Aug
21
2008
Today
 .
videos.gifcartoon.gif  links.gif forum.gif guest-book.gifadverts.gif

Hijri Date


Member Login

Attock Poll

Do you like new look of ATTOCK news website?

Attock Weather

Attock
22°C

Tell a Friend

Like what you see? If you like what you see, please tell a friend or family member about us! It's simple! Just click on the Tell a Friend hotlink below

Syndicate

افغانستان میں مذید فوج بارک اوبامہ کیلئے خطرہ کی گھنٹی PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
 


افغانستان و عراق میں امریکی فوج کی موجودگی صرف اس لئے ہے کہ امریکی فوجی زخمی ۔مکمل امریکہ زخمی اور اس پر وہاں حملہ کو مکمل امریکہ پر حملہ قرار دیاجاتا ہے۔جب اس طرح کا حملہ ہوتاہے۔ تو اس حملہ سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ جہان جہاں جن ملکوں میں امریکہ س نے اپنی فوج تعینات کررکھی ہے۔ جب بھی وہاں ان پر حملہ ہوتا ہے۔ تو پورے امریکہ پر حملہ مان لیا جاتا ہے۔ حملہ کی سجاوٹ کیلئے تخلیقی اسلامی حلیہ مکھوٹے کیسٹوں کے ذریعہ مختلف چینلوں سے امریکہ کے خلاف دھمکیاں منظر عام پر لاتے ہیں۔ ہو تخلیقی تحریک از خود پیدا نہیں ہوتی ہیں ۔ بلکہ مخصوص طور پیدہ کردہ ہوتی ہیں۔ جب امریکی صدر مسٹر جارج بش کی موجودگی میں امریکہ میں الجزیرہ کا نگریزی چینل قائم ہوا تب یہ حقیقت آشکارہ ہوئی۔ کہ الجزیرہ کا عربی چینل بھی ان ہی کا ہے ۔ جو تخلیقی القاعدہ سے امریکہ کیلئے تخلیقی دھمکیاں چھوڑنے کیلئے وجود میں لایا گیا ہے۔ اور یہ سیاسی فائدے کے حصول کا بہترین حصہ ّ ہے۔
اب افغانستان میں امریکی فوج پر جو حملے ہورہے ہیں۔ وہ سیاسی نوعیت کے ہیں۔ امریکہ کا صدارتی انتخاب قریب آتے آتے ان پر حملے تیز ہوں گے۔ اور ان حملوں کو امریکہ کے ہر فرد پر حملہ دیکھایا جائے گا۔ جس سے ان کو خوف زدہ کیا جائے گا۔ اس سے ان پر دھشت طاری کرائی جائے گی۔ جب امریکی عوام کانپنے و تھر تھرانے کے حال تک پہنچیں گے۔ ویسے ہی افغانستان کے پہاڑی علاقے اور پاکستان کے قبائیلی علاقے جہاں افغانستان و پاک عوام کی بکریاں چرائی جاتی ہیں۔ وہاں امریکہ کے صدارتی انتخاب کے ووٹ پڑنے سے ایک یا دو دن پہلے بھیانک حملے کردئے جائیں گے۔ حملوں کے بعد امریکی عوام کو تسلی دی جائے گی۔ کہ انہوں نے امریکہ پر حملہ آوروں کو دھول چٹادی ہے۔ پھر کیا ہوگا،۔ کہ جیت کی طرف بڑھ رہے مسٹر بارک اوبامہ پھر شکست کی طرف بڑھنا شروع ہوجائیںگے
فی الوقت امریکہ میں امریکن ری پبلیکن پارٹی کی کامیابی کرنے کی حکمت عملی افغانستان میں تیار کی گئی ہے۔ وہاں امریکہ فوج کی موجودگی ۔۔ مسٹر اوبامہ کی خاموش شکست کا سبب بن سکتی ہے۔
حکومت پاکستان نے یہ حکمت عملی سمجھ لی ہے۔ اس نے دو ٹوک الفاظ میں کہ دیا ہے اس کی سر زمین پر ھملہ کی کوئی گنجائش نہیں۔جس سے ان کی حکمت چرمراگئی ہے۔اب صرف افغانستان کی پہاڑی علاقوں کو ہی امریکہ کا صدارتی الیکشن جینے کیلئے نشانہ بنایا جائیگا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کو جہموری حکومت کے دبائو کے تحت مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ لیکن پھر بھی ایکادوکا حملے ہوتے رہے ہیں۔ اور اگر مشرف میاں کے پاس پاکستان کا مکمل اختیار و مکمل اقتدار رہا ہوتا۔ تو شاید پاکستان کے قبائلی علاقے کے غریب مسلمان مسٹر بش کی پارٹی کا ایندھن ضرور بنتے ۔خدا کا خصوصی فضل ان لوگوں پر نازل ہوا۔ اور پرویز مشرف میاں صدارتی محل میں امریکہ کے صدارتی الیکشن تک نظر بند کردئے گئے۔اس سال کے آخر تک وہ صدارتی عہدہ پر نظر بندی کے تحت فائز رہیں گے۔ اور مسٹر بارک اوبامہ کی کامیابی کے بعد ان کو عہدے سے الگ کردیا جائیگا۔لیکن اگر جان میکن کامیاب ہوئے تو ان کو صدارتی عہدے پر کچھ دنکی مہلت اور مل سکتی ہے۔
