Aug
21
2008
Today
 .
videos.gifcartoon.gif  links.gif forum.gif guest-book.gifadverts.gif

Hijri Date


Member Login

Attock Poll

Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?

Attock Weather

Attock
23°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Syndicate

حکو مت کہاں ہے؟ حکمران کون ہے؟ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


ہر چند کہیں کہ ہے مگر نہیں ہے حکومت کہاں ہے؟سو یلین حکومت کا کون اصل حکمران ہے؟رحمن ملک زرداری اور ریٹائرڈ جنرل محمود درانی سابق وزیر خارجہ امریکہ (جسے بش نے خود ائر پورٹ پر آ کر رخصت کیا تھا) کے علاوہ کسی بھی محکمہ میں کسی وزیر مشیر کا حکم تو کیا رائے کی بھی کوئی ویلیو نظر نہیں آتی ۔ سابقہ ادوار کی طرح اسمبلی ربڑ سٹیمپ کا کردار ادا کرنے پر مجبور نظر آتی ہے نواز زرداری اتحاد کی کشتی روز روشن کی طرح ظاہری وجوہ کی بنیاد پر ہچکولے کھا رہی ہے۔ کہ آج ڈوبی یا کل ڈوبی ۔مولانا فضل الرحمان ناراض ہیں ۔ اے این پی اتحاد توڑنے پر تیار بیٹھی ہے ۔ن لیگ کے تمام اہم رہنما روہانسے ہوئے بیانات دے رہے ہیں ورکر سر پیٹ رہے ہیں محسوس ہو رہا ہے کہ جلد’’ سانجھے کی ہنڈیا چوراہے میں ‘‘ہو گی ۔ بظاہر مضبوط محل مگر دراصل ریت کا گھروندا زمین بو س ہو جائے گا ۔ دوسری طرف امین فہیم ،ممتاز بھٹو، مصطفی کھر ،شاہنواز بھٹو اور مرتضٰی بھٹو کا خاندان بھی سبھی زرداری کے ڈنگے ہوئے ہیںاور باہم سر جوڑے ہوئے ہیں دھماکہ ہے کہ ہوا ہی چاہتا ہے۔پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے تمام وفادار ملازم ابن رضوی ، میر اور قادر شاہین وغیرہ نکالے جا چکے ہیں ۔صرف زرداری کے یس مینوں کا ہی ہر طرف قبضہ ہے۔ سینٹر عباسی اور ناہید خان (میاں بیوی)جو کہ بینظر شہید کے ادنیٰ ترین غلاموں کی طرح ٰھمہ وقت تابعدار تھے ۔چوبیس گھنٹے محترمہ کے اشارے کے منتظر رہتے تھے وہ بھی راندہ درگاہ ٹھہرے ہیں ابھی ابھی فاٹا اور سرحدی علاقوں میں جو کھیل امریکہ کی شہ پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کو کھیلنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ وہ انتہائی خوف ناک عمل ہے ۔سرحدی افغانوں نے تو انگریزوں کی تابعداری سے انکار کر دیا تھا۔ وہ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی ان علاقوں پر قابض نہ ہو سکا تھا۔ یہ بش ، مشرف ، گیلانی زرداری کس باغ کی مولی ہیں ۔اب انہوں نے پاکستانی افواج سے نہ الجھنے کی پالیسی اختیار کر کے پوری دنیا کو ششدر کر دیا ہے ۔ اب امریکہ کو ’’ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ‘‘ والا معاملہ درپیش ہے ۔ پیچھے ہٹتا ہے تو نام نہاد بے عزتی مزید خراب ہوتی ہے اور آگے بڑھتا ہے تو غیرت مند ، حریت پسند افغانوں کا خطرہ ہے کہ وہ بالآخر سفید چمڑی والوںکو کچاچبا ڈالنے سے گریز نہیں کریں گے اور دشوار گزار پہاڑوں پر پڑی ان کی گلی سٹری بد بو دار لاشوں کو کوے ، چیلیں نوچ نوچ کر ڈھانچے بنا ڈالیں گی۔’’ افغان باقی کوہسار باقی ‘ ‘ کی طرح جب تک یہ افغان پٹھان موجود ہیں پہاڑ بھی موجود رہیں گے ان پہاڑوں کو امریکہ تو کیا اسکا باپ دادا بھی ختم نہیں کر سکتا ۔ اس لیی ان افغانو ں کی شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا !!ورلڈ پاور امریکہ کو جو شکست فاش بالا ٓخر ہونی ہے وہ انہی پہاڑوں میں ہو گی اور ہارے ہوئے امریکی فوجی انہی پہاڑوں سے سر ٹکرا کر پاگلوں کی طرح موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔اللہ اکبر تحریک کے نعرے انہی پہاڑوں میں گونجیں گے اذانیں بلند ہونگی اور بین الااقوامی قبضہ گروپوں کا سامراج سر نگوں ہو کر مدفون ہو گا بلا آخر اللہ اکبر کے جھنڈے امریکہ میں بھی لہرا جا ئیں گے ’’ دیر آئید درست آئید ‘‘غلطیوں کا ازالہ اب بھی کیا جا سکتا ہے سامراج نے ان افغانوں سے چھیڑ چھاڑ کی جو غلطی کی ہے اس کا فوری حل صرف ان سے مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔صلح ہی احسن ترین حل ہوتا ہے اور افغانوں کی بھی چاہیی کہ سامراج کی اس غلطی کو معاف کر دیں کہ معاف کر دینا ہی اصل بدلہ اور فتح ہوتی ہے ان سامراجیوں کے بچے اور بیویاں بھی ان کی محفوظ واپسی کے لیی ان کی راہ تک رہی ہیں اور اس مقولے کی طرح کہ ’’ سب گلاں دی اکو ای گل نواب ٹیوب ویل نواب ٹیوب ویل‘‘جانی نقصانات اور لڑائی کے بعد بھی تو مذ اکرات ہی کرنے ہوتے ہیں ۔ اس لیی یہی افضل ترین فعل ہے ۔ حالا ت با ایں جا رسید ہیں کہ گیلانی جو کہ تمام پارٹیوں کے ووٹ حاصل کر کے غلطی سے بے اختیار وزیر اعظم بنے بیٹھے ہیں وہ بھی اب بحکم اینٹلی جینس ایجنسیوں کے اپنے تمام فنکشن وزیر اعظم ہائوس میں کرنے کو پابند کر دئیی گئے ہیں اور مرتا کیا نہ کرتا کی طرح یہ مجبوری ہے اور مجبوری کا نام شکریہ ہوتا ہے۔ کہ ’’ ہتھ نہ پہنچے تے تھو ہ کوڑی ‘‘اور یہ ہیں سب ایسے اقتدار کی کرامات!!اور ایسی اعظم وزیر ہونے سے تو وہ فقیر ہزار گنا اچھا جو کہ فٹ پاتھ پر لاپرواہ ہو کر لمبی تان کر سوتا ہے۔امریکہ میں نام نہاد ان داتا کے پاس حاضری کے بعد تو صاحب بہادر کی سیکورٹی مزید سخت کرنی پڑ جائے گی ۔کہ سامراجیوں کے آگے جھکنے کے بعد جو روسیاہی مسلمانوں کے حصہ میں آجاتی ہے۔ اس پر عام گلی کا آدمی بھی تُف تُف کرنے لگ جاتا ہے۔کہ آدمی خدا کے آگے جھکنے کی بجائے سامراج کے آگے گڑ گڑا رہا ہوتا ہے اور یہ اس کی ذلت کی آخری انتہا ہوتی ہے یہ گیلانی صاحب وہی ہیں جنہوں نے اقتدار میں آتے ہی گندم کی قیمت خرید بڑھا کر اپنے ہمجولی زمینداروں ، جاگیرداروں اور وڈیروں کوتو خوش کر ڈالا تھا مگر جب ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو آٹا خریدنے جانا پڑا تو ان کو مہنگائی نے دن کو تارے دکھا ڈالے غریب عوام آج تک بھوکوں مر رہے ہیں اور انہیں بھوکے مرنے پر مجبور کر ڈالا ہے۔بعض گھروں میں تو کہرام مچا ہوا ہے صبح چائے پاپے اور دوپہر اور شام کی روٹی اکھٹی ایک ہی دفعہ دن کے چار یا پانچ بجے ملتی ہے اور وہ بھی کونڈی روٹی یعنی مرچ وغیرہ رگڑ کر۔ بے سہاروں کی ہنڈیا الٹی پڑی ہیں اور سالن کا تو تصور ہی محال ہو چکا ہے۔