| تاج محل میں شہنشاہ شاہ جہاں کے مزار کی پوجا |
|
|
|
ہندوستان میں جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں۔ تو سیاسی جماعتیں اوچھی حرکتیں
کرنے میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ ماضی میںکانگریس فسادات کے ذریعہ سیاست کیا
کرتی تھی۔ مگر اب اس میں تبدیلی آگئی ہے۔ لیکن اب ہندوستان کی سیاست میں
سرخ روئی حاصل کرنے کیلئے بھاجپا اور اس کی ذیلی تنظیمیں مرکزی و صوبائی
سطح پر اقتدار پر قبضہ جمانے کیلئے وہ مغل حکمراں بابر اور شاہ جہاں کی ،
ان کے مزار کی،ان کی بنائی تعمیرات کی پوجا پاٹ (عبادت )کرنے میں مشغول
ہوجاتی ہیں۔ان کو معلوم ہے کہ مسلم بادشاہوں کے بنائے ہوئے مقامات جیسے
مساجد ، مقابر، و قلعے پر جاکر پراتھنا (دعا) مانگنے سے ان پر قبضہ جمانے
سے ان کو سیاسی فائدہ ہوتا ہے۔ اس لئے انتخاب کے زمانہ سے تھوڑا پہلے یہ
لوگ حرکت میں آجاتے ہیں۔اور ان کو پولس کے ڈنڈے کھانے میں، جیل جانے
میںاور سیکولر لوگوں کی گالیاں کھانے میں بڑا مزہ آتا ہے۔ ابھی آگرہ میں
تاج محل کے اندر کچھ لوگ شہنشاہ شاہ جہاں کے ساتھ ساتھ ان کے مزار کی
پوجاکرنے کیلئے وہاں گھس گئے تھے۔کیونکہ سیاسی مفاد پرست لوگ اپنے مفاد
کیلئے شخصیت پرستی کے بھی پجاری ہوجاتے ہیں۔مغل حکمراں شہنشاہ بابر کی
بنائی بابری مسجد کا جب انہوں نے انہدام کیا تھا۔ تو اس کے پتھر وہ لوگ
اپنے ساتھ لے گئے تھے جس کی انہوںنے رات دن پوجا پاٹ کی ۔یہ لوگ اصلی
شخصیت پرست ہیں اور بابر اور شاہ جہاں کے پجاری ہیں۔
ہندوستان کا مسلمان شخصیت کے احترام کا قائل ہے۔مگر وہ کسی بھی شخصیت کو پوجا کے درجہ میں نہیں رکھتے ہیں۔شخصیت کے احترام میں بعد از مرگ ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔قبل از مرگ ان کو سلامتی کی دعائیں دیتے ہیں۔لیکن ان کے آگے قبل ازمرگ یا بعد از مرگ سر کو جھکانا گناہ عظیم سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ کفر کے درجہ میںہے۔ مزارات کے سامنے بیٹھ کر اور خدا سے بے نیاز ہوکر صاحب مزار سے درخواست گذاری مسلمان تو کیا ہندو کو بھی کافر بنادیتی ہے۔۔۔؟ پیر ، ولی اللہ ، صحابی،خلیفہ اور پیغمبر حضرات ۔خدا کی عبادت گذاری میں بہت آگے رہتے ہیں۔ وہ تما م حضرات قابل احترام ہیں۔اور قابل قدر بھی ہیں۔ان سے خصوصی ملاقات کی جائے،ان کی زیارت کی جائے اور ان سے دعائوں کی درخواست کی جائے۔اس کیلئے کہ وہ برگزیدہ شخصیت ہیں۔ اور خدا کیلئے خاص ہیں۔لیکن بعد از مرگ ان کے مزار و ان کے آستانہ میںبیٹھ کر ان کیلئے فاتحہ خوانی کی جائے۔ان کے پاس بیٹھ کر قرآن حکیم کی تلاوت کی جائے۔ کیونکہ جب کوئی برگزیدہ شخصیت دنیا سے رخصت ہوتی ہے۔تو ان کی تربت پر خدا کی رحمت نازل ہوتی رہتی ہے۔رحمت کے نور کا عکس و سایابدستور اس مقام پر پڑتا رہتا ہے۔صاحب مزار کے پاس بیٹھنے کی برکت سے ،وہاںفاتحہ خوانی کرنے کی برکت سے ہوسکتا ہے۔ کہ خدا کی رحمت کے نور کے عکس سے وہ بھی فیضیاب ہوجائے۔صرف خدا کی رحمت کا وہ مخصوص سایہ حاحل کرنے کی جستجو و تلاش میں مذکورہ برگزیدہ حضرات کے آستانہ میں وقت گذاری ہوتی ہے۔ انسان کا حق ہے خدا سے مانگنا ۔ اور وہ ۔ وہ حق چھوڑ کر دنیا سے رخصت پذیر بندے سے مانگنے لگے۔ تو خدا کا غضب اس کی زوال پذیری کو دعوت دیتا ہے۔
