آج
کے دن ملنے والی ساری اطلاعات اس بات کی نوید ہیں کہ ملک کے طول و ارض میں
کہیں سے بھی کوئی ’’خیر کی خبر‘‘ نہیں آئی۔اور الیکٹرانک میڈیا کا المیہ
یہ ہے کہ جب تک کوئی ’’بریکنگ نیوز نہ ہو وہ سارا دن وہی خبریں نشر مقرّر
کرتے ہیں ،لہذا اگر نیوز چینلز دیکھیں تو ماسوائے ناامیدی اور مایوسی کے
سوا کچھ نہیں ملتا۔ہر طرف سے لوڈ شیڈنگ،مہنگائی،آٹے کی نایابی،امن و امان
کی ابتری،سرکاری اور حکومتی عہدیداروں کی اپنے فرائض کی ادئیگی میںمجرمانہ
غفلت،غربت و افلاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے جگر گوشوں کو فروخت کرنے کی
روز افزوں بڑھتی ہوئی خبروںاورخود کشیاں کرنے کی اطلاعات کے علاوہ کچھ بھی
سننے کو نہیں مل رہا۔جس کا صرف ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی
حکومتیں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔یا پھر وہ بھی حالات کو جوں کا توں
رکھنا چاہتی ہیں۔حالانکہ اتحادی حکومتوں کی ساخت کے وقت یہ امید بندھی تھی
کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیںآن بورڈ ہیں اورایک اشتراک عمل کی فضاء معرض
وجود میں آئے گی اورتصادم کی سیاست کا خاتمہ ہو گا اور یوں تبدیلی یا
عوامی فلاح و بہبود کا عمل سرعت سے وقوع پذیر ہو گا۔مگر اب تک کی وفاق اور
صوبائی حکومتوں کی کار کردگی کو اگر دیکھا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ بظاہر
تو حکومتی اتحاد قائم ہے مگرتمام اتحادی ایک دوسرے سے بدست و گریباں
ہیں۔ججوں کی بحالی کے سلسلے میں اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پی پی پی اور
نون لیگ میں شدید اختلافات ہیں۔نون لیگ نے اسی بنا پر وفاقی حکومت سے اپنے
وزیروں کو نکال لیا تھا،مگر پنجاب میں انکا اتحاد اب بھی قائم ہے۔کہنے
والے کہتے ہیں کہ نون لیگ ہر قیمت پر پنجاب میں اپنی حکومت کو بچانا چاہتی
ہے کیونکہ اگر انکی حکومت پنجاب میں نہیں رہتی تو پھر پنجاب میں انکو اپنے
ورکروں اور ووٹروںکو انٹکٹ رکھنا خاصا دشوار ہو گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر
کسی بھی صورت میں پنجاب کی حکومت گرتی ہے تو شریف برادران کے دوبارہ
اقتدار میں جانے کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔کیونکہ پاکستان کے جاری و
ساری آئین کے تحت ایک پاکستانی شہری صرف دو دفعہ ہی وزیر اعظم یا وزیر
اعلی کے عہدے پر فائض رہ سکتا ہے۔اور میاں شہباز شریف کے خلاف تو پہلے ہی
سے وزارت اعلی سے نا اہلی کا کیس زیر سماعت ہے ۔لہذا حکومت کے کسی بھی وقت
گرنے اور نا اہلی کی تلوار کے سروں پر لٹکنے کی وجہ سے نون لیگ تو
’’پولیٹیکل مائلیج‘‘ حاصل کرنے کی کوششوں کا شکار ہے۔وہ پنجاب میں حکومتی
اقتدار کے مزے بھی لے رہی ہے،اور وفاق پر ججوںکی بحالی،لوڈ شیڈنگ،مہنگائی
پر کنٹرول نہ کرنے کا الزام بھی عائد کر رہی ہے۔حالانکہ امن و امان کی
صورتحال کنٹرول کرنا،زخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو
پانا،ٹریفک،پارکنگ،عوامی فلاح کے کام کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔مگر
پنجاب کی حکومت اس کی ذمہ داری بھی وفاق کے کھاتے میںڈال کر خود کو بری
الذمہ ٹھہرا رہی ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ 88 کے انتخابات کے
نتیجے میں جب جمہوریت بحال ہوئی تو وفاق میں پی پی پی اور پنجاب میں آئی
جے آئی کی حکومت بنوائی گئی۔تب میاں نواز شریف کو ’’چھانگا
مانگا‘‘آپریشن کے نتیجے میں پنجاب کا وزیر اعلی بنایا گیا۔77 کے بعد پی
پی پی کو گیارہ سال بعد اقتدار ملا تھا لہذا پی پی پی نے عوامی فلاح کے
کام شروع کئے،سڑکیں بنوانا شروع کیں،شفا خانے،سکول تعمیر کرنے شروع
کئے،گاؤں گاؤں اور محلے محلے میں بجلی اور گیس پہنچانا شروع کی مگر تب
میاں نواز شریف کی حکومت نے اسے صوبائی حکومت کے کاموں میں مداخلت قرار
دیا اور پوری دنیا نے دیکھا کہ ادھر وفاقی ادارے گیس کی پائپ لائنیں
بچھاتے یا سڑکیں تعمیر کرتے،شفا خانے اور سکول تعمیر کرتے اور ادھر میاں
نواز شریف کے کارندے شفا خانے اور سکول گرا دیتے اور پائپ لائنیں اور
سڑکیں اکھاڑ دیتے۔لہذا ہمیں تو تب ہی سے میاں نواز شریف کا یہ استدلال
پسند آیا تھا،اور توقع تھی کہ اب جب کے وفاق پنجاب کی حکومت میں اتحادی
ہے اور شریف برادران کا یہ ماننا ہے کہ عوامی فلاح کے کام کرنا صرف اور