دوسری طرف شاہ محمود قریشی جیسے عقل کے اندھے نے ( کہ نوابو ں اور جاگیرداروں کے بچے بچپن سے ہی لو لو پو پو کی وجہ سے عقل کے اندھے ہوتے ہیں ) حساب کتاب نہ کر سکنے کی وجہ سے سی این جی گیس کی ایسی قیمت بڑھائی ہے کہ اب وہ فضا چھٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ وزارت پٹرولیم کچھ اعلان کرتی رہے مگر ڈیلر ز ایسو سی ایشن اپنا الُو سیدھا کیی ہوئے ہے۔من مانی قیمت وصو ل کر ر ہے ہیںاور پہلے ہی دن کی وزیر موصوف کی غلطی سے عوام کی جیبو ں پر اب تک اربوں روپے کا ڈاکہ پڑ چکا ہے۔شرم بھی بالکل نہیں آئی مگر انہیں معذرت کے دو بول بولنے سے شرم ضرور آتی ہے ا ور اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش بدستو ر قائم ہے۔ مومن تو ایک سوراخ سے دوبارہ ڈنگ نہیں کھاتا مگر یہ اسلامی مملکت کے وزیر خارجہ بنے بیٹھے ہیں ۔ کہیں باہر کسی دوسرے ملک میں حسابی کتابی غلطی کر بیٹھے تو کیا بنے گا ؟ یہ سو چ کر ہر مسلمان الاامان وا لحفیظ کا ورد کر رہا ہے ۔ حکو متی کشتی جس بھنور میں پھنس چکی ہے اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ججوںکا مسئلہ درمیان میں اٹکا ہوا ہے ۔ روز بروز قیمتوںکے چڑھائونے حکومتی چھتری کے تلے پلنے والے سٹا کسٹوں ، ذخیر ہ اندوزوں کی چاند ی کر ڈالی ہے۔افراط زر کی سطح 32[L: 37] تک پہنچ چکی ہے ۔بجلی کا بحرا ن خوف ناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔بعض علاقوں میں تو گرمی کی حدت سے اموات واقع ہو چکی ہیں کارخانے بند پڑے ہیں صنعتیں مفلوج ہو چکی ہیں روزانہ بارہ تا اٹھارہ گھنٹے تک بجلی بند رہتی ہے۔پانی کا مسئلہ بھار ت کی چالاکیوں اوراپنوں کی لا پرواہیوں کی وجہ سے با لا ٓخر کنڑول سے باہر ہو چکا ہے، نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکہ کے یار ہونے کے ناطے ہم اپنوں ہی کو روزانہ سیکورٹی فورسزکے ذریعے قتل کر کے بش کے آگے نمبر ٹانگ رہے ہوتے ہیں کہ ایسے عمل سے ہمیں زیادہ بھیک ملنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔مگر عالمی تحریک اللہ اکبر کے بار بار اعلان کے باوجود کہ اگر اب بھی سامراج ممالک سے بھیک (قرضے) بمعہ سود مانگنا اور لینا بند کر دیویں تو عالم اسلام سے پور ے سالانہ بجٹ کے برابر رقوم با وقار طریقے سے بلا سود دلوائی جا سکتی ہیں۔ اور دیگر اہم ترقیاتی پراجیکٹس کے لیی بھی جتنی چاہیں امداد مل سکتی ہے مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور ’’ بھینس کے آگے بین بجانا ‘‘ کے مصداق یہ مٹی کے مادھو اور ان کی کرپٹ لا دین بیوروکریسی اپنے ہی کمیشنوں سے باہر کچھ نہیں دیکھ سکتی کہ ’’ مفت کی شراب تو قاضی کو بھی حلال ہوتی ہے‘‘اربوں ڈالر بیرونی ملکوں میں جمع ہو جاتے ہیں اسلیی ملک کی خیر خواہی چہ معنی دارد ؟ حالانکہ واضح ہے کہ یہ تمام قرضے ہمیں مکمل بے غیرتی میں ڈھالنے کے بعد دئیی جاتے ہیں ۔ ہمیں میراتھن ریس کروانے کا حکم ملتا ہے کہ آپ اپنی نوجوان بیٹیوں بہنوں کو جو کہ کالجوں اور سکولوں کی طالبہ ہیں حکم دیں کہ وہ کل سے نیکر ( کچھے ) پہن کر آئیں اور نوجوان کالجوں وغیرہ کے طلبہ کے ساتھ اکٹھے دوڑیںاور بے غیرتی کی انتہا کر ڈالیں اور ثابت کر ڈالیں کہ آپ ایک روشن خیال نام نہاد ماڈرن سٹیٹ ہیں تو پھر جتنے اربوں ڈالر چاہو سود پر قرضہ حاصل کر لو۔