ملعون شیطان ۔ جوکہ خداپرست تھا۔جس نے خدا پرستی میں دنیا کے ہر گوشہ میں بیٹھ کر خدا پرستی کی ہے۔ اورہر مقام پر خدا کو سجدہ کیا ہے۔ اب خدا کا حکم تھا۔ کہ وہ آدم پرستی کرے۔ مگر اس نے وہ حکم ماننے سے انکار کردیا۔اور شخصیت پرستی کو قبول نہیں کیا۔ انجام کار لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا۔حالانکہ وہ خدا کا حکم تھا،خدا کا حکم ماننے میں ہی عافیت تھی اور خدا کے حکم کو ٹالا نہیں جاسکتا تھا۔بات طویل ہوگی۔ معلون شیطان کی ایک بارحضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اصرار تھا۔ کہ وہ خدا سے معافی مانگے۔اس پر وہ تیار ہوگیا۔ملعون شیطان نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے التماس کرائی۔ کہ وہ اس کیلئے خدا سے معافی مانگنے پر آمادہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جب اس ملعون شیطان کی فریا د لیکر پہنچے ۔اور خدا کے حضور میں اس کی فریا د کو رکھا ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔ کہ وہ غفور و رحیم ہیں۔ کہ جو بھی حیّٰ الصلوۃ و حیّٰ اللفلاح کی آواز سن کر ہماری طرف دوڑ تا ہے۔ ہم کو قبول کرتے ہیں۔ اور اس کو معافی دیتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملعون شیطان کی فریا د تھی۔جس کو انہوں نے خدا کے سامنے پیش کیا۔ خدا کا فرمان ۔ کہ ہم معاف کردیں گے۔ مگر اس کیلئے ہمارا وہی حکم ہے۔جو حضرت آدم علیہ السلام کے قبل از مرگ حکم تھا۔ان کی موجودگی میںان کو سجدہ کرنا۔ اب وہ دنیا وی اعتبارسے رخصت ہوگئے ہیں۔اب بعد از مرگ ان کے مزار یا آستانہ میں پہنچ کر صاحب قبر حضرت آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کرے۔ہمارے اس حکم کی جیسے ہی تکمیل ہوگی۔حکم کی اس تکمیل پر معلون شیطان کو معاف کردیا جائے گا۔اب حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھے کہ زندہ حضرت آدم علیہ السلام کی موجودگی میں سجدہ کرنا مشکل تھا۔اس لئے کہ اس وقت لاکھوں فرشتہ موجود تھے۔ بعد از مرگ یہ کام آسان ہے۔ رات کی تاریکی میں یہ کام معلون شیطان کے ذریعہ باآسانی ہوسکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب ملعون شیطان کو اس بات سے آگاہ کیا۔وہ سمجھ رہے تھے۔ وہ ( معلون شیطان) اس پر رضامند ہوگا۔مگر جب یہ بات اس تک پہنچی تو معلون شیطان کو غصہ آگیا۔اور اس نے کہا وہ خدا پرست ہے۔ دنیا کا ہر زرہ اس کا گواہ ہے۔سجدہ کا حق صرف خدا کو ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے خدا پرستی پر ضرب لگتی ہے۔لعنت کا طوق اسے منظور ہے۔مگر قبر پرستی وبت پرستی اسے منظور نہیں۔۔۔خدا کا حکم۔۔۔۔مگر شیطان قبر پرستی کی طرف مائل نہیںہوا۔کہ جب قبل از مرگ سجدہ نہیں تو بعد از مرگ سجدہ کیسا۔۔۔۔؟