ابھی مسٹر بارک اوبامہ افغانستان میں امریکی فوج کے اضافہ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ اضافہ ہی ان کیلئے خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوگا۔ اس لئے کہ فوج میں اضافہ کی صورت میں افغانستان کے پہاڑی علاقوں پر شدت سے حملہ آور ہوگا۔ اگر امریکن ری پبلیکن پارٹی کی پہاڑی علاقوں پر حملہ کی حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے۔ تو بش کی پارٹی صدارتی الیکشن میں بازی مار جائے گی۔۔۔ اگر مسٹر بارک اوبامہ نے کامیابی حاصل کرنے ہے۔ تو افغانستان کے پہاڑی علاقوں اور پاکستان کے قبائیلی علاقوں کا دورہ کرنا چاہیئے۔ جیسی صورت حال بیان کی جارہی ہے۔ وہاں ایسا کچھ بھی نہیں ۔ وہاں کچّے مکانات ہیں اور بکریاں چرائی جاتی ہیں۔ وہاں دھیاتی عوام بستے ہیں۔ جہاں تعلیم کا فقداں ہے۔ وہ دھشت گردو ں کے بجائے وہ غریب عوام کاگڑھ ہے۔اس لئے مسٹر بارک اوبامہ کو الیکشن میں یقینی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ تو ان کو وہاں سیاسی حملوں کو ناکام بنانے کیلئے کام کرنا چاہیئے۔
بہرحال مسٹر بارک اوبامہ کیلئے امریکہ میں ایک ماحول بن گیاہے۔ وہ یکسر بدلنے و بکھر نے والا ہے۔اس کا جواز خود مسٹر بارک اوبامہ ہی فراہم کررہے ہیں۔افغانستان کے پہاڑی علاقوں پر اجازت دے کر وہ خوکشی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
بہرکیف بش کی پارٹی تخلیقی القاعدہ و طالبان سے امریکی فوج پر فرضی حملے کرائے گی۔حملہ کی خطرناکی تخلیقی کیسٹوں سے دیکھائے گی۔جس امریکی عوام کو بتانے کی کوشیش کی جائے گی۔ جیسے تخلیقی القاعدہ و طالبان کا پورے امریکہ پر حملہ و قبضہ ہوگیاہے۔ اس کے جواب میں سیاسی حملہ افغانستان کے پہاڑی علاقوں پر صدارتی الیکشن میں کامیابی کیلئے ہوگا۔ اور بھر مسٹر بارک اوبامہ کیلئے مسٹر جان کیری ( ڈیموکریٹک پارٹی کے سابقہ صدارتی امیدوار ) کی طرح نتیجہ بر آمد ہوگا۔ لہذا بارک اوبامہ ۔۔۔بش پارٹی کی وہاں حملہ کرانے کی سیاسی حمکت اگر سمجھنے سے قاصر رہے تو۔ پھر ان کو شکست سے کوئی نہیں بچاسکتا ۔اب ایسا لگتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر یا انجانے میں ناگہانی شکست کی جانب بڑھ رہے ہیں۔اور اگر وہ یقینی طور پر مسٹر بش کی پارٹی کو کامیابی کا راستہ فراہم کررہے ہیں ۔ تو ان کو قبل از وقت ہی مقابلہ سے دستبردار ہوجانا چاہیئے۔شاید یہ ان کی ناتجربہ کاری ہے جو ان کو جیت سے نیکال کر ان کو شکست کی طرف لے جارہی ہے۔

ایاز محمود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۰، ایس ایل ہائوس ، آصف علی روڈ نئی دہلی ۲
01-08-2008 16:50 Ayaz Mehmood
This entry was posted on 01-08-2008 16:50. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. This article was favoured None time. You can leave a comment.
Views: 1020    
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

< Prev   Next >