حکم ملتا ہے فلاں فلاں علماء مدارس عربیہ و مساجد کو شہید کر ڈالو اور معصوم کم سن قرآن مجید حفظ کر نی والی بچیوں کو زہریلی گیسوں سے قتل کر ڈالو تو امداد حاصل کر و ہم ’’ حکم حاکم مرگ مفاجات ‘‘سمجھتے ہوئے فوراً تابعداری کر ڈالتے ہیں پتہ نہیں ہماری غیرت ایمانی کو کیا ہوا ؟ وہ ہے کہاں ؟ ہم کیسے دور سے گزر رہے ہیں ؟کبھی کسی حاجی نمازی اور پرہیز گار تک مسلمان نے بھی نہیں سوچا !! آخر کیوں ہم قعرمذلت میں گرتے جارہے ہیں ؟ آخر ہمیں بے غیرتی کی روٹی کھاتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی ؟ہمار ا ضمیر کہاں سو گیا ہے ؟ مر گیا ہے کیا؟ اور تو اور پانچ وقت کی اللہ اکبر کی مسجدوں سے بلند ہونے والی صدائیں بھی ہمارے کانوں پر بالکل اثر نہیں کرتیں !! اس بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستانی معیشت جس کی ترقی کی رفتار 2003؁ء سے2007؁ء تک 6.9فیصد تھی ان الیکشن کے بعد غیر یقینی اقتصادی حالا ت اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے شدید طور پر زوال پذیر ہے ۔صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے اگر فوری طور پر قیمتوں پر کنڑول نہ کیا گیا اور غربت و بے روز گاری جیسے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو متوسط اور غریب شہری طبقہ تو حکومت سے مکمل بر گشتہ ہو ہی چکا ہے اور دیہاتوں میں رہنے والے کاشتکار بھی نان جویں کو ترس رہے ہیں تو پھر اسلام پسند طبقات کے نعرے اور امریکہ مخالف جذبا ت جو موجزن ہو رہے ہیں اور بے روزگاروں کا جمع غفیر اور مہنگائی
کے سانپ بلکہ اژدہے کے ڈسے ہوئے غریب عوام بپھرنے کو ہیں یہ اقتصادی بے اطمینانی آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی ملک میں سیاسی انار کی اور حکومت کے مکمل فیل ہونے پر منتج ہو گی مضحکہ خیز صورتحال تو یہاں تک آن پہنچی ہے کہ سب سے زیادہ فوجی و اقتصادی امداد دے کر بھی امریکہ کے خلاف نفرت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے امریکہ کے ساتھ تمام جانوروں اور چوپایوں کے نام لے لے کر ہر گلی کوچے میں نعرے گونج رہے ہیں اور انکے لے پالک مشرف ،زرداری ،گیلانی کا کیا کیا سواگت گلی کوچوں میں ہو رہا ہو گا وہ سب پر بخوبی عیاں ہے۔
2008؁ء ۔2007؁ء کے لیی بجٹ خسارے کا ہدف مجموعی قومی پیداوار کا چار فیصد مقر ر کیا گیا تھا جو فوراً ہی بڑھ کر نو فیصد سے بھی زائد ہو چلا ہے ادائیگوں کے تواز ن کا خسارہ بھی اس وقت نو فیصد ہے جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے ۔ زر مبادلہ کے ذخائر جو کہ2007 ؁ء تک ساڑھے سولہ ارب ڈالر تھے کم ہو کر صرف گیارہ ارب ڈالر رہے گئے ہیں ۔ حالانکہ پاکستان کو ابھی امریکہ سے پچاس کروڑ ڈالر کی امداد ملی ہے۔ بیس کروڑ ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک نے بطور قرض دئیی ہیں اور پچاسی کروڑ ڈالر غیر ملکیوں کو نجی شعبے کی کمپنیوں کے حصص کی فروخت سے حاصل ہوئے ہیں ۔ تیل اور گیس پر سے رعایات بتدریج واپس لینے پر بھی افراط زر تیس فیصد تک چلا گیا ہے۔