فی الوقت آج مفاد پرستی و سیاست پرستی میں دنیا کے سرتاج ۔۔تاج محل میں شہنشاہ شاہ جہاں کے مزار پر جاکر صرف اقتدار کے حصول کیلئے پوجا پاٹ کرنے سے انہوںنے ملعون شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔یعنی مفاد پرست لوگ اب بت پرستی کررہے ہیں۔ اور ملعون شیطان ان کے اس اقدام سے کوسوں دور ہے۔
بہر حا ل خدا کا ہر حکم ماننے میں ہی عافیت ہے۔یہ یاد رکھیں۔ خدا کا حکم اپنی جگہ ، ملعون شیطان کی خداپرستی اپنی جگہ،جاہل لوگوں کی قبر پرستی اپنی جگہ، سیاسی مفاد پرستوں کی سیاسی پوجا پرستی اپنی جگہ،
بہر کیف حضرت انسان چند دنوں کے راحت و آرام کیلئے وہ کیا کیا کرگزرتا ہے۔ آخر اس کو کس طرح سمجھایا جائے۔
ایاز محمود
۱۰، ایس ایل ہائوس ،نزدیک حج منزل ، آصف علی روڈ، نئی دہلی۔
۲ فون : 011-43524216
ہندوستان کا مسلمان شخصیت کے احترام کا قائل ہے۔مگر وہ کسی بھی شخصیت کو پوجا کے درجہ میں نہیں رکھتے ہیں۔شخصیت کے احترام میں بعد از مرگ ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔قبل از مرگ ان کو سلامتی کی دعائیں دیتے ہیں۔لیکن ان کے آگے قبل ازمرگ یا بعد از مرگ سر کو جھکانا گناہ عظیم سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ کفر کے درجہ میںہے۔ مزارات کے سامنے بیٹھ کر اور خدا سے بے نیاز ہوکر صاحب مزار سے درخواست گذاری مسلمان تو کیا ہندو کو بھی کافر بنادیتی ہے۔۔۔؟ پیر ، ولی اللہ ، صحابی،خلیفہ اور پیغمبر حضرات ۔خدا کی عبادت گذاری میں بہت آگے رہتے ہیں۔ وہ تما م حضرات قابل احترام ہیں۔اور قابل قدر بھی ہیں۔ان سے خصوصی ملاقات کی جائے،ان کی زیارت کی جائے اور ان سے دعائوں کی درخواست کی جائے۔اس کیلئے کہ وہ برگزیدہ شخصیت ہیں۔ اور خدا کیلئے خاص ہیں۔لیکن بعد از مرگ ان کے مزار و ان کے آستانہ میںبیٹھ کر ان کیلئے فاتحہ خوانی کی جائے۔ان کے پاس بیٹھ کر قرآن حکیم کی تلاوت کی جائے۔ کیونکہ جب کوئی برگزیدہ شخصیت دنیا سے رخصت ہوتی ہے۔تو ان کی تربت پر خدا کی رحمت نازل ہوتی رہتی ہے۔رحمت کے نور کا عکس و سایابدستور اس مقام پر پڑتا رہتا ہے۔صاحب مزار کے پاس بیٹھنے کی برکت سے ،وہاںفاتحہ خوانی کرنے کی برکت سے ہوسکتا ہے۔ کہ خدا کی رحمت کے نور کے عکس سے وہ بھی فیضیاب ہوجائے۔صرف خدا کی رحمت کا وہ مخصوص سایہ حاحل کرنے کی جستجو و تلاش میں مذکورہ برگزیدہ حضرات کے آستانہ میں وقت گذاری ہوتی ہے۔ انسان کا حق ہے خدا سے مانگنا ۔ اور وہ ۔ وہ حق چھوڑ کر دنیا سے رخصت پذیر بندے سے مانگنے لگے۔ تو خدا کا غضب اس کی زوال پذیری کو دعوت دیتا ہے۔
ملعون شیطان ۔ جوکہ خداپرست تھا۔جس نے خدا پرستی میں دنیا کے ہر گوشہ میں بیٹھ کر خدا پرستی کی ہے۔ اورہر مقام پر خدا کو سجدہ کیا ہے۔ اب خدا کا حکم تھا۔ کہ وہ آدم پرستی کرے۔ مگر اس نے وہ حکم ماننے سے انکار کردیا۔اور شخصیت پرستی کو قبول نہیں کیا۔ انجام کار لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا۔حالانکہ وہ خدا کا حکم تھا،خدا کا حکم ماننے میں ہی عافیت تھی اور خدا کے حکم کو ٹالا نہیں جاسکتا تھا۔بات طویل ہوگی۔ معلون شیطان کی ایک بارحضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اصرار تھا۔ کہ وہ خدا سے معافی مانگے۔