کناروں پر بسنے والے ممالک کی تنظیم کا قیام ہے ۔جو بظاہر عرب ممالک
اور اسرئیل ویورب کے درمیان بہتر تعلقات اور تنازعات کے حل کے لیے قائم کی
گئی ہے ۔ جس میں کم وبیش 44 ممالک شامل ہیں ۔جس کی روح سے خیر سگالی کے
طور پراسرائیل نے لبنان کے قیدیوں کارہا کیا ہے ۔اور جوابالبنان نے
اسرائیل کے دو قیدیوں کی لاشیں ان کے حوالے کی ہیں ۔جبکہ اسرائیل اور
فلسطین کے درمیان بھی قیدیوں کے تبادلے کا عندیہ دیا گیا ہے ۔لیکن در
حقیقت یورپ نے یہ قدم اتھا کر امریکہ کو عارضی ریلیف دینے کی کو شش کی ہے۔
تاکہ وہ افغا نستان کی صورت حال اور خصوصا پاکستان پر اپنا فوکس کر سکے
۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر اتحادی فوجوں کی نہ صرف غیر
معمولی حرکت دیکھنے کو ملی ہے جوٹینکوں بکتر بند گاڑیوں اور جدید اسلحہ سے
لیس ہے۔بلکہ بدھ کے روز ایک بار پھر سرحدی علاقے میں گولہ باری کی گئی جس
کا جواز یہ بتایا گیا۔ کہ مزکورہ علاقے سے ان پو میزائل داغے گئے ۔کیا پتہ
میزائل داغا بھی گیا ہے کہ نہیں ۔’’کیونکہ آپے حاکم آپے کرے نیا ں
‘‘والی بات ہے ۔ادھر ہمارے نہرو دبئی اور لندن میں چین کی بانسری بجا رہے
ہیں۔ اور وزیر اعظم کبھی اس شہر کبھی اس شہر کابینہ کو سیر کراتے پھر رہے
ہیں ۔ہماری تن آسانی کا مظاہرہ دیکھیں دشمن ہماری سرحدوں کو پامال کرنے
کے لیے تیار کھڑا ہے۔ اور ہماری جمہوری حکومت نے ابھی تک پارلمنٹ کا
مشترکہ اجلاس بلا کر اسے اعتماد میں لینے کی جسارت تو درکنار کسی ہمسائے
اور دوست ملک کے ساتھ مشاورت تک نہیں کی ۔ضرورت اس امر کی ہے ۔کہ فوری طور
پرپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور
قبائلی علاقوں کے عماء دین کا مشترکہ جرگہ بلا کر اس اہم مسلہء اور ملکی
بقا کے لیے متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔اور فاٹا گرینڈ الائنس کے
پلیٹ فارم سے جو ایک بااختیار کونسل کے قیام کی کوششیں ہورہی ہیں ۔اس کی
کامیابی کے لیے فوری اقدامات اتھاکر قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کی بیل
منڈے چڑھائی جائے ۔کیونکہ فاٹا میں نظام کی تبدیلی وہاں کے عوام کی
ضروریات اور مرضی کے مطابق ہونی چائیے۔ اور قانونی ڈھانچہ انصاف کے اصولوں
کے مطابق ہو۔ تاکہ وہاں پائیدار امن قائم ہونے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی
جنگجوؤں کی تلاش اور انھیں ملک سے نکالے کے لیے اقدامات اٹھاکرمغربی دنیا
کا منہ بند کیا جاسکے۔ اور پاکستانی طالبان کو مزاکرات کے ژریعے یہ باور
کرایا جاسکے۔ کہ ملک کی سلامتی ہی ہم سب کے مفاد میں ہے۔اس طرح ملک کے
اندر دہشت گردی کی آئی ہوئی لہر پر قابو پانے میں مددملے گی۔ اور بیرونی
محاز پر اسلامی ممالک اور دوست ہمسایہ ممالک سے رابطے کرکے اس سلسلہ میں
سفارتی اور اخلاقی حمایت کے لیے راہ ہموار کی جائے ۔جس کے لیے صدرمملکت
پرویز مشرف بھی از خود بیرونی محاز پر نکلیں اور حکومت بھی دیگر سفارتکاری
کی ماہر شخصیات کی خدمات حاصل کرے ۔کیونکہ ایک طرف امریکہ ہماری سرحدوں پر