صرف صوبائی حکومتوں کا کام ہے تو وہ اقتدار میں آ کر عوامی فلاح کے کاموں
کو سرعت سے پایہء تکمیل تک پہنچائیں گے۔مگر ابھی تک تو عوامی فلاح کا ایک
بھی ایسا کام یا پراجیکٹ دیکھنے میں نہیں آیا جس کو صوبائی حکومت اپنی
وجہ افتخار بتا سکے۔بلکہ ہو یہ رہا ہے کہ پنجاب میں صورتحال دن بدن ابتر
ہوتی جاتی ہے۔شریف برادران کے اپنے شہر لاہور میں آٹا نایاب ہے۔پچیس روپے
کلو میںبھی دستیاب نہیں۔اتوار بازاروں اورمارکیٹوں میں ملاوٹ ملی اشیاء
خوردنی بک رہی ہیں۔تاجر منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔امن و امن کی
صورتحال دن بدن گر رہی ہے۔گارڈن ٹاؤن برکت مارکیٹ میں ہونے والی ڈکیتی جس
میں سوا کروڑ کی خطیر رقم لوٹ لی گئی تھی،اب تک تو اس کے ذمہ دار ڈاکؤں
کو نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی
اقدام اٹھایا گیا ہے،جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایسی وارداتیں نہ ہونے
دیں۔یا پھر ڈاکوؤں کو گرفتار ہی کریں۔ایسا شاید اس لئے بھی نہیں ہوا کہ
اس واردات کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے انہیں بر طرف کرنے سے ایسی
وارداتوں میں کمی آنے کا اندیشہ ہے نہ کہ سیاسی فوائد حاصل ہونے کا۔لہذا
یہ بات طے ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت ہر وہ کام کرے گی جس سے ’’پولیٹیکل
مائلیج‘‘ تو حاصل ہو مگر عوامی فلاح کا کام نہ ہو۔ جبکہ وفاقی حکومت
بھی اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں۔گزشتہ روز
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بیس ڈالر فی بیرل گر گئیں مگر عوام کو اس
کا ریلیف نہیں دیا گیا۔یوں تو دعوے کئے جا رہے ہیں کہ اگلے مہینے کے وسط
میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ پچاس فی صد کم کر کے یعنی آدھا کر دیا جائے
گا،مگر اسکی عملی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ شہری علاقوں میں لوڈ شیڈنگ
کااعلانیہ دورانیہ چھ سے آٹھ گھنٹے ہے مگر دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ
ہو رہی ہے۔عوامی حکومت میں اتنی بھی اخلاقی جراٗت نہیں کہ وہ عوام سے سچ
ہی بول سکے۔ابھی تک نہ تو اس نے ججوں کی بحالی میں ہی سنجیدگی کا مظاہرہ
کیا ہے بلکہ عدلیہ کی آزادی کا خواب ابھی تک شرمندہء تعبیر نہیں ہو
سکا۔وہ آئینی پیکج جس کے وسیلے سے عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کا
عندیہ دیا گیا تھا وہ ابھی تک پالیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ وفاقی حکومت
کی حلیف جماعتوں کو شکایت ہے کہ وہ ان کو قومی امور کے فیصلوں میں اعتماد
میں نہیں لے رہی۔دوسری جانب اس کے میڈیا مینجر اس قدر نااہل ہیں کہ جن
کاموں کا کریڈٹ ان کو ملنا چاہئے،وہ بھی اس کے لئے ’’ڈس کریڈ ٹ‘‘ بن جاتا
ہے۔سرھد کی حکومت کے کہنے پر افواج پاکستان کو تخریب کاروں کے قلع قمع کے
لئے بھیجا گیا۔مگر اس آپریشن کا سارا ملبہ وفاقی حکومت کے کھاتے میں ڈال
دیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ چاہے وفاقی حکومت ہو یا صوبائی
حکومتیں سب اپنے اپنے دائرہ کا ر میں رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو
نبھائیںوفاق کے پاس اگر خزانہ،دفاع،خارجہ اور قدرتی وسائل کے محکمے ہیں تو
ان کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے۔ گیس کے نرخوں میں ایک واضح کمی لائی
جائے۔حکومت ایسے اقدامات اٹھائے کہ جس سے افراط زر میں کمی آئے روپے کی
قدر میںاضافہ ہو،بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو،ایسی پالیسیاں وضح کی جائیں
اور ان پر عمل کو یقینی بنایا جائے جن سے نہ صرف ہماری زراعت بہتر ہو بلکہ
برآمدات میں بھی اضافہ ہو ،تاکہ زر مبادلہ کے ذخائر میںاضافہ اورروپے کی
قدر میں بھی اضافہ ہو ۔جبکہ صوبائی حکومتوں کو امن و امان کی صورتحال بہتر
بناننے کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن
کرنا چاہئے۔ہر وہ کام کرنا چاہئے جو انہوں نے میاں نواز شریف کی وزارت
اعلی کے دور میں وفاق کو نہیں کرنے دیا تھااور سب کو مولانا فضل الرٰحمٰن
کی بات پر دھیان دینا چاہئے کہ ہو سکتا ہے اس بار انتخابات سرے سے ہو ہی
نہ۔
This entry was posted on 01-08-2008 17:54. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured 1 time. You can leave a comment.
Views: 1966
Views: 1966