اس پر وہ تیار ہوگیا۔ملعون شیطان نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے التماس کرائی۔ کہ وہ اس کیلئے خدا سے معافی مانگنے پر آمادہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جب اس ملعون شیطان کی فریا د لیکر پہنچے ۔اور خدا کے حضور میں اس کی فریا د کو رکھا ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔ کہ وہ غفور و رحیم ہیں۔ کہ جو بھی حیّٰ الصلوۃ و حیّٰ اللفلاح کی آواز سن کر ہماری طرف دوڑ تا ہے۔ ہم کو قبول کرتے ہیں۔ اور اس کو معافی دیتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملعون شیطان کی فریا د تھی۔جس کو انہوں نے خدا کے سامنے پیش کیا۔ خدا کا فرمان ۔ کہ ہم معاف کردیں گے۔ مگر اس کیلئے ہمارا وہی حکم ہے۔جو حضرت آدم علیہ السلام کے قبل از مرگ حکم تھا۔ان کی موجودگی میںان کو سجدہ کرنا۔ اب وہ دنیا وی اعتبارسے رخصت ہوگئے ہیں۔اب بعد از مرگ ان کے مزار یا آستانہ میں پہنچ کر صاحب قبر حضرت آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کرے۔ہمارے اس حکم کی جیسے ہی تکمیل ہوگی۔حکم کی اس تکمیل پر معلون شیطان کو معاف کردیا جائے گا۔اب حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھے کہ زندہ حضرت آدم علیہ السلام کی موجودگی میں سجدہ کرنا مشکل تھا۔اس لئے کہ اس وقت لاکھوں فرشتہ موجود تھے۔ بعد از مرگ یہ کام آسان ہے۔ رات کی تاریکی میں یہ کام معلون شیطان کے ذریعہ باآسانی ہوسکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب ملعون شیطان کو اس بات سے آگاہ کیا۔وہ سمجھ رہے تھے۔ وہ ( معلون شیطان) اس پر رضامند ہوگا۔مگر جب یہ بات اس تک پہنچی تو معلون شیطان کو غصہ آگیا۔اور اس نے کہا وہ خدا پرست ہے۔ دنیا کا ہر زرہ اس کا گواہ ہے۔سجدہ کا حق صرف خدا کو ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے خدا پرستی پر ضرب لگتی ہے۔لعنت کا طوق اسے منظور ہے۔مگر قبر پرستی وبت پرستی اسے منظور نہیں۔۔۔خدا کا حکم۔۔۔۔مگر شیطان قبر پرستی کی طرف مائل نہیںہوا۔کہ جب قبل از مرگ سجدہ نہیں تو بعد از مرگ سجدہ کیسا۔۔۔۔؟
فی الوقت آج مفاد پرستی و سیاست پرستی میں دنیا کے سرتاج ۔۔تاج محل میں شہنشاہ شاہ جہاں کے مزار پر جاکر صرف اقتدار کے حصول کیلئے پوجا پاٹ کرنے سے انہوںنے ملعون شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔یعنی مفاد پرست لوگ اب بت پرستی کررہے ہیں۔ اور ملعون شیطان ان کے اس اقدام سے کوسوں دور ہے۔
بہر حا ل خدا کا ہر حکم ماننے میں ہی عافیت ہے۔یہ یاد رکھیں۔ خدا کا حکم اپنی جگہ ، ملعون شیطان کی خداپرستی اپنی جگہ،جاہل لوگوں کی قبر پرستی اپنی جگہ، سیاسی مفاد پرستوں کی سیاسی پوجا پرستی اپنی جگہ،
بہر کیف حضرت انسان چند دنوں کے راحت و آرام کیلئے وہ کیا کیا کرگزرتا ہے۔ آخر اس کو کس طرح سمجھایا جائے۔
ایاز محمود
۱۰، ایس ایل ہائوس ،نزدیک حج منزل ، آصف علی روڈ، نئی دہلی۔
۲ فون : 011-43524216
Users' Comments (0) |
|
|
No comment posted
| < Prev | Next > |
|---|










(0 vote)
Views: 1957