جو کہ اس سے پہلے کبھی بھی نہ تھا دوسری طرف انٹرنیشنل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں سرمایہ کاری کے لیی بہترین ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر بہت پیچھے لے گئی ہیں اب ہمار انمبر 87واں ہے اسوقت اصولاً محترک حکومت نہیں بلکہ جامد حکومت ہے دن ٹپائو اور ٹرخائو پالیسی کبھی نہ چلی ہے اور نہ چل سکتی ہے ’’ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی‘‘مرکز میں وزارتیں خالی پڑی ہیں صرف اس لیی کہ زرداری جتنے دن بھی ممکن ہو سکے اس تاثر کو قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف ان کے اتحادی ہیں مگر اندرون خانہ کبھی بھی کسی بڑے قومی اہم مسئلے پر مشورہ تک بھی نہیں کیا جاتا ون مین شو اور ون وے ٹریفک چل رہی ہے۔نواز شریف کی نا اہلی پر وزیر اعظم گیلانی کا خود سپریم کورٹ میں درخواست دے ڈالنا بھی وقت کے بگٹٹ گھوڑے کو لگام ڈالنے کی ناکام کوشش تھی کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پی پی پی کے خلاف ن لیگ کے نعروں اور جلوسوں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی اور ملک کی سڑکیں اٹ جاتیں ایسی عارضی رکاوٹیں تا بہ کے ہونگیں کراچی اسٹاک ایکس چینج بھی بہران کا شکار ہو چکا ہے۔ پچھلے ماہ تک اس کا انڈیکس پندرہ ہزار سات سو پوائنٹ تھا جس میں ماہ رواں کے دوران ہی چار ہزار چھ سو پوائنٹ کی کمی ہوئی جو تقریباً تیس فیصد ہے ۔ ا س طرح سے مارکیٹ سے ایک کھرب تیس ارب ڈالر کا سرمایہ نکل چکا ہے جو کہ مجموعی پیداوار کا 13 فیصد ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منڈی میں مندی کا رجحان کس رفتار سے بڑھ رہا ہے ۔ یہ سب باتیں حکومت کی موجودہ پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں ۔دوسری طرف عالمی بینک نے ترقیاتی منصوبوں کے لیی پچاس کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کر ڈالی ہے اور اس کے مساوی رقم کی فراہمی بھی معطل کر دی ہے ۔سوا ارب ڈالر کے نجکاری کے متعلق سودے بھی تعطل کا شکار ہیں روپے کی قیمت بہت زیادہ گر رہی ہے جب کہ ہر ماہ پہلے ہی دس فیصد تک کمی ہوتی جارہی ہے۔اس طرح سود کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا جو کہ قوم کو بحران میں مبتلا کر ڈالے گااور سیاسی طور پر بھی یہ تباہ کن امر ہو گا ۔صرف سپریم کورٹ کی ججوں کی تعداد بڑھانے ، معطل کردہ ججوں کی سابقہ
تنخواہیں ادا کر ڈالنے اور ن لیگ کے مرکزی وزر ا سے کوٹھیاں خالی نہ کروانے اور انہیں وزرا کی مراعات دئیی جاتے رہنے سے کام نہیں چلے گا ٹھوس اقدامات اگر حکو مت نہ کر سکی تو ’’ سب راج پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا‘‘کے مصدا ق حکومتی تخت دھڑام گرنے کو ہے مگر ’’ساون کے اندھوں کو ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے‘‘جو حکمرانو ں کی چو ب چشمی کی نشانی ہے۔