فوج متحرک کرکے اور دوسری جانب ساڑے سات ارب ڈالر کا پانچ سالہ پیکج ہمارے
سامنے رکھ کر ہمیں بظاہر دباؤ میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔ تاکہ پاکستانی
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مجوزہ دورہ امریکہ کے موقع پر اپنی مرضی کے
مطالبات پر دستخط کروا سکے ۔جس میں قبائلی علاقوں میں کاروائی کی باقاعدہ
اجازت بھی ہوسکتی ہے ۔یہ الگ بات ہے وہ بغیر اجازت کے اپناکام کررہا ہے
۔اور پاکستان کی طرف باقاعدہ رخ کا یہ اس کا پہلا قدم ہوگا جسے روکنا از
حد ضروری ہے ۔کیونکہ وہ قبائکی علاقوں تک محدود نہیں رہے گا ۔بلکہ اپنے
اصل ٹارگٹ کی طرف بڑے گا ۔جو خدا کرے اس کا خواب ہی رہے ۔ ھالاں نکہ وہ یہ
جانتا ہے کہ انشاء اللہ پاکستان کا بچہ بچہ اس ٹارگٹ کی حفاظت کے لیے کٹ
مرنے کو تیار ہے ۔لیکن دشمن اور پھر مکار دشمن کو کبھی آسان نہیں لینا
چائیے ۔ اس لیے وزیر اعظم کو چائیے کہ امریکہ یاترا سے قبل مکمل ہوم ورک
کر لیں اور اس سلسلہ میں جنرل پرویز مشرف سمیت تمام سیاسی ، سفارتی
،اقتصادی اور فوجی ماہرین کے ساتھ ایک مکمل بریفنگ سیشن کریں۔ اور قوم کا
متفقہ مینڈ یٹ لے کر امریکہ جائیں۔ اور ایسی کسی دھمکی اور لالچ کی پرواہ
نہ کریں جو ملکی بقا کے لیے خطرات کا سبب بن جائے۔ بلکہ ایک ایٹمی پاکستان
اور پروقار قوم کی نمائنندگی کا حق ادا کرتے ہوئے ۔یہ ثابت کریں کہ ایک
جمہوری اور آمرانہ قیادت میں کیا فرق ہوتا ہے ۔جب کہ ابھی تک حکومتی
اتحاد اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو جس عزمیت اورصورت حال کا سامنا
ہے ۔عوام اس سے سخت پریشان ہیں ۔کیونکہ اتحاد کے لیڈر ملک سے باہر اور ملک
میں موجود حکومتی ٹیم بے اختیار ہے ۔اس اہم موقع پر محترم ذرداری صاحب کی
خاموشی بھی شکوک وشبہات پیدا کررہی ہے ۔میڈیا کے بغیر کھانا نہ کھانے والے
ذرداری ملک کی اس نازک صورت حال سے کیوں لاتعلق اور گمنام ہوچکے ہیں ۔ملک
میں تو صرف شیریں اور رحمنٰ ہی پوری حکومت کو اپنے نازک کندوں پر اتھائے
پھرتے ہیں ۔قوم کو حوصلہ دینے کے بجائے مشیر ووزیر سبھی خاموش ہیں
۔پارلیمنٹ کوتوگزشتہ چار ماہ سے سانپ سونگھ گیا ہے ۔تمام فیصلے کبھی مشیر
تو کبھی غیر منتخب قاہدین کررہے ہیں ۔مشیر کے فیصلے کی وزیر کو کانو ں کان
خبر نہیں اور قاہدین کے فیصلوں سے وزیرومشیر سب لاتعلق دکھائی دیتے ہیں
۔چاء یوسف کا باسی اس پریشانی میں مبتلا ہے کہ اس کو دھکاکس نے دیا ۔اور
دھکا دینے والا کدی دبئی تے کدی لندن لگاویندے ۔۔۔جبکہ ملنے ( اجلاس )کے
لیے پاکستان کوئی دور تے نہیں ۔۔۔۔جب کہ امریکہ اور ہماری دوستی کا یہ
عالم ہے کہ بقول اپنے اس شعر کے ۔۔۔۔۔(وہ جس کے پیار کی بنیاد ہی ریا پر
تھی ۔۔۔پھر اس کے سامنے کیسی وضاحتیں رکھنی )۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یونس مجاز ۔۔رائے عامہ روڈ ۔۔۔الحمید پلازہ ۔۔۔ہریپور فون 03018125146
This entry was posted on 01-08-2008 18:19. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 575
Views: 575