اب عوام کا کسی بھی سیاست دان پر اعتماد جمنا مشکل ہے کہ یہ سبھی مارشلائی ادوار کے خود کاشتہ پودے ہیں اور فوجی آمروں کے دورمیں یا تو باہر بھاگ جاتے ہیں یا پھر بیرونی دوستوں سے آمروں کو کہہ کہلوا کر باہر کا بُلاوا کر وا لیتے ہیں عوام ایسی تیسی کر وائے یہ باہر کی ترقی یافتہ دنیا کے مزے لوٹتے رہتے ہیں اور کبھی کبھار سیاست میں ان رہنے کے لیی آمروں کی خصوصی اجازت سے بیان وغیرہ بھی داغتے رہتے ہیں جو ادھر ملک کے اندر بچ رہتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی طر ح کمپرو مائز کر کے دن ٹپائو رات گزارو پروگرام پر چلتے رہتے ہیں اور غریب عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر ان کے مسائل وغیرہ کو بیان کرتے اور مختلف جعلی نعروں کے ذریعے ان کو حل کر نے کا اعلان کرتے رہتے ہیں اس لیی بپھرے ہوئے عوام آئندہ قیادت صرف ایسے شخص کو سپر د کرنے کو تیار ہیں جس نے کسی بھی دور میں کسی بھی اقتدار سے نہ تو بھیک مانگی ہو اور نہ ہی کبھی چل چلائو پارٹیوں کی بنا پر مقتدر رہا ہو کہ غریبوں کی فلاح اور مفت روٹی دینے کے نعروں سے اب عوام مزید دھوکہ کھانے کو تیار نہ ہیں کہ یہ تمام نام نہاد سیاست دان سٹاکسٹوں سرمایہ داروں سود خور ذخیرہ اندوزوں سے ملی بھگت کر کے قیمتوں کو بڑھاتے ہیں اور اس ظلم کے خون سے بھرے تالاب میں مل کر ننگے نہاتے ہیں بینک بیلنس بڑھاتے ، تجوریاں بھرتے اور بیرون ملک رقوم جمع کرواتے ہیں تا کہ ’’ برا وقت ‘‘ آنے پر باہر جا کر عیش و عشرت کر سکیں اور یوںملک کی عظمت کے گن گانے والے دراصل ملک دشمنی کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہی عوام کے نزدیک واجب القتل ہیں ۔ نواز شریف پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ پنجاب اقتدار پسند ہے اور طاقتور کا ساتھ دیتا ہے اسمیں قطعاً کوئی شک نہیں کہ کوفیو ں کی طرح یہ زبر دست آئو بھگت کرنے والے ، استقبالی اور نعرہ زن لوگ ہیں مگر مستقل مزاج ساتھی نہ ہیں ۔ تھوڑا سا دُم پر پیر آیا کانٹا چھبا تو یہ بھاگے چلے جاتے ہیں اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتے ۔ان کے لیی باوجوہ دینی جماعتوں کی سپورٹ اور انکے ورکر ہی اصل سرمایہ اور اثاثہ ہیں جب تک یہ قائم ہے نواز شر یف کا طوطی بولتا رہے گا۔ وگرنہ پھر یہ سبھی پرندے اپنی اپنی بولیاں بو ل بول کر اڑ جائیں گے ویسے اللہ اکبر کے نام اور اس کی تحریک کے ذریعے مختلف نظریات رکھنے والی سیاسی قوتوں، مختلف مسالک کے علمبردار مذہبی فرقوں کو مجتمع کیا جا سکتا ہے اور لوگ اس تحریک میں جوق در جوق شامل ہو سکتے ہیں مگر وہی ’’ ڈھاک کے تین پات ‘‘ والی بات درپیش ہے کہ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کو کیسے ڈھایا جائے اور جن جن لوگوں نے مختلف ازم ، برادری اور مسالک کی تبلیغ کر کر کے اپنی اپنی بھیڑوں کو مختلف رنگوں سے رنگا ہوا ہے اور زبر دست ذاتی مفادات کاشکار ہی نہیں بلکہ حاصل بھی کر رہے ہیں وہ کون اور کیسے چھوڑے گا اور یہ سب کیسے ہوگا۔ یہ عوام کے لیی سوالیہ نشان ہے !!!
ڈاکٹر میاں احسان باری
د فتر  سٹی چوک بلمقابل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھاولنگر
Phone No.0300-6986900- 0333-6311421
01-08-2008 17:42 Dr Ihsan Bari
This entry was posted on 01-08-2008 17:42. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 377    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >